حدیث نمبر: 14892
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : بَيْنَمَا عَائِشَةُ فِي بَيْتِهَا إِذْ سَمِعَتْ صَوْتًا فِي الْمَدِينَةِ فَقَالَتْ : مَا هَذَا ؟ فَقَالُوا : عِيرٌ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَدِمَتْ مِنْ الشَّامِ تَحْمِلُ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ ، فَكَانَتْ سَبْعَ مِائَةِ بَعِيرٍ فَارْتَجَّتِ الْمَدِينَةُ مِنْ الصَّوْتِ ، فَقَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " قَدْ رَأَيْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ - عَبْوًا " ، فَبَلَغَ ذَلِكَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ فَقَالَ : إِنِ اسْتَطَعْتُ لَأَدْخُلَنَّهَا قَائِمًا ، فَجَعَلَهَا بِأَقْتَابِهَا وَأَحْمَالِهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ : عِمَارَةُ بْنُ زَاذَانَ ، ضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ وَالدَّارَقُطْنِيُّ ، وَقَدْ شَهِدَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بَدْرًا وَالْحُدَيْبِيَةَ وَشَهِدَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْجَنَّةِ وَصَلَّى خَلْفَهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے گھر میں موجود تھیں اسی دوران انہوں نے مدینہ منورہ میں آواز سنی تو دریافت کیا یہ کس چیز کی آواز ہے ؟ لوگوں نے بتایا : سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا قافلہ شام سے آیا ہے ، جس میں ہر قسم کا ساز و سامان موجود ہے وہ سات سو اونٹ تھے ۔ ان کی آمد کی وجہ سے مدینہ منورہ میں شور سا گونجا ہے ، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” میں نے عبدالرحمن بن عوف کو دیکھا کہ وہ جنت میں گھسٹ کر داخل ہو گا ۔ “ اس بات کی اطلاع سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو ملی تو انہوں نے کہا: اگر میں چاہوں تو میں کھڑا ہو کر بھی جنت میں داخل سکتا ہوں ، تو انہوں نے ان اونٹوں کی رسیاں اور ان کا ساز و سامان اللہ کی راہ میں وقف کر دیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمارہ بن زاذان ہے جسے امام نسائی رحمہ اللہ اور دارقطنی نے ضعیف قرار دیا ہے سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو غزوہ بدر اور غزوہ حنین میں شرکت کا شرف حاصل ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے جنت کی گواہی دی ہے اور ان کے پیچھے نماز بھی ادا کی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14892
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (264) أخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (115/6)»