عَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَ عَمْرَو بْنَ الطُّفَيْلِ إِلَى خَيْبَرَ يَسْتَمِدُّ لَهُ قَوْمَهُ فَقَالَ : " يَا عَمْرُو ، انْطَلِقْ فَاسْتَمِدَّ لَنَا قَوْمَكَ " ، قَالَ عَمْرٌو : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرْسَلْتَنِي وَقَدْ نَشَبَ الْقِتَالُ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ رَسُولَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ الْأَلْهَانِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرو بن طفیل کو خیبر کی طرف بھیجا تاکہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اپنی قوم سے کمک طلب کرے آپ نے فرمایا : اے عمرو ! تم جاؤ ، اور اپنی قوم سے ہمارے لئے کمک طلب کرو ۔ عمرو نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے بھیج رہے ہیں ، جبکہ جنگ کا وقت قریب آ چکا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ تم اللہ کے رسول کے پیغام رساں بن جاؤ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید الہانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید الہانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تَجَهَّزُوا إِلَى هَذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ أَهْلُهَا - يَعْنِي : خَيْبَرَ - فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَاتِحُهَا عَلَيْكُمْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، وَلَا يَخُرُجَنَّ مَعِي مُصَعِّبٌ وَلَا مُضَعِّفٌ " . ¤ فَانْطَلَقَ أَبُو هُرَيْرَةَ إِلَى أُمِّهِ ، فَقَالَ : جَهِّزِينِي فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ أَمَرَنَا بِالْجِهَازِ لِلْغَزْوِ ، قَالَتْ : تَنْطَلِقُ وَقَدْ عَلِمْتَ مَا أَدْخُلُ [ الْمَرْفَقَ ] إِلَّا وَأَنْتَ مَعِي ، قَالَ : مَا كُنْتُ لِأَتَخَلَّفَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، فَأَخْرَجَتْ ثَدْيَهَا فَنَاشَدَتْهُ بِمَا رَضَعَ مِنْ لَبَنِهَا ، فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سِرًّا ، فَقَالَ : " انْطَلِقِي قَدْ كُفِيتِ " . ¤ فَأَعْرَضَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَى إِعْرَاضَكَ عَنِّي لَا أَرَى ذَلِكَ إِلَّا لِشَيْءٍ بَلَغَكَ ، قَالَ : " أَنْتَ الَّذِي نَاشَدَتْكَ أُمُّكَ ، وَأَخْرَجَتْ ثَدْيَهَا تُنَاشِدُكَ بِمَا رَضَعْتَ مِنْ لَبَنِهَا ، أَيَحْسَبُ أَحَدُكُمْ إِذَا كَانَ عِنْدَ أَبَوَيْهِ أَوْ أَحَدِهِمَا أَنَّهُ لَيْسَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ؟ ! بَلْ هُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِذَا بَرَّهُمَا وَأَدَّى حَقَّهُمَا " . ¤ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : لَقَدْ مَكَثَتْ بَعْدَ هَذَا سِنِينَ مَا أَغْزُو حَتَّى مَاتَتْ ، وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْمَدِينَةِ فَسَارَ مَعَهُ فَتًى مَنْ بَنَى عَامِرٍ عَلَى بِكْرٍ لَهُ صَعْبٍ ، فَجَعَلَ يَسِيرُ فِي نَاحِيَةِ الطَّرِيقِ وَالنَّاسِ ، فَوَقَعَ بَعِيرُهُ فِي حُفَيْرَةٍ فَصَاحَ : يَا آلَ عَامِرٍ ، فَارْتَعَصَ هُوَ وَبَعِيرُهُ ، فَجَاءَ قَوْمُهُ فَاحْتَمَلُوهُ . ¤ وَسَارَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى أَتَى خَيْبَرَ فَنَزَلَ عَلَيْهَا ، فَدَعَا الطُّفَيْلَ بْنَ الْحَارِثِ الْخُزَاعِيَّ ، فَقَالَ : " انْطَلِقْ إِلَى قَوْمِكَ وَاسْتَمِدَّهُمْ عَلَى هَذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ أَهْلُهَا ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ سَيَفْتَحُهَا عَلَيْكُمْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ " . فَقَالَ الطُّفَيْلُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تُبْعِدُنِي مِنْكَ ! فَوَاللَّهِ لَأَنْ أَمُوتَ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ مِنْكَ قَرِيبٌ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الْحَيَاةِ وَأَنَا مِنْكَ بَعِيدٌ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّهُ لَا بُدَّ مِمَّا لَا بُدَّ مِنْهُ فَانْطَلِقْ " . ¤ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَعَلِّي لَا أَلْقَاكَ فَزَوِّدْنِي شَيْئًا أَعِيشُ بِهِ ، قَالَ : " أَتَمْلِكُ لِسَانَكَ ؟ " . قَالَ : فَمَا أَمَلِكُ إِذَا لَمْ أَمْلِكْ لِسَانِي ؟ ! قَالَ : " أَتَمْلِكُ يَدَكَ ؟ " . قَالَ : فَمَا أَمَلِكُ إِذَا لَمْ أَمْلِكْ يَدِي ؟ ! قَالَ : " فَلَا تَقُلْ بِلِسَانِكَ إِلَّا مَعْرُوفًا ، وَلَا تَبْسُطْ يَدَكَ إِلَّا إِلَى خَيْرٍ " . ¤ قَالَ ابْنُ أَبِي كَرِيمَةَ : وَوَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ بِخَطِّهِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَفْشِ السَّلَامَ ، وَابْذُلِ الطَّعَامَ ، وَاسْتَحْيِ اللَّهَ كَمَا تَسْتَحِي رَجُلًا مِنْ رَهْطِكَ ذِي هَيْبَةٍ ، وَلْيَحْسُنْ خُلُقُكَ ، وَإِذَا أَسَأْتَ فَأَحْسِنْ ، إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس بستی کے لئے تیاری کر لو ، جس کے رہنے والے ظالم ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد خیبر تھا ، اللہ تعالیٰ نے چاہا ، تو وہ تمہارے لئے اس کو فتح کروا دے گا ، اور میرے ساتھ کوئی ایسا شخص نہ نکلے ، جس کا سواری کا جانور دشوار ہو ( یعنی ق ابومیں نہ آتا ہو ) یا انتہائی کمزور ہو ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اپنی والدہ کے پاس گئے ، اور بولے : مجھے سامان سفر فراہم کریں ، کیونکہ اللہ کے رسول نے جنگ کے لئے تیاری کا ہمیں حکم دے دیا ہے ، اس خاتون نے کہا: تم جا رہے ہو ؟ جبکہ تم جانتے ہو کہ مجھے ہر معاملے میں تمہارے ساتھ کی ضرورت ہوتی ہے ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے نہیں رہ سکتا ، تو اس خاتون نے اپنی چھاتی کی طرف اشارہ کر کے واسطہ دیا کہ انہوں نے اپنا دودھ جو انہیں پلایا ہے ( اس کے واسطے سے وہ رک جائیں ) پھر وہ خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چھپ کر آئیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم چلی جاؤ ! تمہارا معاملہ حل ہو جائے ، پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے منہ پھیر لیا انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ نے مجھ سے منہ پھیر لیا ہے ، یہ یقینا کسی ایسی وجہ سے ہوا ہو گا ، جس کے بارے میں آپ کو کوئی اطلاع پہنچی ہو گی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم ہی وہ شخص ہو ، جس کی ماں نے اسے اپنے دودھ کا واسطہ دیا تھا ( اور تم نے پھر بھی اس کی بات نہیں مانی ؟ ) کیا تم میں سے کوئی ایک شخص یہ گمان کرتا ہے کہ جب وہ اپنے ماں باپ کے پاس : اُن دونوں میں سے کسی ایک کے پاس ہوتا ہے ، تو وہ اللہ کی راہ میں نہیں ہوتا ؟ بلکہ وہ ( اس وقت ) اللہ کی راہ میں ہوتا ہے جب وہ ان دونوں کے ساتھ اچھا سلوک کرتا ہے اور ان دونوں کا حق ادا کرتا ہے ۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں اس کے بعد کئی سال تک رکا رہا ، میں نے کسی جنگ میں حصہ نہیں لیا ، یہاں تک کہ میری والدہ کا انتقال ہو گیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ سے نکلے ، آپ کے ساتھ بنو عامر سے تعلق رکھنے والا ایک نوجوان بھی روانہ ہوا ، ایک سخت نوجوان اونٹ پر سوار تھا ، وہ راستے میں ایک جگہ چل رہا تھا ، لوگ بھی جا رہے تھے اس کا اونٹ ایک گڑھے میں گر گیا ، نے پکارا : اے آل عامر ! تو وہ اور اس کا اونٹ کپکپا گئے ، پھر اس کی قوم کے افرادا سے اٹھا کر لے کے آئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہو گئے ، یہاں تک کہ آپ خیبر آ گئے آپ نے وہاں پڑاؤ کیا ، آپ نے طفیل بن حارث خزاعی کو بلایا اور فرمایا : اپنی قوم کے پاس جاؤ ، اور اس بستی کے بارے میں کمک حاصل کرو ، جس کے رہنے والے ظالم ہیں ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے چاہا ، تو اللہ تعالیٰ اسے عنقریب تمہارے لئے فتح کروا دے گا ، تو سیدنا طفیل رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے اپنے آپ سے دور کر رہے ہیں ۔ اللہ کی قسم ! جس دن میں آپ کے قریب ہوؤں ، اور اس دن میں مر جاؤں ، یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں آپ سے دور ہو کر زندہ رہوں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو چیز ضروری ہے ، تم جاؤ ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہو سکتا ہے کہ پھر میری آپ سے ملاقات نہ ہو ، تو مجھے زاد راہ کے طور پر ایسی چیز عطا کر دیں ، جن کے ذریعے میں زندہ رہوں ( یعنی مجھے کوئی نصیحت کر دیں ) ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم اپنی زبان کے مالک ہو ؟ انہوں نے عرض کی : اگر میں اپنی زبان کا مالک نہیں ہوتا ، تو میں کس چیز کا مالک ہوؤں گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم اپنے ہاتھ کے مالک ہو ؟ انہوں نے عرض کی : اگر میں اپنے ہاتھ کا مالک نہیں ہوؤں گا ، تو کس چیز کا مالک ہوؤں گا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پھر تم اپنی زبان کے ذریعے صرف بھلائی کی بات کہنا ، اور اپنا ہاتھ ، صرف بھلائی کی طرف بڑھانا “ ۔ ابن ابوکریمہ نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے : میں نے ابوعبدالرحیم نامی راوی کی تحریر میں ان کے خط میں
یہ روایت پائی ہے ، جس میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم سلام کو پھیلاؤ ، کھانا خرچ کرو ، اور اللہ تعالیٰ سے یوں حیاء کرو ، جس طرح سے تم اپنے گروہ کے کسی باہیبت شخص سے حیاء کرتے ہو ، اور تمہارا اخلاق اچھا ہونا چاہیئے ، اور جب تم ( کوئی ) برائی کرو ، تو اچھائی بھی کر لو ، کیونکہ اچھائیاں ، برائیوں کو ختم کر دیتی ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت پائی ہے ، جس میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم سلام کو پھیلاؤ ، کھانا خرچ کرو ، اور اللہ تعالیٰ سے یوں حیاء کرو ، جس طرح سے تم اپنے گروہ کے کسی باہیبت شخص سے حیاء کرتے ہو ، اور تمہارا اخلاق اچھا ہونا چاہیئے ، اور جب تم ( کوئی ) برائی کرو ، تو اچھائی بھی کر لو ، کیونکہ اچھائیاں ، برائیوں کو ختم کر دیتی ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ حُسَيْلِ بْنِ خَارِجَةَ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ : قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فِي جَلْبٍ أَبِيعُهُ ، فَأَتَى بِهِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " أَجْعَلُ لَكَ عِشْرِينَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ عَلَى أَنْ تَدُلَّ أَصْحَابِي عَلَى طَرِيقِ خَيْبَرَ " فَفَعَلْتُ فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَيْبَرَ وَفَتَحَهَا ، جِئْتُ فَأَعْطَانِي الْعِشْرِينَ ثُمَّ أَسْلَمْتُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حسیل بن خارجہ اشجعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں کچھ سامان فروخت کرنے کے لئے مدینہ منورہ آیا ، مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں تمہیں کھجور کے بیس صاع دوں گا ، اس شرط پر کہ تم میرے ساتھیوں کی خیبر کی طرف رہنمائی کرو ، میں نے ایسا ہی کیا ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خیبر آ گئے ، اور آپ نے اسے فتح کر لیا ، تو میں آیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بیس صاع عطا کیے ، پھر میں نے اسلام قبول کر لیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عمران ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عمران ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ [ نَصْرِ بْنِ ] دَهْرٍ الْأَسْلَمِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ فِي مَسِيرِهِ إِلَى خَيْبَرَ لِعَامِرِ بْنِ الْأَكْوَعِ ، وَهُوَ عَمُّ سَلَمَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَكْوَعِ ، وَكَانَ اسْمَ الْأَكْوَعِ سِنَانٌ : " انْزِلْ يَا ابْنَ الْأَكْوَعِ فَخُذْ لَنَا مِنْ هُنَيَّاتِكَ " . ¤ قَالَ : فَنَزَلَ يَرْتَجِزُ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : ¤ وَاللَّهِ لَوْلَا اللَّهُ مَا اهْتَدَيْنَا وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا إِنَّا إِذَا قَوْمٌ بَغَوْا عَلَيْنَا ¤ وَإِنْ أَرَادُوا فِتْنَةً أَبَيْنَا فَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا ¤ وَثَبِّتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ وَزَادَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَرْحَمُكَ اللَّهُ " ، فَقَالَ عُمَرُ : وَجَبَتْ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَوْ أَمْتَعْتَنَا بِهِ ، فَقُتِلَ يَوْمَ خَيْبَرَ شَهِيدًا . وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا نصر بن دہر اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے ، خیبر کی طرف روانگی کے وقت ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدنا عامر بن اکوع رضی اللہ عنہ سے یہ کہتے ہوئے سنا ، جو سیدنا سلمہ بن عمرو بن اکوع رضی اللہ عنہ کے چچا ہیں ، اکوع کا نام سنان تھا ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) ” اے ابن اکوع ! تم نیچے اترو اور اپنے نغموں میں سے ہمیں حدی سناؤ “ ۔ راوی کہتے ہیں : وہ نیچے اترے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے یہ رجز پڑھنا شروع کیا : ” اللہ کی قسم اگر اللہ تعالیٰ کی ذات نہ ہوتی تو ہم نے ہدایت حاصل نہیں کرنی تھی ، ہم نے نہ تو صدقہ کرنا تھا اور نہ ہم نے نماز پڑھنی تھی ، ہماری یہ صورتحال ہے کہ دشمن ہمارے خلاف سرکشی پر آمادہ ہے وہ آزمائش ( یعنی جنگ ) کا ارادہ رکھتا ہے اور ہم یہ نہیں چاہتے ( اے ہمارے پروردگار ! ) تو ہم پر سکینت نازل کرنا ، اور ہمیں ثابت قدم رکھنا ، اگر ہم ( میدان جنگ میں ) دشمن کا سامنا کریں “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے ! “ ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم ! اس شخص کے لئے ( موت یا شہادت ) واجب ہو گئی ہے ، اگر آپ ہمیں اس کا نفع حاصل کرنے دیتے ( یعنی اسے زندگی کی دعا دیتے ، تو اچھا تھا ) تو وہ صاحب غزوہ خیبر کے موقع پر شہید ہوئے تھے ۔ ان دونوں روایات کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے ! “ ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم ! اس شخص کے لئے ( موت یا شہادت ) واجب ہو گئی ہے ، اگر آپ ہمیں اس کا نفع حاصل کرنے دیتے ( یعنی اسے زندگی کی دعا دیتے ، تو اچھا تھا ) تو وہ صاحب غزوہ خیبر کے موقع پر شہید ہوئے تھے ۔ ان دونوں روایات کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ أَبِي طَلْحَةَ قَالَ : صَبَّحَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَيْبَرَ ، وَقَدْ أَخَذُوا مَسَاحِيَهُمْ [ وَمَكَاتِلِهِمْ ] وَغَدَوْا إِلَى حُرُوثِهِمْ [ وَأَرَضِيهِمْ ] ، فَلَمَّا رَأَوْا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَعَهُ الْجَيْشُ نَكَصُوا مُدْبِرِينَ ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اللَّهُ أَكْبَرُ ، اللَّهُ أَكْبَرُ ، خَرِبَتْ خَيْبَرُ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطُّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کے وقت خیر پہنچے ، وہ لوگ اپنی کدالیں اور پھاؤڑے لے کر اپنے کھیتوں اور زمینوں کی طرف جا رہے تھے ، جب انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ کے ساتھ لشکر موجود ہے ، تو وہ الٹے قدموں واپس چلے گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ اکبر ! اللہ اکبر ! خیبر برباد ہو گیا ، جب ہم کسی قوم کے میدان میں اترتے ہیں ، تو ان لوگوں کی صبح بری ہوتی ہے ، جنہیں ڈرایا گیا ہو “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ أَبِي طَلْحَةَ قَالَ : كُنْتُ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - [ فَلَوْ قُلْتُ : إِنَّ رُكْبَتِي تَمَسُّ رُكْبَتَهُ ] فَسَكَتَ عَنْهُمْ حَتَّى إِذَا كَانَ عِنْدَ السَّحَرِ ، وَذَهَبَ ذُو الضَّرْعِ إِلَى ضَرْعِهِ ، وَذُو الزَّرْعِ إِلَى زَرْعِهِ ، أَغَارَ عَلَيْهِمْ وَقَالَ : إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سواری پر پیچھے موجود تھا ، اگر میں یہ کہوں کہ میرا گھٹنا آپ کے گھٹنے سے مس ہو رہا تھا ( تو یہ کہہ سکتا ہوں ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے ، یہاں تک کہ جب سحری کا وقت ہوا اور مال مویشی والے مال مویشی کی طرف گئے ، اور کھیتی باڑی کرنے والے کھیتی کی طرف گئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں پر حملہ کر دیا ، اور آپ نے یہ فرمایا : جب ہم کسی قوم کے میدان میں اترتے ہیں ، تو اُن لوگوں کی صبح بری ہوتی ہے ، جنہیں ڈرایا گیا ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ : أَغَارَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى خَيْبَرَ وَهُمْ غَادُونَ ، فَقَالُوا : مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسَ . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اللَّهُ أَكْبَرُ ، خَرِبَتْ خَيْبَرُ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن ابواوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر پر حملہ کیا ، وہ لوگ اس وقت غفلت کا شکار تھے ، ان لوگوں نے کہا: محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) آ گئے ، اور ساتھ لشکر بھی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ اکبر ! خیبر برباد ہو گیا ، جب ہم کسی قوم کے میدان میں اترتے ہیں ، تو اُن لوگوں کی صبح بری ہوتی ہے ، جنہیں ڈرایا گیا ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن مغیرہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن مغیرہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ أَبِي الْيُسْرِ كَعْبِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : وَاللَّهِ إِنِّي لَمَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِخَيْبَرَ عَشِيَّةً إِذْ أَقْبَلَتْ غَنَمٌ لِرَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ يُرِيدُ حِصْنَهُمْ وَنَحْنُ مُحَاصِرُوهُمْ ، إِذْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ رَجُلٌ يُطْعِمُنَا مِنْ هَذِهِ الْغَنَمِ ؟ " ، قَالَ أَبُو الْيُسْرِ : قُلْتُ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ : " فَافْعَلْ " . ¤ قَالَ : فَخَرَجْتُ أَشْتَدُّ مِثْلَ الظَّلِيمِ ، فَلَمَّا نَظَرَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُوَلِّيًا قَالَ : " اللَّهُمَّ أَمْتِعْنَا بِهِ " ، قَالَ : فَأَدْرَكْتُ الْغَنَمَ وَقَدْ دَخَلَ أَوَائِلُهَا الْحِصْنَ ، فَأَخَذْتُ شَاتَيْنِ مِنْ آخِرِهَا ، فَاحْتَضَنْتُهُمَا تَحْتَ يَدِي ثُمَّ أَقْبَلْتُ بِهِمَا أَشْتَدُّ كَأَنَّهُ لَيْسَ مَعِي شَيْءٌ حَتَّى أَلْقَيْتُهُمَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَبَحُوهُمَا وَأَكَلُوهُمَا . ¤ فَكَانَ أَبُو الْيُسْرِ مِنْ آخَرِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - هَلَاكًا ، وَكَانَ إِذَا حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ بَكَى ثُمَّ قَالَ : أُمْتِعُوا بِي - لَعَمْرِي - حَتَّى كُنْتُ آخِرَهُمْ . رَوَاهُ أَحْمَدُ عَنْ بَعْضِ رِجَالِ بَنِي سَلَمَةَ عَنْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوالیسر کعب بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اللہ کی قسم خیبر میں شام کے وقت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھا جب یہودیوں کا ایک شخص بکریاں لے کے آیا وہ قلعے میں جانا چاہ رہا تھا ہم نے ان لوگوں کا محاصرہ کیا ہوا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کون شخص ہمیں ان بکریوں میں سے خوراک فراہم کرے گا سیدنا ابوالیسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے عرض کی : یا رسول اللہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم ایسا کرو ۔ راوی کہتے ہیں : میں نکلا اور شتر مرغ کی طرح تیزی سے چلتا ہوا گیا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے واپس آتے ہوئے دیکھا تو فرمایا : اے اللہ تو ہمیں اس کے ذریعے نفع دینا راوی کہتے ہیں : میں بکریوں تک پیچ گیا جن کا ابتدائی حصہ قلعہ میں داخل ہو چکا تھا میں نے اس کے آخری حصے میں سے دو بکریاں پکڑیں اور انہیں اپنی بغلوں میں اٹھا لیا پھر ان دونوں کو لے کر دوڑتا ہوا یوں آیا جیسے میرے پاس کوئی چیز ہی نہیں تھی ، یہاں تک کہ وہ دونوں بکریاں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کر دیں ان لوگوں نے انہیں ذبح کیا اور ان دونوں کا گوشت کھایا راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوالیسر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے آخر میں وصال کرنے والے فرد ہیں جب وہ یہ حدیث بیان کرتے تھے ، تو رو پڑتے تھے پھر یہ فرماتے تھے تم لوگ مجھ سے نفع حاصل کر لو مجھے اپنی زندگی کی قسم ہے میں ان میں سے آخری فرد ہوں ۔
یہ روایت امام أحمد نے بنو سلمہ سے تعلق رکھنے والے بعض افراد کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے بنو سلمہ سے تعلق رکھنے والے بعض افراد کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ أَنَّ عَمَّهُ ضَرَبَ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَقَتَلَهُ ، وَجَرَحَ نَفْسَهُ ، فَأَنْشَأَ يَقُولُ : قَتَلْتُ نَفْسِي ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " لَهُ أَجْرَانِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ان کے چچا نے مشرکین سے تعلق رکھنے والے ایک شخص پر ضرب لگا کر اسے قتل کیا اور اس کی وجہ سے وہ خود بھی زخمی ہو گئے ، تو انہوں نے یہ کہنا شروع کیا : یہ تو میں نے خودکشی کر لی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی اطلاع ملی تو آپ نے فرمایا : اسے دگنا اجر ملے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ : خَرَجَ مَرْحَبُ الْيَهُودِيُّ مِنْ حِصْنِهِمْ قَدْ جَمَعَ سِلَاحَهُ يَرْتَجِزُ ، وَيَقُولُ : ¤ قَدْ عَلِمَتْ خَيْبَرُ أَنِّي مَرْحَبُ شَاكِي السِّلَاحِ بَطَلٌ مُجَرَّبُ أَطْعَنُ أَحْيَانًا وَحِينًا أَضْرِبُ ¤ إِذَا اللُّيُوثُ أَقْبَلَتْ تَلْهَبُ [ وَأَحْجَمَتْ عَنْ صَوْلَةِ الْمُجَرِّبِ ] ¤ كَأَنَّ حِمَايَ الْحِمَى لَا يُقْرَبُ وَهُوَ يَقُولُ : مَنْ يُبَارِزُ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ لِهَذَا ؟ " . فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ : أَنَا لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الْمَوْتُورُ الثَّائِرُ ، قَتَلُوا أَخِي بِالْأَمْسِ ، قَالَ : " فَقُمْ إِلَيْهِ ، اللَّهُمَّ أَعِنْهُ عَلَيْهِ " . ¤ فَلَمَّا دَنَا أَحَدُهُمَا مِنْ صَاحَبِهِ دَخَلَتْ بَيْنَهُمَا شَجَرَةٌ غَمَرَتْهُ مِنْ شَجَرِ الْعَشْرِ ، فَجَعَلَ أَحَدُهُمَا يَلُوذُ بِهَا مِنْ صَاحِبِهِ ، كُلَّمَا لَاذَ بِهَا مِنْهُ اقْتَطَعَ بِسَيْفِهِ مَا دُونَهُ ، حَتَّى بَرَزَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا لِصَاحِبِهِ ، وَصَارَتْ بَيْنَهُمَا كَالرَّجُلِ الْقَائِمِ مَا فِيهَا مِنْ فَنَنٍ - حَمَلَ مَرْحَبٌ عَلَى مُحَمَّدٍ فَضَرَبَهُ فَاتَّقَاهُ بِالدَّرَقَةِ ، فَوَقَعَ سَيْفُهُ فِيهَا ، فَعَصَّبَ بِهِ فَأَمْسَكَهُ ، وَضَرَبَهُ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ حَتَّى قَتَلَهُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : مرحب یہودی ان کے قلعوں میں سے نکلا اس نے اپنے ہتھیار اکٹھے کیے ہوئے تھے اور یہ رجز پڑھ رہا تھا : ” خیبر یہ بات جانتا ہے کہ میں مرحب ہوں ، مکمل استعداد رکھنے والا تجربہ کار بہادر ہوں ، کبھی ( نیزے یا تلوار کو ) چبھوتا ہوں اور کبھی ضرب لگاتا ہوں ، جب شیر آتے ہیں تو وہ ( حملہ کرنے کے لیے ) بیقرار ہوتے ہیں ، اور وہ تجربہ کار شخص کی بہادری سے رک جاتے ہیں ، گویا میری چراگاہ وہ چراگاہ ہے جس کے قریب نہیں جایا جا سکتا ہے “ ۔ وہ یہ کہہ رہا تھا کون مقابلہ کرے گا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کون مقابلہ کرے گا ؟ تو سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اس کا مقابلہ کروں گا ، جس کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے ، اور جو بکھرے ہوئے بالوں کا مالک ہے ، اس نے کل میرے بھائی کو قتل کیا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اٹھ کر اس کی طرف جاؤ اے اللہ اس کے خلاف تو اس کی مدد کر جب ان دونوں میں سے ایک دوسرے کے قریب آیا تو ان دونوں کے درمیان ایک درخت آ گیا اور اس درخت میں گوند تھی ان دونوں میں سے ایک دوسرے کے مقابلے میں اس درخت کے ذریعے بچنے لگا جب بھی وہ اس میں سے بچ جاتا تھا تو دوسرے کی تلوار کا وار خالی جاتا تھا ، یہاں تک کہ ان دونوں میں سے ہر ایک دوسرے فریق کے سامنے آ گیا اور وہ ان دونوں کے درمیان کھڑے ہوئے شخص کی مانند ہو گیا اس میں کوئی ٹہنی نہیں تھی پھر مرحب نے سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ پر حملہ کر کے انہیں ضرب لگائی سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے ڈھال کے ذریعے اس کا بچاؤ کیا اس کی تلوار ان کی ڈھال پر لگی اور انہوں نے اس کے ذریعے وار کو روک لیا پھر سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے اس پر ضرب لگائی اور اسے قتل کر دیا ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ : لَمَّا نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِحَضْرَةِ أَهْلِ خَيْبَرَ أَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اللِّوَاءَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، وَنَهَضَ [ مَعَهُ ] مَنْ نَهَضَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَلَقُوا أَهْلَ خَيْبَرَ ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ غَدًا رَجُلًا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، وَيُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ " . ¤ فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ دَعَا عَلِيًّا وَهُوَ أَرْمَدُ ، فَتَفِلَ فِي عَيْنَيْهِ ، وَأَعْطَاهُ اللِّوَاءَ ، وَنَهَضَ النَّاسُ مَعَهُ ، فَلَقُوا أَهْلَ خَيْبَرَ ، وَكَانَ مَرْحَبٌ يَرْتَجِزُ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَيَقُولُ : ¤ قَدْ عَلِمَتْ خَيْبَرُ أَنِّي مَرْحَبُ شَاكِي السِّلَاحِ بَطَلٌ مُجَرَّبُ أَطْعَنُ أَحْيَانًا وَحِينًا أَضْرِبُ ¤ إِذَا اللُّيُوثُ أَقْبَلَتْ تَلْهَبُ قَالَ : فَاخْتَلَفَا ضَرْبَتَيْنِ ، فَضَرَبَهُ عَلِيٌّ عَلَى هَامَتِهِ حَتَّى عَضَّ السَّيْفُ مِنْهَا بِأَضْرَاسَهُ ، وَسَمِعَ أَهْلُ الْعَسْكَرِ صَوْتَ ضَرْبَتِهِ ، وَمَا تَتَامَّ آخِرُ النَّاسِ مَعَ عَلِيٍّ حَتَّى فُتِحَ لَهُ وَلَهُمْ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مَيْمُونُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے پاس علاقے میں پڑاؤ کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جھنڈا سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دیا ان کے ساتھ کچھ مسلمان بھی گئے ان کا اہل خیبر کے ساتھ مقابلہ بھی ہوا لیکن وہ لوگ واپس آ گئے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کل میں جھنڈا ایسے شخص کو دوں گا ، جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے ، اور اللہ اور اس کا رسول بھی اس سے محبت رکھتے ہیں اگلے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بلوایا ان کو آشوب چشم کی شکایت تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھوں پر لعاب دہن ڈالا اور انہیں جھنڈا عطا کیا آپ نے ان کے ساتھ لوگوں کو بھیجا ان لوگوں کا اہل خیبر سے سامنا ہوا ان لوگوں کے درمیان مرحب یہ رجز پڑھ رہا تھا ، اور یہ کہہ رہا تھا : ” خیبر یہ بات جانتا ہے کہ میں مرحب ہوں ، مکمل استعداد رکھنے والا تجربہ کار بہادر ہوں ، کبھی ( نیزے یا تلوار کو ) چبھوتا ہوں اور کبھی ضرب لگاتا ہوں ، جب شیر آتے ہیں تو وہ ( حملہ کرنے کے لیے ) بیقرار ہوتے ہیں “ ۔ راوی کہتے ہیں : ان دونوں کا مقابلہ ہوا ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس نے اس کے سر پر وار کیا ، یہاں تک کہ اس کی تلوار ان کو کاٹتی ہوئی اس کے دانتوں تک پہنچ گئی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی ضرب کی آواز کو اہل لشکر نے بھی سنا اور پھر ابھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ جانے والے آخری فرد بھی نہیں پہنچے تھے کہ ان کے لئے شہر فتح ہو گیا ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی میمون ابوعبداللہ ہے ۔ جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی میمون ابوعبداللہ ہے ۔ جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ : حَاصَرْنَا خَيْبَرَ ، فَأَخَذَ اللِّوَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَانْصَرَفَ وَلَمْ يُفْتَحْ لَهُ ، ثُمَّ أَخَذَهُ مِنَ الْغَدِ عُمَرُ فَخَرَجَ فَرَجَعَ وَلَمْ يُفْتَحْ لَهُ ، وَأَصَابَ النَّاسَ يَوْمَئِذٍ شِدَّةٌ وَجُهْدٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنِّي دَافِعُ اللِّوَاءِ غَدًا إِلَى رَجُلٍ يُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ، وَيُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، لَا يَرْجِعُ حَتَّى يُفْتَحَ لَهُ " . ¤ وَبِتْنَا طَيِّبَةً أَنْفُسُنَا أَنَّ الْفَتْحَ غَدًا ، فَلَمَّا أَنْ أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى الْغَدَاةَ ثُمَّ قَامَ قَائِمًا فَدَعَا بِاللِّوَاءِ وَالنَّاسُ عَلَى مَصَافِّهِمْ ، فَدَعَا عَلِيًّا وَهُوَ أَرْمَدُ ، فَتَفِلَ فِي عَيْنَيْهِ ، وَدَفَعَ إِلَيْهِ اللِّوَاءَ ، وَفُتِحَ لَهُ . قَالَ بُرَيْدَةُ : وَأَنَا فِيمَنْ تَطَاوَلَ لَهَا . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نے خیبر کا محاصرہ کر لیا سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جھنڈا لیا پھر وہ واپس آ گئے شہر فتح نہیں ہوا اگلے دن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جھنڈا لیا وہ گئے ، اور واپس آ گئے ان کے لئے بھی شہر فتح نہیں ہوا اس دن لوگوں کو مشقت اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کل میں جھنڈا ایسے شخص کو دوں گا جس سے اللہ اور اس کا رسول محبت کرتے ہیں ، اور وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے ، اور وہ فتح حاصل کیے بغیر نہیں آئے گا ۔ راوی کہتے ہیں : ہم نے وہ رات اس خواہش میں گزار دی کہ کل فتح نصیب ہو جائے گی اگلے دن صبح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز ادا کی پھر آپ کھڑے ہوئے آپ نے جھنڈا منگوایا لوگ صفوں میں موجود تھے آپ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بلوایا انہیں آشوب چشم کی شکایت تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھوں پر لعاب دہن ڈالا اور انہیں جھنڈا عطا کیا ، تو ان کے لئے شہر فتح ہو گیا ۔
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَخَذَ الرَّايَةَ فَهَزَّهَا ، ثُمَّ قَالَ : " مَنْ يَأْخُذُهَا بِحَقِّهَا ؟ " فَجَاءَ فُلَانٌ ، فَقَالَ : [ أَنَا ، قَالَ ] " أَمِطْ " ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ آخَرُ ، فَقَالَ : " أَمِطْ " ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَالَّذِي كَرَّمَ وَجْهَ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَأُعْطِيَنَّهَا رَجُلًا لَا يَفِرُّ ، هَاكَ يَا عَلِيُّ " . ¤ فَانْطَلَقَ حَتَّى فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ خَيْبَرَ وَفَدْكَ ، وَجَاءَ بِعَجْوَتِهِمَا وَقَدِيدِهِمَا . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جھنڈا پکڑ کر اسے ہلایا پھر آپ نے ارشاد فرمایا : کون اسے اس کے حق کے ہمراہ اسے لے گا ، تو فلاں صاحب آئے ، اور بولے : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم رہنے دو پھر ایک اور صاحب آئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم رہنے دو پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کو عزت عطا کی ہے میں یہ جھنڈا اس شخص کو دوں گا ، جو فرار نہیں ہو گا اے علی تم آگے آؤ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تشریف لے گئے ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے خیبر اور فدک کو فتح کروا دیا ، اور وہ ان دونوں علاقوں کی عجوہ اور قدید کھجوریں لے کے آئے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ عَلِيٍّ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - قَالَ : أَتَيْنَا خَيْبَرَ ، فَلَمَّا أَتَاهُمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَ عُمَرَ وَمَعَهُ النَّاسُ ، فَلَمْ يَلْبَثُوا أَنْ هَزَمُوا عُمَرَ وَأَصْحَابَهُ ، فَقَالَ : " لَأَبْعَثَنَّ إِلَيْهِمْ رَجُلًا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، وَيُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ يُقَاتِلُهُمْ حَتَّى يَفْتَحَ اللَّهُ لَهُ " . ¤ قَالَ : فَتَطَاوَلَ النَّاسُ لَهَا وَمَدُّوا أَعْنَاقَهُمْ قَالَ : فَمَكَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَاعَةً ، فَقَالَ : " أَيْنَ عَلِيٌّ ؟ " . فَقَالُوا : هُوَ أَرْمَدُ ، قَالَ : " ادْعُوهُ لِي " فَلَمَّا أَتَيْتُهُ فَتَحَ عَيْنِي ، ثُمَّ تَفِلَ فِيهَا ، ثُمَّ أَعْطَانِيَ اللِّوَاءَ . ¤ قَالَ : فَانْطَلَقْتُ حَتَّى أَتَيْتُهُمْ ، فَإِذَا فِيهِمْ مَرْحَبٌ يَرْتَجِزُ حَتَّى الْتَقَيْنَا ، فَهَزَمَهُ اللَّهُ وَانْهَزَمَ أَصْحَابُهُ ، وَتَحَصَّنُوا وَأُغْلِقَ الْبَابُ ، فَأَتَيْنَا الْبَابَ فَلَمْ أَزَلْ أُعَالِجُهُ حَتَّى فَتَحَهُ اللَّهُ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ نُعَيْمُ بْنُ حَكِيمٍ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ ، وَفِيهِ لِينٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ خیبر آئے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تشریف لائے ، تو آپ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بھیجا اور ان کے ساتھ کچھ لوگوں کو بھیجا لیکن تھوڑی دیر گزرنے کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کو پسپا ہونا پڑا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں ان لوگوں کی طرف ایسے شخص کو بھیجوں گا ، جو اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ محبت رکھتا ہو گا اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت رکھتے ہوں گے وہ ان لوگوں کے ساتھ جنگ کرے گا ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کو فتح نصیب کر دے گا ۔ راوی کہتے ہیں : تو لوگ اس بات کے آرزو مند رہے ، اور اپنی گردنیں اٹھا کے دیکھتے رہے کچھ دیر گزرنے کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : علی کہاں ہے لوگوں نے عرض کی : انہیں آشوب چشم کی شکایت ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے میرے پاس بلا کے لاؤ جب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے میری دونوں آنکھیں کھولیں اور ان میں لعاب دہن ڈالا پھر آپ نے مجھے جھنڈا عطا کیا میں روانہ ہوا اور ان لوگوں کے پاس آیا وہاں مرحب رجز پڑھتا ہوا آیا ، یہاں تک کہ جب ہم دونوں کا مقابلہ ہوا تو اللہ تعالیٰ نے اسے پسپا کر دیا ، اور اس کے ساتھی بھی پسپا ہو گئے ، اور قلعہ بند ہو گئے انہوں نے دروازہ بند کر لیا ہم دروازے کے پاس آئے ، اور مسلسل اسے کھلوانے کی کوشش کرتے رہے ، یہاں تک کہ اللہ تعالی نے وہ ( شہر یا قلعہ ) فتح کروا دیا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی نعیم بن حکیم ہے ۔ جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور اس میں کمزور ہونا پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی نعیم بن حکیم ہے ۔ جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور اس میں کمزور ہونا پایا جاتا ہے ۔
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ خَيْبَرَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلًا فَجَبُنَ ، فَجَاءَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ قَطُّ ، قُتِلَ مَحْمُودُ بْنُ مَسْلَمَةَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ ، وَاسْأَلُوا اللَّهَ الْعَافِيَةَ ، فَإِنَّكُمْ لَا تَدْرُونَ مَا تُبْتَلُونَ بِهِ مِنْهُمْ ، وَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَقُولُوا : اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبُّنَا وَرَبُّهُمْ ، وَنَوَاصِينَا وَنَوَاصِيهِمْ بِيَدِكَ ، وَإِنَّمَا تَقْتُلُهُمْ أَنْتَ ، ثُمَّ الْزَمُوا الْأَرْضَ جُلُوسًا ، فَإِذَا غَشَوْكُمْ فَانْهَضُوا وَكَبِّرُوا " . ¤ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَأَبْعَثَنَّ غَدًا رَجُلًا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، وَيُحِبَّانَهِ ، لَا يُوَلِّي الدُّبُرَ " فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ بَعَثَ عَلِيًّا وَهُوَ أَرْمَدُ شَدِيدُ الرَّمَدِ ، فَقَالَ : " سِرْ " فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا أُبْصِرُ مَوْضِعَ قَدَمِي ، قَالَ : فَتَفِلَ فِي عَيْنَيْهِ ، وَعَقَدَ لَهُ اللِّوَاءَ ، وَدَفَعَ إِلَيْهِ الرَّايَةَ ، فَقَالَ عَلِيٌّ : عَلَى مَا أُقَاتِلُهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " عَلَى أَنْ يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ، فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ فَقَدْ حَقَنُوا دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ تَعَالَى " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ الْخَلِيلُ بْنُ مُرَّةَ ، قَالَ أَبُو زُرْعَةَ : شَيْخٌ صَالِحٌ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . قُلْتُ : وَبَقِيَّةُ هَذِهِ الْأَحَادِيثِ تَأْتِي فِي مَنَاقِبِ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب غزوہ خیبر کا موقع آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو بھیجا وہ بزدلی کا شکار ہو گیا پھر سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ آئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے آج کے دن جیسا دن نہیں دیکھا محمود بن مسلمہ قتل ہو گئے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم دشمن کا سامنے کرنے کی آرزو نہ کرو تم اللہ تعالیٰ سے عافیت مانگو کیونکہ تم یہ بات نہیں جانتے ہو کہ اس کے حوالے سے تمہیں کسی چیز میں مبتلا کیا جاتا ہے ، اور جب تم دشمن کا سامنا کرو تو یہ کہو اے اللہ تو ہمارا اور ان کا پروردگار ہے ہماری پیشانیاں اور ان کی پیشانیاں تیرے ہاتھ میں ہیں ان کے ساتھ تو ہی لڑنے ( کی ہمت دیتا ہے ) پھر تم لوگ زمین پر بیٹھ جاؤ اگر دشمن تمہارے پاس آ جائے ، تو تکبیر کہہ کر اٹھ کھڑے ہو ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کل میں ایسے شخص کو بھیجوں گا ، جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے ، اور وہ دونوں اس سے محبت رکھتے ہیں وہ پیٹھ نہیں پھیرے گا جب اگلا دن آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بلوایا ان کو آشوب چشم کی شدید شکایت تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : روانہ ہو جاؤ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں تو اپنے قدموں کی جگہ بھی نہیں دیکھ سکتا ہوں راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھوں میں لعاب دہن ڈالا ان کے لئے جھنڈا باندھا اور جھنڈا ان کو دیا سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں کس بنیاد پر ان لوگوں کے ساتھ لڑائی کروں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس بات پر کہ وہ اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور میں اللہ کا رسول ہوں جب وہ ایسا کر لیں گے ، تو وہ اپنی جانوں اور اپنے اموال کو محفوظ کر لیں گے ، البتہ ان کے حق کا معاملہ مختلف ہے ، اور ان لوگوں کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہو گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی خلیل بن مرہ ہے ابوزرعہ کہتے ہیں یہ ایک نیک بزرگ ہے ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں اس بارے میں دیگر احادیث سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے مناقب سے متعلق باب میں آگے آئیں گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی خلیل بن مرہ ہے ابوزرعہ کہتے ہیں یہ ایک نیک بزرگ ہے ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں اس بارے میں دیگر احادیث سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے مناقب سے متعلق باب میں آگے آئیں گی ۔
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : لَمَّا قَتَلْتُ مَرْحَبًا جِئْتُ بِرَأْسِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ قَابُوسٍ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا ، وَفِيهِمْ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب میں نے مرحب کو قتل کر دیا ، تو میں اس کا سر لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن قابوس ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ویسے ان میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن قابوس ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ویسے ان میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ عَلِيٍّ حِينَ بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِرَايَتِهِ ، فَلَمَّا دَنَا مِنَ الْحِصْنِ خَرَجَ إِلَيْهِ أَهْلُهُ فَقَاتَلَهُمْ ، فَضَرَبَهُ رَجُلٌ مَنْ يَهُودَ فَطَرَحَ تُرْسَهُ مِنْ يَدِهِ ، فَتَنَاوَلَ عَلِيٌّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - بَابًا كَانَ عِنْدَ الْحِصْنِ ، فَتَتَرَّسَ بِهِ عَنْ نَفْسِهِ ، فَلَمْ يَزَلْ فِي يَدِهِ وَهُوَ يُقَاتِلُ حَتَّى فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ ثُمَّ أَلْقَاهُ مِنْ يَدِهِ حِينَ فَرَغَ ، فَلَقَدْ رَأَيْتُنِي فِي نَفَرٍ مَعِي سَبْعَةٌ أَنَا ثَامِنُهُمْ نَجْهَدُ عَلَى أَنْ نَقْلِبَ ذَلِكَ الْبَابَ فَمَا نَقْلِبُهُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکلے جب نبی اکرم نے انہیں جھنڈے کے ہمراہ روانہ کیا تھا جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ قلعہ کے قریب پہنچے تو قلعہ کے لوگ نکل کر ان کی طرف آئے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کے ساتھ جنگ کی یہود سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے ان پر ضرب لگائی ، تو ان کے ہاتھ سے ڈھال چھوٹ گئی سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دروازے کے پاس موجود دروازے کو پکڑا اور اسے اپنی ذات کے لئے ڈھال بنا لیا وہ دروازہ مسلسل ان کے ہاتھ میں رہا اور وہ جنگ کرتے رہے ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں فتح نصیب کر دی پھر انہوں نے اس دروازے کو اپنے ہاتھ سے رکھ دیا جب وہ لڑائی سے فارغ ہو گئے تھے بعد میں میں نے سات افراد کے ساتھ مل کر جن میں آٹھواں میں تھا ہم نے پوری کوشش کی کہ ہم اس دروازے کو ہلا سکیں تو ہم اسے ہلا نہیں سکے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ - وَكَانَتْ فِي غَزْوَةِ خَيْبَرَ - قَالَتْ : سَمِعْتُ وَقْعَ السَّيْفِ فِي أَسْنَانِ مَرْحَبٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا جو غزوہ خیبر میں موجود تھیں وہ بیان کرتی ہیں میں نے مرحب کے دانتوں میں تلوار لگنے کی آواز سنی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : صَالَحَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَهْلَ خَيْبَرَ عَلَى كُلِّ صَفْرَاءَ وَبَيْضَاءَ ، وَعَلَى كُلِّ شَيْءٍ إِلَّا أَنْفُسَهُمْ وَذَرَارِيَّهُمْ . ¤ قَالَ : فَأُتِيَ بِالرَّبِيعِ وَكِنَانَةَ ابْنَيْ أَبِي الْحَقِيقِ ، وَأَحَدُهُمَا عَرُوسٌ بِصَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ ، فَلَمَّا أَتَى بِهِمَا ، قَالَ : " أَيْنَ آنِيَتُكُمَا الَّتِي كَانَتْ تُسْتَعَارُ بِالْمَدِينَةِ ؟ " قَالَ : أَخْرَجْتَنَا وَأَجْلَيْتَنَا فَأَنْفَقْنَاهَا ، قَالَ : " انْظُرَا مَا تَقُولَانِ فَإِنَّكُمَا إِنْ كَتَمْتَانِي اسْتَحْلَلْتُ بِذَلِكَ دِمَاءَكُمَا وَذُرِّيَّتَكُمَا " . ¤ قَالَ : فَدَعَا رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ قَالَ : " اذْهَبْ إِلَى مَكَانِ كَذَا وَكَذَا فَانْظُرْ نَخِيلَةً فِي رَأْسِهَا رُقْعَةٌ ، فَانْزِعْ تِلْكَ الرُّقْعَةَ ، وَاسْتَخْرِجْ تِلْكَ الْآنِيَةَ فَأْتِ بِهَا " فَانْطَلَقَ حَتَّى جَاءَ بِهَا ، فَقَدَّمَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَضَرَبَ أَعْنَاقَهُمَا . ¤ وَبَعَثَ إِلَى ذُرِّيَّتِهِمَا فَأُتِيَ بِصَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ وَهِيَ عَرُوسٌ ، فَأَمَرَ بِلَالًا فَانْطَلَقَ بِهَا إِلَى مَنْزِلِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَانْطَلَقَ بِلَالٌ فَمَرَّ بِهَا عَلَى زَوْجِهَا وَأَخِيهِ وَهُمَا قَتِيلَانِ ، فَلَمَّا رَجَعَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " سُبْحَانَ اللَّهِ ! مَا أَرَدْتَ يَا بِلَالُ إِلَى جَارِيَةٍ [ بِكْرٍ ] تَمُرُّ بِهَا عَلَى قَتِيلَيْنِ تُرِيهَا إِيَّاهُمَا [ أَمَا لَكَ رَحْمَةٌ ] " قَالَ : أَرَدْتُ أَنْ أَحْرِقَ جَوْفَهَا . ¤ قَالَ : وَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَاتَ مَعَهَا ، وَجَاءَ أَبُو أَيُّوبَ بِسَيْفِهِ فَجَلَسَ إِلَى جَانِبِ الْفُسْطَاطِ ، فَقَالَ : إِنْ سَمِعْتُ وَاعِيَةً أَوْ رَابَنِي شَيْءٌ كُنْتُ قَرِيبًا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى إِقَامَةِ بِلَالٍ ، قَالَ : " مَنْ هَذَا ؟ " قَالَ : أَنَا أَبُو أَيُّوبَ ، قَالَ : " مَا شَأْنُكَ هَذِهِ السَّاعَةَ هَهُنَا ؟ " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، دَخَلَتْ بِجَارِيَةٍ [ بِكْرٍ ] وَقَدْ قَتَلْتَ زَوْجَهَا وَأَخَاهُ ، فَأَشْفَقْتُ عَلَيْكَ ، قُلْتُ : أَكُونُ قَرِيبًا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يَرْحَمُكَ اللَّهُ أَبَا أَيُّوبَ " ثَلَاثَ مَرَّاتٍ . ¤ وَأَكْثَرَ النَّاسُ فِيهَا فَقَائِلٌ [ يَقُولُ ] : سُرِّيَّتُهُ ، وَقَائِلٌ يَقُولُ : امْرَأَتُهُ ، فَلَمَّا كَانَ عِنْدَ الرَّحِيلِ قَالُوا : انْظُرُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِنْ حَجَبَهَا فَهِيَ امْرَأَتُهُ ، وَإِنْ لَمْ يَحْجُبْهَا فَهِيَ سُرِّيَّتُهُ ، فَأَخْرَجَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَحَجَبَهَا ، فَوَضَعَ لَهَا رُكْبَتَهُ ، وَوَضَعَتْ رُكْبَتَهَا عَلَى فَخِذِهِ وَرَكِبَتْ . ¤ وَقَدْ كَانَ عَرَضَ عَلَيْهَا قَبْلَ ذَلِكَ أَنْ يَتَّخِذَهَا سُرِّيَّةً أَوْ يُعْتِقَهَا وَيَنْكِحَهَا ، قَالَتْ : لَا بَلْ أَعْتِقْنِي وَانْكِحْنِي ، فَفَعَلَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي لَيْلَى وَهُوَ سَيِّئُ الْحِفْظِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل خیبر کے ساتھ اس بات پر صلح کی تھی کہ ہر زرد اور سفید چیز ( یعنی سونا اور چاندی ) اور ہر چیز ( مسلمانوں کو ملے گی ) البتہ ان کی اپنی جانیں اور ان کے بال بچے نہیں ملیں گے راوی کہتے ہیں پھر ربیع اور کنانہ بن ابوالحقیق کیک کو لایا گیا ان دونوں میں سے ایک سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کا شوہر تھا جب ان دونوں کو لایا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم دونوں کا وہ برتن کہاں ہے ، جو مدینہ منورہ میں مستعار لیا جاتا تھا تو اس نے کہا: آپ نے ہمیں نکلوا دیا تھا ، اور جلا وطن کر دیا تھا تو ہم نے اس دوران وہ رقم خرچ کر لی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم دونوں اس بات کا جائزہ لو کہ تم دونوں کیا کہہ رہے ہو کیونکہ اگر تم دونوں نے مجھ سے کوئی بات چھپائی ، تو میں اس وجہ سے تم دونوں کے خون اور تمہاری ذریت کو حلال قرار دے دوں گا ۔ راوی کہتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاری شخص کو بلایا اور فرمایا : فلاں فلاں جگہ کے پاس جاؤ اور فلاں درخت کا جائزہ لینا اس کے سرے میں ایک کپڑا ہو گا تم اسے نکال لینا اور پھر اس برتن کو نکال کے اسے لے آنا وہ شخص گیا اور اسے لے آیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو آگے کر کے ان کی گردنیں اڑوا دیں آپ نے ان دونوں کے گھر والوں کو بلوایا سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کو لایا گیا جو نئی نویلی دلہن تھیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا وہ انہیں ساتھ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رہائشی جگہ کی طرف چلے گئے جب سیدنا بلال رضی اللہ عنہ انہیں لے کے جا رہے تھے ، تو اس خاتون کے شوہر اور بھائی کی میت کے پاس سے گزرے جو دونوں قتل ہو چکے تھے جب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : سبحان اللہ اے بلال تم نے ایک لڑکی کے بارے میں کیا ارادہ کیا تھا تم اسے دو مقتولوں کے پاس سے لے کے گزرے تھے تاکہ وہ دونوں اس کو دکھاؤ کیا تمہارے اندر رحمت نہیں ہے ۔ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے یہ ارادہ کیا تھا کہ اس کے من کو جلا دوں راوی کہتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف لائے آپ نے اس خاتون کے ساتھ رات گزاری اس دوران سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ تلوار لے کے آئے ، اور خیمے کے کنارے کے پاس بیٹھ گئے انہوں نے کہا: اگر مجھے کوئی پریشان کن بات سنائی دی اور مجھے اس حوالے سے کوئی الجھن ہوئی ، تو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب رہوں گا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نکل کر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی اقامت گاہ کی طرف آئے ، اور فرمایا : کون ہے ، تو انہوں نے بتایا : میں ابوایوب ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اس وقت یہاں کیا کر رہے ہو انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے ایک کمسن لڑکی کے ساتھ شادی کی ہے ، جس کے شوہر اور بھائی کو آپ قتل کروا چکے ہیں ، تو مجھے آپ کے حوالے سے خدشہ تھا تو میں نے یہ سوچا کہ میں اللہ کے رسول کے قریب رہوں گا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ یہ ارشاد فرمایا : اے ابوایوب اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے اس خاتون کے بارے میں لوگوں کی مختلف آراء ہو گئیں بعض کا یہ کہنا تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کو کنیز بنایا ہے ، اور بعض کا یہ کہنا تھا کہ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ہیں جب روانگی کا وقت ہوا تو لوگوں نے کہا: تم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا جائزہ لو اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کو پردہ کروایا تو وہ آپ کی زوجہ شمار ہوں گی اور اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پردہ نہ کروایا تو وہ آپ کی کنیز شمار ہوں گی جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کو روانہ کروانے لگے ، تو آپ نے ان کا پردہ کروایا آپ نے ان کے لئے اپنا پاؤں رکھا ، یہاں تک کہ انہوں نے اپنا گھٹنا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زانوں پے رکھا اور پھر سوار ہوئیں ۔ اس سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کو یہ پیشکش کی تھی کہ یا تو آپ اسے اپنی کنیز بنا لیتے ہیں یا اسے آزاد کر کے اس کے ساتھ نکاح کر لیتے ہیں ، تو اس خاتون نے جواب دیا جی نہیں بلکہ آپ نے آزاد کر کے میرے ساتھ نکاح کریں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابولیلی ہے ، اور وہ خراب حافظے کا مالک ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابولیلی ہے ، اور وہ خراب حافظے کا مالک ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ عُرْوَةَ قَالَ : لَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ خَيْبَرَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَتَلَ مَنْ قَتَلَ مِنْهُمْ ، أَهْدَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ الْحَارِثِ الْيَهُودِيَّةُ - وَهِيَ بِنْتُ أَخِي مَرْحَبٍ - شَاةً مَصْلِيَّةً ، وَسَمَّتْهُ فِيهَا ، وَأَكْثَرَتْ فِي الْكَتِفِ وَالذِّرَاعِ ; حَيْثُ أُخْبِرَتْ أَنَّهُمَا أَحَبُّ أَعْضَاءِ الشَّاةِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ فَلَمَّا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعَهُ بِشْرُ بْنُ الْبَرَاءِ بْنِ الْمَعْرُورِ أَخُو بَنَى سَلَمَةَ ، قُدِّمَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَنَاوَلَ الْكَتِفَ وَالذِّرَاعَ وَانْتَهَشَ مِنْهَا ، وَتَنَاوَلَ بِشْرٌ عَظْمًا آخَرَ فَانْتَهَشَ مِنْهُ ، فَلَمَّا أَرْغَمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَرْغَمَ بِشْرٌ مَا فِي فِيهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ارْفَعُوا أَيْدِيَكُمْ ; فَإِنَّ كَتِفَ الشَّاةِ تُخْبِرُنِي أَنِّي قَدْ بَغَيْتُ فِيهَا " . ¤ فَقَالَ بِشْرُ بْنُ الْبَرَاءِ : وَالَّذِي أَكْرَمَكَ لَقَدْ وَجَدْتُ ذَلِكَ فِي أَكْلَتِي الَّتِي أَكَلْتُ ، وَإِنْ مْنَعْنِي أَنْ أَلْفِظَهَا إِلَّا أَنِّي كَرِهْتُ أَنْ أُنَغِّصَ طَعَامَكَ ، فَلَمَّا أَكَلْتَ مَا فِي فِيكَ لَمْ أَرْغَبْ بِنَفْسِي عَنْ نَفْسِكَ ، وَرَجَوْتُ أَنْ لَا تَكُونَ رَغِمْتَهَا وَفِيهَا بَغْيٌ . ¤ فَلَمْ يَقُمْ بِشْرٌ مِنْ مَكَانِهِ حَتَّى عَادَ لَوْنُهُ كَالطَّيَالِسَةِ وَمَاطَلَهُ وَجَعُهُ حَتَّى كَانَ لَا يَتَحَوَّلُ إِلَّا مَا حُوِّلَ ، وَبَقِيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعْدَ ثَلَاثِ سِنِينَ حَتَّى كَانَ وَجَعُهُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
عروہ بیان کرتے ہیں : جب اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ کے لئے خیبر کو فتح کروا دیا ، اور ان میں سے کچھ لوگ قتل ہو گئے ، تو زینب بنت حارث نامی ایک یہودی عورت نے جو مرحب کی بھتیجی تھی ایک بکری بھونی اور اس میں زہر ملا دیا اس نے کندھے اور دستی کے گوشت میں زیادہ زہر ملایا کیونکہ اسے یہ بات بتائی گئی تھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بکری کے اعضا میں سے انہیں زیادہ پسند کرتے ہیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اندر تشریف لائے ، تو آپ کے ساتھ سیدنا بشر بن براء بن معرور رضی اللہ عنہ تھے جن کا تعلق بنو سلمہ سے تھا اس خاتون نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے وہ بکری پیش کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کندھے اور دستی کے گوشت کو پکڑا اور اس میں سے نوچ کے کھانے لگے ۔ سیدنا بشر رضی اللہ عنہ نے اس میں ایک اور ہڈی کو پکڑا اور اس میں سے نوچا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے منہ میں موجود چیز کو باہر نکال دیا ، تو سیدنا بشر رضی اللہ عنہ نے بھی اپنے منہ میں موجود چیز کو باہر نکال دیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم لوگ اپنے ہاتھ اٹھا لو کیونکہ اس بکری نے مجھے یہ بتایا ہے کہ اس میں زیادتی کی گئی ہے ۔ سیدنا بشر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو عزت عطا کی ہے میں نے جو لقمہ لیا تھا اس میں ہی مجھے یہ چیز محسوس ہو گئی تھی لیکن میں نے اس کو اس لئے نہیں تھوکا کیونکہ میں نے اس بات کو ناپسند کیا کہ میں آپ کے کھانے کو خراب کروں لیکن جب آپ نے اپنے منہ میں موجود چیز کو کھا لیا ، تو میں نے آپ کے مقابلے میں اپنی ذات میں رغبت نہیں رکھی مجھے یہ امید تھی کہ اگرچہ اس میں زیادتی کی گئی ہے ۔ لیکن اس کا نقصان نہیں ہو گا ، راوی کہتے ہیں : اس کے بعد سیدنا بشر رضی اللہ عنہ اپنی جگہ سے اُٹھے نہیں تھے کہ ان کا رنگ سبز ہو گیا اور ان کی تکلیف زیادہ ہو گئی ، یہاں تک کہ ایک سال گزرنے سے پہلے ان کا انتقال ہو گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس واقعہ کے بعد تین سال تک زندہ رہے ، یہاں تک کہ اسی کی تکلیف کی وجہ سے آپ کا انتقال ہوا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : لَمَّا افْتَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَيْبَرَ قَالَ الْحَجَّاجُ بْنُ عِلَاطٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ لِي بِمَكَّةَ مَالًا ، وَإِنَّ لِي بِهَا أَهْلًا ، وَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ آتِيَهُمْ ، فَأَنَا فِي حِلٍّ إِنْ أَنَا نِلْتُ مِنْكَ أَوْ قُلْتُ شَيْئًا ؟ فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَقُولَ مَا شَاءَ . ¤ فَأَتَى امْرَأَتَهُ حِينَ قَدِمَ ، فَقَالَ : اجْمَعِي لِي مَا كَانَ عِنْدَكِ ; فَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَشْتَرِيَ مِنْ غَنَائِمِ مُحَمَّدٍ وَأَصْحَابِهِ ; فَإِنَّهُمْ قَدِ اسْتُبِيحُوا وَأُصِيبَتْ أَمْوَالُهُمْ . ¤ قَالَ : وَفَشَا ذَلِكَ بِمَكَّةَ ، وَانْقَمَعَ الْمُسْلِمُونَ ، وَأَظْهَرَ الْمُشْرِكُونَ فَرَحًا وَسُرُورًا ، قَالَ : وَبَلَغَ الْخَبَرُ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَعَقِرَ وَجَعَلَ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَقُومَ . ¤ قَالَ مَعْمَرٌ : فَأَخْبَرَنِي عُثْمَانُ الْجَزَرِيُّ ، عَنْ مِقْسَمٍ قَالَ : فَأَخَذَ الْعَبَّاسُ ابْنًا لَهُ يُقَالُ لَهُ : قُثَمٌ ، فَاسْتَلْقَى فَوَضَعَهُ عَلَى صَدْرِهِ وَهُوَ يَقُولُ : حِبِّي قُثَمْ شَبِيهُ ذِي الْأَنْفِ الْأَشَمْ نَبِيِّ ذِي النِّعَمْ بِرَغْمٍ مِنْ رَغَمْ . قَالَ ثَابِتٌ ، [ عَنِ الْحَجَّاجِ ] عَنْ أَنَسٍ : ثُمَّ أَرْسَلَ غُلَامًا لَهُ إِلَى الْحَجَّاجِ بْنِ عِلَاطٍ ، فَقَالَ : وَيْلَكَ مَاذَا جِئْتَ بِهِ ؟ وَمَاذَا تَقُولُ ؟ فَمَا وَعَدَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ خَيْرٌ مِمَّا جِئْتَ بِهِ . قَالَ الْحَجَّاجُ بْنُ عِلَاطٍ لِغُلَامِهِ : اقْرَأْ عَلَى أَبِي الْفَضْلِ السَّلَامَ ، وَقُلْ لَهُ لِيُخَلِّ لِي [ فِي ] بَعْضَ بُيُوتِهِ لِآتِيَهُ ، فَإِنَّ الْخَبَرَ عَلَى مَا يَسُرُّهُ ، فَجَاءَ غُلَامُهُ فَلَمَّا بَلَغَ بَابَ الدَّارِ ، قَالَ : أَبْشِرْ أَبَا الْفَضْلِ قَالَ : فَوَثَبَ الْعَبَّاسُ فَرِحًا حَتَّى قَبَّلَ بَيْنَ عَيْنَيْهِ ، فَأَخْبَرَهُ مَا قَالَ الْحَجَّاجُ فَأَعْتَقَهُ ، قَالَ : ثُمَّ جَاءَ الْحَجَّاجُ فَأَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدِ افْتَتَحَ خَيْبَرَ ، وَغَنِمَ أَمْوَالَهُمْ ، وَجَرَتْ سِهَامُ اللَّهِ فِي أَمْوَالِهِمْ ، وَاصْطَفَى رَسُولُ اللَّهِ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ فَاتَّخَذَهَا لِنَفْسِهِ ، وَخَيَّرَهَا أَنْ يُعْتِقَهَا وَتَكُونَ زَوْجَتَهُ ، أَوْ تَلْحَقَ بِأَهْلِهَا ، فَاخْتَارَتْ أَنْ يُعْتِقَهَا وَتَكُونَ زَوْجَتَهُ ، وَلَكِنِّي جِئْتُ لِمَالٍ كَانَ لِي هَهُنَا أَرَدْتُ أَنْ أَجْمَعَهُ فَأَذْهَبَ بِهِ ، فَاسْتَأْذَنْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَذِنَ لِي أَنْ أَقُولَ مَا شِئْتُ ، فَأَخْفِ عَنِّي ثَلَاثًا ثُمَّ اذْكُرْ مَا بَدَا لَكَ . ¤ قَالَ : فَجَمَعَتِ امْرَأَتُهُ مَا كَانَ عِنْدَهَا مِنْ حُلِيٍّ أَوْ مَتَاعٍ فَدَفَعَتْهُ إِلَيْهِ ثُمَّ اسْتَمَرَّ بِهِ ، فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ثَلَاثٍ أَتَى الْعَبَّاسُ امْرَأَةَ الْحَجَّاجِ ، فَقَالَ : مَا فَعَلَ زَوْجُكِ ؟ فَأَخْبَرَتْهُ أَنَّهُ ذَهَبَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا ، وَقَالَتْ : لَا يُخْزِيكَ اللَّهُ يَا أَبَا الْفَضْلِ ، لَقَدْ شَقَّ عَلَيْنَا الَّذِي بَلَغَكَ . ¤ قَالَ : أَجَلْ لَا يُخْزِنِي اللَّهُ ، وَلَمْ يَكُنْ بِحَمْدِ اللَّهِ إِلَّا مَا أَحْبَبْنَا ، فَتَحَ اللَّهُ خَيْبَرَ عَلَى رَسُولِهِ ، وَجَرَتْ سِهَامُ اللَّهِ ، وَاصْطَفَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَفِيَّةَ لِنَفْسِهِ ، فَإِنْ كَانَ لَكِ حَاجَةٌ فِي زَوْجِكِ فَالْحَقِي بِهِ ، قَالَتْ : أَظُنُّكَ وَاللَّهِ صَادِقًا ، قَالَ : فَإِنِّي صَادِقٌ ، وَالْأَمْرُ عَلَى مَا أَخْبَرْتُكِ ، ثُمَّ ذَهَبَ حَتَّى أَتَى مَجَالِسَ قُرَيْشٍ ، وَهُمْ يَقُولُونَ إِذَا مَرَّ بِهِمْ : لَا يُصِيبُكَ إِلَّا خَيْرٌ يَا أَبَا الْفَضْلِ . ¤ قَالَ : لَمْ يُصِبْنِي إِلَّا خَيْرٌ بِحَمْدِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى ، قَدْ أَخْبَرَنِي الْحَجَّاجُ بْنُ عِلَاطٍ أَنَّ خَيْبَرَ فَتَحَهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى رَسُولِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَجَرَتْ فِيهَا سِهَامُ اللَّهِ ، وَاصْطَفَى صَفِيَّةَ لِنَفْسِهِ ، وَقَدْ سَأَلَنِي أَنْ أُخْفِيَ عَنْهُ ثَلَاثًا ، وَإِنَّمَا جَاءَ لِيَأْخُذَ مَالَهُ ، وَمَا كَانَ لَهُ مِنْ شَيْءٍ هَهُنَا ثُمَّ يَذْهَبَ . ¤ قَالَ : فَرَدَّ اللَّهُ الْكَآبَةَ الَّتِي كَانَتْ بِالْمُسْلِمِينَ عَلَى الْمُشْرِكِينَ ، وَخَرَجَ الْمُسْلِمُونَ وَمَنْ كَانَ دَخَلَ بَيْتَهُ مُكْتَئِبًا حَتَّى أَتَوُا الْعَبَّاسَ فَأَخْبَرَهُمُ الْخَبَرَ ، فَسُرَّ الْمُسْلِمُونَ وَرَدَّ [ اللَّهُ - يَعْنِي ] مَا كَانَ مِنْ كَآبَةٍ أَوْ غَيْظٍ أَوْ حُزْنٍ عَلَى الْمُشْرِكِينَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر فتح کیا تو حجاج بن علاط نے کہا: یا رسول اللہ ! مکہ میں میرا مال موجود ہے وہاں میرے اہل خانہ بھی موجود ہیں میں یہ چاہتا ہوں کہ میں ان لوگوں کے پاس جاؤں اگر میں آپ کے بارے میں آپ کے خلاف کوئی باتیں کروں تو آپ مجھے اس کی اجازت دے دیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس کی اجازت دے دی کہ وہ جو چاہیں کہہ دیں جب وہ صاحب آئے ، تو اپنی بیوی کے پاس آئے ، اور بولے : تمہارے پاس جو کچھ بھی ہے وہ میرے لئے جمع کر دو کیونکہ میں محمد اور ان کے ساتھیوں سے مال غنیمت خریدنا چاہتا ہوں کیونکہ ان کا حال خراب ہو چکا ہے ، اور ان کے اموال کو نقصان پہنچ چکا ہے ۔ راوی کہتے ہیں : یہ بات مکہ میں پھیل گئی اس سے مسلمان پریشان ہو گئے ، اور مشرکین میں خوشی کی لہر دوڑ گئی راوی کہتے ہیں : جب سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کو اس بات کی اطلاع ملی تو ان کی ٹانگوں میں جان نہ رہی وہ کھڑے ہونے کے قابل نہ رہے ۔ معمر بیان کرتے ہیں : عثمان جزری نے مقسم کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے ۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اپنے بیٹے قسم کو پکڑ کر لیٹ جاتے تھے اسے اپنے سینے پر بٹھاتے تھے اور یہ فرماتے تھے یہ میرا محبوب قسم ہے جو خوشبو والی ناک والی شخصیت کے ساتھ مشابہت رکھتا ہے ، جو نعمتوں والے نبی ہیں خواہ کسی بھی شخص کو کتنا بھی ناگوار گزرے ۔ ثابت نے حجاج کے حوالے سے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے یہ بات نقل کی ہے پھر انہوں نے اپنے غلام کو حجاج بن علاط کی طرف بھیجا اور کہا: تمہارا ستیاناس ہو تم کیا اطلاع لے کے آئے ہو کیا بیان کرتے پھر رہے ہو تم جو چیز لے کے آئے ہو اللہ تعالیٰ کا کیا ہوا وعدہ اس سے زیادہ بہتر ہے ، تو حجاج بن علاط نے ان کے غلام سے کہا: تم ابوالفضل کو میری طرف سے سلام کہنا اور ان سے یہ کہنا کہ وہ اپنے گھر میں کی جگہ پر تنہا ہوں ۔ میں ان کے پاس آؤں گا کیونہ اصل اطلاع وہ ہے ، جس سے وہ خوش ہو جائیں گے ان کا غلام آ گیا جب سیدنا حجاج بن علاط رضی اللہ عنہ دروازے پر پہنچے تو انہوں نے فرمایا : اے ابوالفضل آپ خوشخبری حاصل کریں تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ خوشی کے عالم میں اٹھ کھڑے ہوئے ، اور انہوں نے سیدنا حجاج بن علاط رضی اللہ عنہ کی دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا جب حجاج کی باتوں کی اطلاع انہیں ملی تو انہوں نے اس غلام کو آزاد کر دیا ۔ راوی کہتے ہیں : پھر حجاج آئے ، اور انہوں نے انہیں بتایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر فتح کر لیا اور وہاں کے اموال کو غنیمت کے طور پر حاصل کر لیا ہے ، اور ان اموال میں اللہ تعالیٰ کے حصے جاری ہوئے ہیں ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کو منتخب کر کے اسے اپنی ذات کے لئے حاصل کر لیا ہے آپ نے اس خاتون کو یہ اختیار دیا تھا کہ اسے آزاد کر دیں ، اور وہ خاتون آپ کی زوجہ بن جائیں یا پھر وہ اپنے اہل خانہ کے پاس چلی جائے ، تو اس خاتون نے اس بات کو اختیار کیا کہ آپ اسے آزاد کریں اور وہ آپ کی زوجہ بن جائے پھر حجاج نے بتایا : میں یہاں اپنے مال کے سلسلے میں آیا ہوں جو یہاں موجود تھا میرا ارادہ یہ ہے کہ میں اسے اکٹھا کر کے لے کے چلا جاؤں گا ۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں اجازت مانگی تھی آپ نے مجھے اجازت دی تھی کہ میں جو چاہوں بیان کر دوں تو آپ نے میرے حوالے سے تین دن تک اس بات کو پوشیدہ رکھنا ہے پھر آپ کو مناسب لگے گا اس کو ذکر کر دیجئے گا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر ان صاحب کی بیوی نے اپنے پاس موجود ہر زیور اور سامان اکٹھا کیا اور ان کے سپرد کر دیا پھر وہ صاحب اسے لے کے چلے گئے تین دن گزرنے کے بعد سیدنا عباس رضی اللہ عنہ حجاج کی اہلیہ کے پاس آئے ، اور بولے : تمہارے شوہر کا کیا حال ہے ، تو اس خاتون نے انہیں بتایا : وہ تو فلاں دن چلے گئے تھے اس خاتون نے یہ بھی کہا: کہ اے ابوالفضل اللہ تعالیٰ آپ کو رسوائی کا شکار نہیں کرے گا آپ کو جو اطلاع ملی تھی وہ ہم پر بھی گراں گزری تھی سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جی ہاں اللہ تعالیٰ مجھے رسوائی کا شکار نہیں کرے گا اور صورت حال الحمدللہ وہ ہو گی جو ہمیں پسند ہو گی اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے لئے خیبر کو فتح کروا دیا ہے ، اور اللہ کے حصے جاری ہو گئے ہیں ، اور اللہ کے نبی نے صفیہ کو اپنے لئے منتخب کیا ہے اگر تم اپنے شوہر کے پاس جانا چاہتی ہو ، تو اس کے ساتھ جا ملو اس خاتون نے کہا: آپ کے بارے میں اللہ کی قسم میرا یہ گمان ہے کہ آپ سچ کہہ رہے ہیں ۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں سچ کہہ رہا ہوں ، اور معاملہ اسی طرح ہے ، جو میں نے تمہیں بتایا ہے پھر سیدنا عباس رضی اللہ عنہ تشریف لے گئے ، اور قریش کی محافل میں آئے وہ لوگ یہ کہہ رہے تھے جب وہ ان کے پاس سے گزرے کہ اے ابوالفضل آپ کو بھلائی نصیب نہیں ہوئی ہے ، تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : مجھے الحمدللہ صرف بھلائی ہی نصیب ہوئی ہے حجاج بن علاط نے مجھے یہ بتایا ہے کہ خیبر کو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے لئے فتح کروا دیا ہے ، اور اس میں اللہ تعالیٰ کے حصے جاری ہوئے ہیں ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کو اپنی ذات کے لئے مخصوص کیا ہے حجاج نے مجھ سے یہ کہا: تھا کہ میں تین دن تک اس کے حوالے سے اس بات کو چھپا کے رکھوں کیونکہ وہ اس لئے آیا ہے ، تاکہ اپنا مال حاصل کر لے اور اس کی جو چیزیں بھی یہاں ہیں وہ حاصل کر لے پھر وہ چلا جائے گا ۔ راوی کہتے ہیں : تو مسلمانوں کی جو پریشانی تھی وہ مشرکین کی طرف لوٹ گئی ، تو مسلمان باہر نکل آئے ، اور وہ فرد باہر نکل آیا جو اپنے گھر میں چھپ کے بیٹھا ہوا تھا ، یہاں تک کہ وہ لوگ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آئے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے انہیں اصل صورت حال کے بارے میں بتایا تو اس سے مسلمان خوش ہو گئے ، اور ان کو جو پریشانی غصہ اور تکلیف لاحق تھے ۔ اللہ تعالیٰ نے وہ مشرکین پر عائد کر دیے ۔
یہ روایت امام أحمد امام ابویعلیٰ اور امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد امام ابویعلیٰ اور امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ عُرْوَةَ قَالَ : وَقُتِلَ يَوْمَ خَيْبَرَ مِنْ قُرَيْشٍ ثُمَّ مِنْ بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ : ثَقِفُ بْنُ عَمْرٍو حَلِيفٌ لَهُمْ مِنْ بَنِي أَسَدِ بْنِ خُزَيْمَةَ . ¤ وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي زُرَيْقٍ : مَسْعُودُ بْنُ سَعْدِ بْنِ خَالِدٍ ، وَمِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ : أَبُو الصَّيَاحِ أَوْ أَبُو ضَيَاحٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
عروہ بیان کرتے ہیں : غزوہ خیبر کے موقع پر قریش کی شاخ بنو عبدمناف سے تعلق رکھنے والے سیدنا ثقف بن عمرو رضی اللہ عنہ نے جام شہادت نوش کیا تھا یہ ان لوگوں کے حلیف تھے اور ان کا تعلق بنو اسد بن خزیمہ سے تھا ۔ انصار کی شاخ بنوزریق سے تعلق رکھنے والے سیدنا مسعود بن سعد بن خالد رضی اللہ عنہ ( نے جام شہادت نوش کیا ) بنو عمرو سے تعلق رکھنے والے سیدنا ابوصياح ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) سیدنا ابوضیاح رضی اللہ عنہ ( نے جام شہادت نوش کیا ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ۔ اس کی سند میں ضعف پایا جاتا ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ۔ اس کی سند میں ضعف پایا جاتا ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ شِهَابٍ فِي تَسْمِيَةِ مَنِ اسْتُشْهِدَ يَوْمَ خَيْبَرَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي حَارِثَةَ : مَحْمُودُ بْنُ مَسْلَمَةَ ، فَذَكَرُوا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِمُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ : أَخُوكَ لَهُ أَجْرُ شَهِيدَيْنِ ، وَمَنْ بَنِي زُرَيْقٍ : مَسْعُودُ بْنُ سَعْدِ بْنِ قَيْسٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابن شہاب نے غزوہ خیبر میں جام شہادت نوش کرنے والوں کے ناموں میں انصار سے تعلق رکھنے والے سیدنا محمود بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا ہے جن کا تعلق بنو حارثہ سے تھا ان لوگوں نے یہ بات بھی ذکر کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا تمہارے بھائی کو دو شہیدوں کا اجر ملے گا اس کے علاوہ بنوزریق سے تعلق رکھنے والے سیدنا مسعود بن سعد بن قیس رضی اللہ عنہ ( نے جام شہادت نوش کیا ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : مَا شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَغْنَمًا قَطُّ إِلَّا قَسَمَ لِي ، إِلَّا خَيْبَرَ ، فَإِنَّهَا كَانَتْ لِأَهْلِ الْحُدَيْبِيَةِ خَاصَّةً . ¤ وَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَأَبُو مُوسَى جَاءَا بَيْنَ الْحُدَيْبِيَةِ وَخَيْبَرَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ وَهُوَ سَيِّئُ الْحِفْظِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے جب بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مال غنیمت والی کسی جنگ میں حصہ لیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے مجھے حصہ دیا البتہ خیبر کا معاملہ مختلف ہے کیونکہ اس کا مال غنیمت ان لوگوں کے ساتھ مخصوص تھا جو غزوہ حدیبیہ میں شامل ہوئے تھے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ حدیبیہ اور خیبر کے درمیانی عرصے میں آئے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے ، اور وہ خراب حافظے کا مالک ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے ، اور وہ خراب حافظے کا مالک ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ سُوِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ - وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : قَفَلْنَا مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ غَزْوَةِ خَيْبَرَ ، فَلَمَّا بَدَا لَهُ أُحُدٌ قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اللَّهُ أَكْبَرُ ، جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ . وَعُقْبَةُ ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ وَقَالَ : رَوَى عَنْهُ عَبْدُ الْعَزِيزِ ، وَلَمْ يَجْرَحْهُ ، قُلْتُ : وَرَوَى عَنِ الزُّهْرِيِّ عِنْدَ أَحْمَدَ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن سوید انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے اپنے والد کو سنا ہے ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک ہیں وہ بیان کرتے ہیں : ہم غزوہ خیبر سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ واپس آئے جب اُحد پہاڑ آپ کے سامنے آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ اکبر ! یہ پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے ، اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے عقبہ نامی راوی کا ذکر ابن ابوحاتم نے کیا ہے وہ بیان کرتے ہیں : عبدالعزیز نے اس سے روایت نقل کی ہے ۔ انہوں نے اس پر جرح نہیں کی ہے میں یہ کہتا ہوں امام أحمد کے نزدیک زہری نے اس سے روایت نقل کی ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے عقبہ نامی راوی کا ذکر ابن ابوحاتم نے کیا ہے وہ بیان کرتے ہیں : عبدالعزیز نے اس سے روایت نقل کی ہے ۔ انہوں نے اس پر جرح نہیں کی ہے میں یہ کہتا ہوں امام أحمد کے نزدیک زہری نے اس سے روایت نقل کی ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔