حدیث نمبر: 10193
وَعَنْ [ نَصْرِ بْنِ ] دَهْرٍ الْأَسْلَمِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ فِي مَسِيرِهِ إِلَى خَيْبَرَ لِعَامِرِ بْنِ الْأَكْوَعِ ، وَهُوَ عَمُّ سَلَمَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَكْوَعِ ، وَكَانَ اسْمَ الْأَكْوَعِ سِنَانٌ : " انْزِلْ يَا ابْنَ الْأَكْوَعِ فَخُذْ لَنَا مِنْ هُنَيَّاتِكَ " . ¤ قَالَ : فَنَزَلَ يَرْتَجِزُ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : ¤ وَاللَّهِ لَوْلَا اللَّهُ مَا اهْتَدَيْنَا وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا إِنَّا إِذَا قَوْمٌ بَغَوْا عَلَيْنَا ¤ وَإِنْ أَرَادُوا فِتْنَةً أَبَيْنَا فَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا ¤ وَثَبِّتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ وَزَادَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَرْحَمُكَ اللَّهُ " ، فَقَالَ عُمَرُ : وَجَبَتْ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَوْ أَمْتَعْتَنَا بِهِ ، فَقُتِلَ يَوْمَ خَيْبَرَ شَهِيدًا . وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا نصر بن دہر اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے ، خیبر کی طرف روانگی کے وقت ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدنا عامر بن اکوع رضی اللہ عنہ سے یہ کہتے ہوئے سنا ، جو سیدنا سلمہ بن عمرو بن اکوع رضی اللہ عنہ کے چچا ہیں ، اکوع کا نام سنان تھا ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) ” اے ابن اکوع ! تم نیچے اترو اور اپنے نغموں میں سے ہمیں حدی سناؤ “ ۔ راوی کہتے ہیں : وہ نیچے اترے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے یہ رجز پڑھنا شروع کیا : ” اللہ کی قسم اگر اللہ تعالیٰ کی ذات نہ ہوتی تو ہم نے ہدایت حاصل نہیں کرنی تھی ، ہم نے نہ تو صدقہ کرنا تھا اور نہ ہم نے نماز پڑھنی تھی ، ہماری یہ صورتحال ہے کہ دشمن ہمارے خلاف سرکشی پر آمادہ ہے وہ آزمائش ( یعنی جنگ ) کا ارادہ رکھتا ہے اور ہم یہ نہیں چاہتے ( اے ہمارے پروردگار ! ) تو ہم پر سکینت نازل کرنا ، اور ہمیں ثابت قدم رکھنا ، اگر ہم ( میدان جنگ میں ) دشمن کا سامنا کریں “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے ! “ ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم ! اس شخص کے لئے ( موت یا شہادت ) واجب ہو گئی ہے ، اگر آپ ہمیں اس کا نفع حاصل کرنے دیتے ( یعنی اسے زندگی کی دعا دیتے ، تو اچھا تھا ) تو وہ صاحب غزوہ خیبر کے موقع پر شہید ہوئے تھے ۔ ان دونوں روایات کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10193
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (431/3)»