حدیث نمبر: 10208
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : صَالَحَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَهْلَ خَيْبَرَ عَلَى كُلِّ صَفْرَاءَ وَبَيْضَاءَ ، وَعَلَى كُلِّ شَيْءٍ إِلَّا أَنْفُسَهُمْ وَذَرَارِيَّهُمْ . ¤ قَالَ : فَأُتِيَ بِالرَّبِيعِ وَكِنَانَةَ ابْنَيْ أَبِي الْحَقِيقِ ، وَأَحَدُهُمَا عَرُوسٌ بِصَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ ، فَلَمَّا أَتَى بِهِمَا ، قَالَ : " أَيْنَ آنِيَتُكُمَا الَّتِي كَانَتْ تُسْتَعَارُ بِالْمَدِينَةِ ؟ " قَالَ : أَخْرَجْتَنَا وَأَجْلَيْتَنَا فَأَنْفَقْنَاهَا ، قَالَ : " انْظُرَا مَا تَقُولَانِ فَإِنَّكُمَا إِنْ كَتَمْتَانِي اسْتَحْلَلْتُ بِذَلِكَ دِمَاءَكُمَا وَذُرِّيَّتَكُمَا " . ¤ قَالَ : فَدَعَا رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ قَالَ : " اذْهَبْ إِلَى مَكَانِ كَذَا وَكَذَا فَانْظُرْ نَخِيلَةً فِي رَأْسِهَا رُقْعَةٌ ، فَانْزِعْ تِلْكَ الرُّقْعَةَ ، وَاسْتَخْرِجْ تِلْكَ الْآنِيَةَ فَأْتِ بِهَا " فَانْطَلَقَ حَتَّى جَاءَ بِهَا ، فَقَدَّمَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَضَرَبَ أَعْنَاقَهُمَا . ¤ وَبَعَثَ إِلَى ذُرِّيَّتِهِمَا فَأُتِيَ بِصَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ وَهِيَ عَرُوسٌ ، فَأَمَرَ بِلَالًا فَانْطَلَقَ بِهَا إِلَى مَنْزِلِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَانْطَلَقَ بِلَالٌ فَمَرَّ بِهَا عَلَى زَوْجِهَا وَأَخِيهِ وَهُمَا قَتِيلَانِ ، فَلَمَّا رَجَعَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " سُبْحَانَ اللَّهِ ! مَا أَرَدْتَ يَا بِلَالُ إِلَى جَارِيَةٍ [ بِكْرٍ ] تَمُرُّ بِهَا عَلَى قَتِيلَيْنِ تُرِيهَا إِيَّاهُمَا [ أَمَا لَكَ رَحْمَةٌ ] " قَالَ : أَرَدْتُ أَنْ أَحْرِقَ جَوْفَهَا . ¤ قَالَ : وَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَاتَ مَعَهَا ، وَجَاءَ أَبُو أَيُّوبَ بِسَيْفِهِ فَجَلَسَ إِلَى جَانِبِ الْفُسْطَاطِ ، فَقَالَ : إِنْ سَمِعْتُ وَاعِيَةً أَوْ رَابَنِي شَيْءٌ كُنْتُ قَرِيبًا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى إِقَامَةِ بِلَالٍ ، قَالَ : " مَنْ هَذَا ؟ " قَالَ : أَنَا أَبُو أَيُّوبَ ، قَالَ : " مَا شَأْنُكَ هَذِهِ السَّاعَةَ هَهُنَا ؟ " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، دَخَلَتْ بِجَارِيَةٍ [ بِكْرٍ ] وَقَدْ قَتَلْتَ زَوْجَهَا وَأَخَاهُ ، فَأَشْفَقْتُ عَلَيْكَ ، قُلْتُ : أَكُونُ قَرِيبًا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يَرْحَمُكَ اللَّهُ أَبَا أَيُّوبَ " ثَلَاثَ مَرَّاتٍ . ¤ وَأَكْثَرَ النَّاسُ فِيهَا فَقَائِلٌ [ يَقُولُ ] : سُرِّيَّتُهُ ، وَقَائِلٌ يَقُولُ : امْرَأَتُهُ ، فَلَمَّا كَانَ عِنْدَ الرَّحِيلِ قَالُوا : انْظُرُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِنْ حَجَبَهَا فَهِيَ امْرَأَتُهُ ، وَإِنْ لَمْ يَحْجُبْهَا فَهِيَ سُرِّيَّتُهُ ، فَأَخْرَجَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَحَجَبَهَا ، فَوَضَعَ لَهَا رُكْبَتَهُ ، وَوَضَعَتْ رُكْبَتَهَا عَلَى فَخِذِهِ وَرَكِبَتْ . ¤ وَقَدْ كَانَ عَرَضَ عَلَيْهَا قَبْلَ ذَلِكَ أَنْ يَتَّخِذَهَا سُرِّيَّةً أَوْ يُعْتِقَهَا وَيَنْكِحَهَا ، قَالَتْ : لَا بَلْ أَعْتِقْنِي وَانْكِحْنِي ، فَفَعَلَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي لَيْلَى وَهُوَ سَيِّئُ الْحِفْظِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل خیبر کے ساتھ اس بات پر صلح کی تھی کہ ہر زرد اور سفید چیز ( یعنی سونا اور چاندی ) اور ہر چیز ( مسلمانوں کو ملے گی ) البتہ ان کی اپنی جانیں اور ان کے بال بچے نہیں ملیں گے راوی کہتے ہیں پھر ربیع اور کنانہ بن ابوالحقیق کیک کو لایا گیا ان دونوں میں سے ایک سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کا شوہر تھا جب ان دونوں کو لایا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم دونوں کا وہ برتن کہاں ہے ، جو مدینہ منورہ میں مستعار لیا جاتا تھا تو اس نے کہا: آپ نے ہمیں نکلوا دیا تھا ، اور جلا وطن کر دیا تھا تو ہم نے اس دوران وہ رقم خرچ کر لی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم دونوں اس بات کا جائزہ لو کہ تم دونوں کیا کہہ رہے ہو کیونکہ اگر تم دونوں نے مجھ سے کوئی بات چھپائی ، تو میں اس وجہ سے تم دونوں کے خون اور تمہاری ذریت کو حلال قرار دے دوں گا ۔ راوی کہتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاری شخص کو بلایا اور فرمایا : فلاں فلاں جگہ کے پاس جاؤ اور فلاں درخت کا جائزہ لینا اس کے سرے میں ایک کپڑا ہو گا تم اسے نکال لینا اور پھر اس برتن کو نکال کے اسے لے آنا وہ شخص گیا اور اسے لے آیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو آگے کر کے ان کی گردنیں اڑوا دیں آپ نے ان دونوں کے گھر والوں کو بلوایا سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کو لایا گیا جو نئی نویلی دلہن تھیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا وہ انہیں ساتھ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رہائشی جگہ کی طرف چلے گئے جب سیدنا بلال رضی اللہ عنہ انہیں لے کے جا رہے تھے ، تو اس خاتون کے شوہر اور بھائی کی میت کے پاس سے گزرے جو دونوں قتل ہو چکے تھے جب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : سبحان اللہ اے بلال تم نے ایک لڑکی کے بارے میں کیا ارادہ کیا تھا تم اسے دو مقتولوں کے پاس سے لے کے گزرے تھے تاکہ وہ دونوں اس کو دکھاؤ کیا تمہارے اندر رحمت نہیں ہے ۔ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے یہ ارادہ کیا تھا کہ اس کے من کو جلا دوں راوی کہتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف لائے آپ نے اس خاتون کے ساتھ رات گزاری اس دوران سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ تلوار لے کے آئے ، اور خیمے کے کنارے کے پاس بیٹھ گئے انہوں نے کہا: اگر مجھے کوئی پریشان کن بات سنائی دی اور مجھے اس حوالے سے کوئی الجھن ہوئی ، تو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب رہوں گا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نکل کر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی اقامت گاہ کی طرف آئے ، اور فرمایا : کون ہے ، تو انہوں نے بتایا : میں ابوایوب ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اس وقت یہاں کیا کر رہے ہو انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے ایک کمسن لڑکی کے ساتھ شادی کی ہے ، جس کے شوہر اور بھائی کو آپ قتل کروا چکے ہیں ، تو مجھے آپ کے حوالے سے خدشہ تھا تو میں نے یہ سوچا کہ میں اللہ کے رسول کے قریب رہوں گا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ یہ ارشاد فرمایا : اے ابوایوب اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے اس خاتون کے بارے میں لوگوں کی مختلف آراء ہو گئیں بعض کا یہ کہنا تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کو کنیز بنایا ہے ، اور بعض کا یہ کہنا تھا کہ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ہیں جب روانگی کا وقت ہوا تو لوگوں نے کہا: تم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا جائزہ لو اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کو پردہ کروایا تو وہ آپ کی زوجہ شمار ہوں گی اور اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پردہ نہ کروایا تو وہ آپ کی کنیز شمار ہوں گی جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کو روانہ کروانے لگے ، تو آپ نے ان کا پردہ کروایا آپ نے ان کے لئے اپنا پاؤں رکھا ، یہاں تک کہ انہوں نے اپنا گھٹنا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زانوں پے رکھا اور پھر سوار ہوئیں ۔ اس سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کو یہ پیشکش کی تھی کہ یا تو آپ اسے اپنی کنیز بنا لیتے ہیں یا اسے آزاد کر کے اس کے ساتھ نکاح کر لیتے ہیں ، تو اس خاتون نے جواب دیا جی نہیں بلکہ آپ نے آزاد کر کے میرے ساتھ نکاح کریں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابولیلی ہے ، اور وہ خراب حافظے کا مالک ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10208
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12068)»