مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ غَزْوَةِ خَيْبَرَ باب: غزوہ خیبر کا بیان
وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ : حَاصَرْنَا خَيْبَرَ ، فَأَخَذَ اللِّوَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَانْصَرَفَ وَلَمْ يُفْتَحْ لَهُ ، ثُمَّ أَخَذَهُ مِنَ الْغَدِ عُمَرُ فَخَرَجَ فَرَجَعَ وَلَمْ يُفْتَحْ لَهُ ، وَأَصَابَ النَّاسَ يَوْمَئِذٍ شِدَّةٌ وَجُهْدٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنِّي دَافِعُ اللِّوَاءِ غَدًا إِلَى رَجُلٍ يُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ، وَيُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، لَا يَرْجِعُ حَتَّى يُفْتَحَ لَهُ " . ¤ وَبِتْنَا طَيِّبَةً أَنْفُسُنَا أَنَّ الْفَتْحَ غَدًا ، فَلَمَّا أَنْ أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى الْغَدَاةَ ثُمَّ قَامَ قَائِمًا فَدَعَا بِاللِّوَاءِ وَالنَّاسُ عَلَى مَصَافِّهِمْ ، فَدَعَا عَلِيًّا وَهُوَ أَرْمَدُ ، فَتَفِلَ فِي عَيْنَيْهِ ، وَدَفَعَ إِلَيْهِ اللِّوَاءَ ، وَفُتِحَ لَهُ . قَالَ بُرَيْدَةُ : وَأَنَا فِيمَنْ تَطَاوَلَ لَهَا . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نے خیبر کا محاصرہ کر لیا سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جھنڈا لیا پھر وہ واپس آ گئے شہر فتح نہیں ہوا اگلے دن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جھنڈا لیا وہ گئے ، اور واپس آ گئے ان کے لئے بھی شہر فتح نہیں ہوا اس دن لوگوں کو مشقت اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کل میں جھنڈا ایسے شخص کو دوں گا جس سے اللہ اور اس کا رسول محبت کرتے ہیں ، اور وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے ، اور وہ فتح حاصل کیے بغیر نہیں آئے گا ۔ راوی کہتے ہیں : ہم نے وہ رات اس خواہش میں گزار دی کہ کل فتح نصیب ہو جائے گی اگلے دن صبح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز ادا کی پھر آپ کھڑے ہوئے آپ نے جھنڈا منگوایا لوگ صفوں میں موجود تھے آپ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بلوایا انہیں آشوب چشم کی شکایت تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھوں پر لعاب دہن ڈالا اور انہیں جھنڈا عطا کیا ، تو ان کے لئے شہر فتح ہو گیا ۔