حدیث نمبر: 10177
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى إِذَا كُنَّا بَعَسَفَانَ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ عُيُونَ الْمُشْرِكِينَ الْآنَ عَلَى ضَجْنَانَ ، فَأَيُّكُمْ يَعْرِفُ طَرِيقَ ذَاتِ الْحَنْظَلِ ؟ " . ¤ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ أَمْسَى : " هَلْ مِنْ رَجُلٍ يَنْزِلُ فَيَسْعَى بَيْنَ يَدَيِ الرِّكَابِ ؟ " فَقَالَ رَجُلٌ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَنَزَلْتُ ، فَجَعَلَتِ الْحِجَارَةُ تَنْكُبُهُ ، وَالشَّجَرُ يَتَعَلَّقُ بِثِيَابِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ارْكَبْ " ثُمَّ نَزَلَ آخَرُ ، فَجَعَلَتِ الْحِجَارَةُ [ تَنْكُبُهُ ] وَالشَّجَرُ يَتَعَلَّقُ بِثِيَابِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ارْكَبْ " . ¤ ثُمَّ وَقَعْنَا عَلَى الطَّرِيقِ حَتَّى سِرْنَا فِي ثَنِيَّةٍ ، يُقَالُ لَهَا : الْحَنْظَلُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا مَثَلُ هَذِهِ الثَّلَاثَةِ إِلَّا كَمَثَلِ الْبَابِ الَّذِي دَخَلَ فِيهِ بَنُو إِسْرَائِيلَ ( قِيلَ لَهُمُ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَقُولُوا حِطَّةٌ نَغْفِرْ لَكُمْ خَطَايَاكُمْ ) لَا يَجُوزُ أَحَدٌ اللَّيْلَةَ هَذِهِ الثَّنِيَّةَ إِلَّا غُفِرَ لَهُ " . ¤ فَجَعَلَ النَّاسُ يُسْرِعُونَ وَيَجُوزُونَ ، وَكَانَ آخِرَ مَنْ جَازَ قَتَادَةُ بْنُ النُّعْمَانِ فِي آخِرِ الْقَوْمِ قَالَ : فَجَعَلَ النَّاسُ يُرْكِبُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا حَتَّى تَلَاحَقْنَا قَالَ : فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَزَلْنَا . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نکلے ، جب ہم ” عسفان “ کے مقام پر پہنچے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مشرکین کے جاسوس ، اس وقت ” ضجنان “ کے مقام پر ہیں ، تو تم میں سے کون شخص ” حنظل “ والے راستے سے واقف ہے ؟ شام کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا کوئی شخص اتر کر سواروں کے آگے آگے دوڑے گا ، تو ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں ایسا کروں گا ، وہ صاحب نیچے اترے تو ان کے راستے میں پتھر آئے ، جو ان کو چبھ رہے تھے اور درخت آئے جو ان کے کپڑوں سے چمٹ رہے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم سوار ہو جاؤ ! پھر ایک اور صاحب اترے ، تو پتھر انہیں بھی چبھنے لگے اور درخت ان کے کپڑوں کے ساتھ بھی الجھنے لگے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم سوار ہو جاؤ ! پھر ہم ایک ایسے راستے پر آئے ، یہاں تک کہ ہم ایک گھاٹی پر آ گئے ، جس کا نام ” حنظل “ تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس گھاٹی کی مثال اُس دروازے کی مانند ہے ، جس میں بنی اسرائیل داخل ہوئے تھے ، جب اُن سے یہ کہا: گیا : تم اس دروازے سے سجدے کی حالت میں داخل ہو ، اور تم لفظ ” حطۃ “ کہو ، ہم تمہارے گناہوں کی مغفرت کر دیں گے ، آج رات جو شخص بھی اس گھاٹی سے گزرے گا ، اس کی مغفرت ہو جائے گی ، تو لوگ تیزی سے چل کر اُس کو پار کرنے لگے ، اس میں سے گزرنے والے آخری فرد سیدنا قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ تھے ، جو لوگوں میں سب سے پیچھے تھے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : لوگ ایک دوسرے کو سوار کروانے لگے ، یہاں تک کہ ہم ایک دوسرے سے مل گئے ، راوی کہتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑاؤ کیا ، تو ہم نے بھی پڑاؤ کر لیا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 10178
وَعَنْ جُنْدُبِ بْنِ نَاجِيَةَ أَوْ نَاجِيَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ : لَمَّا كُنَّا بِالْغَمِيمِ لَقِيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَبَرَ قُرَيْشٍ ; أَنَّهَا بَعَثَتْ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ فِي جَرِيدَةِ خَيْلٍ تَتَلَقَّى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَلْقَاهُمْ ، وَكَانَ بِهِمْ رَحِيمًا . ¤ فَقَالَ : " مَنْ رَجُلٌ يَعْدِلُنَا عَنِ الطَّرِيقِ ؟ " فَقُلْتُ : أَنَا بِأَبِي أَنْتَ ، فَأَخَذْتُ بِهِمْ فِي طَرِيقٍ قَدْ كَانَ بِهَا حَزْنُ فَدَافِدَ وَعُقَابٍ ، فَاسْتَوَتْ بِنَا الْأَرْضُ حَتَّى أَنْزَلَهُ عَلَى الْحُدَيْبِيَةِ وَهِيَ نَزَحٌ . ¤ فَأَلْقَى سَهْمًا أَوْ سَهْمَيْنِ مِنْ كِنَانَتِهِ ، ثُمَّ بَصَقَ فِيهَا ، ثُمَّ دَعَا فَفَارَتْ عُيُونًا حَتَّى إِنِّي لَأَقُولُ أَوْ نَقُولُ : لَوْ شِئْنَا لَاغْتَرَفْنَا بِأَيْدِينَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جندب بن ناجیہ رضی اللہ عنہ ، راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : سیدنا ناجیہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب ہم ” غمیم “ کے مقام پر موجود تھے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو قریش کے بارے میں یہ اطلاع ملی کہ انہوں نے کچھ گھڑ سواروں کے ساتھ خالد بن ولید کو بھیجا ہے ، تاکہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مقابلہ کریں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان سے مقابلہ کرنا پسند نہیں تھا ، کیونکہ آپ ان کے بارے میں مہربان تھے ، آپ نے فرمایا : کیا کوئی شخص ہمیں راستے سے ہٹا کر لے کے چل سکتا ہے ؟ میں نے عرض کی : میرے والد آپ پر قربان ہوں ، میں ایسا کرتا ہوں ، پھر میں اُن حضرات کو ایک اور راستے سے لے گیا ، جو دشوار گزار تھا ، اور وہاں گھاٹیاں تھیں ، یہاں تک کہ ہم جب ہموار زمین کے پاس آئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ” حدیبیہ “ کے مقام پر پڑاؤ کیا ، وہ ایک کنواں تھا جو خشک ہو چکا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ترکش میں سے ایک یا دو تیر نکالے ، آپ نے اس میں اپنا لعاب دہن مبارک ڈالا ، پھر آپ نے دعا کی ، تو اس میں سے چشمے جاری ہو گئے ، یہاں تک کہ میں یہ سوچ رہا تھا ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) ہم یہ سوچ رہے تھے کہ اگر ہم چاہیں ، تو ہاتھ کے ذریعے اُس میں سے پانی لے سکتے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 10179
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ أَنَّ الَّذِي نَزَلَ فِي الْقَلِيبِ بِسَهْمِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ نَاجِيَةُ بْنُ جُنْدُبِ بْنِ عُمَيْرِ بْنِ مَعْمَرِ بْنِ حَازِمِ بْنِ عَمْرِو بْنِ وَاثِلَةَ بْنِ سَهْمِ بْنِ مَازِنِ بْنِ سَلَامَانَ بْنِ أَسْلَمَ بْنِ أَفْصَى بْنِ حَارِثَةَ ، وَهُوَ سَائِقُ بُدْنِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن اسحاق بیان کرتے ہیں : حدیبیہ کے دن ، جو صاحب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا تیر لے کر گڑھے میں اُترے تھے ، وہ سیدنا ناجیہ بن جندب بن عمیر بن معمر بن حازم بن عمرو بن واثلہ بن سہم بن مازن بن سلامان بن اسلم بن افصیٰ بن حارثہ تھے ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں کو ہانک کر لے کر چلتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 10180
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْحُدَيْبِيَةِ قَالَ : " لَا تُوقِدُوا نَارًا بِلَيْلٍ " ، فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ قَالَ : " أَوْقِدُوا وَاصْطَنِعُوا ، فَإِنَّهُ لَا يُدْرِكُ قَوْمٌ بَعْدَكُمْ صَاعَكُمْ وَلَا مُدَّكُمْ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوۂ حدیبیہ کے دن ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم لوگ رات کے وقت آگ نہ جلانا ، اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ آگ جلاؤ اور جو چاہو کرو ، کیونکہ تمہارے بعد کوئی قوم ( یا دشمن ) تمہارے صاع اور تمہارے مد تک نہیں پہنچ سکے گی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 10181
وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ شَهِدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ الشَّجَرَةِ ، وَيَوْمَ الْهَدْيِ مَعْكُوفًا قَبْلَ أَنْ يَبْلُغَ مَحِلَّهُ ، وَأَنَّ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ قَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، مَا يَحْمِلُكَ عَلَى أَنْ تُدْخِلَ هَؤُلَاءِ عَلَيْنَا ، وَنَحْنُ كَارِهُونَ ؟ قَالَ : " هَؤُلَاءِ خَيْرٌ مِنْكَ وَمِنْ أَجْدَادِكَ ، يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ إِدْرِيسَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
یزید بن مالک نے ، اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے : وہ درخت والے دن ( یعنی صلح حدیبیہ کے موقع پر ) اور ہدی والے دن ، جب وہ اپنے مقام تک پہنچنے سے پہلے روک دی گئی تھیں ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھے ، مشرکین سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے کہا: اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! آپ کو کس چیز نے اس بات کی ترغیب دی کہ آپ ان لوگوں کو ہم پر لے آئیں ، جبکہ ہم اسے ناپسند کرتے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ لوگ تم سے اور تمہارے باپ دادا سے زیادہ بہتر ہیں ، یہ اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ادریس ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ادریس ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 10182
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيِّ قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْحُدَيْبِيَةِ فِي أَصْلِ الشَّجَرَةِ الَّتِي قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْقُرْآنِ وَكَانَ يَقَعُ مِنْ أَغْصَانِ الشَّجَرَةِ عَلَى ظَهْرِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، وَسُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِعَلِيٍّ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - : " اكْتُبْ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ " . فَأَخَذَ سُهَيْلٌ بِيَدِهِ ، فَقَالَ : مَا نَعْرِفُ الرَّحْمَنَ الرَّحِيمَ ، اكْتُبْ فِي قَضِيَّتِنَا مَا نَعْرِفُ ، فَقَالَ : " اكْتُبْ بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ " فَكَتَبَ " . ¤ هَذَا مَا صَالَحَ عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ أَهْلَ مَكَّةَ " فَأَمْسَكَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو بِيَدِهِ فَقَالَ : لَقَدْ ظَلَمْنَاكَ إِنْ كُنْتَ رَسُولَهُ ، اكْتُبْ فِي قَضِيَّتِنَا مَا نَعْرِفُ قَالَ : " اكْتُبْ هَذَا مَا صَالَحَ عَلَيْهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، وَأَنَا رَسُولُ اللَّهِ " فَكَتَبَ . ¤ فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ خَرَجَ عَلَيْنَا ثَلَاثُونَ شَابًّا عَلَيْهِمُ السِّلَاحُ ، فَثَارُوا فِي وُجُوهِنَا فَدَعَا عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخَذَ اللَّهُ أَبْصَارَهُمْ فَقُمْنَا إِلَيْهِمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هَلْ جِئْتُمْ فِي عَهْدِ أَحَدٍ ؟ أَوْ هَلْ جَعَلَ لَكُمْ [ أَحَدٌ ] أَمَانًا ؟ " ، قَالُوا : لَا ، فَخَلَّى سَبِيلَهُمْ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : ( وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ وَكَانَ اللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرًا ) . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مغفل مزنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم حدیبیہ میں ایک درخت کی جڑ کے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھے یہ وہ موقع ہے ، جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن میں کیا ہے ، درخت کی شاخیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت پر آ رہی تھیں ، سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ اور ( مشرکین کا نمائندہ ) سہیل بن عمرو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے موجود تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : تم یہ لکھو ! اللہ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ، تو سہیل نے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑ لیا اور بولا: ہمیں لفظ ” رحمان “ اور ” رحیم “ کا پتہ نہیں ہے ، آپ ہمارے معروف طریقے کے مطابق تحریر کروائیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم یہ لکھو : ” اے اللہ تیرے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے “ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے وہ لکھ دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم یہ لکھو ! یہ وہ معاہدہ ہے ، جو اللہ کے رسول سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اہل مکہ کے ساتھ کر رہے ہیں ، تو سہیل بن عمرو نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا اور بولے : ہم آپ کے ساتھ زیادتی کریں گے کہ اگر آپ اس کے رسول ہوں ، آپ ہمارے معروف طریقے کے مطابق لکھیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم یہ لکھو کہ یہ وہ معاہدہ ہے ، جو محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب کر رہے ہیں ، ویسے میں اللہ کا رسول بھی ہوں ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے لکھ دیا ، ابھی یہ حضرات یہاں موجود تھے کہ اسی دوران چالیس نوجوان نکل کر ہمارے پاس آ گئے ، ان کے پاس ہتھیار موجود تھے ، وہ ہمارے سامنے آ گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے خلاف دعا کی ، تو اللہ تعالیٰ نے ان کی بینائی گرفت میں لے لی ، ہم اُٹھ کر ان کے پاس گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم کسی کے عہد میں آئے ہو ؟ کیا کسی نے تمہارے لئے امان دی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی نہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں چھوڑ دیا ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” وہی وہ ذات ہے جس نے مکہ کے قریب ( حدیبیہ میں ) ان ( کفار مکہ ) کے ہاتھ ، تم سے ، اور تمہارے ہاتھ ان سے روک دیے ، اس کے بعد کہ اس نے تمہیں ان پر غلبہ عطا کر دیا تھا ، اور تم جو عمل کرتے ہو اللہ تعالیٰ اس کو دیکھنے والا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 10183
وَعَنْ عُمَرَ - يَعْنِي ابْنَ الْخَطَّابِ - أَنَّهُ قَالَ : اتَّهِمُوا الرَّأْيَ عَلَى الدِّينِ - فَذَكَرَ الْحُدَيْبِيَةَ إِلَى أَنْ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَكْتُبُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَهْلِ مَكَّةَ ، فَقَالَ : " اكْتُبْ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ " فَقَالُوا : لَوْ نَرَى ذَلِكَ صَدَّقْنَا ، وَلَكِنِ اكْتُبْ كَمَا كُنْتَ تَكْتُبُ : بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ قَالَ : فَرَضِيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبَيْتُ ، حَتَّى قَالَ لِي : : يَا عُمَرُ ، تَرَانِي قَدْ رَضِيتُ وَتَأْبَى ؟ " قَالَ : فَرَضِيتُ . ¤ قُلْتُ : حَدِيثُ عُمَرَ فِي الصَّحِيحِ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : دین کے بارے میں اپنی رائے کو غلط قرار دو ! پھر انہوں نے غزوہ حدیبیہ کے متعلق پوری حدیث ذکر کی ، جس میں آگے چل کر یہ الفاظ ہیں : ” جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اور اہل مکہ کے درمیان معاہدہ تحریر کروایا ، تو آپ نے یہ فرمایا : تم یہ لکھو : اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، جو بڑا مہربان ، نہایت رحم کرنے والا ہے ، تو کفار نے یہ کہا: اگر ہم اس بات کو ٹھیک سمجھتے ہوتے تو ہم اس کی تصدیق کر دیتے ، لیکن آپ اس طرح لکھیں ، جس طرح پہلے لکھا جاتا تھا : اے اللہ ! تیرے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس بات سے راضی ہو گئے ، اور میں نے اس بات کو تسلیم نہیں کیا ۔ یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : اے عمر ! تم مجھے دیکھ رہے ہو کہ میں راضی ہو چکا ہوں ، اور تم پھر بھی انکار کر رہے ہو ؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : تو میں راضی ہو گیا “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث ” صحیح “ میں مذکور ہے ، لیکن وہ اس سیاق کے بغیر ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 10184
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : دَعَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ النَّاسَ لِلْبَيْعَةِ ، فَقَامَ أَبُو سِنَانِ بْنُ مِحْصَنٍ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أُبَايِعُكَ عَلَى مَا فِي نَفْسِكَ قَالَ : " وَمَا فِي نَفْسِكَ ؟ " قَالَ : أَضْرِبُ بِسَيْفِي بَيْنَ يَدَيْكَ حَتَّى يُظْهِرَكَ اللَّهُ أَوْ أُقْتَلَ ، فَبَايَعَهُ ، وَبَايَعَ النَّاسَ عَلَى بَيْعَةِ أَبِي سِنَانٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : غزوہ حدیبیہ کے موقع پر ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو بیعت کے لئے بلوایا ، تو ابوسنان بن محصن کھڑے ہوئے ، اور عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اس چیز پر آپ کی بیعت کروں گا ، جو میرے من میں ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارے من میں کیا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : یہ کہ میں اپنے تلوار کے ذریعے آپ کے سامنے لڑائی کرتا رہوں ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ آپ کو غلبہ عطا کر دے ، یا میں شہید ہو جاؤں ، تو انہوں نے اس بات پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی اور لوگوں نے بھی سیدنا ابوسنان رضی اللہ عنہ کی بیعت کے مطابق بیعت کی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عمران ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عمران ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 10185
وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ قَالَ : قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ : أَشَهِدْتَ بَيْعَةَ الرِّضْوَانِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : نَعَمْ . قُلْتُ : فَمَا كَانَ عَلَيْهِ ؟ قَالَ : قَمِيصٌ مِنْ قُطْنٍ ، وَجُبَّةٌ مَحْشُوَّةٌ ، وَرِدَاءٌ ، وَسَيْفٌ ، وَرَأَيْتُ النُّعْمَانَ بْنَ مُقْرِنٍ الْمُزَنِيَّ قَائِمًا عَلَى رَأْسِهِ ، وَقَدْ رَفَعَ أَغْصَانَ الشَّجَرَةِ عَنْ رَأْسِهِ يُبَايِعُونَهُ . ¤ قُلْتُ : لِابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ فِي الْحُدَيْبِيَةِ غَيْرُ هَذَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ التَّيْمِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
عطاء بن ابی رباح بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا : کیا آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیعت رضوان میں شریک ہوئے تھے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! میں نے دریافت کیا : اُس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا پہنا ہوا تھا ؟ انہوں نے بتایا : اون کی بنی ہوئی قمیص تھی اور ایک بھرا ہوا جبہ تھا ، ایک چادر تھی اور ایک تلوار تھی ۔ میں نے سیدنا نعمان بن مقرن مزنی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سرہانے کھڑے ہوئے تھے اور آپ کے سر سے درخت کی شاخیں اُٹھا رہے تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے بیعت لے رہے تھے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے ، ایک حدیث غزوہ حدیبیہ کے بارے میں منقول ہے ، لیکن وہ اس روایت کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن یحییٰ بن عبداللہ تیمی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن یحییٰ بن عبداللہ تیمی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 10186
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ : إِنِّي لَمِنْ أَحَدِ الرَّهْطِ الَّذِينَ ذَكَرَ اللَّهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ : ( لَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ ) قَالَ : إِنِّي لَآخُذُ بِبَعْضِ أَغْصَانِ الشَّجَرَةِ الَّتِي بَايَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - النَّاسَ تَحْتَهَا أُظِلُّهُ ، قَالَ : فَبَايَعْنَاهُ عَلَى أَنْ لَا نَفِرَّ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ إِلَّا أَنَّ الرَّبِيعَ بْنَ أَنَسٍ قَالَ : عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ أَوْ عَنْ غَيْرِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں اُن افراد میں سے ایک تھا ، جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے ( اس آیت میں ) کیا ہے ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” میں تمہیں سواری کے لیے ، دینے کے لیے ( اضافی جانور ) نہیں پاتا ہوں “ انہوں نے بتایا : میں اُس درخت شاخیں پکڑے ہوئے تھا ، جس کے نیچے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے بیعت لے رہے تھے میں آپ پر سایہ کیے ہوئے تھے ، راوی کہتے ہیں : ہم نے آپ کی بیعت اس بات پر کی تھی کہ ہم فرار نہیں ہوں گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند عمدہ ہے ، البتہ ربیع بن انس نے یہ بات بیان کی ہے کہ یہ ابوالعالیہ کے حوالے سے ، یا اُس کے علاوہ کسی اور کے حوالے سے منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند عمدہ ہے ، البتہ ربیع بن انس نے یہ بات بیان کی ہے کہ یہ ابوالعالیہ کے حوالے سے ، یا اُس کے علاوہ کسی اور کے حوالے سے منقول ہے ۔
حدیث نمبر: 10187
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ حِينَ أَخْبَرَهُ عُثْمَانُ أَنَّ سُهَيْلًا أَرْسَلَهُ إِلَيْهِ قَوْمُهُ فَصَالَحُوهُ عَلَى أَنْ يَرْجِعَ عَنْهُمْ هَذَا الْعَامَ ، وَيُخَلُّوهَا قَابِلًا ثَلَاثًا ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " سُهَيْلٌ سَهُلَ عَلَيْكُمُ الْأَمْرُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُؤَمِّلُ بْنُ وَهْبٍ الْمَخْزُومِيُّ ، تَفَرَّدَ عَنْهُ ابْنَهُ عَبْدُ اللَّهِ وَقَدْ وُثِّقَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ حدیبیہ کے سال ، جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ سہیل کو اس کی قوم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھیجا ہے ، تاکہ وہ آپ کے ساتھ یہ طے کر لیں کہ آپ اس سال واپس چلے جائیں گے اور اگلے سال آپ آ سکیں گے ، تو آپ نے فرمایا : سہیل ( آنے لگا ) ہے ، اب معاملہ تمہارے لئے سہل ( یعنی آسمان ) ہو جائے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مؤمل بن وہب مخزومی ہے ، اس کا بیٹا عبداللہ اس سے روایت نقل کرنے میں منفرد ہے ، اس کی توثیق کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مؤمل بن وہب مخزومی ہے ، اس کا بیٹا عبداللہ اس سے روایت نقل کرنے میں منفرد ہے ، اس کی توثیق کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 10188
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : كَانَتِ الْهُدْنَةُ بَيْنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبَيْنَ أَهْلِ مَكَّةَ بِالْحُدَيْبِيَةِ أَرْبَعَ سِنِينَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں : حدیبیہ کے مقام پر ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور اہل مکہ کے درمیان چار سال کا ، معاہدہ ہوا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 10189
وَعَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ : لَمَّا أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عُمْرَةَ الْقَضَاءِ أَمَرَ أَصْحَابَهُ فَقَالَ : " اكْشِفُوا عَنِ الْمَنَاكِبِ ، وَاسْعَوْا فِي الطَّوَافِ " لِيَرَى الْمُشْرِكِينَ جَلْدَهُمْ وَقُوَّتَهُمْ ، وَكَانَ يَكِيدُهُمْ لِكُلِّ مَا اسْتَطَاعَ ، فَانْكَفَأَ أَهْلُ مَكَّةَ الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ يَنْظُرُونَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَصْحَابِهِ وَهُمْ يَطُوفُونَ بِالْبَيْتِ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ يَرْتَجِزُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُتَوَشِّحًا بِالسَّيْفِ ، يَقُولُ . ¤ خَلُّوا بَنِي الْكُفَّارِ عَنْ سَبِيلِهِ أَنَا الشَّهِيدُ أَنَّهُ رَسُولُهُ قَدْ نَزَّلَ الرَّحْمَنُ فِي تَنْزِيلِهِ ¤ فِي صُحُفٍ تُتْلَى عَلَى رَسُولِهِ فَالْيَوْمَ نَضْرِبُكُمْ عَلَى تَأْوِيلِهِ ¤ كَمَا ضَرَبْنَاكُمْ عَلَى تَنْزِيلِهِ ضَرْبًا يُزِيلُ الْهَامَ عَنْ مَقِيلِهِ ¤ وَيُذْهِلُ الْخَلِيلَ عَنْ خَلِيلِهِ وَتَغَيَّبَ رِجَالٌ مِنْ أَشْرَافِ الْمُشْرِكِينَ كَرَاهِيَةَ أَنْ يَنْظُرُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - غَيْظًا وَحَنَقًا وَنَفَاسَةً وَحَسَدًا ، خَرَجُوا إِلَى نَوَاحِي مَكَّةَ ، فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نُسُكَهُ وَأَقَامَ ثَلَاثًا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابن شہاب بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ قضاء کا حکم دیا ، تو آپ نے اپنے ساتھیوں کو حکم دیا کہ اپنے کندھوں سے کپڑا ہٹا لو ، اور طواف کرتے ہوئے دوڑ کے چلو ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد یہ تھا کہ مشرکین کو ان لوگوں کی قوت اور طاقت دکھائیں اور جہاں تک ہو سکے آپ ان کے لئے تدبیر کریں ، تو اہل مکہ کے مرد ، خواتین اور بچے اکٹھے ہوئے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کو دیکھنے لگے ، جب یہ لوگ بیت اللہ کا طوف کر رہے تھے ، اس وقت سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے تلوار گلے میں لٹکا کر یہ رجز پڑھ رہے تھے : ” اے کفار کی اولاد ! ان ( یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) کا راستہ چھوڑ دو ، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ یہ اس ( یعنی اللہ تعالیٰ ) کے رسول ہیں ، رحمن نے اپنے نازل کردہ کلام میں یہ بات نازل کی ہے جو ( رحمن کا کلام ) صحیفوں میں ہے ، جو اس کے رسول پر تلاوت کیا گیا ، تو آج ہم اس ( قرآن ) کے حکم کی بنیاد پر تم پر ضرب لگائیں گے ، جس طرح پہلے ہم نے اس کے نزول کی بنیاد پر تم پر ضرب لگائی تھی ، ایسی ضرب جو سر کو تن سے جدا کر دے گی ، اور دوست کو اس کے دوست سے غافل کر دے گی “ ۔ مشرکین کے کچھ معززین وہاں موجود نہیں تھے ، وہ اپنے غصے ، حسد ، خود پسندی کی وجہ سے اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھیں ، وہ مکہ کے نواحی علاقوں کی طرف چلے گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مناسک ادا کیے اور تین دن وہاں مقیم رہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔