حدیث نمبر: 10215
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَ بَعْثًا إِلَى مُؤْتَةَ ، فَاسْتَعْمَلَ عَلَيْهِمْ زَيْدًا ، فَإِنْ قُتِلَ زَيْدٌ فَجَعْفَرٌ ، فَإِنْ قُتِلَ جَعْفَرٌ فَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ فِي أَثْنَاءِ حَدِيثٍ طَوِيلٍ ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے موتہ کی طرف ایک جنگی مہم روانہ کی آپ نے سیدنا زید رضی اللہ عنہ کو ان لوگوں کا امیر مقرر کیا اور یہ فرمایا : اگر زید شہید ہو جائے ، تو جعفر امیر ہو گا اگر جعفر شہید ہو جائے ، تو عبداللہ بن رواحہ امیر ہو گا ۔
یہ روایت امام أحمد نے ایک طویل حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے ، اور وہ مدلس ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے ایک طویل حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے ، اور وہ مدلس ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 10216
وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ فَارِسِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَيْشَ الْأُمَرَاءِ فَقَالَ : " عَلَيْكُمْ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ فَإِنْ أُصِيبَ زَيْدٌ فَجَعْفَرُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، فَإِنْ أُصِيبَ جَعْفَرٌ فَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ الْأَنْصَارِيُّ " . ¤ فَوَثَبَ جَعْفَرٌ فَقَالَ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا كُنْتُ أَرْهَبُ أَنْ تَسْتَعْمِلَ عَلَيَّ زَيْدًا ، قَالَ : " امْضِهِ فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي أَيُّ ذَلِكَ خَيْرٌ " . ¤ فَانْطَلَقُوا فَلَبِثُوا مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَعِدَ الْمِنْبَرَ وَأَمَرَ أَنْ يُنَادَى بِالصَّلَاةُ جَامِعَةٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " نَابَ خَيْرٌ ، أَوْ بَاتَ خَيْرٌ ، أَوْ ثَابَ خَيْرٌ - شَكَّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ - أَلَا أُخْبِرُكُمْ عَنْ جَيْشِكُمْ هَذَا الْغَازِي ؟ إِنَّهُمُ انْطَلَقُوا فَلَقَوُا الْعَدُوَّ ، فَأُصِيبَ زَيْدٌ شَهِيدًا ، فَاسْتَغْفِرُوا لَهُ " ، فَاسْتَغْفَرَ لَهُ النَّاسُ . ¤ " ثُمَّ أَخَذَ اللِّوَاءَ جَعْفَرُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، فَشَدَّ عَلَى الْقَوْمِ حَتَّى اسْتُشْهِدَ ، أَشْهَدُ لَهُ بِالشَّهَادَةِ ، فَاسْتَغْفِرُوا لَهُ ، ثُمَّ أَخَذَ اللِّوَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ ، فَأَثْبَتَ قَدَمَيْهِ حَتَّى قُتِلَ شَهِيدًا ، فَاسْتَغْفِرُوا لَهُ . ¤ ثُمَّ أَخَذَ اللِّوَاءَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، وَلَمْ يَكُنْ مِنَ الْأُمَرَاءِ هُوَ أَمَّرَ نَفْسَهُ " ، ثُمَّ رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِصْبَعَهُ ، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ إِنَّهُ سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِكَ فَانْصُرْهُ " . ¤ فَمِنْ يَوْمِئِذٍ سُمِّيَ خَالِدٌ : سَيْفَ اللَّهِ ، ثُمَّ قَالَ : " انْفِرُوا فَأَمِدُّوا إِخْوَانَكُمْ [ وَلَا يَتَخَلَّفْنَ أَحَدٌ ] " ، قَالَ : فَنَفَرَ النَّاسُ فِي حَرٍّ شَدِيدٍ مُشَاةً وَرُكْبَانًا . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ خَالِدِ بْنِ سَمِيرٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے شہسوار ہیں وہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے امراء کا لشکر روانہ کیا آپ نے ارشاد فرمایا : زید بن حارثہ تمہارا امیر ہو گا اگر زید شہید ہو جاتا ہے ، تو جعفر بن ابوطالب ہو گا اگر جعفر شہید ہو جاتا ہے ، تو عبداللہ بن رواحہ انصاری ( تمہارا امیر ہو گا ) تو سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے ، اور بولے : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں يا رسول اللہ میں اس چیز سے بھاگتا نہیں ہوں کہ آپ مجھ پر زید کو عامل بنا دیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اسے جاری رہنے دو ! کیونکہ تم نہیں جانتے کہ کونسی چیز زیادہ بہتر ہے پھر وہ روانہ ہوئے جتنا عرصہ اللہ کو منظور تھا اتنا عرصہ گزر گیا پھر ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے آپ نے حکم دیا کہ یہ اعلان کیا جائے کہ لوگ اکٹھے ہو جائیں پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بھلائی واقع ہوئی ہے ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) کیا میں تم لوگوں کو تمہارے اس لشکر کے بارے میں بتاؤں ؟ جو جنگ میں گیا تھا وہ لوگ گئے ان کا دشمن سے سامنا ہوا تو زید شہید ہو گیا تم لوگ اس کے لئے دعائے مغفرت کرو لوگوں نے ان کے لئے دعائے مغفرت کی ( پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ) پھر جھنڈا جعفر بن ابوطالب نے لے لیا ان لوگوں نے دشمن کے خلاف بھرپور کاروائی کی ، یہاں تک کہ وہ بھی شہید ہو گیا میں اس کے لئے شہادت کی گواہی دیتا ہوں تم لوگ اس کے لئے دعائے مغفرت کرو پھر جھنڈا عبداللہ بن رواحہ نے لے لیا اس نے ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا ، یہاں تک کہ وہ بھی شہید ہو گیا تم لوگ اس کے لئے بھی دعائے مغفرت کرو پھر جھنڈا خالد بن ولید نے لے لیا اسے امیر مقرر نہیں کیا گیا تھا لیکن اس نے خود امارت کا منصب سنبھال لیا راوی کہتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی بلند کی اور فرمایا : اے اللہ وہ تیری تلواروں میں سے ایک تلوار ہے ، تو اس کی مدد فرما راوی کہتے ہیں : تو اس دن سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کا نام سیف اللہ رکھا گیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم لوگ روانہ ہو جاؤ اور اپنے بھائیوں کی امداد کرو اور کوئی بھی شخص پیچھے ہرگز نہ رہے ۔ راوی کہتے ہیں : تو لوگ شدید گرمی کے عالم میں پیادہ اور سوار ہو کر روانہ ہو گئے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں البتہ خالد بن سمیر کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں البتہ خالد بن سمیر کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 10217
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَ زَيْدًا وَجَعْفَرًا وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ ، فَدَفَعَ الرَّايَةَ إِلَى زَيْدٍ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا زید رضی اللہ عنہ سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبدالله بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو ( اس جنگی مہم میں ) بھیجا تو آپ نے جھنڈا سیدنا زید رضی اللہ عنہ کے سپرد کیا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 10218
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَيْشًا اسْتَعْمَلَ عَلَيْهِمْ زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ : " فَإِنْ قُتِلَ زَيْدٌ أَوِ اسْتُشْهِدَ فَأَمِيرُكُمْ جَعْفَرٌ فَإِنْ قُتِلَ أَوِ اسْتُشْهِدَ فَأَمِيرُكُمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ " . ¤ فَأَخَذَ الرَّايَةَ زَيْدٌ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ ، ثُمَّ أَخَذَ الرَّايَةَ جَعْفَرٌ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ ، ثُمَّ أَخَذَهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ ، ثُمَّ أَخَذَ الرَّايَةَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَفَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ ؟ . ¤ وَأَتَى خَبَرُهُمُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَخَرَجَ إِلَى النَّاسِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَقَالَ : " إِنَّ إِخْوَانَكُمْ لَقَوُا الْعَدُوَّ ، وَإِنَّ زَيْدًا أَخَذَ الرَّايَةَ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ أَوِ اسْتُشْهِدَ ثُمَّ أَخَذَ الرَّايَةَ بَعْدَهُ جَعْفَرُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ أَوِ اسْتُشْهِدَ . ¤ ثُمَّ أَخَذَ الرَّايَةَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ أَوِ اسْتُشْهِدَ ، ثُمَّ أَخَذَ الرَّايَةَ سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِ اللَّهِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَفَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ " [ فَأَمْهَلَ ] . ¤ ثُمَّ أَمْهَلَ آلَ جَعْفَرٍ ثَلَاثًا أَنْ يَأْتِيَهُمْ ثُمَّ أَتَاهُمْ ، فَقَالَ : " لَا تَبْكُوا عَلَى أَخِي بَعْدِ الْيَوْمِ ، ادْعُوا لِي ابْنَيْ أَخِي " قَالَ : فَجِيءَ بِنَا كَأَنَّنَا أَفْرُخٌ ، قَالَ : " ادْعُوا لِي الْحَلَّاقَ " ، فَجِيءَ بِالْحَلَّاقِ فَحَلَقَ رُؤُوسَنَا ، ثُمَّ قَالَ : " أَمَّا مُحَمَّدٌ فَشَبِيهُ عَمِّنَا أَبِي طَالِبٍ ، وَأَمَّا عَبْدُ اللَّهِ فَشَبِيهُ خَلْقِي وَخُلُقِي " . ¤ ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِي فَأَشَالَهُمَا فَقَالَ : " اللَّهُمَّ اخْلُفْ جَعْفَرًا فِي أَهْلِهِ ، وَبَارِكْ لِعَبْدِ اللَّهِ فِي صَفْقَةِ يَمِينِهِ " . قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَالَ : فَجَاءَتْ أُمُّنَا فَذَكَرَتْ يُتْمَنَا [ وَجَعَلَتْ تَفْرَحُ ] ، فَقَالَ : " الْعَيْلَةَ تَخَافِينَ عَلَيْهِمْ وَأَنَا وَلِيُّهُمْ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ؟ ! " . ¤ قُلْتُ : رَوَى أَبُو دَاوُدَ وَغَيْرُهُ بَعْضَهُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالله بن جعفر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنگی مہم روانہ کی آپ نے سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو ان کا امیر مقرر کیا اور ارشاد فرمایا : اگر زید قتل ہو جائے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) شہید ہو جائے ، تو تمہارا امیر جعفر ہو گا اگر وہ قتل ہو جائے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) اگر وہ شہید ہو جائے ، تو تمہارا امیر عبداللہ بن رواحہ ہو گا ان لوگوں کا دشمن سے سامنا ہوا تو سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے جھنڈا پکڑ لیا اور لڑائی کی ، یہاں تک کہ شہید ہو گئے پھر سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ نے جھنڈا لیا وہ لڑائی کرتے رہے ، یہاں تک کہ وہ شہید ہو گئے پھر سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے اسے لیا وہ لڑائی کرتے رہے ، یہاں تک کہ وہ شہید ہو گئے پھر سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے جھنڈا لے لیا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں فتح نصیب کر دی ان لوگوں کی اطلاع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نکل کر لوگوں کے پاس تشریف لائے آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا : ” بے شک تمہارے بھائیوں نے دشمن کا سامنا کیا زید نے جھنڈا لیا لڑائی کی ، یہاں تک کہ وہ قتل ہو گیا ( راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ ہیں ) وہ شہید ہو گیا پھر اس کے بعد جعفر بن ابوطالب نے جھنڈا لیا اس نے لڑائی کی یہاں تک کہ وہ قتل ہو گیا ( راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ ہیں ) وہ شہید ہو گیا پھر عبداللہ بن رواحہ نے جھنڈا لیا اس نے لڑائی کی ، یہاں تک کہ وہ قتل ہو گیا ( راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ ہیں ) وہ شہید ہو گیا پھر وہ جھنڈا اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار خالد بن ولید نے لیا تو اللہ تعالیٰ نے اسے فتح نصیب کی “ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن تک آل جعفر کو مہلت دی تین دن کے بعد آپ ان کے پاس تشریف لائے ، اور ارشاد فرمایا : آج کے بعد تم میرے بھائی پر نہ رونا میرے بھتیجوں کو میرے پاس لے کے آؤ راوی کہتے ہیں : ہمیں لایا گیا تو ہم چھوٹے بچے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نائی کو میرے پاس بلا کے لاؤ نائی کو لایا گیا تو اس نے ہمارے سر مونڈ دیے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جہاں تک محمد ( بن جعفر ) کا تعلق ہے ، تو وہ ہمارے چچا جناب ابوطالب کے ساتھ مشابہت رکھتا ہے ، اور جہاں تک عبداللہ ( بن جعفر ) کا تعلق ہے ، تو وہ ظاہری شکل و صورت اور اخلاق میں میرے ساتھ مشابہت رکھتا ہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا آپ نے میرے دونوں ہاتھ بلند کیے ، اور پھر دعا کی اے اللہ جعفر کے بعد ان کے اہل خانہ کا نگران ہو جا اور عبداللہ کے سودے میں برکت رکھ دے یہ دعا آپ نے تین مرتبہ کی راوی کہتے ہیں : ہماری والدہ تشریف لائیں انہوں نے ہماری یتیمی کا ذکر کیا اور اس حوالے سے غم کا اظہار کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تمہیں ان کے حوالے سے فقر و فاقہ کا اندیشہ ہے ؟ میں دنیا اور آخرت میں ان کا ولی ہوں “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام ابوداؤد اور دیگر حضرات نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 10219
وَعَنْ أَبِي الْيُسْرِ بْنِ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيِّ قَالَ : أَنَا دَفَعْتُ الرَّايَةَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ ، وَأُصِيبَ فَدَفَعْتُهَا إِلَى ثَابِتِ بْنِ أَقْرَمَ الْأَنْصَارِيِّ فَدَفَعَهَا إِلَى خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ ، فَقَالَ لَهُ : لِمَ تَدْفَعُهَا إِلَيَّ ؟ قَالَ : أَنْتَ أَعْلَمُ بِالْقِتَالِ مِنِّي . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو حَمْزَةَ الثُّمَالِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوالیسر بن عمرو انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے جھنڈا سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو دیا وہ شہید ہو گئے ، تو میں نے وہ ثابت بن اقرم انصاری رضی اللہ عنہ کو دیا انہوں نے وہ جھنڈا خالد بن ولید کو دے دیا سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت کیا : آپ نے وہ مجھے کیوں دیا ہے ، تو انہوں نے بتایا : تم جنگ کے بارے میں مجھ سے زیادہ بہتر جانتے ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوحمزہ شمالی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوحمزہ شمالی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 10220
وَعَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ : بَعَثَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعْثًا إِلَى مُؤْتَةَ فِي جُمَادَى الْأُولَى مِنْ سَنَةِ ثَمَانٍ ، وَاسْتَعْمَلَ عَلَيْهِمْ زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ ، فَقَالَ لَهُمْ : " إِنْ أُصِيبَ زَيْدٌ فَجَعْفَرُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ عَلَى النَّاسِ ، فَإِنْ أُصِيبَ جَعْفَرٌ فَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ عَلَى النَّاسِ " . ¤ فَتَجَهَّزَ النَّاسُ ثُمَّ تَهَيَّئُوا لِلْخُرُوجِ وَهُمْ ثَلَاثَةُ آلَافٍ فَلَمَّا حَضَرَ خُرُوجُهُمْ وَدَّعَ النَّاسُ أُمَرَاءَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَسَلَّمُوا عَلَيْهِمْ ، فَلَمَّا وُدِّعَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ مَعَ مَنْ وُدِّعَ بَكَى ، فَقِيلَ لَهُ : مَا يُبْكِيكَ يَا ابْنَ رَوَاحَةَ ؟ فَقَالَ : وَاللَّهِ مَا بِي حُبُّ الدُّنْيَا وَصَبَابَةٌ ، وَلَكِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقْرَأُ آيَةً مِنْ كِتَابِ اللَّهِ يَذْكُرُ فِيهَا النَّارَ : ( وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا كَانَ عَلَى رَبِّكَ حَتْمًا مَقْضِيًّا ) فَلَسْتُ أَدْرِي كَيْفَ لِي بِالصَّدْرِ بَعْدَ الْوُرُودِ ؟ ! ؟ . ¤ فَقَالَ لَهُمُ الْمُسْلِمُونَ : صَحِبَكُمُ اللَّهُ وَدَفَعَ عَنْكُمْ ، وَرَدَّكُمْ إِلَيْنَا صَالِحِينَ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ : ¤ لَكِنَّنِي أَسْأَلُ الرَّحْمَنَ مَغْفِرَةً وَضَرْبَةَ ذَاتِ فَزْعٍ تَقْذِفُ الزَّبِدَا أَوْ طَعْنَةً بِيَدَيْ حَرَّانَ مُجْهِزَةً ¤ بِحَرْبَةٍ تَنْفُذُ الْأَحْشَاءَ وَالْكَبِدَا حَتَّى يَقُولُوا إِذَا مَرُّوا عَلَى جَدَثِي ¤ أَرْشَدَهُ اللَّهُ مِنْ غَازٍ وَقَدْ رَشِدَا ثُمَّ إِنَّ الْقَوْمَ تَهَيَّئُوا لِلْخُرُوجِ ، فَأَتَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُوَدِّعُهُ فَقَالَ : يُثَبِّتُ اللَّهُ مَا آتَاكَ مِنْ حُسْنٍ تَثْبِيتَ مُوسَى وَنَصْرًا كَالَّذِي نُصِرُوا إِنِّي تَفَرَّسْتُ فِيكَ الْخَيْرَ نَافِلَةً فِرَاسَةً خَالَفَتْهُمْ فِي الَّذِي نَظَرُوا أَنْتَ الرَّسُولُ فَمَنْ يُحْرَمْ نَوَافِلَهُ وَالْوَجْهَ مِنْهُ فَقَدْ أَزْرَى بِهِ الْقَدْرُ . ¤ ثُمَّ خَرَجَ الْقَوْمُ وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُشَيِّعُهُمْ حَتَّى إِذَا وَدَّعَهُمْ وَانْصَرَفَ عَنْهُمْ ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ : خَلْفَ السَّلَامِ عَلَى امْرِئٍ وَدَّعْتُهُ فِي النَّخْلِ غَيْرَ مُوَدَّعٍ وَكَلَيْلِ ثُمَّ مَضَوْا حَتَّى نَزَلُوا مَعَانَ مَنْ أَرْضِ الشَّامِ ، فَبَلَغَهُمْ أَنَّ هِرَقْلَ قَدْ نَزَلَ فِي مَآبَ مِنْ أَرْضِ الْبَلْقَاءِ فِي مِائَةِ أَلْفٍ مِنَ الرُّومِ ، وَقَدِ اجْتَمَعَتْ إِلَيْهِ الْمُسْتَعْرِبَةُ مِنْ لَخْمٍ وَجُذَامٍ وَبَلْقِينَ وَبَهْرَامَ وَبَلِيٍّ فِي مِائَةِ أَلْفٍ ، عَلَيْهِمْ رَجُلٌ يَلِي أَخْذَ رَايَتِهِمْ يُقَالُ لَهُ : مَالِكُ بْنُ زَانَةَ . ¤ فَلَمَّا بَلَغَ ذَلِكَ الْمُسْلِمِينَ قَامُوا بِمَعَانَ لَيْلَتَيْنِ يَنْظُرُونَ فِي أَمْرِهِمْ ، وَقَالُوا : نَكْتُبُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَنُخْبِرُهُ بِعَدَدِ عَدُوِّنَا ، فَإِمَّا أَنْ يَمُدَّنَا ، وَإِمَّا أَنْ يَأْمُرَنَا بِأَمْرِهِ فَنَمْضِيَ لَهُ . ¤ فَشَجَّعَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ النَّاسَ وَقَالَ : يَا قَوْمِ ، وَاللَّهِ إِنَّ الَّذِي تَكْرَهُونَ لَلَّذِي خَرَجْتُمْ لَهُ تَطْلُبُونَ الشَّهَادَةَ ، وَمَا نُقَاتِلُ النَّاسَ بِعَدَدٍ وَلَا قُوَّةٍ وَلَا كَثْرَةٍ ، إِنَّمَا نُقَاتِلُهُمْ بِهَذَا الدِّينِ الَّذِي أَكْرَمَنَا اللَّهُ بِهِ ، فَانْطَلِقُوا فَإِنَّمَا هِيَ إِحْدَى الْحُسْنَيْنِ : إِمَّا ظُهُورٌ ، وَإِمَّا شَهَادَةٌ . ¤ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ فِي مَقَامِهِمْ ذَلِكَ ، قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ كَمَا حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ : أَنَّهُ حَدَّثَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ : كُنْتُ يَتِيمًا لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ فِي حِجْرِهِ ، فَخَرَجَ فِي سَفْرَتِهِ تِلْكَ مُرْدِفِي عَلَى حَقِيبَةِ رَاحِلَتِهِ ، وَوَاللَّهِ إِنَّا لَنَسْبُرُ لَيْلَةً إِذْ سَمِعْتُهُ يَتَمَثَّلُ بِبَيْتِهِ هَذَا : إِذَا أَدَّيْتَنِي وَحَمَلْتَ رَحْلِي مَسِيرَةَ أَرْبَعٍ بَعْدَ الْحَسَاءِ فَلَمَّا سَمِعْتُهُ مِنْهُ بَكَيْتُ ، فَخَفَقَنِي بِالدُّرَّةِ وَقَالَ : مَا عَلَيْكَ يَا لُكَعُ أَنْ يَرْزُقَنِي اللَّهُ الشَّهَادَةَ ، وَتَرْجِعَ مِنْ شُعْبَتِيَ الرَّحْلُ . ¤ وَمَضَى النَّاسُ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِتُخُومِ الْبَلْقَاءِ لَقِيَتْهُمْ جُمُوعُ هِرَقْلَ مِنَ الرُّومِ وَالْعَرَبِ بِقَرْيَةٍ مِنْ قُرَى الْبَلْقَاءِ يُقَالُ لَهَا : مَشَارِقُ ، ثُمَّ دَنَا الْمُسْلِمُونَ ، وَانْحَازَ الْمُسْلِمُونَ إِلَى قَرْيَةٍ يُقَالُ لَهَا : مُؤْتَةُ ، فَالْتَقَى النَّاسُ عِنْدَهَا . ¤ وَتَعَبَّأَ الْمُسْلِمُونَ فَجَعَلُوا عَلَى مَيْمَنَتِهِمْ رَجُلًا مِنْ بَنِي عُذْرَةَ يُقَالُ لَهُ : قُطْبَةُ بْنُ قَتَادَةَ ، وَعَلَى مَيْسَرَتِهِمْ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ : عُبَادَةُ بْنُ مَالِكٍ ، ثُمَّ الْتَقَى النَّاسُ وَاقْتَتَلُوا ، فَقَاتَلَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ بِرَايَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى شَاطَ فِي رِمَاحِ الْقَوْمِ ، ثُمَّ أَخَذَهَا جَعْفَرٌ فَقَاتَلَ بِهَا حَتَّى إِذَا أَلْجَمَهُ الْقِتَالُ ، اقْتَحَمَ عَنْ فَرَسٍ لَهُ شَقْرَاءَ فَعَقَرَهَا ، فَقَاتَلَ الْقَوْمَ حَتَّى قُتِلَ . ¤ وَكَانَ جَعْفَرٌ أَوَّلَ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ عَقَرَ فِي الْإِسْلَامِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَى عُرْوَةَ . ¤
محمد محی الدین
عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے موتہ کی طرف ایک جنگی مہم روانہ کی یہ جمادی الاول سن آٹھ ہجری کی بات ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو ان کا امیر مقرر کیا اور ان لوگوں سے فرمایا اگر زید شہید ہو جائے ، تو جعفر بن ابوطالب لوگوں کا امیر ہو گا اگر جعفر شہید ہو گیا تو عبداللہ بن رواحہ لوگوں کا امیر ہو گا ۔ راوی کہتے ہیں : پھر لوگوں نے تیاری کی اور روانگی کے لئے تیار ہو گئے ان لوگوں کی تعداد تین ہزار تھی جب ان کے نکلنے کا وقت آیا تو لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقرر کردہ امراء کو الواداع کہا: ان کے لئے سلامتی کی دعائیں کیں جب سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو ان کے ساتھیوں نے الوداع کہا: تو وہ رونے لگے ان سے کہا: گیا اے ابن رواحہ آپ کیوں رو رہے ہیں انہوں نے کہا: اللہ کی قسم میرے اندر دنیا کی محبت نہیں ہے لیکن میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کی کتاب کی ایک آیت تلاوت کرتے ہوئے سنا ہے ، جس میں جہنم کا ذکر ہے ( اور ارشاد باری تعالی ہے : ) ” تم میں سے ہر ایک اس پر وارد ہو گا یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے طے شدہ فیصلہ ہے “ تو مجھے یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ اس پر وارد ہونے کے بعد اس سے بچاؤ کیسے ہو گا ، تو مسلمانوں نے ان سے کہا: اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کے ساتھ رہے ، اور آپ سے پریشانی کو دور کرے اور آپ کو صالح ہونے کے عالم میں ہماری طرف لوٹائے اس وقت سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے یہ اشعار کہے : ” لیکن میں رحمن سے بخشش مانگتا ہوں ، اور ایسی ضرب ( کا سوال کرتا ہوں ) جو پریشان کرنے والی ہو اور جھاگ پھینک دے ، یا ایسا زخم ( یا وار ) ہو جو نیزے کے ذریعے پیاسے شخص کے پہلو پر کیا جائے اور اس کے پیٹ اور جگر تک سرایت کر جائے ، یہاں تک کہ جب لوگ میری قبر کے پاس سے گزاریں تو یہ کہیں : اللہ تعالیٰ نے اس مجاہد کو ہدایت عطا کی اور یہ ہدایت پا گیا “ ۔ پھر جب ان لوگوں نے نکلنے کا ارادہ کیا ، تو سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تاکہ آپ سے رخصتی لیں تو انہوں نے یہ اشعار کہے : ” جو اچھائی آپ کے پاس آئے اللہ تعالیٰ اس کو برقرار رکھے جس طرح سیدنا موسیٰ علیہ السلام ثابت قدم رہے ، اور اسی مدد ( آپ کے پاس آئے ) جو اس کی مانند ہو جو انہوں نے مدد کی ، مجھے آپ کے اندر ایسی اضافی بھلائی نظر آ رہی ہے ، کہ میں اس حوالے سے لوگوں سے مختلف رائے رکھتا ہوں ، آپ رسول ہیں ، تو جو آپ کے عطیات اور توجہ سے محروم رہے ، تو تقدیر نے اس کو حقیر ( یا محروم ) رکھا ہو گا “ ۔ پھر وہ لوگ نکلے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ چلتے ہوئے نکلے تاکہ آپ انہیں رخصت کریں پھر آپ انہیں چھوڑ کر واپس آ گئے ، تو سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے یہ شعر کہا: ” سلامتی ہو اس شخص پر جس کو تم نے ، کجھوروں میں رخصت کیا ہے ، جو ایسا نہیں ہے کہ اس کو اس کے حال پر چھوڑ دیا گیا ہو یا پریشانی کا شکار کر دیا گیا ہو “ ۔ پھر وہ لوگ روانہ ہوئے ، یہاں تک کہ وہ شام کی سرزمین پر موجود جگہ معان میں پہنچے انہیں یہ اطلاع ملی کہ ہرقل نے بلقاء کی سرزمین پر موجود مآب نامی جگہ پر ایک لاکھ رومیوں کے ساتھ پڑاؤ کیا ہوا ہے ، اور اس کے ساتھ عربوں کے نواحی علاقوں سے تعلق رکھنے والے لخم ، جذام بلقین ، بہرام اور بلی سے تعلق رکھنے والے ایک لاکھ افراد بھی شامل ہیں ، جن کا مخصوص جھنڈا ہے ، اور اس جھنڈے کو اٹھانے والا شخص مالک بن زانہ نامی شخص ہے جب مسلمانوں کو اس بات کی اطلاع ملی تو وہ معان کے مقام پر دو راتوں تک ٹھہرے رہے ، اور ان لوگوں کے معاملے کا جائزہ لیتے رہے ۔ انہوں نے یہ کہا: کہ ہمیں اللہ کے رسول کو خط لکھنا چاہیے اور دشمن کی تعداد کے بارے میں آپ کو بتانا چاہیے یا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری مدد کریں گے یا پھر ہمیں کوئی حکم دیں گے ، تو ہم اس کو جاری کریں گے ، تو سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو جوش دلاتے ہوئے فرمایا : اے میری قوم اللہ کی قسم تم اس چیز کو ناپسند کر رہے ہو جس کی خاطر تم نکلے ہو تم شہادت کے طلبگار ہو ہم لوگوں کے ساتھ تعداد یا قوت یا کثرت کی بنیاد پر جنگ نہیں کرتے ہیں ہم اس دین کی بنیاد پر ان کے ساتھ جنگ کرتے ہیں جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے ہمیں عزت عطا کی ہے ، تو تم روانہ ہو جاؤ کیونکہ دو میں سے کوئی ایک تو اچھائی ملے گی یا تو غلبہ نصیب ہو گا یا شہادت نصیب ہو گی ۔ سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے اسی جگہ پر ٹھہرنے کے دوران یہ بات کہی تھی ۔ ابن اسحاق بیان کرتے ہیں عبداللہ بن ابوبکر نے مجھے یہ بات بیان کی ہے کہ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات منقول ہے وہ کہتے ہیں میں سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے زیر پرورش یتیم لڑکا تھا وہ اپنے سفر پر نکلے ، تو انہوں نے مجھے اپنی سواری پر پیچھے بٹھایا ہوا تھا رات کے وقت ہم سفر کر رہے تھے اسی دوران میں نے انہیں یہ اشعار پڑھتے ہوئے سنا : ” جب تم نے مجھے ادا کر دیا اور میرے پالان پر سوار ہو گئے ، جو چار ، حساء کی دوری جتنا فاصلہ ہو “ ۔ جب میں نے ان کی زبانی یہ اشعار سنے تو میں رو پڑا انہوں نے مجھے درہ چبھویا اور کہا: اے لڑکے تمہیں کیا مسئلہ ہے اگر اللہ تعالیٰ مجھے شہادت نصیب کر دیتا ہے ، اور تم پالان کے دو حصوں سے واپس چلے جاتے ہو ، لوگ چلتے رہے ، یہاں تک کہ وہ تخوم بلقاء کے مقام پر پہنچ گئے وہاں ہرقل کے لشکر سے ان کا سامنا ہوا جس میں رومی بھی تھے اور عرب بھی تھے یہ بلقاء کی ایک بستی میں سامنا ہوا تھا جس کا نام مشارق تھا پھر مسلمان قریب ہوئے ، اور مسلمان ایک بستی کی طرف آ گئے جس کا نام مؤتہ تھا اس مقام پر دونوں فریقوں کی لڑائی ہوئی ، مسلمانوں کو دشواری کا سامنا ہوا ، ان کے میمنہ پر بنوعذرہ سے تعلق رکھنے والا ایک شخص تھا جس کا نام قطبہ بن قتادہ تھا ، اور ان کے میسرہ پر انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص تھا جس کا نام عبادہ بن مالک تھا پھر لوگوں کی لڑائی ہوئی گھمسان کی جنگ ہوئی سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے کو اٹھایا ہوا تھا ، اور لڑائی میں حصہ لے رہے تھے ، یہاں تک کہ وہ دشمن کے نیزوں کا شکار ہو گئے ، تو سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ نے وہ جھنڈا لے لیا وہ اسے لے کر لڑائی کرتے رہے ، یہاں تک کہ جب لڑائی شدید ہو گئی تو وہ اپنے گھوڑے سے اترے اور انہوں نے اس کی ٹانگیں کاٹ دیں ، اور دشمن سے لڑتے ہوئے شہید ہو گئے ۔ سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ مسلمانوں میں سے وہ پہلے فرد ہیں کہ جنہوں نے اپنے گھوڑے کے پاؤں کاٹ دیے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور عروہ تک اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور عروہ تک اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 10221
وَعَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِيَ الَّذِي أَرْضَعَنِي - وَكَانَ أَحَدَ بَنِي مُرَّةَ بْنِ عَوْفٍ ، وَكَانَ فِي تِلْكَ الْغَزَاةِ غَزْوَةِ مُؤْتَةَ - قَالَ : وَاللَّهِ لَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ حِينَ اقْتَحَمَ عَنْ فَرَسٍ لَهُ شَقْرَاءَ ، ثُمَّ عَقَرَهَا ، ثُمَّ قَاتَلَ الْقَوْمَ حَتَّى قُتِلَ . ¤ فَلَمَّا قُتِلَ جَعْفَرٌ أَخَذَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ الرَّايَةَ ، ثُمَّ تَقَدَّمَ بِهَا وَهُوَ عَلَى فَرَسِهِ فَجَعَلَ يَسْتَنْزِلُ نَفْسَهُ ، وَتَرَدَّدَ بَعْضَ التَّرَدُّدِ ثُمَّ قَالَ : ¤ أَقْسَمْتُ يَا نَفْسِي لَتَنْزِلِنَّهْ طَائِعَةً أَوْ لَتُكْرَهِنَّهْ مَا لِي أَرَاكِ تَكْرَهِينَ الْجَنَّهْ ¤ إِنْ أَجْلَبَ النَّاسُ وَشَدُّوا الرَّنَّهْ لَطَالَمَا قَدْ كُنْتِ مُطْمَئِنَّهْ ¤ هَلْ أَنْتِ إِلَّا نُطْفَةٌ فِي شَنَّهْ وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ : ¤ يَا نَفْسُ إِنْ لَا تُقْتَلِي فَمُوتِي هَذَا حِمَامُ الْمَوْتِ قَدْ صَلِيتِ ¤ وَمَا تَمَنَّيْتِ فَقَدْ لَقِيتِ إِنْ تَفْعَلِي فِعْلَهُمَا هُدِيتِ ¤ ثُمَّ نَزَلَ فَلَمَّا نَزَلَ أَتَاهُ ابْنُ عَمٍّ لَهُ بِعَظْمٍ مِنْ لَحْمٍ ، فَقَالَ : اشْدُدْ بِهَذَا صُلْبَكَ ; فَإِنَّكَ قَدْ لَقِيتَ فِي أَيَّامِكَ هَذِهِ مَا قَدْ لَقِيتَ ، فَأَخَذَهُ مِنْ يَدِهِ فَانْتَهَشَ مِنْهُ نَهْشَةً ثُمَّ سَمِعَ الْحُطَمَةَ فِي نَاحِيَةِ النَّاسِ ، فَقَالَ : وَأَنْتَ فِي الدُّنْيَا ؟ ثُمَّ أَلْقَاهُ مِنْ يَدِهِ ، ثُمَّ أَخَذَ سَيْفَهُ فَتَقَدَّمَ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ . ¤ فَأَخَذَ الرَّايَةَ ثَابِتُ بْنُ أَقْرَمَ أَحَدُ بَلْعَجْلَانَ ، وَقَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ اصْطَلِحُوا عَلَى رَجُلٍ مِنْكُمْ ، قَالُوا : أَنْتَ ، قَالَ : مَا أَنَا بِفَاعِلٍ . ¤ فَاصْطَلَحَ النَّاسُ عَلَى خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ ، فَلَمَّا أَخَذَ الرَّايَةَ دَافَعَ الْقَوْمَ ثُمَّ انْحَازَ حَتَّى انْصَرَفَ فَلَمَّا أُصِيبُوا ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَخَذَ الرَّايَةَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ فَقَاتَلَ بِهَا حَتَّى قُتِلَ شَهِيدًا ، ثُمَّ أَخَذَهَا جَعْفَرٌ فَقَاتَلَ بِهَا حَتَّى قُتِلَ شَهِيدًا " . ¤ ثُمَّ صَمَتَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى تَغَيَّرَتْ وُجُوهُ الْأَنْصَارِ ، وَظَنُّوا أَنَّهُ كَانَ فِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ بَعْضُ مَا يَكْرَهُونَهُ قَالَ : " ثُمَّ أَخَذَهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ فَقَاتَلَ بِهَا حَتَّى قُتِلَ شَهِيدًا " . ¤ ثُمَّ قَالَ : " لَقَدْ رُفِعُوا إِلَيَّ فِي الْجَنَّةِ - فِيمَا يَرَى النَّائِمُ - عَلَى سُرُرٍ مِنْ ذَهَبٍ ، فَرَأَيْتُ فِي سَرِيرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ ازْوِرَارًا عَنْ سَرِيرَيْ صَاحِبَيْهِ ، فَقُلْتُ : بِمَ هَذَا ؟ فَقِيلَ لِي : مَضَيَا ، وَتَرَدَّدَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ بَعْضَ التَّرَدُّدِ وَمَضَى " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
عباد بن عبداللہ بن زبیر بیان کرتے ہیں : میرے والد جو میرے رضائی والد ہیں ، جن کا تعلق بنو مروہ بن عوف سے ہے ، اور وہ غزوہ موتہ میں شریک ہوئے تھے انہوں نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ میں گویا اس وقت بھی سیدنا جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کو دیکھ رہا ہوں جب وہ اپنے گہرے سرخی مائل گھوڑے سے اترے تھے اور پھر انہوں نے اس کے پاؤں کاٹ دیے تھے اور پھر دشمن سے لڑتے ہوئے شہید ہو گئے تھے جب سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے ، تو سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے جھنڈا لے لیا پھر وہ اسے لے کر آگے بڑھے وہ اپنے گھوڑے پر سوار تھے انہیں اپنے آپ کو نیچے اتارنے میں کچھ تردد کا سامنا کرنا پڑا پھر انہوں نے یہ شعر پڑھے : ” میں قسم دیتا ہوں ، اے میرے نفس ! کہ تم نے اس صورتحال کا ضرور سامنا کرنا ہے ، خواہ تم خوشی کے ساتھ ایسا کرو ، یا بامر مجبوری کرو ، تمہارے بارے میں میرا یہ خیال نہیں ہے کہ تم جنت کو ناپسند کرتے ہو گے ، اگرچہ لوگ اکٹھے ہو کر رونا شروع کر دیں ، کتنے ہی عرصے تک تم مطمئن رہے ہو ، اور تم تو صرف مشکیزے میں موجود ایک بوند ہو “ ۔ سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ” اے نفس ! اگر تم ( جنگ میں ) قتل ( یعنی شہید ) نہ بھی ہوئے تو ( طبعی موت ) مر جاؤ گے ، یہ موت کا کبوتر آ گیا ہے ، تم نے جس کی تمنا کی اس کا سامنا کر لیا ، اگر تم یہ دونوں کام کرتے ہو تو ( سمجھ لو کہ ) تمہیں ہدایت نصیب ہو گئی “ ۔ پھر وہ نیچے اتر آئے جب وہ نیچے اترے تو ان کا چچازاد ان کے پاس گوشت والی ہڈی لے کے آیا اور بولا: اس کے ذریعے آپ اپنی پشت کو مضبوط کریں کیونکہ آپ نے ان دنوں میں جس صورت حال کا سامنا کیا ہے وہ آپ کے سامنے ہے ۔ انہوں نے وہ ہاتھ میں لی اور اس کے ذریعے اسے نوچ کے کھانا شروع کیا پھر انہوں نے ایک طرف کے لوگوں کے درمیان ہل چل دیکھی تو فرمایا تم دنیا میں مشغول ہو پھر انہوں نے اس گوشت کو ایک طرف رکھا تلوار پکڑی اور آگے بڑھ گئے ، اور لڑائی کرتے ہوئے شہید ہو گئے پھر ثابت بن اقرم جن کا تعلق بلعجلان سے تھا ۔ انہوں نے جھنڈا لیا اور بولے : اے لوگو تم اپنے میں سے ایک شخص پر متفق ہو جاؤ لوگوں نے کہا: آپ پر ہو جاتے ہیں انہوں نے کہا: میں ایسا نہیں کروں گا پھر لوگوں نے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ پر اتفاق کیا جب انہوں نے جھنڈا لیا تو انہوں نے دشمن کو پیچھے دھکیل دیا ، جب یہ لوگ شہید ہو گئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : زید بن حارثہ نے جھنڈا لیا وہ اس کو ساتھ لے کر لڑتا رہا ، یہاں تک کہ شہید ہو گیا پھر جعفر نے اسے لیا وہ لڑتا رہا ، یہاں تک کہ وہ شہید ہو گیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے یہاں تک کہ انصار کے چہرے متغیر ہو گئے ، اور انہوں نے یہ گمان کیا کہ شاید سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں بھی ایسی اطلاع آنے والی ہے ، جو انہیں پسند نہیں ہو گی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر عبداللہ بن رواحہ نے اسے لیا ، پھر وہ اسے لے کر لڑتا رہا ، یہاں تک کہ وہ شہید ہو گیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی جنت میں یہ تینوں میرے سامنے پیش کیے گئے میں نے خواب میں یہ دیکھا کہ یہ سونے کے پلنگوں پر بیٹھے ہوئے ہیں میں نے عبداللہ بن رواحہ کے پلنگ میں اس کے دونوں ساتھیوں کے پلنگوں کے مقابلے میں ، کچھ زیادہ آرائش کو دیکھا تو میں نے دریافت کیا : اس کی وجہ کیا ہے ؟ تو مجھے بتایا گیا وہ دونوں تو ( شہید ہونے کے لئے ) آگے بڑھ گئے تھے لیکن عبداللہ بن رواحہ پہلے تردد کا شکار ہوئے ، اور پھر آگے بڑھے تھے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 10222
وَعَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ : ثُمَّ بَعَثَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَيْشًا إِلَى مُؤْتَةَ ، وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ ، فَإِنْ أُصِيبَ زَيْدٌ فَجَعْفَرُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ أَمِيرُهُمْ ، فَإِنْ أُصِيبَ جَعْفَرٌ فَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ أَمِيرُهُمْ . ¤ فَانْطَلَقُوا حَتَّى لَقَوُا ابْنَ أَبِي سَبْرَةَ الْغَسَّانِيَّ بِمُؤْتَةَ ، وَبِهَا جُمُوعٌ مِنْ نَصَارَى الْعَرَبِ وَالرُّومِ وَبِهَا تَنُوخُ وَبَهْرَامُ ، فَأَغْلَقَ ابْنُ أَبِي سَبْرَةَ دُونَ الْمُسْلِمِينَ الْحِصْنَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ثُمَّ خَرَجُوا . ¤ فَالْتَقَوْا عَلَى زَرْعٍ أَخْضَرَ فَاقْتَتَلُوا قِتَالًا شَدِيدًا ، وَأَخَذَ اللِّوَاءَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ فَقُتِلَ ، ثُمَّ أَخَذَهُ جَعْفَرٌ فَقُتِلَ ، ثُمَّ أَخَذَهُ ابْنُ رَوَاحَةَ فَقُتِلَ ، ثُمَّ اصْطَلَحَ النَّاسُ بَعْدَ أُمَرَاءِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ فَهَزَمَ اللَّهُ الْعَدُوَّ ، وَأَظْهَرَ الْمُسْلِمِينَ . ¤ وَبَعَثَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي جُمَادَى الْأُولَى . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابن شہاب بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے موتہ کی طرف ایک جنگی مہم روانہ کی آپ نے سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو ان لوگوں کا امیر مقرر کیا اور فرمایا : اگر زید شہید ہو جائے ، تو جعفر بن ابوطالب ان کا امیر ہو گا اگر جعفر شہید ہو جائے ، تو عبداللہ بن رواحہ ان کا امیر ہو گا وہ لوگ روانہ ہوئے ، یہاں تک کہ موتہ کے مقام پر ان لوگوں کا سامنا ابن ابوسبرہ غسانی سے ہوا وہاں عربوں کے عیسائیوں اور روم کے عیسائیوں کے بڑے لشکر تھے وہاں تنوخ اور بہرام بھی تھے ۔ ابن ابوسبرہ نے مسلمانوں سے تین دن پہلے قلعے پر قبضہ کر کے اسے بند کر لیا تھا پھر وہ لوگ وہاں سے نکلے اور سرسبز جگہ پر ان لوگوں کی لڑائی ہوئی شدید لڑائی ہوئی سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے جھنڈا لیا ہوا تھا وہ شہید ہو گئے پھر سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ نے اسے پکڑ لیا وہ شہید ہو گئے پھر سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے اسے پکڑ لیا وہ شہید ہو گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقرر کردہ امراء کے بعد لوگوں نے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو اپنا امیر طے کر لیا تو اللہ تعالیٰ نے دشمن کو پسپا کر دیا ، اور مسلمانوں کو غلبہ عطا کر دیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمادی الاول کے مہینے میں ان حضرات کو بھجوایا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 10223
وَعَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَثَلُوا لِي فِي الْجَنَّةِ فِي خَيْمَةٍ مِنْ دُرَّةٍ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ عَلَى سَرِيرٍ ، فَرَأَيْتُ زَيْدًا وَابْنَ رَوَاحَةَ أَعْنَاقَهُمَا صُدُودًا " . قَالَ : " فَسَأَلْتُ " أَوْ " قَالَ لِي : إِنَّهُمَا حِينَ غَشِيَهُمَا الْمَوْتُ كَأَنَّهُمَا أَعْرَضَا أَوْ كَأَنَّهُمَا صَدَّا بِوُجُوهِهِمَا ، وَأَمَّا جَعْفَرٌ فَإِنَّهُ لَمْ يَفْعَلْ " . ¤ قَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ : فَذَاكَ حِينَ يَقُولُ ابْنُ رَوَاحَةَ : ¤ أَقْسَمْتُ يَا نَفْسُ لَتَنْزِلِنَّهْ بِطَاعَةٍ مِنْكِ أَوْ لَتُكْرَهِنَّهْ فَطَالَمَا قَدْ كُنْتِ مُطْمَئِنَّهْ ¤ قَالَ جَعْفَرٌ : مَا أَطْيَبَ رِيحَ الْجَنَّةِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، إِلَّا أَنَّهُ مُرْسَلٌ . ¤
محمد محی الدین
ابن مسیب بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جنت میرے سامنے موتی سے بنا ہوا خیمہ پیش کیا گیا ان تینوں میں سے ہر ایک ایک پلنگ پر موجود تھا میں نے زید اور ابن رواحہ کو دیکھا کہ ان کی گردنیں ذرا سی ٹیڑھی ہیں ۔ راوی کہتے ہیں : روایت میں شاید یہ الفاظ ہیں میں نے دریافت کیا : یا شاید یہ الفاظ ہیں کہ فرشتے نے مجھے بتایا : جب ان دونوں کو موت آنے لگی تو ان دونوں نے منہ پھیرنے کی کوشش کی یا اپنا چہرہ پھیرنے کی کوشش کی لیکن یا اپنا چہرہ پیچھے کرنے کی کوشش کی تو جہاں تک جعفر کا تعلق ہے ، تو انہوں نے ایسا نہیں کیا “ ۔ ابن عیینہ کہتے ہیں یہی وہ موقع ہے ، جس پر سیدنا ابن رواحہ رضی اللہ عنہ نے یہ اشعار کہے تھے ۔ جبکہ سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ نے یہ کہا: تھا کہ جنت کی خوشبو کتنی پاکیزہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں تاہم
یہ روایت ” مرسل “ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں تاہم
یہ روایت ” مرسل “ ہے ۔
حدیث نمبر: 10224
وَعَنْ أَبِي الْيُسْرِ قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَتَاهُ أَبُو عَامِرٍ الْأَشْعَرِيُّ ، فَقَالَ : بَعَثْتَنِي فِي كَذَا وَكَذَا ، فَأَتَيْتُ مُؤْتَةَ فَلَمَّا صُفَّ الْقَوْمُ وَرَكِبَ جَعْفَرٌ فَرَسَهُ ، وَلَبِسَ دِرْعَهُ ، وَأَخَذَ اللِّوَاءَ فَمَشَى حَتَّى أَتَى الْقَوْمَ ثُمَّ نَادَى : مَنْ يُبَلِّغُ هَذِهِ صَاحِبَهَا ؟ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : أَنَا ، فَبَعَثَ بِهَا ثُمَّ تَقَدَّمَ فَضَرَبَ بِسَيْفِهِ حَتَّى قُتِلَ ، فَتَحَدَّرَتْ عَيْنَا رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دُمُوعًا ، فَصَلَّى بِنَا الظُّهْرَ ، ثُمَّ دَخَلَ وَلَمْ يُكَلِّمْنَا ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَخَرَجَ فَصَلَّى وَلَمْ يُكَلِّمْنَا ، ثُمَّ فَعَلَ ذَلِكَ فِي الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ يَدْخُلُ وَلَا يُكَلِّمُنَا . ¤ وَكَانَ إِذَا صَلَّى أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ ، فَخَرَجَ عَلَيْنَا فِي الْفَجْرِ فِي السَّاعَةِ الَّتِي كَانَ يَخْرُجُ فِيهَا ، وَأَنَا وَأَبُو عَامِرٍ الْأَشْعَرِيُّ جُلُوسٌ ، فَجَلَسَ بَيْنَنَا فَقَالَ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ عَنْ رُؤْيَا رَأَيْتُهَا ، دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَرَأَيْتُ جَعْفَرًا ذَا جَنَاحَيْنِ مُضَرَّجَيْنِ بِالدِّمَاءِ ، وَزَيْدٌ مُقَابِلَهُ ، وَابْنُ رَوَاحَةَ مَعَهُمْ كَأَنَّهُ يُعْرِضُ عَنْهُمْ ، وَسَأُخْبِرُكُمْ عَنْ ذَلِكَ ، إِنَّ جَعْفَرًا حِينَ تَقَدَّمَ فَرَأَى الْقَتْلَ لَمْ يَصْرِفْ وَجْهَهُ ، وَزَيْدٌ كَذَلِكَ ، وَابْنُ رَوَاحَةَ صَرَفَ وَجْهَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ ثَابِتُ بْنُ دِينَارٍ أَبُو حَمْزَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوالیسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا ابوعامر اشعری آپ کے پاس آئے انہوں نے عرض کی : آپ نے مجھے فلاں فلاں کام کے سلسلے میں بھیجا ہوا تھا میں موتہ آ گیا وہاں لوگ صف آراء تھے سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے انہوں نے اپنی زرہ پہنی اور جھنڈا لے لیا اور چلتے ہوئے دشمن کے پاس آئے ، اور بولے : کون اسے اس کے متعلقہ فرد تک پہنچائے گا ، تو حاضرین میں سے ایک صاحب بولے : میں انہوں نے اس کے ہمراہ اسے بھیج وہ آگے بڑھا اس نے تلوار سے ضرب لگائی ، یہاں تک کہ وہ قتل ہو گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی پھر اندر تشریف لے گئے آپ نے ہمارے ساتھ کوئی بات چیت نہیں کی پھر نماز کے لئے اقامت کہی گئی آپ تشریف لائے آپ نے عصر کی نماز پڑھائی آپ نے ہمارے ساتھ کوئی بات چیت نہیں کی مغرب اور عشاء کی نمازوں میں بھی آپ نے اسی طرح کیا آپ اندر چلے جاتے تھے لیکن ہمارے ساتھ کوئی بات چیت نہیں کرتے تھے حالانکہ جب آپ نماز ادا کیا کرتے تھے ، تو ہماری طرف رخ کر لیتے تھے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز کے لئے اپنے مخصوص وقت پر تشریف لائے جس وقت میں آپ پہلے تشریف لاتے تھے اس وقت میں اور ابوعامر اشعری بیٹھے ہوئے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان بیٹھ گئے آپ نے ارشاد فرمایا : کیا میں تمہیں اس خواب کے بارے میں نہ بتاؤں جو میں نے دیکھا ہے میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے جعفر کو دیکھا کہ اس کے دو پر ہیں جو خون میں ڈوبے ہوئے ہیں ، اور اس کے سامنے زید تھا ، اور ان لوگوں کے ساتھ ابن رواحہ تھا یوں لگ رہا تھا جیسے اس نے منہ پھیرا ہے میں تمہیں اس کے بارے میں بتاتا ہوں جب جعفر آگے بڑھا اور اس نے دیکھا کہ قتل ہو جائے گا ، تو اس نے اپنے چہرے کو نہیں پھیرا زید نے بھی اسی طرح کیا لیکن ابن رواحہ نے اپنا چہرہ پھیر لیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ثابت بن دینار ابوحمزہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ثابت بن دینار ابوحمزہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 10225
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ قَالَتْ : لَمَّا أُصِيبَ جَعْفَرٌ وَأَصْحَابُهُ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدْ دَبَغْتُ أَرْبَعِينَ مَنِيئَةً ، وَعَجَنْتُ عَجْنِي ، وَغَسَّلْتُ بَنِيَّ وَدَهَنْتُهُمْ وَنَظَّفْتُهُمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ائْتِنِي بِبَنِي جَعْفَرٍ " . ¤ قَالَتْ : فَأَتَيْتُهُ بِهِمْ فَشَمَّهُمْ وَذَرَفَتْ عَيْنَاهُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي مَا يُبْكِيكَ أَبَلَغَكَ عَنْ جَعْفَرٍ وَأَصْحَابِهِ شَيْءٌ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، أُصِيبُوا هَذَا الْيَوْمَ " . قَالَتْ : فَقُمْتُ أَصِيحُ وَاجْتَمَعَ إِلَيَّ النِّسَاءُ . ¤ وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى أَهْلِهِ ، فَقَالَ : " لَا تُغْفِلُوا آلَ جَعْفَرٍ مِنْ أَنْ تَصْنَعُوا لَهُمْ طَعَامًا ، فَإِنَّهُمْ قَدْ شُغِلُوا بِأَمْرِ صَاحِبِهِمْ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى ابْنُ مَاجَهْ بَعْضَهُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ امْرَأَتَانِ لَمْ أَجِدْ مَنْ وَثَّقَهُمَا وَلَا جَرَّحَهُمَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں جب سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی شہید ہو گئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے اس وقت میں نے چالیس چمڑوں کو دباغت کی ہوئی تھی اور آٹا گوندھا ہوا تھا میں نے اپنے بچوں کو نہلا دھلا کر صاف ستھرا کیا تھا ، اور تیل لگایا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جعفر کے بچوں کو میرے پاس لے کے آؤ میں انہیں لے کے آپ کے پاس آئی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سونگھا آپ کے آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے میں نے عرض کی : یا رسول الله ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں آپ کس وجہ سے رو رہے ہیں ؟ کیا سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں آپ کو کوئی اطلاع ملی ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں وہ لوگ آج شہید ہو گئے ہیں سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں اٹھ کر چیخنے لگی خواتین میرے پاس اکٹھی ہو گئیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اہلخانہ کے پاس تشریف لے گئے ، اور فرمایا : آل جعفر کو اس حوالے سے غفلت کا شکار نہ کرو تم ان کے لئے کھانا تیار کرو کیونکہ وہ اپنے متعلقہ ( مرحوم ) فرد کے ( غم کے ) حوالے سے مشغول ہیں ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام ماجہ نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں دو خواتین ایسی ہیں کہ میں نے کسی کو ان دونوں کی توثیق کرتے ہوئے یا ان دونوں پر جرح کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں دو خواتین ایسی ہیں کہ میں نے کسی کو ان دونوں کی توثیق کرتے ہوئے یا ان دونوں پر جرح کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 10226
وَعَنْ عُرْوَةَ قَالَ : قُتِلَ يَوْمَ مُؤْتَةَ مِنَ الْأَنْصَارِ : الْحَارِثُ بْنُ النُّعْمَانِ بْنِ يَسَافِ بْنِ نَضْلَةَ بْنِ عَبْدِ عَوْفِ بْنِ غَنْمٍ ، وَزَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ بْنِ غَنْمٍ ، وَسُرَاقَةُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطِيَّةَ بْنِ خَنْسَاءَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
عروہ بیان کرتے ہیں : جنگ موتہ میں انصار سے تعلق رکھنے والے سیدنا حارث بن نعمان بن یساف بن نضلہ بن عبد عوف بن غنم اور سیدنا زید بن حارثہ بن غنم اور سیدنا سراقہ بن عمرو بن عطیہ بن خنساء شہید ہوئے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور وہ حسن الحدیث ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور وہ حسن الحدیث ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔