حدیث نمبر: 10199
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ : خَرَجَ مَرْحَبُ الْيَهُودِيُّ مِنْ حِصْنِهِمْ قَدْ جَمَعَ سِلَاحَهُ يَرْتَجِزُ ، وَيَقُولُ : ¤ قَدْ عَلِمَتْ خَيْبَرُ أَنِّي مَرْحَبُ شَاكِي السِّلَاحِ بَطَلٌ مُجَرَّبُ أَطْعَنُ أَحْيَانًا وَحِينًا أَضْرِبُ ¤ إِذَا اللُّيُوثُ أَقْبَلَتْ تَلْهَبُ [ وَأَحْجَمَتْ عَنْ صَوْلَةِ الْمُجَرِّبِ ] ¤ كَأَنَّ حِمَايَ الْحِمَى لَا يُقْرَبُ وَهُوَ يَقُولُ : مَنْ يُبَارِزُ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ لِهَذَا ؟ " . فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ : أَنَا لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الْمَوْتُورُ الثَّائِرُ ، قَتَلُوا أَخِي بِالْأَمْسِ ، قَالَ : " فَقُمْ إِلَيْهِ ، اللَّهُمَّ أَعِنْهُ عَلَيْهِ " . ¤ فَلَمَّا دَنَا أَحَدُهُمَا مِنْ صَاحَبِهِ دَخَلَتْ بَيْنَهُمَا شَجَرَةٌ غَمَرَتْهُ مِنْ شَجَرِ الْعَشْرِ ، فَجَعَلَ أَحَدُهُمَا يَلُوذُ بِهَا مِنْ صَاحِبِهِ ، كُلَّمَا لَاذَ بِهَا مِنْهُ اقْتَطَعَ بِسَيْفِهِ مَا دُونَهُ ، حَتَّى بَرَزَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا لِصَاحِبِهِ ، وَصَارَتْ بَيْنَهُمَا كَالرَّجُلِ الْقَائِمِ مَا فِيهَا مِنْ فَنَنٍ - حَمَلَ مَرْحَبٌ عَلَى مُحَمَّدٍ فَضَرَبَهُ فَاتَّقَاهُ بِالدَّرَقَةِ ، فَوَقَعَ سَيْفُهُ فِيهَا ، فَعَصَّبَ بِهِ فَأَمْسَكَهُ ، وَضَرَبَهُ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ حَتَّى قَتَلَهُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : مرحب یہودی ان کے قلعوں میں سے نکلا اس نے اپنے ہتھیار اکٹھے کیے ہوئے تھے اور یہ رجز پڑھ رہا تھا : ” خیبر یہ بات جانتا ہے کہ میں مرحب ہوں ، مکمل استعداد رکھنے والا تجربہ کار بہادر ہوں ، کبھی ( نیزے یا تلوار کو ) چبھوتا ہوں اور کبھی ضرب لگاتا ہوں ، جب شیر آتے ہیں تو وہ ( حملہ کرنے کے لیے ) بیقرار ہوتے ہیں ، اور وہ تجربہ کار شخص کی بہادری سے رک جاتے ہیں ، گویا میری چراگاہ وہ چراگاہ ہے جس کے قریب نہیں جایا جا سکتا ہے “ ۔ وہ یہ کہہ رہا تھا کون مقابلہ کرے گا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کون مقابلہ کرے گا ؟ تو سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اس کا مقابلہ کروں گا ، جس کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے ، اور جو بکھرے ہوئے بالوں کا مالک ہے ، اس نے کل میرے بھائی کو قتل کیا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اٹھ کر اس کی طرف جاؤ اے اللہ اس کے خلاف تو اس کی مدد کر جب ان دونوں میں سے ایک دوسرے کے قریب آیا تو ان دونوں کے درمیان ایک درخت آ گیا اور اس درخت میں گوند تھی ان دونوں میں سے ایک دوسرے کے مقابلے میں اس درخت کے ذریعے بچنے لگا جب بھی وہ اس میں سے بچ جاتا تھا تو دوسرے کی تلوار کا وار خالی جاتا تھا ، یہاں تک کہ ان دونوں میں سے ہر ایک دوسرے فریق کے سامنے آ گیا اور وہ ان دونوں کے درمیان کھڑے ہوئے شخص کی مانند ہو گیا اس میں کوئی ٹہنی نہیں تھی پھر مرحب نے سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ پر حملہ کر کے انہیں ضرب لگائی سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے ڈھال کے ذریعے اس کا بچاؤ کیا اس کی تلوار ان کی ڈھال پر لگی اور انہوں نے اس کے ذریعے وار کو روک لیا پھر سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے اس پر ضرب لگائی اور اسے قتل کر دیا ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10199
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (1861) اخرجه احمد فى المسند (385/3)»