مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ غَزْوَةِ خَيْبَرَ باب: غزوہ خیبر کا بیان
وَعَنْ عَلِيٍّ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - قَالَ : أَتَيْنَا خَيْبَرَ ، فَلَمَّا أَتَاهُمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَ عُمَرَ وَمَعَهُ النَّاسُ ، فَلَمْ يَلْبَثُوا أَنْ هَزَمُوا عُمَرَ وَأَصْحَابَهُ ، فَقَالَ : " لَأَبْعَثَنَّ إِلَيْهِمْ رَجُلًا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، وَيُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ يُقَاتِلُهُمْ حَتَّى يَفْتَحَ اللَّهُ لَهُ " . ¤ قَالَ : فَتَطَاوَلَ النَّاسُ لَهَا وَمَدُّوا أَعْنَاقَهُمْ قَالَ : فَمَكَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَاعَةً ، فَقَالَ : " أَيْنَ عَلِيٌّ ؟ " . فَقَالُوا : هُوَ أَرْمَدُ ، قَالَ : " ادْعُوهُ لِي " فَلَمَّا أَتَيْتُهُ فَتَحَ عَيْنِي ، ثُمَّ تَفِلَ فِيهَا ، ثُمَّ أَعْطَانِيَ اللِّوَاءَ . ¤ قَالَ : فَانْطَلَقْتُ حَتَّى أَتَيْتُهُمْ ، فَإِذَا فِيهِمْ مَرْحَبٌ يَرْتَجِزُ حَتَّى الْتَقَيْنَا ، فَهَزَمَهُ اللَّهُ وَانْهَزَمَ أَصْحَابُهُ ، وَتَحَصَّنُوا وَأُغْلِقَ الْبَابُ ، فَأَتَيْنَا الْبَابَ فَلَمْ أَزَلْ أُعَالِجُهُ حَتَّى فَتَحَهُ اللَّهُ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ نُعَيْمُ بْنُ حَكِيمٍ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ ، وَفِيهِ لِينٌ . ¤سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ خیبر آئے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تشریف لائے ، تو آپ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بھیجا اور ان کے ساتھ کچھ لوگوں کو بھیجا لیکن تھوڑی دیر گزرنے کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کو پسپا ہونا پڑا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں ان لوگوں کی طرف ایسے شخص کو بھیجوں گا ، جو اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ محبت رکھتا ہو گا اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت رکھتے ہوں گے وہ ان لوگوں کے ساتھ جنگ کرے گا ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کو فتح نصیب کر دے گا ۔ راوی کہتے ہیں : تو لوگ اس بات کے آرزو مند رہے ، اور اپنی گردنیں اٹھا کے دیکھتے رہے کچھ دیر گزرنے کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : علی کہاں ہے لوگوں نے عرض کی : انہیں آشوب چشم کی شکایت ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے میرے پاس بلا کے لاؤ جب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے میری دونوں آنکھیں کھولیں اور ان میں لعاب دہن ڈالا پھر آپ نے مجھے جھنڈا عطا کیا میں روانہ ہوا اور ان لوگوں کے پاس آیا وہاں مرحب رجز پڑھتا ہوا آیا ، یہاں تک کہ جب ہم دونوں کا مقابلہ ہوا تو اللہ تعالیٰ نے اسے پسپا کر دیا ، اور اس کے ساتھی بھی پسپا ہو گئے ، اور قلعہ بند ہو گئے انہوں نے دروازہ بند کر لیا ہم دروازے کے پاس آئے ، اور مسلسل اسے کھلوانے کی کوشش کرتے رہے ، یہاں تک کہ اللہ تعالی نے وہ ( شہر یا قلعہ ) فتح کروا دیا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی نعیم بن حکیم ہے ۔ جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور اس میں کمزور ہونا پایا جاتا ہے ۔