مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ غَزْوَةِ خَيْبَرَ باب: غزوہ خیبر کا بیان
وَعَنْ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ : لَمَّا نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِحَضْرَةِ أَهْلِ خَيْبَرَ أَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اللِّوَاءَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، وَنَهَضَ [ مَعَهُ ] مَنْ نَهَضَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَلَقُوا أَهْلَ خَيْبَرَ ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ غَدًا رَجُلًا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، وَيُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ " . ¤ فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ دَعَا عَلِيًّا وَهُوَ أَرْمَدُ ، فَتَفِلَ فِي عَيْنَيْهِ ، وَأَعْطَاهُ اللِّوَاءَ ، وَنَهَضَ النَّاسُ مَعَهُ ، فَلَقُوا أَهْلَ خَيْبَرَ ، وَكَانَ مَرْحَبٌ يَرْتَجِزُ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَيَقُولُ : ¤ قَدْ عَلِمَتْ خَيْبَرُ أَنِّي مَرْحَبُ شَاكِي السِّلَاحِ بَطَلٌ مُجَرَّبُ أَطْعَنُ أَحْيَانًا وَحِينًا أَضْرِبُ ¤ إِذَا اللُّيُوثُ أَقْبَلَتْ تَلْهَبُ قَالَ : فَاخْتَلَفَا ضَرْبَتَيْنِ ، فَضَرَبَهُ عَلِيٌّ عَلَى هَامَتِهِ حَتَّى عَضَّ السَّيْفُ مِنْهَا بِأَضْرَاسَهُ ، وَسَمِعَ أَهْلُ الْعَسْكَرِ صَوْتَ ضَرْبَتِهِ ، وَمَا تَتَامَّ آخِرُ النَّاسِ مَعَ عَلِيٍّ حَتَّى فُتِحَ لَهُ وَلَهُمْ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مَيْمُونُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے پاس علاقے میں پڑاؤ کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جھنڈا سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دیا ان کے ساتھ کچھ مسلمان بھی گئے ان کا اہل خیبر کے ساتھ مقابلہ بھی ہوا لیکن وہ لوگ واپس آ گئے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کل میں جھنڈا ایسے شخص کو دوں گا ، جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے ، اور اللہ اور اس کا رسول بھی اس سے محبت رکھتے ہیں اگلے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بلوایا ان کو آشوب چشم کی شکایت تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھوں پر لعاب دہن ڈالا اور انہیں جھنڈا عطا کیا آپ نے ان کے ساتھ لوگوں کو بھیجا ان لوگوں کا اہل خیبر سے سامنا ہوا ان لوگوں کے درمیان مرحب یہ رجز پڑھ رہا تھا ، اور یہ کہہ رہا تھا : ” خیبر یہ بات جانتا ہے کہ میں مرحب ہوں ، مکمل استعداد رکھنے والا تجربہ کار بہادر ہوں ، کبھی ( نیزے یا تلوار کو ) چبھوتا ہوں اور کبھی ضرب لگاتا ہوں ، جب شیر آتے ہیں تو وہ ( حملہ کرنے کے لیے ) بیقرار ہوتے ہیں “ ۔ راوی کہتے ہیں : ان دونوں کا مقابلہ ہوا ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس نے اس کے سر پر وار کیا ، یہاں تک کہ اس کی تلوار ان کو کاٹتی ہوئی اس کے دانتوں تک پہنچ گئی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی ضرب کی آواز کو اہل لشکر نے بھی سنا اور پھر ابھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ جانے والے آخری فرد بھی نہیں پہنچے تھے کہ ان کے لئے شہر فتح ہو گیا ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی میمون ابوعبداللہ ہے ۔ جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔