حدیث نمبر: 10204
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ خَيْبَرَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلًا فَجَبُنَ ، فَجَاءَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ قَطُّ ، قُتِلَ مَحْمُودُ بْنُ مَسْلَمَةَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ ، وَاسْأَلُوا اللَّهَ الْعَافِيَةَ ، فَإِنَّكُمْ لَا تَدْرُونَ مَا تُبْتَلُونَ بِهِ مِنْهُمْ ، وَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَقُولُوا : اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبُّنَا وَرَبُّهُمْ ، وَنَوَاصِينَا وَنَوَاصِيهِمْ بِيَدِكَ ، وَإِنَّمَا تَقْتُلُهُمْ أَنْتَ ، ثُمَّ الْزَمُوا الْأَرْضَ جُلُوسًا ، فَإِذَا غَشَوْكُمْ فَانْهَضُوا وَكَبِّرُوا " . ¤ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَأَبْعَثَنَّ غَدًا رَجُلًا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، وَيُحِبَّانَهِ ، لَا يُوَلِّي الدُّبُرَ " فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ بَعَثَ عَلِيًّا وَهُوَ أَرْمَدُ شَدِيدُ الرَّمَدِ ، فَقَالَ : " سِرْ " فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا أُبْصِرُ مَوْضِعَ قَدَمِي ، قَالَ : فَتَفِلَ فِي عَيْنَيْهِ ، وَعَقَدَ لَهُ اللِّوَاءَ ، وَدَفَعَ إِلَيْهِ الرَّايَةَ ، فَقَالَ عَلِيٌّ : عَلَى مَا أُقَاتِلُهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " عَلَى أَنْ يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ، فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ فَقَدْ حَقَنُوا دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ تَعَالَى " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ الْخَلِيلُ بْنُ مُرَّةَ ، قَالَ أَبُو زُرْعَةَ : شَيْخٌ صَالِحٌ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . قُلْتُ : وَبَقِيَّةُ هَذِهِ الْأَحَادِيثِ تَأْتِي فِي مَنَاقِبِ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - . ¤
محمد محی الدین

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب غزوہ خیبر کا موقع آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو بھیجا وہ بزدلی کا شکار ہو گیا پھر سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ آئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے آج کے دن جیسا دن نہیں دیکھا محمود بن مسلمہ قتل ہو گئے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم دشمن کا سامنے کرنے کی آرزو نہ کرو تم اللہ تعالیٰ سے عافیت مانگو کیونکہ تم یہ بات نہیں جانتے ہو کہ اس کے حوالے سے تمہیں کسی چیز میں مبتلا کیا جاتا ہے ، اور جب تم دشمن کا سامنا کرو تو یہ کہو اے اللہ تو ہمارا اور ان کا پروردگار ہے ہماری پیشانیاں اور ان کی پیشانیاں تیرے ہاتھ میں ہیں ان کے ساتھ تو ہی لڑنے ( کی ہمت دیتا ہے ) پھر تم لوگ زمین پر بیٹھ جاؤ اگر دشمن تمہارے پاس آ جائے ، تو تکبیر کہہ کر اٹھ کھڑے ہو ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کل میں ایسے شخص کو بھیجوں گا ، جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے ، اور وہ دونوں اس سے محبت رکھتے ہیں وہ پیٹھ نہیں پھیرے گا جب اگلا دن آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بلوایا ان کو آشوب چشم کی شدید شکایت تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : روانہ ہو جاؤ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں تو اپنے قدموں کی جگہ بھی نہیں دیکھ سکتا ہوں راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھوں میں لعاب دہن ڈالا ان کے لئے جھنڈا باندھا اور جھنڈا ان کو دیا سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں کس بنیاد پر ان لوگوں کے ساتھ لڑائی کروں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس بات پر کہ وہ اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور میں اللہ کا رسول ہوں جب وہ ایسا کر لیں گے ، تو وہ اپنی جانوں اور اپنے اموال کو محفوظ کر لیں گے ، البتہ ان کے حق کا معاملہ مختلف ہے ، اور ان لوگوں کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہو گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی خلیل بن مرہ ہے ابوزرعہ کہتے ہیں یہ ایک نیک بزرگ ہے ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں اس بارے میں دیگر احادیث سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے مناقب سے متعلق باب میں آگے آئیں گی ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10204
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (790)»