مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ غَزْوَةِ خَيْبَرَ باب: غزوہ خیبر کا بیان
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : مَا شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَغْنَمًا قَطُّ إِلَّا قَسَمَ لِي ، إِلَّا خَيْبَرَ ، فَإِنَّهَا كَانَتْ لِأَهْلِ الْحُدَيْبِيَةِ خَاصَّةً . ¤ وَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَأَبُو مُوسَى جَاءَا بَيْنَ الْحُدَيْبِيَةِ وَخَيْبَرَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ وَهُوَ سَيِّئُ الْحِفْظِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے جب بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مال غنیمت والی کسی جنگ میں حصہ لیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے مجھے حصہ دیا البتہ خیبر کا معاملہ مختلف ہے کیونکہ اس کا مال غنیمت ان لوگوں کے ساتھ مخصوص تھا جو غزوہ حدیبیہ میں شامل ہوئے تھے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ حدیبیہ اور خیبر کے درمیانی عرصے میں آئے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے ، اور وہ خراب حافظے کا مالک ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔