حدیث نمبر: 10209
وَعَنْ عُرْوَةَ قَالَ : لَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ خَيْبَرَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَتَلَ مَنْ قَتَلَ مِنْهُمْ ، أَهْدَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ الْحَارِثِ الْيَهُودِيَّةُ - وَهِيَ بِنْتُ أَخِي مَرْحَبٍ - شَاةً مَصْلِيَّةً ، وَسَمَّتْهُ فِيهَا ، وَأَكْثَرَتْ فِي الْكَتِفِ وَالذِّرَاعِ ; حَيْثُ أُخْبِرَتْ أَنَّهُمَا أَحَبُّ أَعْضَاءِ الشَّاةِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ فَلَمَّا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعَهُ بِشْرُ بْنُ الْبَرَاءِ بْنِ الْمَعْرُورِ أَخُو بَنَى سَلَمَةَ ، قُدِّمَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَنَاوَلَ الْكَتِفَ وَالذِّرَاعَ وَانْتَهَشَ مِنْهَا ، وَتَنَاوَلَ بِشْرٌ عَظْمًا آخَرَ فَانْتَهَشَ مِنْهُ ، فَلَمَّا أَرْغَمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَرْغَمَ بِشْرٌ مَا فِي فِيهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ارْفَعُوا أَيْدِيَكُمْ ; فَإِنَّ كَتِفَ الشَّاةِ تُخْبِرُنِي أَنِّي قَدْ بَغَيْتُ فِيهَا " . ¤ فَقَالَ بِشْرُ بْنُ الْبَرَاءِ : وَالَّذِي أَكْرَمَكَ لَقَدْ وَجَدْتُ ذَلِكَ فِي أَكْلَتِي الَّتِي أَكَلْتُ ، وَإِنْ مْنَعْنِي أَنْ أَلْفِظَهَا إِلَّا أَنِّي كَرِهْتُ أَنْ أُنَغِّصَ طَعَامَكَ ، فَلَمَّا أَكَلْتَ مَا فِي فِيكَ لَمْ أَرْغَبْ بِنَفْسِي عَنْ نَفْسِكَ ، وَرَجَوْتُ أَنْ لَا تَكُونَ رَغِمْتَهَا وَفِيهَا بَغْيٌ . ¤ فَلَمْ يَقُمْ بِشْرٌ مِنْ مَكَانِهِ حَتَّى عَادَ لَوْنُهُ كَالطَّيَالِسَةِ وَمَاطَلَهُ وَجَعُهُ حَتَّى كَانَ لَا يَتَحَوَّلُ إِلَّا مَا حُوِّلَ ، وَبَقِيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعْدَ ثَلَاثِ سِنِينَ حَتَّى كَانَ وَجَعُهُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین

عروہ بیان کرتے ہیں : جب اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ کے لئے خیبر کو فتح کروا دیا ، اور ان میں سے کچھ لوگ قتل ہو گئے ، تو زینب بنت حارث نامی ایک یہودی عورت نے جو مرحب کی بھتیجی تھی ایک بکری بھونی اور اس میں زہر ملا دیا اس نے کندھے اور دستی کے گوشت میں زیادہ زہر ملایا کیونکہ اسے یہ بات بتائی گئی تھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بکری کے اعضا میں سے انہیں زیادہ پسند کرتے ہیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اندر تشریف لائے ، تو آپ کے ساتھ سیدنا بشر بن براء بن معرور رضی اللہ عنہ تھے جن کا تعلق بنو سلمہ سے تھا اس خاتون نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے وہ بکری پیش کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کندھے اور دستی کے گوشت کو پکڑا اور اس میں سے نوچ کے کھانے لگے ۔ سیدنا بشر رضی اللہ عنہ نے اس میں ایک اور ہڈی کو پکڑا اور اس میں سے نوچا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے منہ میں موجود چیز کو باہر نکال دیا ، تو سیدنا بشر رضی اللہ عنہ نے بھی اپنے منہ میں موجود چیز کو باہر نکال دیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم لوگ اپنے ہاتھ اٹھا لو کیونکہ اس بکری نے مجھے یہ بتایا ہے کہ اس میں زیادتی کی گئی ہے ۔ سیدنا بشر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو عزت عطا کی ہے میں نے جو لقمہ لیا تھا اس میں ہی مجھے یہ چیز محسوس ہو گئی تھی لیکن میں نے اس کو اس لئے نہیں تھوکا کیونکہ میں نے اس بات کو ناپسند کیا کہ میں آپ کے کھانے کو خراب کروں لیکن جب آپ نے اپنے منہ میں موجود چیز کو کھا لیا ، تو میں نے آپ کے مقابلے میں اپنی ذات میں رغبت نہیں رکھی مجھے یہ امید تھی کہ اگرچہ اس میں زیادتی کی گئی ہے ۔ لیکن اس کا نقصان نہیں ہو گا ، راوی کہتے ہیں : اس کے بعد سیدنا بشر رضی اللہ عنہ اپنی جگہ سے اُٹھے نہیں تھے کہ ان کا رنگ سبز ہو گیا اور ان کی تکلیف زیادہ ہو گئی ، یہاں تک کہ ایک سال گزرنے سے پہلے ان کا انتقال ہو گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس واقعہ کے بعد تین سال تک زندہ رہے ، یہاں تک کہ اسی کی تکلیف کی وجہ سے آپ کا انتقال ہوا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10209
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ مرسل
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1204)»