مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ غَزْوَةِ خَيْبَرَ باب: غزوہ خیبر کا بیان
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : لَمَّا افْتَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَيْبَرَ قَالَ الْحَجَّاجُ بْنُ عِلَاطٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ لِي بِمَكَّةَ مَالًا ، وَإِنَّ لِي بِهَا أَهْلًا ، وَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ آتِيَهُمْ ، فَأَنَا فِي حِلٍّ إِنْ أَنَا نِلْتُ مِنْكَ أَوْ قُلْتُ شَيْئًا ؟ فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَقُولَ مَا شَاءَ . ¤ فَأَتَى امْرَأَتَهُ حِينَ قَدِمَ ، فَقَالَ : اجْمَعِي لِي مَا كَانَ عِنْدَكِ ; فَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَشْتَرِيَ مِنْ غَنَائِمِ مُحَمَّدٍ وَأَصْحَابِهِ ; فَإِنَّهُمْ قَدِ اسْتُبِيحُوا وَأُصِيبَتْ أَمْوَالُهُمْ . ¤ قَالَ : وَفَشَا ذَلِكَ بِمَكَّةَ ، وَانْقَمَعَ الْمُسْلِمُونَ ، وَأَظْهَرَ الْمُشْرِكُونَ فَرَحًا وَسُرُورًا ، قَالَ : وَبَلَغَ الْخَبَرُ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَعَقِرَ وَجَعَلَ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَقُومَ . ¤ قَالَ مَعْمَرٌ : فَأَخْبَرَنِي عُثْمَانُ الْجَزَرِيُّ ، عَنْ مِقْسَمٍ قَالَ : فَأَخَذَ الْعَبَّاسُ ابْنًا لَهُ يُقَالُ لَهُ : قُثَمٌ ، فَاسْتَلْقَى فَوَضَعَهُ عَلَى صَدْرِهِ وَهُوَ يَقُولُ : حِبِّي قُثَمْ شَبِيهُ ذِي الْأَنْفِ الْأَشَمْ نَبِيِّ ذِي النِّعَمْ بِرَغْمٍ مِنْ رَغَمْ . قَالَ ثَابِتٌ ، [ عَنِ الْحَجَّاجِ ] عَنْ أَنَسٍ : ثُمَّ أَرْسَلَ غُلَامًا لَهُ إِلَى الْحَجَّاجِ بْنِ عِلَاطٍ ، فَقَالَ : وَيْلَكَ مَاذَا جِئْتَ بِهِ ؟ وَمَاذَا تَقُولُ ؟ فَمَا وَعَدَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ خَيْرٌ مِمَّا جِئْتَ بِهِ . قَالَ الْحَجَّاجُ بْنُ عِلَاطٍ لِغُلَامِهِ : اقْرَأْ عَلَى أَبِي الْفَضْلِ السَّلَامَ ، وَقُلْ لَهُ لِيُخَلِّ لِي [ فِي ] بَعْضَ بُيُوتِهِ لِآتِيَهُ ، فَإِنَّ الْخَبَرَ عَلَى مَا يَسُرُّهُ ، فَجَاءَ غُلَامُهُ فَلَمَّا بَلَغَ بَابَ الدَّارِ ، قَالَ : أَبْشِرْ أَبَا الْفَضْلِ قَالَ : فَوَثَبَ الْعَبَّاسُ فَرِحًا حَتَّى قَبَّلَ بَيْنَ عَيْنَيْهِ ، فَأَخْبَرَهُ مَا قَالَ الْحَجَّاجُ فَأَعْتَقَهُ ، قَالَ : ثُمَّ جَاءَ الْحَجَّاجُ فَأَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدِ افْتَتَحَ خَيْبَرَ ، وَغَنِمَ أَمْوَالَهُمْ ، وَجَرَتْ سِهَامُ اللَّهِ فِي أَمْوَالِهِمْ ، وَاصْطَفَى رَسُولُ اللَّهِ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ فَاتَّخَذَهَا لِنَفْسِهِ ، وَخَيَّرَهَا أَنْ يُعْتِقَهَا وَتَكُونَ زَوْجَتَهُ ، أَوْ تَلْحَقَ بِأَهْلِهَا ، فَاخْتَارَتْ أَنْ يُعْتِقَهَا وَتَكُونَ زَوْجَتَهُ ، وَلَكِنِّي جِئْتُ لِمَالٍ كَانَ لِي هَهُنَا أَرَدْتُ أَنْ أَجْمَعَهُ فَأَذْهَبَ بِهِ ، فَاسْتَأْذَنْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَذِنَ لِي أَنْ أَقُولَ مَا شِئْتُ ، فَأَخْفِ عَنِّي ثَلَاثًا ثُمَّ اذْكُرْ مَا بَدَا لَكَ . ¤ قَالَ : فَجَمَعَتِ امْرَأَتُهُ مَا كَانَ عِنْدَهَا مِنْ حُلِيٍّ أَوْ مَتَاعٍ فَدَفَعَتْهُ إِلَيْهِ ثُمَّ اسْتَمَرَّ بِهِ ، فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ثَلَاثٍ أَتَى الْعَبَّاسُ امْرَأَةَ الْحَجَّاجِ ، فَقَالَ : مَا فَعَلَ زَوْجُكِ ؟ فَأَخْبَرَتْهُ أَنَّهُ ذَهَبَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا ، وَقَالَتْ : لَا يُخْزِيكَ اللَّهُ يَا أَبَا الْفَضْلِ ، لَقَدْ شَقَّ عَلَيْنَا الَّذِي بَلَغَكَ . ¤ قَالَ : أَجَلْ لَا يُخْزِنِي اللَّهُ ، وَلَمْ يَكُنْ بِحَمْدِ اللَّهِ إِلَّا مَا أَحْبَبْنَا ، فَتَحَ اللَّهُ خَيْبَرَ عَلَى رَسُولِهِ ، وَجَرَتْ سِهَامُ اللَّهِ ، وَاصْطَفَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَفِيَّةَ لِنَفْسِهِ ، فَإِنْ كَانَ لَكِ حَاجَةٌ فِي زَوْجِكِ فَالْحَقِي بِهِ ، قَالَتْ : أَظُنُّكَ وَاللَّهِ صَادِقًا ، قَالَ : فَإِنِّي صَادِقٌ ، وَالْأَمْرُ عَلَى مَا أَخْبَرْتُكِ ، ثُمَّ ذَهَبَ حَتَّى أَتَى مَجَالِسَ قُرَيْشٍ ، وَهُمْ يَقُولُونَ إِذَا مَرَّ بِهِمْ : لَا يُصِيبُكَ إِلَّا خَيْرٌ يَا أَبَا الْفَضْلِ . ¤ قَالَ : لَمْ يُصِبْنِي إِلَّا خَيْرٌ بِحَمْدِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى ، قَدْ أَخْبَرَنِي الْحَجَّاجُ بْنُ عِلَاطٍ أَنَّ خَيْبَرَ فَتَحَهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى رَسُولِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَجَرَتْ فِيهَا سِهَامُ اللَّهِ ، وَاصْطَفَى صَفِيَّةَ لِنَفْسِهِ ، وَقَدْ سَأَلَنِي أَنْ أُخْفِيَ عَنْهُ ثَلَاثًا ، وَإِنَّمَا جَاءَ لِيَأْخُذَ مَالَهُ ، وَمَا كَانَ لَهُ مِنْ شَيْءٍ هَهُنَا ثُمَّ يَذْهَبَ . ¤ قَالَ : فَرَدَّ اللَّهُ الْكَآبَةَ الَّتِي كَانَتْ بِالْمُسْلِمِينَ عَلَى الْمُشْرِكِينَ ، وَخَرَجَ الْمُسْلِمُونَ وَمَنْ كَانَ دَخَلَ بَيْتَهُ مُكْتَئِبًا حَتَّى أَتَوُا الْعَبَّاسَ فَأَخْبَرَهُمُ الْخَبَرَ ، فَسُرَّ الْمُسْلِمُونَ وَرَدَّ [ اللَّهُ - يَعْنِي ] مَا كَانَ مِنْ كَآبَةٍ أَوْ غَيْظٍ أَوْ حُزْنٍ عَلَى الْمُشْرِكِينَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر فتح کیا تو حجاج بن علاط نے کہا: یا رسول اللہ ! مکہ میں میرا مال موجود ہے وہاں میرے اہل خانہ بھی موجود ہیں میں یہ چاہتا ہوں کہ میں ان لوگوں کے پاس جاؤں اگر میں آپ کے بارے میں آپ کے خلاف کوئی باتیں کروں تو آپ مجھے اس کی اجازت دے دیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس کی اجازت دے دی کہ وہ جو چاہیں کہہ دیں جب وہ صاحب آئے ، تو اپنی بیوی کے پاس آئے ، اور بولے : تمہارے پاس جو کچھ بھی ہے وہ میرے لئے جمع کر دو کیونکہ میں محمد اور ان کے ساتھیوں سے مال غنیمت خریدنا چاہتا ہوں کیونکہ ان کا حال خراب ہو چکا ہے ، اور ان کے اموال کو نقصان پہنچ چکا ہے ۔ راوی کہتے ہیں : یہ بات مکہ میں پھیل گئی اس سے مسلمان پریشان ہو گئے ، اور مشرکین میں خوشی کی لہر دوڑ گئی راوی کہتے ہیں : جب سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کو اس بات کی اطلاع ملی تو ان کی ٹانگوں میں جان نہ رہی وہ کھڑے ہونے کے قابل نہ رہے ۔ معمر بیان کرتے ہیں : عثمان جزری نے مقسم کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے ۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اپنے بیٹے قسم کو پکڑ کر لیٹ جاتے تھے اسے اپنے سینے پر بٹھاتے تھے اور یہ فرماتے تھے یہ میرا محبوب قسم ہے جو خوشبو والی ناک والی شخصیت کے ساتھ مشابہت رکھتا ہے ، جو نعمتوں والے نبی ہیں خواہ کسی بھی شخص کو کتنا بھی ناگوار گزرے ۔ ثابت نے حجاج کے حوالے سے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے یہ بات نقل کی ہے پھر انہوں نے اپنے غلام کو حجاج بن علاط کی طرف بھیجا اور کہا: تمہارا ستیاناس ہو تم کیا اطلاع لے کے آئے ہو کیا بیان کرتے پھر رہے ہو تم جو چیز لے کے آئے ہو اللہ تعالیٰ کا کیا ہوا وعدہ اس سے زیادہ بہتر ہے ، تو حجاج بن علاط نے ان کے غلام سے کہا: تم ابوالفضل کو میری طرف سے سلام کہنا اور ان سے یہ کہنا کہ وہ اپنے گھر میں کی جگہ پر تنہا ہوں ۔ میں ان کے پاس آؤں گا کیونہ اصل اطلاع وہ ہے ، جس سے وہ خوش ہو جائیں گے ان کا غلام آ گیا جب سیدنا حجاج بن علاط رضی اللہ عنہ دروازے پر پہنچے تو انہوں نے فرمایا : اے ابوالفضل آپ خوشخبری حاصل کریں تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ خوشی کے عالم میں اٹھ کھڑے ہوئے ، اور انہوں نے سیدنا حجاج بن علاط رضی اللہ عنہ کی دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا جب حجاج کی باتوں کی اطلاع انہیں ملی تو انہوں نے اس غلام کو آزاد کر دیا ۔ راوی کہتے ہیں : پھر حجاج آئے ، اور انہوں نے انہیں بتایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر فتح کر لیا اور وہاں کے اموال کو غنیمت کے طور پر حاصل کر لیا ہے ، اور ان اموال میں اللہ تعالیٰ کے حصے جاری ہوئے ہیں ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کو منتخب کر کے اسے اپنی ذات کے لئے حاصل کر لیا ہے آپ نے اس خاتون کو یہ اختیار دیا تھا کہ اسے آزاد کر دیں ، اور وہ خاتون آپ کی زوجہ بن جائیں یا پھر وہ اپنے اہل خانہ کے پاس چلی جائے ، تو اس خاتون نے اس بات کو اختیار کیا کہ آپ اسے آزاد کریں اور وہ آپ کی زوجہ بن جائے پھر حجاج نے بتایا : میں یہاں اپنے مال کے سلسلے میں آیا ہوں جو یہاں موجود تھا میرا ارادہ یہ ہے کہ میں اسے اکٹھا کر کے لے کے چلا جاؤں گا ۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں اجازت مانگی تھی آپ نے مجھے اجازت دی تھی کہ میں جو چاہوں بیان کر دوں تو آپ نے میرے حوالے سے تین دن تک اس بات کو پوشیدہ رکھنا ہے پھر آپ کو مناسب لگے گا اس کو ذکر کر دیجئے گا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر ان صاحب کی بیوی نے اپنے پاس موجود ہر زیور اور سامان اکٹھا کیا اور ان کے سپرد کر دیا پھر وہ صاحب اسے لے کے چلے گئے تین دن گزرنے کے بعد سیدنا عباس رضی اللہ عنہ حجاج کی اہلیہ کے پاس آئے ، اور بولے : تمہارے شوہر کا کیا حال ہے ، تو اس خاتون نے انہیں بتایا : وہ تو فلاں دن چلے گئے تھے اس خاتون نے یہ بھی کہا: کہ اے ابوالفضل اللہ تعالیٰ آپ کو رسوائی کا شکار نہیں کرے گا آپ کو جو اطلاع ملی تھی وہ ہم پر بھی گراں گزری تھی سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جی ہاں اللہ تعالیٰ مجھے رسوائی کا شکار نہیں کرے گا اور صورت حال الحمدللہ وہ ہو گی جو ہمیں پسند ہو گی اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے لئے خیبر کو فتح کروا دیا ہے ، اور اللہ کے حصے جاری ہو گئے ہیں ، اور اللہ کے نبی نے صفیہ کو اپنے لئے منتخب کیا ہے اگر تم اپنے شوہر کے پاس جانا چاہتی ہو ، تو اس کے ساتھ جا ملو اس خاتون نے کہا: آپ کے بارے میں اللہ کی قسم میرا یہ گمان ہے کہ آپ سچ کہہ رہے ہیں ۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں سچ کہہ رہا ہوں ، اور معاملہ اسی طرح ہے ، جو میں نے تمہیں بتایا ہے پھر سیدنا عباس رضی اللہ عنہ تشریف لے گئے ، اور قریش کی محافل میں آئے وہ لوگ یہ کہہ رہے تھے جب وہ ان کے پاس سے گزرے کہ اے ابوالفضل آپ کو بھلائی نصیب نہیں ہوئی ہے ، تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : مجھے الحمدللہ صرف بھلائی ہی نصیب ہوئی ہے حجاج بن علاط نے مجھے یہ بتایا ہے کہ خیبر کو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے لئے فتح کروا دیا ہے ، اور اس میں اللہ تعالیٰ کے حصے جاری ہوئے ہیں ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کو اپنی ذات کے لئے مخصوص کیا ہے حجاج نے مجھ سے یہ کہا: تھا کہ میں تین دن تک اس کے حوالے سے اس بات کو چھپا کے رکھوں کیونکہ وہ اس لئے آیا ہے ، تاکہ اپنا مال حاصل کر لے اور اس کی جو چیزیں بھی یہاں ہیں وہ حاصل کر لے پھر وہ چلا جائے گا ۔ راوی کہتے ہیں : تو مسلمانوں کی جو پریشانی تھی وہ مشرکین کی طرف لوٹ گئی ، تو مسلمان باہر نکل آئے ، اور وہ فرد باہر نکل آیا جو اپنے گھر میں چھپ کے بیٹھا ہوا تھا ، یہاں تک کہ وہ لوگ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آئے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے انہیں اصل صورت حال کے بارے میں بتایا تو اس سے مسلمان خوش ہو گئے ، اور ان کو جو پریشانی غصہ اور تکلیف لاحق تھے ۔ اللہ تعالیٰ نے وہ مشرکین پر عائد کر دیے ۔
یہ روایت امام أحمد امام ابویعلیٰ اور امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔