مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ غَزْوَةِ خَيْبَرَ باب: غزوہ خیبر کا بیان
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَخَذَ الرَّايَةَ فَهَزَّهَا ، ثُمَّ قَالَ : " مَنْ يَأْخُذُهَا بِحَقِّهَا ؟ " فَجَاءَ فُلَانٌ ، فَقَالَ : [ أَنَا ، قَالَ ] " أَمِطْ " ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ آخَرُ ، فَقَالَ : " أَمِطْ " ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَالَّذِي كَرَّمَ وَجْهَ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَأُعْطِيَنَّهَا رَجُلًا لَا يَفِرُّ ، هَاكَ يَا عَلِيُّ " . ¤ فَانْطَلَقَ حَتَّى فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ خَيْبَرَ وَفَدْكَ ، وَجَاءَ بِعَجْوَتِهِمَا وَقَدِيدِهِمَا . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جھنڈا پکڑ کر اسے ہلایا پھر آپ نے ارشاد فرمایا : کون اسے اس کے حق کے ہمراہ اسے لے گا ، تو فلاں صاحب آئے ، اور بولے : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم رہنے دو پھر ایک اور صاحب آئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم رہنے دو پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کو عزت عطا کی ہے میں یہ جھنڈا اس شخص کو دوں گا ، جو فرار نہیں ہو گا اے علی تم آگے آؤ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تشریف لے گئے ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے خیبر اور فدک کو فتح کروا دیا ، اور وہ ان دونوں علاقوں کی عجوہ اور قدید کھجوریں لے کے آئے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔