حدیث نمبر: 10206
وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ عَلِيٍّ حِينَ بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِرَايَتِهِ ، فَلَمَّا دَنَا مِنَ الْحِصْنِ خَرَجَ إِلَيْهِ أَهْلُهُ فَقَاتَلَهُمْ ، فَضَرَبَهُ رَجُلٌ مَنْ يَهُودَ فَطَرَحَ تُرْسَهُ مِنْ يَدِهِ ، فَتَنَاوَلَ عَلِيٌّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - بَابًا كَانَ عِنْدَ الْحِصْنِ ، فَتَتَرَّسَ بِهِ عَنْ نَفْسِهِ ، فَلَمْ يَزَلْ فِي يَدِهِ وَهُوَ يُقَاتِلُ حَتَّى فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ ثُمَّ أَلْقَاهُ مِنْ يَدِهِ حِينَ فَرَغَ ، فَلَقَدْ رَأَيْتُنِي فِي نَفَرٍ مَعِي سَبْعَةٌ أَنَا ثَامِنُهُمْ نَجْهَدُ عَلَى أَنْ نَقْلِبَ ذَلِكَ الْبَابَ فَمَا نَقْلِبُهُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکلے جب نبی اکرم نے انہیں جھنڈے کے ہمراہ روانہ کیا تھا جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ قلعہ کے قریب پہنچے تو قلعہ کے لوگ نکل کر ان کی طرف آئے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کے ساتھ جنگ کی یہود سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے ان پر ضرب لگائی ، تو ان کے ہاتھ سے ڈھال چھوٹ گئی سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دروازے کے پاس موجود دروازے کو پکڑا اور اسے اپنی ذات کے لئے ڈھال بنا لیا وہ دروازہ مسلسل ان کے ہاتھ میں رہا اور وہ جنگ کرتے رہے ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں فتح نصیب کر دی پھر انہوں نے اس دروازے کو اپنے ہاتھ سے رکھ دیا جب وہ لڑائی سے فارغ ہو گئے تھے بعد میں میں نے سات افراد کے ساتھ مل کر جن میں آٹھواں میں تھا ہم نے پوری کوشش کی کہ ہم اس دروازے کو ہلا سکیں تو ہم اسے ہلا نہیں سکے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10206
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «أخرجه احمد فى المسند (8/6)»