مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ غَزْوَةِ خَيْبَرَ باب: غزوہ خیبر کا بیان
وَعَنْ أَبِي الْيُسْرِ كَعْبِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : وَاللَّهِ إِنِّي لَمَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِخَيْبَرَ عَشِيَّةً إِذْ أَقْبَلَتْ غَنَمٌ لِرَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ يُرِيدُ حِصْنَهُمْ وَنَحْنُ مُحَاصِرُوهُمْ ، إِذْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ رَجُلٌ يُطْعِمُنَا مِنْ هَذِهِ الْغَنَمِ ؟ " ، قَالَ أَبُو الْيُسْرِ : قُلْتُ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ : " فَافْعَلْ " . ¤ قَالَ : فَخَرَجْتُ أَشْتَدُّ مِثْلَ الظَّلِيمِ ، فَلَمَّا نَظَرَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُوَلِّيًا قَالَ : " اللَّهُمَّ أَمْتِعْنَا بِهِ " ، قَالَ : فَأَدْرَكْتُ الْغَنَمَ وَقَدْ دَخَلَ أَوَائِلُهَا الْحِصْنَ ، فَأَخَذْتُ شَاتَيْنِ مِنْ آخِرِهَا ، فَاحْتَضَنْتُهُمَا تَحْتَ يَدِي ثُمَّ أَقْبَلْتُ بِهِمَا أَشْتَدُّ كَأَنَّهُ لَيْسَ مَعِي شَيْءٌ حَتَّى أَلْقَيْتُهُمَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَبَحُوهُمَا وَأَكَلُوهُمَا . ¤ فَكَانَ أَبُو الْيُسْرِ مِنْ آخَرِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - هَلَاكًا ، وَكَانَ إِذَا حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ بَكَى ثُمَّ قَالَ : أُمْتِعُوا بِي - لَعَمْرِي - حَتَّى كُنْتُ آخِرَهُمْ . رَوَاهُ أَحْمَدُ عَنْ بَعْضِ رِجَالِ بَنِي سَلَمَةَ عَنْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا ابوالیسر کعب بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اللہ کی قسم خیبر میں شام کے وقت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھا جب یہودیوں کا ایک شخص بکریاں لے کے آیا وہ قلعے میں جانا چاہ رہا تھا ہم نے ان لوگوں کا محاصرہ کیا ہوا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کون شخص ہمیں ان بکریوں میں سے خوراک فراہم کرے گا سیدنا ابوالیسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے عرض کی : یا رسول اللہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم ایسا کرو ۔ راوی کہتے ہیں : میں نکلا اور شتر مرغ کی طرح تیزی سے چلتا ہوا گیا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے واپس آتے ہوئے دیکھا تو فرمایا : اے اللہ تو ہمیں اس کے ذریعے نفع دینا راوی کہتے ہیں : میں بکریوں تک پیچ گیا جن کا ابتدائی حصہ قلعہ میں داخل ہو چکا تھا میں نے اس کے آخری حصے میں سے دو بکریاں پکڑیں اور انہیں اپنی بغلوں میں اٹھا لیا پھر ان دونوں کو لے کر دوڑتا ہوا یوں آیا جیسے میرے پاس کوئی چیز ہی نہیں تھی ، یہاں تک کہ وہ دونوں بکریاں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کر دیں ان لوگوں نے انہیں ذبح کیا اور ان دونوں کا گوشت کھایا راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوالیسر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے آخر میں وصال کرنے والے فرد ہیں جب وہ یہ حدیث بیان کرتے تھے ، تو رو پڑتے تھے پھر یہ فرماتے تھے تم لوگ مجھ سے نفع حاصل کر لو مجھے اپنی زندگی کی قسم ہے میں ان میں سے آخری فرد ہوں ۔
یہ روایت امام أحمد نے بنو سلمہ سے تعلق رکھنے والے بعض افراد کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔