حدیث نمبر: 10192
وَعَنْ حُسَيْلِ بْنِ خَارِجَةَ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ : قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فِي جَلْبٍ أَبِيعُهُ ، فَأَتَى بِهِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " أَجْعَلُ لَكَ عِشْرِينَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ عَلَى أَنْ تَدُلَّ أَصْحَابِي عَلَى طَرِيقِ خَيْبَرَ " فَفَعَلْتُ فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَيْبَرَ وَفَتَحَهَا ، جِئْتُ فَأَعْطَانِي الْعِشْرِينَ ثُمَّ أَسْلَمْتُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا حسیل بن خارجہ اشجعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں کچھ سامان فروخت کرنے کے لئے مدینہ منورہ آیا ، مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں تمہیں کھجور کے بیس صاع دوں گا ، اس شرط پر کہ تم میرے ساتھیوں کی خیبر کی طرف رہنمائی کرو ، میں نے ایسا ہی کیا ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خیبر آ گئے ، اور آپ نے اسے فتح کر لیا ، تو میں آیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بیس صاع عطا کیے ، پھر میں نے اسلام قبول کر لیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عمران ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10192
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3568)»