حدیث نمبر: 10211
وَعَنْ عُرْوَةَ قَالَ : وَقُتِلَ يَوْمَ خَيْبَرَ مِنْ قُرَيْشٍ ثُمَّ مِنْ بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ : ثَقِفُ بْنُ عَمْرٍو حَلِيفٌ لَهُمْ مِنْ بَنِي أَسَدِ بْنِ خُزَيْمَةَ . ¤ وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي زُرَيْقٍ : مَسْعُودُ بْنُ سَعْدِ بْنِ خَالِدٍ ، وَمِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ : أَبُو الصَّيَاحِ أَوْ أَبُو ضَيَاحٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین

عروہ بیان کرتے ہیں : غزوہ خیبر کے موقع پر قریش کی شاخ بنو عبدمناف سے تعلق رکھنے والے سیدنا ثقف بن عمرو رضی اللہ عنہ نے جام شہادت نوش کیا تھا یہ ان لوگوں کے حلیف تھے اور ان کا تعلق بنو اسد بن خزیمہ سے تھا ۔ انصار کی شاخ بنوزریق سے تعلق رکھنے والے سیدنا مسعود بن سعد بن خالد رضی اللہ عنہ ( نے جام شہادت نوش کیا ) بنو عمرو سے تعلق رکھنے والے سیدنا ابوصياح ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) سیدنا ابوضیاح رضی اللہ عنہ ( نے جام شہادت نوش کیا ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ۔ اس کی سند میں ضعف پایا جاتا ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10211
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1456 و 332/20)»