مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ غَزْوَةِ خَيْبَرَ باب: غزوہ خیبر کا بیان
وَعَنْ أَبِي طَلْحَةَ قَالَ : كُنْتُ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - [ فَلَوْ قُلْتُ : إِنَّ رُكْبَتِي تَمَسُّ رُكْبَتَهُ ] فَسَكَتَ عَنْهُمْ حَتَّى إِذَا كَانَ عِنْدَ السَّحَرِ ، وَذَهَبَ ذُو الضَّرْعِ إِلَى ضَرْعِهِ ، وَذُو الزَّرْعِ إِلَى زَرْعِهِ ، أَغَارَ عَلَيْهِمْ وَقَالَ : إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سواری پر پیچھے موجود تھا ، اگر میں یہ کہوں کہ میرا گھٹنا آپ کے گھٹنے سے مس ہو رہا تھا ( تو یہ کہہ سکتا ہوں ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے ، یہاں تک کہ جب سحری کا وقت ہوا اور مال مویشی والے مال مویشی کی طرف گئے ، اور کھیتی باڑی کرنے والے کھیتی کی طرف گئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں پر حملہ کر دیا ، اور آپ نے یہ فرمایا : جب ہم کسی قوم کے میدان میں اترتے ہیں ، تو اُن لوگوں کی صبح بری ہوتی ہے ، جنہیں ڈرایا گیا ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔