حدیث نمبر: 10191
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تَجَهَّزُوا إِلَى هَذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ أَهْلُهَا - يَعْنِي : خَيْبَرَ - فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَاتِحُهَا عَلَيْكُمْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، وَلَا يَخُرُجَنَّ مَعِي مُصَعِّبٌ وَلَا مُضَعِّفٌ " . ¤ فَانْطَلَقَ أَبُو هُرَيْرَةَ إِلَى أُمِّهِ ، فَقَالَ : جَهِّزِينِي فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ أَمَرَنَا بِالْجِهَازِ لِلْغَزْوِ ، قَالَتْ : تَنْطَلِقُ وَقَدْ عَلِمْتَ مَا أَدْخُلُ [ الْمَرْفَقَ ] إِلَّا وَأَنْتَ مَعِي ، قَالَ : مَا كُنْتُ لِأَتَخَلَّفَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، فَأَخْرَجَتْ ثَدْيَهَا فَنَاشَدَتْهُ بِمَا رَضَعَ مِنْ لَبَنِهَا ، فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سِرًّا ، فَقَالَ : " انْطَلِقِي قَدْ كُفِيتِ " . ¤ فَأَعْرَضَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَى إِعْرَاضَكَ عَنِّي لَا أَرَى ذَلِكَ إِلَّا لِشَيْءٍ بَلَغَكَ ، قَالَ : " أَنْتَ الَّذِي نَاشَدَتْكَ أُمُّكَ ، وَأَخْرَجَتْ ثَدْيَهَا تُنَاشِدُكَ بِمَا رَضَعْتَ مِنْ لَبَنِهَا ، أَيَحْسَبُ أَحَدُكُمْ إِذَا كَانَ عِنْدَ أَبَوَيْهِ أَوْ أَحَدِهِمَا أَنَّهُ لَيْسَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ؟ ! بَلْ هُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِذَا بَرَّهُمَا وَأَدَّى حَقَّهُمَا " . ¤ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : لَقَدْ مَكَثَتْ بَعْدَ هَذَا سِنِينَ مَا أَغْزُو حَتَّى مَاتَتْ ، وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْمَدِينَةِ فَسَارَ مَعَهُ فَتًى مَنْ بَنَى عَامِرٍ عَلَى بِكْرٍ لَهُ صَعْبٍ ، فَجَعَلَ يَسِيرُ فِي نَاحِيَةِ الطَّرِيقِ وَالنَّاسِ ، فَوَقَعَ بَعِيرُهُ فِي حُفَيْرَةٍ فَصَاحَ : يَا آلَ عَامِرٍ ، فَارْتَعَصَ هُوَ وَبَعِيرُهُ ، فَجَاءَ قَوْمُهُ فَاحْتَمَلُوهُ . ¤ وَسَارَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى أَتَى خَيْبَرَ فَنَزَلَ عَلَيْهَا ، فَدَعَا الطُّفَيْلَ بْنَ الْحَارِثِ الْخُزَاعِيَّ ، فَقَالَ : " انْطَلِقْ إِلَى قَوْمِكَ وَاسْتَمِدَّهُمْ عَلَى هَذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ أَهْلُهَا ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ سَيَفْتَحُهَا عَلَيْكُمْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ " . فَقَالَ الطُّفَيْلُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تُبْعِدُنِي مِنْكَ ! فَوَاللَّهِ لَأَنْ أَمُوتَ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ مِنْكَ قَرِيبٌ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الْحَيَاةِ وَأَنَا مِنْكَ بَعِيدٌ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّهُ لَا بُدَّ مِمَّا لَا بُدَّ مِنْهُ فَانْطَلِقْ " . ¤ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَعَلِّي لَا أَلْقَاكَ فَزَوِّدْنِي شَيْئًا أَعِيشُ بِهِ ، قَالَ : " أَتَمْلِكُ لِسَانَكَ ؟ " . قَالَ : فَمَا أَمَلِكُ إِذَا لَمْ أَمْلِكْ لِسَانِي ؟ ! قَالَ : " أَتَمْلِكُ يَدَكَ ؟ " . قَالَ : فَمَا أَمَلِكُ إِذَا لَمْ أَمْلِكْ يَدِي ؟ ! قَالَ : " فَلَا تَقُلْ بِلِسَانِكَ إِلَّا مَعْرُوفًا ، وَلَا تَبْسُطْ يَدَكَ إِلَّا إِلَى خَيْرٍ " . ¤ قَالَ ابْنُ أَبِي كَرِيمَةَ : وَوَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ بِخَطِّهِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَفْشِ السَّلَامَ ، وَابْذُلِ الطَّعَامَ ، وَاسْتَحْيِ اللَّهَ كَمَا تَسْتَحِي رَجُلًا مِنْ رَهْطِكَ ذِي هَيْبَةٍ ، وَلْيَحْسُنْ خُلُقُكَ ، وَإِذَا أَسَأْتَ فَأَحْسِنْ ، إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس بستی کے لئے تیاری کر لو ، جس کے رہنے والے ظالم ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد خیبر تھا ، اللہ تعالیٰ نے چاہا ، تو وہ تمہارے لئے اس کو فتح کروا دے گا ، اور میرے ساتھ کوئی ایسا شخص نہ نکلے ، جس کا سواری کا جانور دشوار ہو ( یعنی ق ابومیں نہ آتا ہو ) یا انتہائی کمزور ہو ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اپنی والدہ کے پاس گئے ، اور بولے : مجھے سامان سفر فراہم کریں ، کیونکہ اللہ کے رسول نے جنگ کے لئے تیاری کا ہمیں حکم دے دیا ہے ، اس خاتون نے کہا: تم جا رہے ہو ؟ جبکہ تم جانتے ہو کہ مجھے ہر معاملے میں تمہارے ساتھ کی ضرورت ہوتی ہے ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے نہیں رہ سکتا ، تو اس خاتون نے اپنی چھاتی کی طرف اشارہ کر کے واسطہ دیا کہ انہوں نے اپنا دودھ جو انہیں پلایا ہے ( اس کے واسطے سے وہ رک جائیں ) پھر وہ خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چھپ کر آئیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم چلی جاؤ ! تمہارا معاملہ حل ہو جائے ، پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے منہ پھیر لیا انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ نے مجھ سے منہ پھیر لیا ہے ، یہ یقینا کسی ایسی وجہ سے ہوا ہو گا ، جس کے بارے میں آپ کو کوئی اطلاع پہنچی ہو گی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم ہی وہ شخص ہو ، جس کی ماں نے اسے اپنے دودھ کا واسطہ دیا تھا ( اور تم نے پھر بھی اس کی بات نہیں مانی ؟ ) کیا تم میں سے کوئی ایک شخص یہ گمان کرتا ہے کہ جب وہ اپنے ماں باپ کے پاس : اُن دونوں میں سے کسی ایک کے پاس ہوتا ہے ، تو وہ اللہ کی راہ میں نہیں ہوتا ؟ بلکہ وہ ( اس وقت ) اللہ کی راہ میں ہوتا ہے جب وہ ان دونوں کے ساتھ اچھا سلوک کرتا ہے اور ان دونوں کا حق ادا کرتا ہے ۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں اس کے بعد کئی سال تک رکا رہا ، میں نے کسی جنگ میں حصہ نہیں لیا ، یہاں تک کہ میری والدہ کا انتقال ہو گیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ سے نکلے ، آپ کے ساتھ بنو عامر سے تعلق رکھنے والا ایک نوجوان بھی روانہ ہوا ، ایک سخت نوجوان اونٹ پر سوار تھا ، وہ راستے میں ایک جگہ چل رہا تھا ، لوگ بھی جا رہے تھے اس کا اونٹ ایک گڑھے میں گر گیا ، نے پکارا : اے آل عامر ! تو وہ اور اس کا اونٹ کپکپا گئے ، پھر اس کی قوم کے افرادا سے اٹھا کر لے کے آئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہو گئے ، یہاں تک کہ آپ خیبر آ گئے آپ نے وہاں پڑاؤ کیا ، آپ نے طفیل بن حارث خزاعی کو بلایا اور فرمایا : اپنی قوم کے پاس جاؤ ، اور اس بستی کے بارے میں کمک حاصل کرو ، جس کے رہنے والے ظالم ہیں ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے چاہا ، تو اللہ تعالیٰ اسے عنقریب تمہارے لئے فتح کروا دے گا ، تو سیدنا طفیل رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے اپنے آپ سے دور کر رہے ہیں ۔ اللہ کی قسم ! جس دن میں آپ کے قریب ہوؤں ، اور اس دن میں مر جاؤں ، یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں آپ سے دور ہو کر زندہ رہوں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو چیز ضروری ہے ، تم جاؤ ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہو سکتا ہے کہ پھر میری آپ سے ملاقات نہ ہو ، تو مجھے زاد راہ کے طور پر ایسی چیز عطا کر دیں ، جن کے ذریعے میں زندہ رہوں ( یعنی مجھے کوئی نصیحت کر دیں ) ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم اپنی زبان کے مالک ہو ؟ انہوں نے عرض کی : اگر میں اپنی زبان کا مالک نہیں ہوتا ، تو میں کس چیز کا مالک ہوؤں گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم اپنے ہاتھ کے مالک ہو ؟ انہوں نے عرض کی : اگر میں اپنے ہاتھ کا مالک نہیں ہوؤں گا ، تو کس چیز کا مالک ہوؤں گا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پھر تم اپنی زبان کے ذریعے صرف بھلائی کی بات کہنا ، اور اپنا ہاتھ ، صرف بھلائی کی طرف بڑھانا “ ۔ ابن ابوکریمہ نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے : میں نے ابوعبدالرحیم نامی راوی کی تحریر میں ان کے خط میں
یہ روایت پائی ہے ، جس میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم سلام کو پھیلاؤ ، کھانا خرچ کرو ، اور اللہ تعالیٰ سے یوں حیاء کرو ، جس طرح سے تم اپنے گروہ کے کسی باہیبت شخص سے حیاء کرتے ہو ، اور تمہارا اخلاق اچھا ہونا چاہیئے ، اور جب تم ( کوئی ) برائی کرو ، تو اچھائی بھی کر لو ، کیونکہ اچھائیاں ، برائیوں کو ختم کر دیتی ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10191
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7897)»