کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنا
عَنْ عُرْوَةَ قَالَ : وَمَكَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعْدَ الْحَجِّ بَقِيَّةَ ذِي الْحِجَّةِ وَالْمُحَرَّمِ وَصَفَرَ ، ثُمَّ إِنَّ مُشْرِكِي قُرَيْشٍ أَجْمَعُوا أَمْرَهُمْ وَمَكْرَهُمْ حِينَ ظَنُّوا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَارِجٌ ، وَعَلِمُوا أَنَّ اللَّهَ قَدْ جَعَلَ لَهُ بِالْمَدِينَةِ مَأْوًى وَمِنْعَةً ، وَبَلَغَهُمْ إِسْلَامُ الْأَنْصَارِ وَمَنْ خَرَجَ إِلَيْهِمْ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ ، فَأَجْمَعُوا أَمْرَهُمْ عَلَى أَنْ يَأْخُذُوا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِمَّا أَنْ يَقْتُلُوهُ ، وَإِمَّا أَنْ يَسْجِنُوهُ ، أَوْ يَسْحَبُوهُ - شَكَّ عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ - وَإِمَّا أَنْ يُخْرِجُوهُ ، وَإِمَّا أَنْ يُوثِقُوهُ ، فَأَخْبَرَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِمَكْرِهِمْ فَقَالَ تَعَالَى : ( وَإِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِيُثْبِتُوكَ أَوْ يَقْتُلُوكَ أَوْ يُخْرِجُوكَ وَيَمْكُرُونَ وَيَمْكُرُ اللَّهُ وَاللَّهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ ) وَبَلَغَهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ الَّذِي أَتَى فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَارَ أَبِي بَكْرٍ أَنَّهُمْ مُبَيِّتُوهُ إِذَا أَمْسَى عَلَى فِرَاشِهِ ، وَخَرَجَ مِنْ تَحْتِ اللَّيْلِ هُوَ وَأَبُو بَكْرٍ قِبَلَ الْغَارِ بِثَوْرٍ ، وَهُوَ الْغَارُ الَّذِي ذَكَرَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْقُرْآنِ ، وَعَمَدَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَرَقَدَ عَلَى فِرَاشِهِ يُوَارِي عَنْهُ الْعُيُونَ ، وَبَاتَ الْمُشْرِكُونَ مِنْ قُرَيْشٍ يَخْتَلِفُونَ وَيَأْتَمِرُونَ أَنْ نُجَثَّمَ عَلَى صَاحِبِ الْفِرَاشِ فَيُوثِقَهُ ؟ فَكَانَ ذَلِكَ حَدِيثَهُمْ حَتَّى أَصْبَحُوا ، فَإِذَا عَلِيٌّ يَقُومُ عَنِ الْفِرَاشِ فَسَأَلُوهُ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَهُمْ أَنَّهُ لَا عِلْمَ لَهُ بِهِ ، فَعَلِمُوا عِنْدَ ذَلِكَ أَنَّهُ خَرَجَ ، فَرَكِبُوا فِي كُلِّ وَجْهٍ يَطْلُبُونَهُ ، وَبَعَثُوا إِلَى أَهْلِ الْمِيَاهِ يَأْمُرُونَهُمْ وَيَجْعَلُونَ لَهُمُ الْجَعْلَ الْعَظِيمَ ، وَأَتَوْا عَلَى ثَوْرٍ الَّذِي فِيهِ الْغَارُ الَّذِي فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبُو بَكْرٍ حَتَّى طَلَعُوا فَوْقَهُ ، وَسَمِعَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَصْوَاتَهَمْ فَأَشْفَقَ أَبُو بَكْرٍ عِنْدَ ذَلِكَ وَأَقْبَلَ عَلَى الْهَمِّ وَالْخَوْفِ ، فَعِنْدَ ذَلِكَ قَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا " . وَدَعَا فَنَزَلَتْ عَلَيْهِ سَكِينَةٌ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ : فَأَنْزَلَ اللَّهُ سَكِينَتَهُ عَلَى رَسُولِهِ وَعَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَأَنْزَلَ جُنُودًا لَمْ تَرَوْهَا وَجَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِينَ كَفَرُوا السُّفْلَى وَكَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ وَكَانَتْ لِأَبِي بَكْرٍ مِنْحَةٌ تَرُوحُ عَلَيْهِ وَعَلَى أَهْلِهِ بِمَكَّةَ ، فَأَرْسَلَ أَبُو بَكْرٍ عَامِرَ بْنَ فُهَيْرَةَ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ أَمِينًا مُؤْتَمَنًا حَسَنَ الْإِسْلَامِ فَاسْتَأْجَرَ رَجُلًا مِنْ بَنِي عَبْدِ بْنِ عَدِيٍّ يُقَالُ لَهُ : ابْنُ الْأُرَيْقِطِ كَانَ حَلِيفًا لِقُرَيْشٍ فِي بَنِي سَهْمٍ مِنْ بَنِي الْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ ، وَذَلِكَ يَوْمَئِذِ الْعَدَوِيُّ مُشْرِكٌ ، وَهُوَ هَادٍ بِالطَّرِيقِ فَخَبَّأَ بَأَظْهُرِنَا تِلْكَ اللَّيَالِيَ ، وَكَانَ يَأْتِيهِمَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ حِينَ يُمْسِي بِكُلِّ خَبَرٍ يَكُونُ فِي مَكَّةَ ، وَيُرِيحُ عَلَيْهِمَا عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ الْغَنَمَ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ فَيَحْلِبَانِ وَيَذْبَحَانِ ثُمَّ يَسْرَحُ بُكْرَةً ، فَيُصْبِحُ فِي رُعْيَانِ النَّاسِ ، وَلَا يَفْطِنُ لَهُ ، حَتَّى إِذَا هَدَأَتْ عَنْهُمُ الْأَصْوَاتُ وَأَتَاهُمَا أَنْ قَدْ سَكَتَ عَنْهُمَا جَاءَا صَاحِبَهُمَا بِبَعِيرَيْهِمَا ، وَقَدْ مَكَثَا فِي الْغَارِ يَوْمَيْنِ وَلَيْلَتَيْنِ ثُمَّ انْطَلَقَا وَانْطَلَقَا مَعَهُمَا بِعَامِرِ بْنِ فُهَيْرَةَ يَحْدِيهِمَا وَيَخْدِمُهُمَا وَيُعِينُهُمَا يُرْدِفُهُ أَبُو بَكْرٍ ، وَيُعْقِبُهُ عَلَى رَاحِلَتِهِ لَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ غَيْرَ عَامِرِ بْنِ فُهَيْرَةَ ، وَغَيْرَ أَخِي بَنِي عَدِيٍّ يَهْدِيهِمُ الطَّرِيقَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
عروہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حج کے بعد ، ذوالحج کے مہینے میں ، محرم کے مہینے میں اور صفر کے مہینے میں ٹھہرے رہے پھر قریش کے مشرکین نے ، اس بات کو طے کیا اور یہ تدبیر کی ، جب انہیں یہ پتہ چلا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہاں سے نکل جائیں گے اور انہیں یہ بات پتہ چل گئی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے مدینہ منورہ کو پناہ گاہ اور حفاظت کا ذریعہ بنا دیا ہے ان لوگوں کو انصار کے اسلام قبول کرنے کی اطلاع بھی مل گئی ، جو مہاجرین اس طرف گئے تھے ، اس کا بھی پتہ چل گیا تو ان لوگوں نے یہ طے کیا کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پکڑ لیں گے پھر یا وہ آپ کو شہید کر دیں گے یا آپ کو قید کر دیں گے یا پابند سلاسل کر دیں گے ، یہ شک عمرو بن خالد نامی راوی کو ہے ، یا یہ ہے کہ وہ آپ کو نکلنے پر مجبور کر دیں گے ، یا آپ کو باندھ دیں ، تو اللہ تعالیٰ نے ان کے منصوبے کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتا دیا ، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ” اور جب کافر لوگ تمہارے خلاف سازشیں کر رہے تھے ، کہ وہ تمہیں قید کریں یا تمہیں قتل کر دیں یا تمہیں ( تمہارے آبائی وطن سے ) نکال دیں ، وہ منصوبے بنا رہے تھے اور اللہ تعالیٰ ( اپنی خفیہ ) تدبیر کر رہا تھا اور اللہ تعالیٰ سب سے بہتر ( خفیہ ) تدبیر کرنے والا ہے “ جس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی اطلاع ملی ، اس دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف لائے ، ان لوگوں نے شام ایسے ہی گزاری ، پھر رات کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ غار ثور کی طرف چلے گئے ، یہ وہ غار ہے ، جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن میں کیا ہے ، سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ آئے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بستر پر سو گئے اور وہ ان کی نگاہوں سے اوجھل رہے ، قریش کے مشرکین نے آپس کے اختلاف کے دوران اور باہمی اختلاف کے دوران رات بسر کر دی کہ کیا ہم بستر پر سوئے شخص پر حملہ کر کے انہیں باندھ دیں ؟ ان کی اسی بات چیت کے دوران صبح ہو گئی ، صبح کے وقت سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس بستر سے اٹھے ، ان لوگوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں دریافت کیا ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کوئی پتہ نہیں ہے ، اس وقت کفار کو پتہ چل گیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے جا چکے ہیں ، تو وہ آپ کی تلاش میں سوار ہو کر ہر سمت میں روانہ ہوئے انہوں نے مختلف پانیوں کے ( پاس مقیم ) افراد کی طرف پیغام بھیجا اور انہیں یہ کہا: انہیں اس بات کا بڑا انعام دیا جائے گا ( کہ اگر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پکڑوا دیں ) وہ لوگ غار ثور کے پاس بھی آئے ، جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ موجود تھے یہاں تک کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر کی طرف نظر بھی آئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آوازیں بھی سن لیں ، اس وقت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پریشان ہو گئے اور وہ خوف کا شکار ہو گئے ، اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم غمگین نہ ہو ! بے شک اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی : تو آپ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے سکینت نازل ہوئی ( جس کا ذکر قرآن میں ، ان الفاظ میں ہے : ) ” تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر اور اہل ایمان پر اپنی سکینت نازل کی اور اس نے ایسے لشکر نازل کیے ، جنہیں تم نہیں دیکھتے ہو ، اور جن لوگوں نے کفر کیا تھا ، ان کے کلمے کو اللہ تعالیٰ نے نیچا کر دیا ، اور اللہ تعالیٰ کا کلمہ ہی بلند ہے اور اللہ تعالیٰ غلبے والا اور حکمت والا ہے “ ۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے غلام عامر بن فہیرہ کو ، جو ایک امین اور قابل اعتماد اور اچھے اسلام والا شخص تھا ، اسے بھیجا ، تاکہ بنو عبد بن عدی سے تعلق رکھنے والے ایک شخص جس کا نام ابن اریقط تھا ، اسے معاوضے پر رکھ لے ، یہ شخص قریش کا حلیف تھا اور بنو سہم سے تعلق رکھتا تھا ، جو بنو عاص بن وائل کی ذیلی شاخ ہے ، اس وقت وہ عدوی شخص مشرک تھا ، لیکن وہ راستے کے بارے میں جانتا تھا ، انہوں نے ان راتوں میں خود کو چھپا کے رکھا ، عبداللہ بن ابوبکر شام کے وقت ساری اطلاعات ، جو مکہ میں ہوتی تھیں ، وہ لے کر اُن دونوں کے پاس آ جاتے تھے اور عامر بن ربیعہ بھی شام کے وقت بکریاں لے کے آ جاتے تھے ، ہر رات میں ایسا ہوتا تھا ، وہ ان کا دودھ دوہتے تھے اور انہیں ذبح کرتے تھے اور پھر صبح کے وقت چلے جاتے تھے اور لوگوں کے چرواہوں کے ساتھ ہوتے تھے اس لئے ان کے بارے میں پتہ نہیں چل سکا ، یہاں تک کہ جب آوازیں ان لوگوں کے حوالے سے کم ہو گئیں ، اور ان دونوں کو پتہ چل گیا کہ اب معاملہ ٹھنڈا ہو گیا ہے ، تو ان کا متعلقہ فرد ان کے دونوں اونٹ لے آیا ، یہ دونوں حضرات غار میں ، دو دن اور دو راتوں تک ٹھہرے رہے اور پھر یہ روانہ ہوئے ، ان دونوں کے ساتھ عامر بن فہیرہ بھی روانہ ہوئے ، جو ان کے لئے حدی گاتے تھے ان کی خدمت کرتے تھے ان کی مدد کرتے تھے ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ انہیں اپنی سواری پر پیچھے بٹھاتے تھے ، ان حضرات کے ساتھ ایک عامر بن فہیرہ تھے اور ایک بنوعدی سے تعلق رکھنے والا وہ شخص تھا ، جو انہیں راستہ بتا رہا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9902
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ مرسل
وَعَنْ مَارِيَةَ قَالَتْ : طَأْطَأْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى صَعِدَ حَائِطًا لَيْلَةَ فَرَّ مِنَ الْمُشْرِكِينَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیده ماریہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے دھیان رکھا ، یہاں تک کہ آپ دیوار پر چڑھ گئے ، یہ اس رات کی بات ہے ، جب آپ مشرکین سے بچ کر نکلے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9903
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (42/25)»
وَعَنْ أَبِي مُصْعَبٍ الْمَكِّيِّ قَالَ : أَدْرَكْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ ، وَالْمُغَيَّرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ، وَأَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُونَ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا كَانَ لَيْلَةَ بَاتَ فِي الْغَارِ أَمَرَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى شَجَرَةً فَنَبَتَتْ فِي وَجْهِ الْغَارِ ، فَسَتَرَتْ وَجْهَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . وَأَمَرَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى الْعَنْكَبُوتَ فَنَسَجَتْ عَلَى وَجْهِ الْغَارِ . وَأَمَرَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى حَمَامَتَيْنِ وَحْشِيَّتَيْنِ فَوَقَفَتَا بِفَمِ الْغَارِ . وَأَتَى الْمُشْرِكُونَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ حَتَّى كَانُوا مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى قَدْرِ أَرْبَعِينَ ذِرَاعًا مَعَهُمْ قِسِيِّهِمْ وَعِصِيِّهِمْ ، وَتَقَدَّمَ رَجُلٌ مِنْهُمْ فَنَظَرَ فَرَأَى الْحَمَامَتَيْنِ ، فَرَجَعَ فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ : لَيْسَ فِي الْغَارِ شَيْءٌ رَأَيْتُ حَمَامَتَيْنِ عَلَى فَمِ الْغَارِ ، فَعَرَفْتُ أَنْ لَيْسَ فِيهِ أَحَدٌ فَسَمِعَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَوْلَهُ فَعَلِمَ أَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَدْ دَرَأَ بِهِمَا عَنْهُ ، فَسَمَّتَ عَلَيْهِمَا ، وَفَرَضَ جَزَاءَهُمَا ، وَاتَّخَذَ فِي حَرَمِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَرْخَيْنِ ، أَحْسَبُهُ قَالَ : فَأَصْلُ كُلِّ حَمَامٍ فِي الْحَرَمِ مِنْ فِرَاخِهِمَا . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
ابومصعب مکی بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ ، سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو پایا ، وہ حضرات بات چیت کر رہے تھے کہ جو رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غار میں گزاری تھی ، اُس رات اللہ تعالیٰ نے درخت کو حکم دیا ، اس نے غار کے منہ پر پودا پیدا کر دیا ، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو چھپا لیا ، اللہ تعالیٰ نے مکڑی کو حکم دیا ، اس نے غار کے منہ پر جالا بن دیا ، اللہ تعالیٰ نے دو جنگلی کبوتریوں کو حکم دیا ، تو وہ غار کے منہ پر آ کر بیٹھ گئیں ، مشرکین ہر طرف سے آئے ، یہاں تک کہ جب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اتنے قریب ہو گئے جتنا چالیس گز کا فاصلہ ہوتا ہے اور ان لوگوں کے پاس ان کی کمانیں اور لاٹھیاں تھیں ، تو ان میں سے ایک شخص آگے بڑھا اس نے دو کبوتریوں کو دیکھا تو واپس گیا اور اپنے ساتھیوں سے بولا: غار میں کوئی چیز نہیں ہو گی ، کیونکہ میں نے غار کے منہ پر دو کبوتریوں کو دیکھا ہے جس سے مجھے اندازہ ہو گیا ہے کہ اندر کوئی نہیں ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بات سنی ، تو آپ کو یہ بات پتہ چل گئی کہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں حضرات سے مشرکین کو پرے کر دیا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کبوتریوں کا خیال رکھا اور ان کی جزا مقرر کی اور اللہ تعالیٰ کے حرم میں اُن کے دو بچے رکھے گئے ۔ راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے ، حرم کے تمام کبوتروں کی نسل انہی دو بچوں سے چلی ہے ۔
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، ان کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9904
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1741) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (443/20)»
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ قَالَتْ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْتِينَا بِمَكَّةَ كُلَّ يَوْمٍ مَرَّتَيْنِ ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمٌ مِنْ ذَلِكَ جَاءَنَا فِي الظَّهِيرَةِ ، فَقَالَتْ : يَا أَبَتِ ، هَذَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبِأَبِي وَأُمِّي مَا جَاءَ بِهِ هَذِهِ السَّاعَةَ إِلَّا أَمْرٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هَلْ شَعَرْتَ أَنَّ اللَّهَ قَدْ أَذِنَ لِي فِي الْخُرُوجِ ؟ " . فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : فَالصَّحَابَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " الصَّحَابَةُ " . قَالَ : إِنَّ عِنْدِي رَاحِلَتَيْنِ قَدْ عَلَفْتُهُمَا مُنْذُ كَذَا وَكَذَا انْتِظَارًا لِهَذَا الْيَوْمِ فَخُذْ إِحْدَاهُمَا ، فَقَالَ : " بِثَمَنِهَا يَا أَبَا بَكْرٍ " ، فَقَالَ : بِثَمَنِهَا بِأَبِي وَأُمِّي إِنْ شِئْتَ ، قَالَتْ : فَهَيَّأْنَا لَهُمْ سُفْرَةً ، ثُمَّ قَطَعَتْ نِطَاقَهَا فَرَبَطَتْهَا بِبَعْضِهِ ، فَخَرَجَا فَمَكَثَا فِي الْغَارِ فِي جَبَلِ ثَوْرٍ ، فَلَمَّا انْتَهَيَا إِلَيْهِ دَخَلَ أَبُو بَكْرٍ الْغَارَ قَبْلَهُ فَلَمْ يَتْرُكْ فِيهِ حَجَرًا إِلَّا أَدْخَلَ فِيهِ إِصْبَعَهُ ; مَخَافَةَ أَنْ يَكُونَ فِيهِ هَامَةٌ ، وَخَرَجَتْ قُرَيْشٌ حِينَ فَقَدُوهُمَا فِي بِغَائِهِمَا ، وَجَعَلُوا فِي النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِائَةَ نَاقَةٍ ، وَخَرَجُوا يَطُوفُونَ فِي جِبَالِ مَكَّةَ حَتَّى انْتَهَوْا إِلَى الْجَبَلِ الَّذِي هُمَا فِيهِ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ لِرَجُلٍ [ يَرَاهُ ] مُوَاجِهٍ الْغَارَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ لَيَرَانَا ، فَقَالَ : " كَلَّا إِنَّ مَلَائِكَةً تَسْتُرُنَا بِأَجْنِحَتِهَا " . فَجَلَسَ ذَلِكَ الرَّجُلُ فَبَالَ مُوَاجِهَ الْغَارِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوْ كَانَ يَرَانَا مَا فَعَلَ هَذَا " . فَمَكَثَا ثَلَاثَ لَيَالٍ يَرُوحُ عَلَيْهِمَا عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ غَنَمًا لِأَبِي بَكْرٍ وَيُدْلِجُ مِنْ عِنْدِهِمَا فَيُصْبِحُ مَعَ الرُّعَاةِ فِي مَرَاعِيهَا ، وَيَرُوحُ مَعَهُمْ وَيُبْطِئُ فِي الْمَشْيِ حَتَّى إِذَا أَظْلَمَ اللَّيْلُ انْصَرَفَ بِغَنَمِهِ إِلَيْهِمَا ، فَتَظُنُّ الرُّعَاةُ أَنَّهُ مَعَهُمْ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ يَظَلُّ بِمَكَّةَ يَتَطَلَّبُ الْأَخْبَارَ ثُمَّ يَأْتِيهِمَا إِذَا أَظْلَمَ اللَّيْلُ فَيُخْبِرُهُمَا ، ثُمَّ يُدْلِجُ مِنْ عِنْدِهِمَا فَيُصْبِحُ بِمَكَّةَ يَتَطَلَّبُ الْأَخْبَارَ ، ثُمَّ يَأْتِيهِمَا إِذَا أَظْلَمَ اللَّيْلُ فَيُخْبِرُهُمَا ، ثُمَّ يُدْلِجُ مِنْ عِنْدِهِمَا فَيُصْبِحُ بِمَكَّةَ كَبَائِتٍ ، ثُمَّ خَرَجَا مِنَ الْغَارِ فَأَخَذَا عَلَى السَّاحِلِ ، فَجَعَلَ أَبُو بَكْرٍ يَسِيرُ أَمَامَهُ ، فَإِذَا خَشِيَ أَنْ يُؤْتَى مِنْ خَلْفِهِ سَارَ خَلْفَهُ ، فَلَمْ يَزَلْ كَذَلِكَ مَسِيرَهُ ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ رَجُلًا مَعْرُوفًا فِي النَّاسِ ، فَإِذَا لَقِيَهُ لَاقٍ ، فَيَقُولُ لِأَبِي بَكْرٍ : مَنْ هَذَا مَعَكَ ؟ فَيَقُولُ : هَادٍ يَهْدِينِي ، يُرِيدُ الْهُدَى فِي الدِّينِ ، وَيَحْسَبُ الْآخَرُ دَلِيلًا حَتَّى إِذَا كَانَ بِأَبْيَاتِ قُدَيْدٍ وَكَانَ عَلَى طَرِيقِهِمَا [ عَلَى السَّاحِلِ ] جَاءَ إِنْسَانٌ إِلَى [ مَجْلِسِ ] بَنِي مُدْلِجٍ ، فَقَالَ : قَدْ رَأَيْتُ رَاكِبَيْنِ نَحْوَ السَّاحِلِ ، فَإِنِّي لَأَجِدُهُمَا لَصَاحِبَ قُرَيْشٍ الَّذِي تَبْغُونَ ، فَقَالَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكٍ : ذَانِكَ رَاكِبَيْنِ مِمَّنْ بَعَثْنَا فِي طَلَبِةِ الْقَوْمَ ، ثُمَّ دَعَا جَارِيَتَهُ فَسَارَّهَا ، فَأَمَرَهَا أَنْ تَخْرُجَ بِفَرَسِهِ وَتَحُطَّ رُمْحَهُ وَلَا تَنْصِبَهُ حَتَّى يَأْتَيَهُ فِي قَرَارَهِ بِمَوْضِعِ كَذَا وَكَذَا ، ثُمَّ يَجِيئَهَا ، فَرَكَبَ فَرَسَهُ ، ثُمَّ خَرَجَ فِي آثَارِهِمَا ، قَالَ سُرَاقَةُ : فَدَنَوْتُ مِنْهُمَا حَتَّى إِنِّي لَأَسْمَعُ قِرَاءَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ رَكَضَتِ الْفَرَسُ فَوَقَعَتْ بِمِنْخَرَيْهَا ، فَأَخْرَجْتُ قِدَاحِي مِنْ كِنَانَتِي ، فَضَرَبْتُ بِهَا أَضُرُّهُ أَمْ لَا أَضُرُّهُ ؟ فَخَرَجَ لَا تَضُرُّهُ ، فَأَبَتْ نَفْسِي حَتَّى إِذَا كُنْتُ مِنْهُ بِمِثْلِ ذَلِكَ الْمَوْضِعِ خَشْيَةَ أَنْ يُصِيبَنِي مِثْلُ مَا أَصَابَنِي نَادَيْتُهُ ، فَقُلْتُ : إِنِّي أَرَى سَيَكُونُ لَكَ شَأْنٌ ، فَقِفْ أُكَلِّمُكَ . فَوَقَفَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَأَلَهُ أَنْ يَكْتُبَ لَهُ أَمَانًا ، فَأَمَرَ أَنْ يَكْتُبَ فَكَتَبَ لَهُ ، قَالَ سُرَاقَةُ : فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ حُنَيْنٍ ، وَأَخْرَجْتُهُ وَنَادَيْتُ : أَنَا سُرَاقَةُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَوْمُ وَفَاءٍ " ، قَالَ سُرَاقَةُ : فَمَا شُبِّهَتْ سَاقُهُ فِي غَرْزِهِ إِلَّا بِجِمَارٍ . فَذَكَرْتُ شَيْئًا أَسْأَلُهُ عَنْهُ فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي رَجُلٌ ذَا نَعَمٍ ، وَإِنَّ الْحِيَاضَ تُمْلَأُ مِنَ الْمَاءِ ، فَنَشْرَبُ فَيَفْضُلُ مِنَ الْمَاءِ فِي الْحِيَاضِ ، فَيَرِدُ الْهَمَلُ ، فَهَلْ لِي فِي ذَلِكَ مِنْ أَجْرٍ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " نَعَمْ ، فِي كُلِّ كَبِدٍ حَرَّى أَجْرٌ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى أَبُو دَاوُدَ طَرَفًا مِنْ آخِرِهِ عَنْ سُرَاقَةَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ ، وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں روزانہ دو مرتبہ ہمارے ہاں آیا کرتے تھے ، جب وہ دن آیا ( جب آپ نے ہجرت کے لئے نکلنا تھا ) تو آپ دوپہر کے وقت ہمارے ہاں تشریف لے آئے ، سیدہ اسماء رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اللہ کے رسول تشریف لائے ہیں ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے ماں باپ اُن پر قربان ہوں ، اس وقت وہ کسی ضروری معاملے کی وجہ سے ہی تشریف لائے ہوں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم جانتے ہو ؟ اللہ تعالیٰ نے مجھے نکلنے کی اجازت دے دی ہے ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں بھی ساتھ چلوں گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم بھی ساتھ چلو گے ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے پاس دو اونٹنیاں ہیں ، جنہیں میں اتنے ، اتنے عرصے سے اس دن کے انتظار میں چارہ کھلا رہا ہوں ، آپ ان دونوں میں سے ایک کو لے لیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ اس کی قیمت کے عوض میں ہو گا ، انہوں نے عرض کی : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں قیمت کے عوض میں لے لیں ، اگر آپ چاہیں ، سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں نے ان لوگوں کے لئے سامان سفر تیار کیا ، میں نے اپنے کمر بند کو کاٹ کر اس کا کچھ حصہ باندھ دیا ، پھر یہ دونوں حضرات نکلے اور جبل ثور میں موجود غار میں ٹھہرے رہے ۔ جب یہ حضرات اس غار کے پاس پہنچے ، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے غار میں داخل ہوئے ، انہوں نے غار میں موجود ہر بل کو بند کر دیا ، اس اندیشے کے تحت ، کہ کہیں اس میں سے کوئی نقصان دینے والی چیز نہ نکل آئے ، جب قریش نے ان دونوں حضرات کو غیر موجود پایا ، تو وہ ان دونوں کی تلاش میں نکلے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک سو اونٹنیوں کا انعام مقرر کر دیا ۔ وہ لوگ نکلے اور مکہ کے مختلف پہاڑوں کے چکر لگاتے رہے ، یہاں تک کہ اس پہاڑ کے پاس پہنچ گئے ، جس میں یہ دونوں حضرات موجود تھے ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو اس غار کی طرف آتے ہوئے دیکھا ، تو عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ ہمیں دیکھ لے گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہرگز نہیں ! فرشتوں نے اپنے پروں کے ذریعے ہمیں چھپایا ہوا ہے ، پھر وہ شخص بیٹھا اور غار کی طرف منہ کر کے پیشاب کرنے لگا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر یہ ہمیں دیکھ لیتا ، تو یہ ایسا نہ کرتا ، یہ حضرات تین دن تک وہاں ٹھہرے رہے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے غلام عامر بن فہیرہ ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بکریاں لے کر شام کے وقت ان کے پاس چلے جاتے تھے ، وہ رات ان کے پاس ٹھہرتے تھے ، پھر اگلی صبح دوسرے چرواہوں کے ساتھ چراگاہ میں آ جاتے تھے ، وہ ان کے ساتھ چلتے تھے ، لیکن چلنے میں آہستگی سے چلتے تھے ، یہاں تک کہ جب رات زیادہ تاریک ہو جاتی ، تو وہ اپنی بکریاں لے کر ان دونوں کے پاس آ جاتے تھے ، چرواہے یہ سمجھتے تھے ، وہ ان لوگوں کے ساتھ ہیں ، اسی طرح سیدنا عبداللہ بن ابوبکر رضی اللہ عنہ مکہ میں رہتے تھے ، اور اطلاعات حاصل کرتے رہتے تھے پھر جب رات تاریک ہو جاتی تھی ، تو ان کے پاس آ کر انہیں اس بارے میں بتا دیتے تھے ، پھر وہ رات اُن کے پاس رہتے تھے اور اگلے دن صبح کے وقت مکہ میں موجود ہوتے تھے ، یوں جیسے رات وہیں بسر کی ہے ۔ پھر یہ دونوں صاحبان ، غار سے نکلے اور ساحل کے راستے پر چل پڑے ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کبھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے چلتے تھے ، جب انہیں اندیشہ ہوتا تھا کہ پیچھے سے کوئی نہ آ جائے ، تو وہ آپ کے پیچھے چلنے لگتے تھے ، وہ اسی طرح سفر کرتے رہے ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ایک ایسے فرد تھے ، جو لوگوں کے درمیان معروف تھے ( یعنی لوگ انہیں پہچانتے تھے ) جب کوئی شخص سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ملتا ، تو وہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہتا : آپ کے ساتھ کون ہیں ؟ تو وہ جواب دیتے تھے یہ ہدایت دینے والے ہیں ، جو مجھے ہدایت دیتے ہیں ( یعنی راہ دکھانے والے ہیں ، جو مجھے راہ دکھاتے ہیں ) سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی مراد دین سے متعلق ہدایت ہوتی تھی اور دوسرا شخص یہ سمجھتا تھا کہ شاید راستے کے بارے میں رہنمائی کرنے والا فرد مراد ہے ، یہاں تک کہ جب یہ لوگ قدید کی آبادی کے پاس موجود تھے اور ساحل کے راستے پر تھے ، تو اس دوران بنومدلج کی محفل میں ایک شخص آیا اور بولا: میں نے دو سواروں کو ساحل کی طرف جاتے ہوئے دیکھا ہے اور میرا خیال ہے کہ یہ وہی فرد ہے ، جس کو تم تلاش کر رہے ہو ، تو سراقہ بن مالک نے کہا: وہ دو ایسے سوار ہیں ، جنہیں ہم نے اُن لوگوں کی تلاش میں بھیجا ہوا ہے ، پھر اس نے اپنی کنیز کو بلایا اور پست آواز میں اسے یہ ہدایت کی کہ وہ اُس کے گھوڑے کو اور اس کا نیزہ لے کر نکلے ، اور فلاں ، فلاں جگہ پر پہنچ جائے ، پھر وہ اس کنیز کے پاس آیا اور گھوڑے پر سوار ہوا ، اور پھر اُن دونوں کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا ۔ سراقہ کہتے ہیں : میں ان دونوں حضرات کے پاس پہنچ گیا ، یہاں تک کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاوت کی آواز سنی تو میرے گھوڑے کو ٹھوکر لگی اور وہ نتھنوں کے بل گر گیا ، میں نے اپنے ترکش میں سے ایک تیر نکالا اور اس کے ذریعے حساب لگایا کہ میں انہیں نقصان پہنچا پاؤں گا یا نقصان پہنچا نہیں پاؤں گا ؟ تو یہ نتیجہ نکلا کہ تم انہیں نقصان نہیں پہنچا پاؤ گئے ، تو میں نے یہ بات نہیں مانی یہاں تک کہ پھر میں جب ان کے اتنا قریب ہوا اور مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ مجھے پہلے کی سی صورت حال دوبارہ لاحق ہو گی تو میں نے انہیں پکار کر یہ کہا: میں یہ سجھتا ہوں کہ عنقریب آپ کی شان ظاہر ہو گی ، آپ ٹھہر جائیں ! تاکہ میں آپ کے ساتھ بات چیت کر لوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہر گئے ، سراقہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ درخواست کی کہ آپ اس کے لئے امان لکھوا دیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھنے کا حکم دیا ، وہ اس کے لئے لکھ دی گئی ، سیدنا سراقہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : جب غزوہ حنین کا موقع آیا ، تو میں نے اس تحریر کو نکالا اور بلند آواز میں کہا: میں سراقہ ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : آج عہد پورا کرنے کا دن ہے ، سیدنا سراقہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : رکاب میں موجود آپ کی پنڈلی جمار ( کھجور کے درخت کا گوند ) کی مانند محسوس ہوتی تھی ، پھر مجھے ایک چیز یاد آئی ، جس کے بارے میں ، میں نے آپ سے دریافت کرنا تھا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں ایک نعمتوں والا شخص ہوں ، حوض پانی سے بھرے ہوئے ہوتے ہیں ، ہم پانی لیتے ہیں ، پھر بھی حوض میں پانی بچ جاتا ہے ، پھر کوئی کھلا ( جانور یا پرندہ ) آ جاتا ہے ، تو کیا اُس کا اجر ملے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! ہر جاندار کو نفع پہنچانے کا اجر ملتا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے ، اس روایت کا آخری حصہ ، سیدنا سراقہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن حمید بن کاسب ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، ابوحاتم اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9905
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (106/24)»
وَعَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ حَتَّى اسْتَقْبَلَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِعَوْرَتِهِ يَبُولُ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَيْسَ الرَّجُلُ يَرَانَا ؟ قَالَ : " لَوْ رَآنَا لَمْ يَسْتَقْبِلْنَا بِعَوْرَتِهِ " . يَعْنِي وَهُوَ بِالْغَارِ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ مُطَيْرٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : مشرکین سے تعلق رکھنے والا ایک شخص آیا ، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رخ کر کے شرمگاہ کھول کے پیشاب کرنا شروع کر دیا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا یہ شخص ہمیں نہیں دیکھ رہا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر یہ شخص ہمیں دیکھ رہا ہوتا ، تو شرمگاہ کھول کر ہماری طرف رُخ نہ کرتا ۔ راوی کہتے ہیں : یعنی یہ اُس وقت کی بات ہے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غار میں موجود تھے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن مطیر ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9906
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (46)»
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : لَمَّا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبُو بَكْرٍ مُهَاجِرَيْنِ ، فَدَخَلَا فِي الْغَارِ فِإِذَا فِي الْغَارِ جُحْرٍ فَأَلْقَمَهُ أَبُو بَكْرٍ عَقِبَهُ حَتَّى أَصْبَحَ مَخَافَةَ أَنْ يَخْرُجَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْهُ شَيْءٌ ، فَأَقَامَا فِي الْغَارِ ثَلَاثَ لَيَالٍ ثُمَّ خَرَجَا حَتَّى نَزَلَا بِخَيْمَاتِ أُمِّ مَعْبَدٍ ، فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ أُمُّ مَعْبَدٍ إِنِّي أَرَى وُجُوهًا حِسَانًا ، وَإِنَّ الْحَيَّ أَقْوَى عَلَى كَرَامَتِكُمْ مِنِّي ، فَلَمَّا أَمْسَوْا عِنْدَهَا بَعَثَتْ مَعَ ابْنٍ لَهَا صَغِيرٍ بِشَفْرَةٍ وُشَاةٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ارْدُدِ الشَّفْرَةَ وَهَاتِ لِي فَرَقًا " - يَعْنِي الْقَدَحَ - فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ أَنْ لَا لَبَنَ فِيهَا وَلَا وَلَدَ قَالَ : " هَاتِ لِي فَرَقًا " . فَجَاءَتْهُ بِفَرَقٍ فَضَرَبَ ظَهْرَهَا فَاجْتَرَّتْ وَدَرَّتْ ، فَحَلَبَ فَمَلَأَ الْقَدَحَ فَشَرِبَ وَسَقَى أَبَا بَكْرٍ ، فَبَعَثَ بِهِ إِلَى أُمِّ مَعْبَدٍ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کے لئے روانہ ہوئے ، تو یہ دونوں غار میں تشریف لے گئے ، غار میں ایک بل تھا ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے صبح ہونے تک اپنی ایڑی اس کے منہ پر رکھی ، اس اندیشے کے تحت کہ اس میں سے کوئی چیز نکل کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ( تکلیف نہ پہنچائے ) یہ دونوں حضرات تین دن تک غار میں مقیم رہے ، پھر یہ وہاں سے نکلے اور انہوں نے ام معبد کے خیموں میں پڑاؤ کیا ، ام معبد نے ( اپنے شوہر کو ) پیغام بھیجا کہ میں نے خوبصورت چہرے دیکھے ہیں اور قبیلے کے لوگ میرے مقابلے میں آپ کی مہمان نوازی کے زیادہ قابل ہیں ، جب ان حضرات نے ام معبد کے ہاں شام کی ، تو ام معبد نے اپنے کمسن بیٹے کے ہمراہ ایک چھری اور ایک بکری بھجوائی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : چھری واپس بھجوا دو اور میرے پاس پیالہ لے آؤ ! ام معبد نے پیغام بھیجا کہ اس بکری میں نہ دودھ ہے اور نہ ہی اس کا کوئی بچہ ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میرے پاس پیالہ لے کر آؤ ! تو وہ خاتون ایک پیالہ لے آئیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بکری کی پشت پر ہاتھ پھیرا ، تو اس نے اپنی ٹانگیں کھولیں اور دودھ دینا شروع کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ دوہ لیا اور پیالہ بھر لیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی پیا ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بھی پلوایا اور وہ دودھ ام معبد کو بھی بھجوایا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9907
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1742)»
وَعَنْ أَوْسِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُجْرٍ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ : مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ بِحِذْوَاتٍ بَيْنَ الْجُحْفَةِ وَهَرْشَا وَهُمَا عَلَى جَمَلٍ وَاحِدٍ ، وَهُمَا مُتَوَجِّهَانِ إِلَى الْمَدِينَةِ ، فَحَمَلَهُمَا عَلَى فَحْلِ إِبِلِهِ ابْنُ الرِّدَاءِ ، فَبَعَثَ مَعَهُمَا غُلَامًا لَهُ يُقَالُ لَهُ : مَسْعُودٌ ، فَقَالَ : اسْلُكْ بِهِمَا حَيْثُ تَعْلَمُ مِنْ مَحَارِمِ الطَّرِيقِ ، وَلَا تُفَارِقْهُمَا حَتَّى يَقْضِيَا حَاجَتَهُمَا مِنْكَ وَمِنْ جَمَلِكَ ، فَسَلَكَ بِهِمَا ثَنِيَّةَ الزَّمْحَا ، ثُمَّ سَلَكَ بِهِمَا ثَنِيَّةَ الْكُويَةِ ، ثُمَّ سَلَكَ بِهِمَا الْمُرَّةَ ، ثُمَّ أَقْبَلَ بِهِمَا مِنْ شُعْبَةٍ ذَاتِ كَشْطٍ ، ثُمَّ سَلَكَ بِهِمَا الْمُدْلَجَةَ ، ثُمَّ سَلَكَ بِهِمَا الْغَسَّانَةَ ، ثُمَّ سَلَكَ ثَنِيَّةَ الْمُرَّةَ ، ثُمَّ أَدْخَلَهُمَا الْمَدِينَةَ ، وَقَدْ قَضَيَا حَاجَتَهُمَا مِنْهُ وَمِنْ حَمْلِهِ ، ثُمَّ رَجَّعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَسْعُودًا إِلَى سَيِّدِهِ أَوْسِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، وَكَانَ مُغَفَّلًا لَا يَسِمِ الْإِبِلَ ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَأْمُرَ أَوْسًا أَنْ يَسِمَهَا فِي أَعْنَاقِهَا قَيْدَ الْفَرَسِ . ¤ قَالَ صَخْرُ بْنُ مَالِكٍ : وَهُوَ وَاللَّهِ يَسِمُهَا الْيَوْمَ ، وَقَيَّدَ الْفَرَسَ فِيمَا أَرَى حَلَقَ حَلَقَتَيْنِ ، وَمَدَّ بَيْنَهُمَا مَدًّا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا اوس بن عبداللہ بن حجر اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ” جحفہ “ اور ” ہرشا“ کے درمیان ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ یہ دونوں حضرات میرے پاس سے گزرے ، یہ دونوں حضرات اونٹ پر سوار تھے اور ان کا رخ مدینہ منورہ کی طرف تھا ، تو سیدنا اوس بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اپنا اونٹ انہیں دیا اور ان دونوں صاحبان کے ہمراہ اپنے غلام مسعود کو بھیجا اور بولے : تم ان دونوں کو محفوظ راستے سے لے کے جاؤ اور ان سے اس وقت تک جدا نہ ہونا ، جب تک انہیں تمہاری اور تمہارے اونٹ کی ضرورت رہتی ہے ، تو وہ غلام ان دونوں صاحبان کو ” زمحا “ کی گھاٹی کی طرف سے لے کر گیا ، پھر وہ ” کویہ “ کی گھاٹی پر آیا ، پھر وہ ” مرہ “ کی گھاٹی پر آیا ، پھر وہ ” ذات کشط “ آیا ، پھر وہ ” مدلجہ “ گیا پھر وہ ” غسانہ “ گیا پھر وہ ” مرہ “ کی گھاٹی پر چلا اور ان دونوں کو مدینہ منورہ پہنچا دیا ، ان دونوں کو اس کی اور اس کے اونٹ کی ضرورت نہ رہی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسعود کو اس کے آقا ، اوس بن عبداللہ کے پاس واپس بھجوا دیا ، وہ صاحب اونٹ پر نشان نہیں لگایا کرتے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس غلام کو یہ ہدایت کی کہ وہ اوس کو یہ کہے : وہ اس اونٹ کی گردن میں گھوڑے کی بیڑی جتنا نشان ڈال دے ۔ صخر بن مالک کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! وہ لوگ آج بھی اس پر نشان لگاتے ہیں اور میرے علم کے مطابق گھوڑے کی بیڑی سے مراد یہ ہے کہہ دو چھلے پہنائے جائیں اور انہیں کچھ کھینچ دیا جائے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9908
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (611)»
وَعَنْ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ : لَمَّا أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مُهَاجَرِهِ ، لَقِيَ رَكْبًا فَقَالَ : " يَا أَبَا بَكْرٍ ، سَلِ الْقَوْمَ مِمَّنْ هُمْ ؟ " . قَالُوا : مِنْ أَسْلَمَ . قَالَ : " سَلِمْتَ يَا أَبَا بَكْرٍ ، سَلْهُمْ مِنْ أَيِّ أَسْلَمَ ؟ " . قَالُوا : مِنْ بَنِي سَهْمٍ قَالَ : " ارْمِ سَهْمَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ الزُّهْرِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب ہجرت کے دوران تشریف لے جا رہے تھے ، تو آپ کی ملاقات کچھ سواروں سے ہوئی ، آپ نے فرمایا : اے ابوبکر ! ان لوگوں سے پوچھو کہ ان کا تعلق کون سے قبیلے سے ہے ؟ انہوں نے بتایا : اسلم قبیلے سے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ابوبکر تم سلامت رہو گے ، تم ان سے پوچھو کہ اسلم قبیلے کی کون سی شاخ سے ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : بنو سہم سے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے ابوبکر ! تم اپنا تیر پھینک دو ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عمران زہری ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9909
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1744)»
وَعَنْ حُبَيْشِ بْنِ خَالِدٍ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ خَرَجَ مِنْ مَكَّةَ مُهَاجِرًا إِلَى الْمَدِينَةِ هُوَ وَأَبُو بَكْرٍ ، وَمَوْلَى أَبِي بَكْرٍ عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ ، وَدَلِيلُهُمَا اللِّيثِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْأُرَيْقِطِ ، مَرُّوا عَلَى خَيْمَتَيْ أُمِّ مَعْبَدٍ الْخُزَاعِيَّةِ وَكَانَتِ امْرَأَةً بَرْزَةً جَلْدَةً ، تَحْتَبِي بِفَنَاءِ الْقُبَّةِ ، وَتُسْقِي وَتُطْعِمُ ، فَسَأَلُوهَا لَحْمًا وَتَمْرًا لِيَشْتَرُوهُ مِنْهَا ، فَلَمْ يُصِيبُوا عِنْدَهَا شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ وَكَانَ الْقَوْمُ مُرْمَلِينَ مُسْنَتِينَ ، فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى شَاةٍ فِي كَسْرِ الْخَيْمَةِ ، فَقَالَ : " مَا هَذِهِ الشَّاةُ يَا أُمَّ مَعْبَدٍ ؟ " . قَالَتْ : خَلَّفَهَا الْجُهْدُ عَنِ الْغَنَمِ قَالَ : " فَهَلْ بِهَا مِنْ لَبَنٍ ؟ " . قَالَتْ : هِيَ أَجْهَدُ مِنْ ذَلِكَ قَالَ : " أَتَأْذَنِينَ أَنْ أَحْلِبَهَا ؟ " . قَالَتْ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ، نَعَمْ ، إِنْ رَأَيْتَ بِهَا حَلْبًا فَاحْلِبْهَا ، فَدَعَا بِهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَمَسَحَ بِيَدِهِ ضَرْعَهَا وَسَمَّى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ، وَدَعَا اللَّهَ فِي شَأْنِهَا ، فَتَفَاجَّتْ عَلَيْهِ ، وَدَرَّتْ وَاجْتَرَّتْ ، وَدَعَا بِإِنَاءٍ يَرْبِضُ الرَّهْطَ ، فَحَلَبَ فِيهِ ثَجًّا حَتَّى عَلَاهُ الْبَهَاءُ ، ثُمَّ سَقَاهَا حَتَّى رَوِيَتْ ، وَسَقَى أَصْحَابَهُ حَتَّى رُوُوا ، وَشَرِبَ آخِرُهُمْ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ أَرَاضُوا ، ثُمَّ حَلَبَ فِيهَا ثَانِيًا بَعْدَ مَدَى حَتَّى مَلَأَ الْإِنَاءَ ، ثُمَّ غَادَرَهُ عِنْدَهَا ، ثُمَّ بَايَعَهَا وَارْتَحَلُوا عَنْهَا ، فَقَلَّمَا لَبِثَتْ أَنْ جَاءَ زَوْجُهَا أَبُو مَعْبَدٍ يَسُوقُ أَعْنُزًا عِجَافًا يَتَسَاوَكْنَ هُزَالًا ، مُخُّهُنَّ قَلِيلٌ ، فَلَمَّا رَأَى أَبُو مَعْبَدٍ اللَّبَنَ عَجِبَ ، وَقَالَ : مِنْ أَيْنَ هَذَا اللَّبَنُ يَا أُمَّ مَعْبَدٍ ، وَالشَّاةُ عَازِبٌ حِيَالٌ ، وَلَا حَلُوبَةَ فِي الْبَيْتِ ؟ قَالَتْ : لَا وَاللَّهِ إِلَّا أَنَّهُ مَرَّ بِنَا رَجُلٌ مُبَارَكٌ مِنْ حَالِهِ كَذَا وَكَذَا قَالَ : صِفِيهِ لِي يَا أُمَّ مَعْبَدٍ . قَالَتْ : رَأَيْتُ رَجُلًا ظَاهِرَ الْوَضَاءَةِ ، أَبْلَجَ الْوَجْهِ ، حَسَنَ الْخُلُقِ لَمْ تُعِبْهُ ثَجْلَةٌ ، وَلَمْ تَزْرِ بِهِ صَعْلَةٌ ، وَسِيمٌ قَسِيمٌ فِي عَيْنَيْهِ دَعَجٌ ، وَفِي أَشْفَارِهِ وَطَفٌ ، وَفِي صَوْتِهِ صَهَلٌ ، وَفِي عُنُقِهِ سَطَعٌ ، وَفِي لِحْيَتِهِ كَثَافَةٌ ، أَزَجُّ أَقْرَنُ ، إِنْ صَمَتَ فَعَلَيْهِ الْوَقَارُ ، وَإِنْ تَكَلَّمَ سَمَا وَعَلَاهُ الْبَهَاءُ ، أَجْمَلُ النَّاسِ ، وَأَبْهَى مِنْ بَعِيدٍ ، وَأَحْلَاهُ وَأَحْسَنُهُ مِنْ قَرِيبٍ ، حُلْوُ الْمَنْطِقِ فَصْلٌ لَا هَذْرَ وَلَا نَزْرَ ، كَأَنَّ مَنْطِقَهُ خَرَزَاتُ نَظْمٍ يَنْحَدِرْنَ رَبْعٌ ، لَا يَيْأَسُ مِنْ طُولٍ ، وَلَا تَقْتَحِمُهُ عَيْنٌ مِنْ قِصَرٍ ، غُصْنٌ بَيْنَ غُصْنَيْنِ ، فَهُوَ أَنْظَرُ الثَّلَاثَةِ مَنْظَرًا ، وَأَحْسَنُهُمْ قَدْرًا ، لَهُ رُفَقَاءُ يَحْفَوْنَ بِهِ ، إِنْ قَالَ أَنْصَتُوا لِقَوْلِهِ ، وَإِنْ أَمَرَ تَبَادَرُوا أَمْرَهُ ، مَحْقُودٌ مَحْسُودٌ لَا عَابِسٌ وَلَا مُفْنِدٌ . ¤ قَالَ أَبُو مَعْبَدٍ : هُوَ وَاللَّهِ صَاحِبُ قُرَيْشٍ الَّذِي ذُكِرَ لَنَا مِنْ أَمْرِهِ مَا ذُكِرَ بِمَكَّةَ ، وَلَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَصْحَبَهُ وَلَأَفْعَلَنَّ إِنْ وَجَدْتُ إِلَى ذَلِكَ سَبِيلًا ، وَأَصْبَحَ صَوْتٌ بِمَكَّةَ عَالِيًا يَسْمَعُونَ الصَّوْتَ وَلَا يَدْرُونَ مَنْ صَاحِبُهُ ، وَهُوَ يَقُولُ : ¤ جَزَى اللَّهُ رَبُّ النَّاسِ خَيْرَ جَزَائِهِ رَفِيقَيْنِ قَلَا خَيْمَتَيْ أُمِّ مَعْبَدِ . هُمَا نَزَلَاهَا بِالْهُدَى وَاهْتَدَتْ بِهِ ¤ لَقَدْ فَازَ مَنْ أَمْسَى رَفِيقَ مُحَمَّدِ فَيَا لِقَصِيٍّ مَا زَوَى اللَّهُ عَنْكُمُ ¤ بِهِ مِنْ فِعَالٍ لَا تُجَارَى وَسُؤْدَدِ لِيَهْنَ بَنِي كَعْبٍ مَكَانَ فَتَاتِهِمْ وَمَقْعَدُهَا لِلْمُؤْمِنِينَ بِمَرْصَدِ ¤ سَلُوا أُخْتَكُمْ عَنْ شَاتِهَا وَإِنَائِهَا فَإِنَّكُمْ إِنْ تَسْأَلُوا الشَّاةَ تَشْهَدِ ¤ دَعَاهَا بِشَاةٍ حَائِلٍ فَتَحَلَّبَتْ عَلَيْهِ صَرِيحًا ضَرَّةُ الشَّاةِ مُزْبَدِ فَغَادَرَهَا رَهْنًا لَدَيْهَا لِحَالِبٍ يُرَدِّدُهَا فِي مَصْدَرٍ ثُمَّ مَوْرِدِ ¤ فَلَمَّا أَنْ سَمِعَ حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ بِذَلِكَ شَبَّ يُجِيبُ الْهَاتِفَ ، وَهُوَ يَقُولُ . ¤ لَقَدْ خَابَ قَوْمٌ زَالَ عَنْهُمْ نَبِيُّهُمْ وَقَدَّسَ مَنْ يَسْرِي إِلَيْهِمْ وِيَغْتَدِي ¤ تَرَحَّلَ عَنْ قَوْمٍ فَضَّلَتْ عُقُولُهُمْ وَحَلَّ عَلَى قَوْمٍ بِنُورٍ مُجَدِّدِ ¤ هُدَاهُمْ بِهِ بَعْدَ الضَّلَالَةِ رَبُّهُمْ وَأَرْشَدَهُمْ مَنْ يَبْتَغِي الْحَقَّ يَرْشُدِ ¤ وَهَلْ يَسْتَوِي ضُلَّالُ قَوْمٍ تَسَفَّهُوا عَمَايَتُهُمْ هَادٍ بِهِ كُلَّ مُهْتَدِ ؟ ¤ وَقَدْ نَزَلَتْ مِنْهُ عَلَى أَهْلِ يَثْرِبَ رِكَابُ هُدًى حَلَّتْ عَلَيْهِمْ بِأَسْعَدِ ¤ نَبِيٌّ يَرَى مَا لَا يَرَى النَّاسُ حَوْلَهُ وَيَتْلُو كِتَابَ اللَّهِ فِي كُلِّ مَسْجِدِ ¤ وَإِنْ قَالَ فِي يَوْمٍ مَقَالَةَ غَائِبٍ فَتَصْدِيقُهَا فِي الْيَوْمِ أَوْ فِي ضُحَى الْغَدِ ¤ لِيَهْنَ أَبَا بَكْرٍ سَعَادَةُ جَدِّهِ بِصُحْبَتِهِ مَنْ يُسْعِدِ اللَّهُ يَسْعَدِ ¤ لِيَهْنَ بَنِي كَعْبٍ مَكَانَ فَتَاتِهِمْ وَمَقْعَدُهَا لِلْمُؤْمِنِينَ بِمَرْصَدِ ¤ وَقَالَ لَنَا مُجَاهِدٌ عَنْ مُكْرَمٍ : فِي أَشْفَارِهِ وَطَفٌ ، وَهُوَ الطُّولُ . وَالصَّوَابُ : صَحَلٌ ، وَهِيَ الْبَحَّةُ . وَقَالَ لَنَا مُكْرَمٌ : لَا يَأَسَ مِنْ طُولٍ ، وَالصَّوَابُ : لَا يَتَشَنَّى مِنْ طُولٍ . ¤ وَقَالَ لَنَا عَنْ مَكْرُمٍ : لَا عَايِسٌ وَلَا مُفْنِدٍ يَعْنِي : لَا عَابِسٌ ، وَلَا مُكَذِّبٌ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِي إِسْنَادِهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤ وَقَدْ وَرَدَ حَدِيثُ أُمِّ مَعْبَدٍ مِنْ طَرِيقِ سُلَيْطٍ ذَكَرْتُهُ فِي عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ فِي صِفَتِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤
محمد محی الدین
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ، سیدنا حبیش بن خالد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کی طرف ہجرت کے لئے مکہ سے نکلے آپ کے ساتھ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا غلام عامر بن فہیرہ تھے اور ان دونوں کو راستہ بتانے والا شخص لیث قبیلے سے تعلق رکھنے والا عبداللہ بن اریقط تھا ، ان حضرات کا گزر ، ام معبد خزاعیہ کے دو خیموں کے پاس سے ہوا ، وہ ایک مضبوط جسم کی بھاری بھرکم عورت تھی اور خیمے کے اندر رہتی تھی ، اس نے ان حضرات کو پانی پلایا کھانے کے لئے دیا ، ان حضرات نے اُم معبد سے گوشت اور کھجوریں خریدنے کے بارے میں دریافت کیا ، لیکن اس کے پاس یہ چیزیں نہیں تھیں ، کیونکہ وہ لوگ قحط سالی کا شکار تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیمے کے کونے میں موجود ایک بکری کو ملاحظہ فرمایا ، تو دریافت کیا : اے ام معبد ! اس بکری کا معاملہ ہے ؟ اس نے جواب دیا : یہ بھوک کی وجہ سے دوسری بکریوں سے پیچھے رہ گئی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا اس میں دودھ ہے ؟ اس نے عرض کی : یہ اس سے زیادہ کمزور ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم یہ اجازت دیتی ہو کہ میں اس کا دودھ دوہ لوں ؟ اس نے عرض کی : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، جی ہاں ! اگر آپ کو اس میں سے دودھ ملتا ہے تو اسے آپ دوہ لیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بکری کو بلایا آپ نے اس کے تھن پر اپنا دست مبارک پھیرا ، اللہ تعالیٰ کا نام لیا ، اس بکری کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے دعا کی ، اس نے اپنی ٹانگیں کھول دیں اور دودھ دینے کے لئے تیار ہو گئی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک برتن منگوایا جس کے ذریعے زیادہ افراد کو دودھ پلایا جا سکتا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں دودھ دوہ کر بھر لیا یہاں تک کہ وہ پر ہو گیا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ دودھ اُم معبد کو پلایا ، یہاں تک کہ وہ سیر ہو گئی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں کو پلایا یہاں تک کہ وہ سیر ہو گئے ، سب سے آخر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پیا ، پھر آپ نے دوسری مرتبہ اس برتن میں دودھ دوہ لیا ، یہاں تک کہ وہ برتن بھر گیا ، آپ وہ دودھ اس خاتون کے پاس چھوڑ کر روانہ ہو گئے آپ نے اس سے بیعت لی تھی اور پھر وہاں سے روانہ ہوئے تھے ، تھوڑی دیر گزرنے کے بعد اس کا شوہر ابومعبد اپنی کمزور بکریوں کو ہانکتا ہوا لے کر آیا ، جو کمزوری کے عالم میں چل رہی تھیں ، ان کے اندر گودا کم تھا ، جب ابومعبد نے دودھ دیکھا ، تو وہ حیران ہوا ، اور دریافت کیا : اے ام معبد ! یہ دودھ کہاں سے آیا ہے ؟ جبکہ بکریاں ایسی ہیں ، جو دودھ نہیں دے سکتی ہیں اور ویسے بھی دودھ گھر میں موجود نہیں تھا ، اس خاتون نے جواب دیا : جی نہیں ! اللہ کی قسم ! ہمارے پاس سے ایک برکت والے صاحب گزرے ہیں جن کی یہ ، یہ حالت تھی ، اس کے شوہر نے کہا: اے ام معبد ! تم ان کا حلیہ میرے سامنے بیان کرو ! تو ام معبد نے جواب دیا : میں نے ایک صاحب کو دیکھا جو روشن چمکدار چہرے کے مالک تھے ، شکل و صورت خوبصورت تھی میں نے ایک صاحب کو دیکھا جو روشن چمکدار چہرے کے مالک تھے ، شکل و صورت خوبصورت تھی ، نہ تو دبلا پن انہیں عیب دار کرتا تھا اور نہ ہی وہ موٹاپے کا شکار تھے ، وہ خوبرو اور وجیہہ و شکیل تھے ، ان کی آنکھیں سیاہ تھیں اور پلکوں کے بال لمبے تھے ، ان کی آواز نرم تھی اور گردن ذرا لمبی تھی ، ان کی داڑھی گھنی تھی اور ابرو لمبے تھے ، اگر وہ خاموش ہوتے تو باوقار محسوس ہوتے ، اور جب کلام کرتے تو نمایاں محسوس ہوتے ، ان پر چمک غالب تھی ، دور سے دیکھنے میں سب سے زیادہ خوبصورت اور روشن لگتے تھے ، اور قریب سے دیکھنے میں سب سے زیادہ حلاوت والے اور حسین لگتے تھے ، ان کا کلام مٹھاس والا تھا ، اور واضح تھا ، اس میں کوئی کمی یا فضول گوئی نہیں تھی ، ان کا کلام موتیوں کی طرح تھا ، جو گرتے ہیں ، درمیانے قد کے مالک تھے بالکل لمبے تڑنگے بھی نہیں تھے ، اور ( دیکھنے والے کی ) آنکھ چھوٹے قد کی وجہ سے آپ کو کمتر شمار نہ کرتی ، درمیانے قد کے تھے ، تینوں افراد میں آپ سب سے زیادہ خوبصورت ، اور سب سے زیادہ قدر و منزلت کے مالک تھے ، ان کے ساتھی ان کے ساتھ ہی تھے ، اگر وہ کوئی بات کہتے تو وہ ساتھی خاموشی سے ان کی بات سنتے اور اگر وہ کوئی حکم دیتے تو وہ ساتھ اس پر فوری طور پر عمل کرتے تھے ، نمایاں حیثیت کے مالک زبردست فرد تھے ، ماتھے پر بال ڈال کر رکھنے والے یا سٹھیائے ہوئے فرد نہیں تھے ۔ ابومعبد نے کہا: اللہ کی قسم ! یہ تو قریش کے وہی فرد لگتے ہیں ، جن کا ذکر ہمارے سامنے کیا گیا ہے اور جن کا ذکر مکہ میں ہو رہا تھا ، میں نے یہ ارادہ کیا ہے کہ میں اُن کے پاس جاؤں گا اور اگر مجھے وہاں تک جانے کا موقع مل گیا ، تو میں ایسا ضرور کروں گا ۔ ( راوی کہتے ہیں : ) اسی دوران مکہ میں ایک بلند آواز سنائی دی ، لوگوں نے وہ آواز سنی ، لیکن انہیں کہنے والا نظر نہیں آیا ، وہ یہ کہہ رہا تھا : اللہ تعالیٰ جو لوگوں کا پروردگار ہے ، وہ ( سفر کرنے والے ) دو ساتھیوں کو جزائے خیر عطا کرے ، جنہوں نے ام معبد کے خیمہ میں پڑاؤ کیا تھا ، وہ دونوں ہدایت کے ہمراہ اس خاتون کے ہاں ٹھہرے تھے ، اور اس خاتون نے ہدایت کو اختیار کیا ، تحقیق وہ شخص کامیاب ہو گیا جس نے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دیا ، اور اس بات پر افسوس ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تم سے اس کو لپیٹ دیا ( یا لے لیا ) ، کہ کچھ اور اس کا بدل نہیں ہو سکتا ، اور تم سے سرداری کو الگ کر دیا ، تو بنوکعب کو اپنے ( خاندان کی ) خاتون کو مبارکباد دینی چاہیے جس کی رہائشی جگہ اہل ایمان کے لیے پناگاہ ثابت ہوئی ، ( اے بنو کعب ! ) تم اپنی بہن سے اس کی بکری اور اس کے برتن کے بارے میں دریافت کرو اور اگر تم بکری سے پوچھو گے تو وہ بھی اس بات کی گواہی دے گی ، انہوں نے اس عورت سے ایسی بکری منگوائی تھی جو دودھ دینے کے قابل نہیں تھی ، اور پھر اس بکری نے اتنا دودھ دیا جتنا ایک صحیح و سالم بکری دیتی ہے ، پھر جب وہ اس عورت کے ہاں سے روانہ ہوئے تو انہوں نے دودھ دوہنے والے فرد ( یعنی اس عورت کے شوہر ) کے لیے بھی دودھ اس عورت کے پاس چھوڑ دیا ، جو فرد ان بکریوں کو گھاٹ پر لے جاتا اور واپس لاتا ہے “ ۔ جب سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے یہ اشعار سنے تو انہوں نے ہاتف کے جواب میں یہ اشعار کہے : ” وہ قوم رسوا ہو گئی جن کے پاس سے ان کے نبی تشریف لے گئے ، اور وہ قوم پاک ہو گئی جس کی طرف وہ نبی تشریف لے گئے ، اس نبی نے ایک قوم کو چھوڑ دیا تو اس قوم کی عقلمیں گمراہ ہو گئیں ، اور وہ نبی جس قوم کے پاس تشریف لے گئے ، ان کے پاس نور آ گیا ، ان کے پروردگار نے اس کے ذریعے ان لوگوں کو ہدایت نصیب کر دی ، اور ان کی رہنمائی کی ، جو شخص حق کی پیروی کر لیتا ہے وہ سمجھداری کا مظاہرہ کرتا ہے ، کیا ایک قوم کے گمراہ لوگ جنہوں نے اندھے پن اور بیوقوفی کو اختیار کیا ، وہ ہدایت یافتہ لوگوں کے برابر ہو سکتے ہیں ، اس ہدایت نے ان لوگوں کہ چھوڑ کر اہل یثرب کے ہاں پڑاؤ کیا ، اور وہ لوگ سب سے زیادہ سعادت مند ہو گئے ، وہ نبی ، وہ چیز دیکھ لیتے ہیں جو ان کے آس پاس موجود افراد نہیں دیکھ پاتے ہیں ، اور وہ ہر مسجد میں اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں ، اگر وہ کبھی کسی غیر موجود چیز کے بارے میں کوئی بات کہہ دیں ، تو اسی دن یا اگلے دن میں ، دن چڑھنے کے وقت تک اس کی تصدیق سامنے آ جاتی ہے ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو یہ سعادت مبارک ہو کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دیا ، سعادت مند وہی ہوتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ سعادت عطا کرتا ہے ، اور کعب کے بیٹوں کو اس خاتون کی رہائشی جگہ کے حوالے سے مبارکباد ہو ، جس کا گھر اہل ایمان کے لیے پناگاہ ثابت ہوا “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : مجاہد نے مکرم کے حوالے سے ہمیں یہ بات بیان کی ہے : ” فی اشفارہ وطف “ ( میں لفظ ” وطف “ ) کا مطلب لمبا ہونا ہے ۔ اور درست لفظ ” صحل “ ہے ، یعنی آواز کا بیٹھا ہوا ہونا ۔ مکرم نے ہمیں یہ بات بتائی ہے روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” لا يأس من طول “ جبکہ درست الفاظ یہ ہیں : ” لا يتشنی من طول“ انہوں نے مکرم کے حوالے سے ہمیں یہ بات بتائی ہے : ” لا عایس ولا مفند“ کا مطلب ہے : ” لا عابس ولا مكذب “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں سیدہ ام معبد رضی اللہ عنہا سے منقول حدیث ، سلیط کے حوالے سے بھی روایت کی گئی ہے ، جس کو میں نے علامات نبوت سے متعلق باب میں ، آپ کے حلیہ مبارک ( والے باب ) میں ذکر کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9910
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3605)»
وَعَنْ قَيْسِ بْنِ النُّعْمَانِ قَالَ : لَمَّا انْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبُو بَكْرٍ مُسْتَخْفِيَانِ نَزَلَا بِأَبِي مَعْبَدٍ ، فَقَالَ : وَاللَّهِ مَا لَنَا شَاةٌ ، وَإِنَّ شَاءَنَا لِحَوَامِلُ فَمَا بَقِيَ لَنَا لَبَنٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - - أَحْسَبُهُ - : " فَمَا تِلْكَ الشَّاةُ ؟ " . فَأَتَى بِهَا ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْبَرَكَةِ عَلَيْهَا ثُمَّ حَلَبَ عُسًّا فَسَقَاهُ ثُمَّ شَرِبُوا ، فَقَالَ : أَنْتَ الَّذِي تَزْعُمُ قُرَيْشٌ أَنَّكَ صَابِئٌ ؟ قَالَ : " إِنَّهُمْ يَقُولُونَ " . قَالَ : أَشْهَدُ أَنَّ مَا جِئْتَ بِهِ حَقٌّ ، ثُمَّ قَالَ : أَتَّبِعُكَ ؟ قَالَ : " لَا ، حَتَّى تَسْمَعَ أَنَّا قَدْ ظَهَرْنَا " . فَاتَّبَعَهُ بَعْدُ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا قیس بن نعمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ چھپتے ہوئے جا رہے تھے ، تو ان دونوں نے ابومعبد کے ہاں پڑاؤ کیا ، انہوں نے کہا: اللہ کی قسم ہمارے پاس تو کوئی بکری نہیں ہے اور ہماری بکریاں حاملہ ہیں ، ہمارے پاس دودھ نہیں ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس بکری کا کیا معاملہ ہے ؟ وہ اس بکری کو لے کے آئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے برکت کی دعا کی ، پھر آپ نے برتن میں دودھ دوہ لیا اور انہیں پلایا ، پھر ان حضرات نے پیا ، ابومعبد نے کہا: آپ ہی وہ صاحب ہیں ؟ جن کے بارے میں قریش کا یہ کہنا ہے کہ آپ نے اپنا دین تبدیل کر لیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ لوگ یہی کہتے ہیں ، ابومعبد نے کہا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ آپ جو چیز لے کے آئے ہیں ، وہ حق ہے پھر انہوں نے دریافت کیا : کیا میں آپ کے پیچھے آؤں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں ! جب تک تم یہ نہیں سنتے کہ ہم نے غلبہ پا لیا ہے ، اس کے بعد ( مخصوص عرصہ گزر جانے کے بعد ) ابومعبد ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے گئے تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9911
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1743)»
وَعَنْ فَائِدٍ مَوْلَى عَبَادِلَ قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ ، فَأَرْسَلَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِلَى ابْنِ سَعْدٍ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْعَرْجِ أَتَانَا ابْنُ سَعْدٍ ، وَسَعْدٌ الَّذِي دَلَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى طَرِيقِ رَكُوبِهِ ، فَقَالَ إِبْرَاهِيمُ : أَخْبِرْنِي مَا حَدَّثَكَ أَبُوكَ ، قَالَ ابْنُ سَعْدٍ : حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَاهُمْ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ ، وَكَانَتْ لِأَبِي بَكْرٍ عِنْدَنَا بِنْتٌ مُسْتَرْضَعَةٌ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَرَادَ الِاخْتِصَارَ فِي الطَّرِيقِ إِلَى الْمَدِينَةِ ، فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ : هَذَا الْغَائِرُ مِنْ رَكُوبِهِ ، وَبِهِ لِصَّانِ مِنْ أَسْلَمَ يُقَالُ لَهُمَا : الْمُهَانَانِ ، فَإِنْ شِئْتَ أَخَذْنَا عَلَيْهِمَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " خُذْ بِنَا عَلَيْهِمَا " ، قَالَ سَعْدٌ : فَخَرَجْنَا حَتَّى إِذَا أَشْرَفْنَا إِذَا أَحَدُهُمَا يَقُولُ لِصَاحِبِهِ : هَذَا الْيَمَانِيُّ ، فَدَعَاهُمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَعَرَضَ عَلَيْهِمَا الْإِسْلَامَ ، فَأَسْلَمَا ثُمَّ سَأَلَهُمَا عَنْ أَسْمَائِهِمَا ، فَقَالَا : نَحْنُ الْمُهَانَانِ قَالَ : " بَلْ أَنْتُمَا الْمُكَرَّمَانِ " . وَأَمَرَهُمَا أَنْ يَقْدَمَا عَلَيْهِ الْمَدِينَةَ فَخَرَجْنَا حَتَّى إِذَا أَتَيْنَا ظَاهِرَ قُبَاءَ فَتَلَقَّى بَنُو عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَيْنَ أَبُو أُمَامَةَ أَسْعَدُ بْنُ زُرَارَةَ ؟ " . فَقَالَ سَعْدُ بْنُ خَيْثَمَةَ : إِنَّهُ قَدْ أَصَابَ قَبْلِي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا أُخْبِرَهُ بِكَ ؟ ثُمَّ مَضَى حَتَّى إِذَا طَلَعَ عَلَى النَّخْلِ فَإِذَا الشَّرْبُ مَمْلُوءٌ ، فَالْتَفَتَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ : " يَا أَبَا بَكْرٍ هَذَا الْمَنْزِلُ رَأَيْتُنِي أَنْزِلُ إِلَى حِيَاضٍ كَحِيَاضِ بَنِي مُدْلِجٍ " . رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ . وَابْنُ سَعْدٍ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
فائد ، جو عبادل کے غلام ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : میں ابراہیم بن عبدالرحمن بن عبداللہ بن ابوربیعہ کے ساتھ نکلا ، ابراہیم بن عبدالرحمن نے ابن سعد کو پیغام بھیجا ( اور بلوایا ) جب ہم ” عرج “ کے مقام پر تھے ، تو ابن سعد ہمارے پاس تشریف لائے ، سعد وہ صاحب ہیں ، جنہوں نے ( ہجرت کے دوران مدینہ منورہ ) کے راستے کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا تھا ، ابراہیم بن عبدالرحمن نے ان سے کہا: آپ ہمیں یہ بتائیے کہ جو آپ کے والد نے آپ کو روایت بیان کی ہے ، تو ابن سعد نے بتایا کہ میرے والد نے مجھے یہ بات بتائی ہے : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کے پاس تشریف لائے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی تھے ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی ایک دودھ پیتی بچی ہمارے علاقے میں دودھ پی رہی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ کی طرف مختصر راستے سے جانا چاہ رہے تھے ، تو سعد نے آپ کی خدمت میں گزارش کی : یہ راستہ سہولت والا ہے ، لیکن یہاں اسلم قبیلے سے تعلق رکھنے والے دو چور ہوتے ہیں ، جن کا نام ” مہانان “ ( یعنی دو بے عزت لوگ ) ہے ، اگر آپ چاہیں تو ہم اس راستے سے چلے جاتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اُسی طرف سے چلو ! سعد کہتے ہیں : ہم وہاں سے نکلے ، جب ہم وہاں پہنچے ، تو ان میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا: یہ یمانی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو بلوایا ، اُن دونوں کے سامنے اسلام رکھا ، تو ان دونوں نے اسلام قبول کر لیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اُن کے نام کے بارے میں دریافت کیا : تو ان دونوں نے جواب دیا : ہم ” مہانان “ ( دو بے عزت لوگ ) ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں ! بلکہ تم دو معزز افراد ہو ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو یہ ہدایت کی کہ وہ دونوں مدینہ منورہ میں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوں پھر ہم وہاں سے نکلے ، یہاں تک کہ ہم قباء پہنچ گئے ، بنو عمرو بن عوف نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : ابوامامہ اسعد بن زرارہ کہاں ہے ؟ سعد بن خیثمہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ مجھ سے پہلے پہنچ گئے تھے ، کیا میں انہیں آپ کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ پھر وہ چلتے رہے ، یہاں تک کہ وہ کھجوروں کے باغات کے پاس آئے ، تو وہاں پانی موجود تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف رخ کیا اور ارشاد فرمایا : اے ابوبکر ! میری پڑاؤ کی یہ وہ جگہ ہے ، جو میں نے خواب میں دیکھی تھی کہ میں ایسے حوض کے پاس پڑاؤ کروں گا ، جو بنومدلج کے حوضوں کی مانند ہو گے “ ۔
یہ روایت عبداللہ بن أحمد نے نقل کی ہے ، ابن سعد کا نام عبداللہ ہے ، میں اُس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9912
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ قَالَتْ : لَمَّا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَخَرَجَ أَبُو بَكْرٍ مَعَهُ احْتَمَلَ أَبُو بَكْرٍ مَعَهُ مَالَهُ كُلَّهُ ، وَكَانَ خَمْسَةَ آلَافِ دِرْهَمٍ أَوْ سِتَّةَ آلَافِ دِرْهَمٍ فَانْطَلَقَ بِهَا مَعَهُ ، قَالَتْ : فَدَخَلَ عَلَيْنَا جَدِّي أَبُو قُحَافَةَ ، وَقَدْ ذَهَبَ بَصَرُهُ ، فَقَالَ : وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاهُ قَدْ فَجَعَكُمْ بِمَالِهِ مَعَ نَفْسِهِ ، قَالَتْ : قُلْتُ : كَلَّا يَا أَبَتِ ، قَدْ تَرَكَ لَنَا خَيْرًا كَثِيرًا ، قَالَتْ : فَأَخَذْتُ أَحْجَارًا فَجَعَلْتُهَا فِي كُوَّةٍ فِي الْبَيْتِ كَانَ أَبِي يَجْعَلُ فِيهَا مَالَهُ ، ثُمَّ جَعَلْتُ عَلَيْهَا ثَوْبًا ثُمَّ أَخَذْتُ بِيَدِهِ ، فَقُلْتُ : ضَعْ يَا أَبَتِ يَدَكَ عَلَى هَذَا الْمَالِ ، قَالَتْ : فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : لَا بَأْسَ إِنْ كَانَ تَرَكَ لَكُمْ هَذَا لَقَدْ أَحْسَنَ ، وَفِي هَذَا لَكُمْ بِلَاغٌ ، قَالَتْ : وَلَا وَاللَّهِ مَا تَرَكَ لَنَا شَيْئًا ، وَلَكِنْ أَرَدْتُ أَنْ أُسْكِنَ الشَّيْخَ بِذَلِكَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ ابْنِ إِسْحَاقَ وَقَدْ صَرَّحَ بِالسَّمَاعِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نکلے ، آپ کے ساتھ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی نکلے ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنا سارا مال ساتھ لے لیا ، جو پانچ ہزار درہم ، یا شاید چھ ہزار درہم بنتے تھے ، وہ اس رقم کو اپنے ساتھ لے گئے ، سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ہمارے دادا سیدنا ابوقحافہ رضی اللہ عنہ ہمارے ہاں تشریف لائے ، اُن کی بینائی رخصت ہو چکی تھی ، انہوں نے کہا: اللہ کی قسم ! ابوبکر کے بارے میں میرا یہ خیال ہے کہ وہ تم لوگوں کو چھوڑ کر سارا مال لے کر اپنے ساتھ لے گیا ہو گا ، میں نے کہا: ہرگز نہیں ! دادا جان ، انہوں نے ہمارے لئے بہت سی بھلائی چھوڑی ہے ، سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے کچھ پتھر لئے اور انہیں گھر میں موجود تھیلی میں ڈال دیا جس میں میرے والد اپنا مال رکھا کرتے تھے ، پھر میں نے اس پر کپڑ ڈالا پھر اسے اپنے ہاتھ میں لیا اور میں نے کہا: اے دادا جان آپ اپنا ہاتھ اس مال پر رکھیں ، سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں انہوں نے اپنا ہاتھ اس مال پر رکھا اور پھر بولے : اگر اس نے تمہارے لئے اتنی رقم چھوڑی ہے ، تو پھر اس میں کوئی حرج نہیں ہے ، اس نے یہ اچھا کیا ہے ، اس سے تمہاری ضروریات پوری ہو جائیں گی ، سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : اللہ کی قسم ! انہوں نے ہمارے لئے کچھ نہیں چھوڑا تھا ، لیکن میں یہ چاہتی تھی کہ اس طرح بزرگوار کو مطمئن کر دوں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، ابن اسحاق کا معاملہ مختلف ہے اور اس نے سماع کی صراحت کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9913
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (88/24) اخرجه احمد فى المسند (350/6)»
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : لَمَّا هَاجَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَرْكَبُ ، وَأَبُو بَكْرٍ رِدْفُهُ ، وَأَبُو بَكْرٍ يَعْرِفُ فِي الطَّرِيقِ لِاخْتِلَافِهِ بِالشَّامِ فَكَانَ يَمُرُّ بِالْقَوْمِ ، فَيَقُولُونَ : مَنْ هَذَا بَيْنَ يَدَيْكَ ؟ فَيَقُولُ : هَذَا يَهْدِينِي ، فَلَمَّا دَنَا مِنَ الْمَدِينَةِ بَعَثَ إِلَى الْقَوْمِ الَّذِينَ أَسْلَمُوا مِنَ الْأَنْصَارِ إِلَى أَبِي أُمَامَةَ وَأَصْحَابِهِ ، فَخَرَجُوا إِلَيْهِمَا ، فَقَالُوا : ادْخُلَا آمِنِينَ مُطَاعِينَ ، فَدَخَلَا - فَذَكَرَ الْحَدِيثَ - . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سوار تھے ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ راستے سے واقف تھے ، کیونکہ وہ شام آتے جاتے رہتے تھے ، وہ جب بھی لوگوں کے پاس سے گزرتے تھے ، تو وہ لوگ یہ دریافت کرتے تھے : یہ آپ کے آگے کون ہے ؟ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ جواب دیتے تھے : یہ میری رہنمائی کر رہے ہیں ، جب وہ مدینہ منورہ کے قریب پہنچے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کو پیغام بھیجا ، یعنی سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کو پیغام بھیجا ، تو یہ حضرات نکل کر ان دونوں کی طرف آئے اور انہوں نے گزارش کی : آپ دونوں صاحبان ایسی حالت میں داخل ہوں کہ آپ محفوظ بھی ہوں اور آپ کی اطاعت بھی کی جائے ، تو یہ دونوں حضرات ( اس علاقے میں ) داخل ہو گئے ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9914
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (3486) اخرجه احمد فى المسند (122/3)»
وَعَنْ صُهَيْبٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَرَأَيْتَ دَارَ هِجْرَتِكُمْ سَبْخَةً بَيْنَ ظَهْرَانَيْ حَرَّةَ ، فَإِمَّا أَنْ تَكُونَ هَجَرَ ، وَإِمَّا أَنْ تَكُونَ يَثْرِبَ " . ¤ قَالَ : وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْمَدِينَةِ وَخَرَجَ مَعَهُ أَبُو بَكْرٍ ، وَكُنْتُ قَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَخْرُجَ مَعَهُ ، وَصَدَّنِي فِتْيَانٌ مِنْ قُرَيْشٍ ، فَجَعَلْتُ لَيْلَتِي تِلْكَ أَقُومُ وَلَا أَقْعُدُ ، فَقَالُوا : قَدْ شَغَلَهُ اللَّهُ عَنْكُمْ بِبَطْنِهِ ، وَلَمْ أَكُنْ شَاكِيًا ، فَنَامُوا ، فَخَرَجْتُ فَلَحِقَنِي مِنْهُمْ نَاسٌ بَعْدَ مَا سِرْتُ يُرِيدُونَ رَدِّي ، فَقُلْتُ لَهُمْ : هَلْ لَكُمْ أَنْ أُعْطِيَكُمْ أَوَاقَ مِنْ ذَهَبٍ وَحُلَّةً سِيَرَاءَ بِمَكَّةَ ، وَتُخَلُّونَ سَبِيلِي وَتُوَثِّقُونَ لِي ، فَفَعَلُوا فَتَبِعْتُهُمْ إِلَى مَكَّةَ ، فَقُلْتُ : احْفِرُوا تَحْتَ أُسْكُفَّةِ الْبَابِ ، فَإِنَّ تَحْتَهَا الْأَوَاقَ ، وَاذْهَبُوا إِلَى فُلَانَةَ بِآيَةِ كَذَا وَكَذَا فَخُذُوا الْحُلَّتَيْنِ ، وَخَرَجْتُ حَتَّى قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قِبَاءً قَبْلَ أَنْ يَتَحَوَّلَ مِنْهَا فَلَمَّا رَآنِي قَالَ : " يَا أَبَا يَحْيَى ، رَبِحَ الْبَيْعُ " ثَلَاثًا . فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا سَبَقَنِي إِلَيْكَ أَحَدٌ ، وَمَا أَخْبَرَكَ إِلَّا جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤ قُلْتُ : وَلِصُهَيْبٍ حَدِيثٌ آخَرُ سَهَوْتُ عَنْهُ يَأْتِي فِي آخِرِ هَذَا الْبَابِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میرا خیال ہے تم لوگوں کی ہجرت کی جگہ ، ایک شوریدہ زمین ہے ، جو دو طرف موجود پتھریلے علاقے کے درمیان ہے یا تو یہ ” حجر “ ہو گا یا ” یثرب “ ہو گا“ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ کی طرف نکلنے لگے ، تو آپ کے ساتھ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی تھے ، میرا بھی یہ ارادہ تھا کہ میں آپ کے ساتھ نکلوں گا ، لیکن قریش کے کچھ نوجوانوں نے مجھے روک لیا ، اس رات میں نوافل پڑھتا رہا ، میں بیٹھا نہیں ان لوگوں نے یہ کہا: اس کے پیٹ کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اسے تم لوگوں سے مشغول کر دیا ہے ، حالانکہ میں بیمار نہیں تھا ، پھر وہ لوگ سو گئے ، تو میں نکلا میرے روانہ ہونے کے بعد ان میں سے کچھ لوگ آ کر مجھ سے ملے ، وہ مجھے واپس لے جانا چاہ رہے تھے ، میں نے ان سے کہا: کیا تم اس بات میں دلچسپی رکھتے ہو ؟ کہ میں سونے کے کچھ اوقیہ اور مکہ میں موجود سیرائی حلہ تمہیں دے دوں ؟ اور تم لوگ میرا راستہ چھوڑ دو ، ان لوگوں نے یہ بات مان لی ، تو میں ان کے پیچھے مکہ تک آیا ، میں نے کہا: تم دروازے کی چوکھٹ کے نیچے سے کھدائی کرو ، ان کے نیچے اوقیہ موجود ہیں ، اور تم فلاں عورت کے پاس فلاں نشانی لے کے جاؤ اور اس سے دو حلے لے لینا ، پھر میں وہاں سے نکلا ، یہاں تک کہ قباء میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، یہ آپ کے وہاں سے منتقل ہونے سے پہلے کی بات ہے جب آپ نے مجھے ملاحظہ فرمایا ، تو آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمایا : اے ابویحیی ! منافع کا سودا کیا ہے ( یعنی تم نے ان لوگوں کو سونا اور حلے دے کر جو اپنا پیچھا کرنے سے روک دیا ہے ) میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھ سے پہلے کوئی آپ تک نہیں پہنچا ( جو آپ کو اس بارے میں بتاتا ، تو ) آپ کو سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے اس بارے میں بتایا ہو گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ایک اور حدیث منقول ہے جسے میں بھول گیا تھا وہ اس باب کے آخر میں آئے گی ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9915
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7296)»
وَعَنِ الْبَرَاءِ قَالَ : كَانَ أَوَّلَ مَنْ قَدِمَ عَلَيْنَا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ أَخِي بَنِي عَبْدِ الدَّارِ بْنِ قُصَيٍّ ، فَقُلْتُ لَهُ : مَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : هُوَ مَكَانُهُ ، وَأَصْحَابُهُ عَلَى أَثَرِي . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں مہاجرین میں سے ہمارے پاس سب سے پہلے سیدنا معصب بن عمیر رضی اللہ عنہ تشریف لائے جن کا تعلق بنو عبدالدار بن قصی سے تھا میں نے ان سے دریافت کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حال ہے ؟ انہوں نے بتایا : آپ اپنی جگہ پر ہیں اور آپ کے اصحاب میرے پیچھے آ رہے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9916
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (362/20)»
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ : كُنَّا قَدِ اسْتَبْطَأْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْقُدُومِ عَلَيْنَا ، وَكَانَتِ الْأَنْصَارُ يَفِدُونَ إِلَى ظَهْرِ الْحَرَّةِ فَيَجْلِسُونَ حَتَّى يَرْتَفِعَ النَّهَارُ ، فَإِذَا ارْتَفَعَ النَّهَارُ وَحَمِيَتِ الشَّمْسُ رَجَعَتْ إِلَى مَنَازِلِهَا ، فَقَالَ عُمَرُ : كُنَّا نَنْتَظِرُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ قَدْ أَوْفَى عَلَى أُطُمٍ مِنْ آطَامِهِمْ فَصَاحَ بِأَعْلَى صَوْتِهِ : يَا مَعْشَرَ الْعَرَبِ ، هَذَا صَاحَبُكُمُ الَّذِي تَنْتَظِرُونَ ، قَالَ عُمَرُ : سَمِعْتُ الْوَجْبَةَ فِي بَنَى عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ ، فَأَخْرَجْتُ رَأْسِي فَإِذَا الْمُسْلِمُونَ قَدْ لَبِسُوا السِّلَاحَ ، فَانْطَلَقْتُ مَعَ الْقَوْمِ عِنْدَ الظَّهِيرَةِ فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ الْيَمِينِ حَتَّى نَزَلَ فِي بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ ، وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ ، وَغَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمارے پاس ( مدینہ منورہ میں ) تشریف آوری میں تاخیر ہو گئی ، انصار صبح کے وقت پتھریلی زمین کی طرف چلے جاتے تھے اور بیٹھے رہتے تھے یہاں تک کہ دن چڑھ جاتا تھا جب دن چڑھ جاتا تھا اور سورج کی تپش زیادہ ہو جاتی تھی ، تو وہ لوگ اپنے گھروں کی طرف واپس چلے جاتے تھے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کر رہے تھے ، اسی دوران یہودیوں میں سے ایک شخص جو کسی بلند عمارت پر چڑھا ہوا تھا ، اس نے بلند آواز میں چیخ کر کہا: اے عربوں کے گروہ ! یہ تمہارے آقا آ رہے ہیں ، جن کا تم انتظار کر رہے ہو ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ہمیں بنو عمرو بن عوف کے علاقے میں ہلچل سنائی دی ، میں نے سر نکال کے دیکھا تو مسلمان ہتھیار پہن رہے تھے ، دن چڑھ چکا تھا ، میں بھی لوگوں کے ساتھ نکلا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دائیں طرف ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بن عمرو بن عوف کے علاقے میں پڑاؤ کیا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن زید بن اسلم ہے ، جسے ابوحاتم اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9917
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (4745)»
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ : اجْتَمَعْنَا لِلْهِجْرَةِ أَوْعَدْتُ أَنَا وَعِيَّاشُ بْنُ أَبِي رَبِيعَةَ ، وَهِشَامُ بْنُ الْعَاصِ الْمَيْضَاةَ - مَيْضَاةَ بَنِي غِفَارٍ - فَوْقَ شُرَفٍ ، وَقُلْنَا : أَيُّكُمْ لَمْ يُصْبِحْ عِنْدَهَا ، فَقَدِ احْتُبِسَ ، فَلْيَمْضِ صَاحِبَاهُ ، فَحُبِسَ عَنَّا هِشَامُ بْنُ الْعَاصِ ، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَنْزِلَنَا فِي بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ ، وَخَرَجَ أَبُو جَهْلِ بْنُ هِشَامٍ ، وَالْحَارِثُ بْنُ هِشَامٍ إِلَى عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ ، وَكَانَ ابْنُ عَمِّهِمَا وَأَخَاهُمَا لِأُمِّهِمَا حَتَّى قَدِمَا عَلَيْنَا الْمَدِينَةَ فَكَلَّمَاهُ ، فَقَالَا لَهُ : إِنَّ أُمَّكَ نَذَرَتْ أَنْ لَا تَمَسَّ رَأْسَهَا مُشْطٌ حَتَّى تَرَاكَ ، فَرَقَّ لَهَا ، فَقُلْتُ لَهُ : يَا عَيَّاشُ ، وَاللَّهِ إِنْ يَرُدَّكَ الْقَوْمُ إِلَّا عَنْ دِينِكَ ، فَاحْذَرْهُمْ ، فَوَاللَّهِ لَوْ قَدْ آذَى أُمَّكَ الْقَمْلُ لَامْتَشَطَتْ ، وَلَوْ قَدِ اشْتَدَّ عَلَيْهَا حَرُّ مَكَّةَ - أَحْسَبُهُ قَالَ - لَامْتَشَطَتْ قَالَ : إِنَّ لِي هُنَاكَ مَالًا فَآخُذُهُ ؟ قَالَ : قُلْتُ : وَاللَّهِ إِنَّكَ لَتَعْلَمُ أَنِّي مِنْ أَكْثَرِ قُرَيْشٍ مَالًا ، فَلَكَ نِصْفُ مَالِي وَلَا تَذْهَبْ مَعَهُمَا ، فَأَبَى إِلَّا أَنْ يَخْرُجَ مَعَهُمَا ، فَقُلْتُ لَهُ لَمَّا أَبَى عَلَيَّ : أَمَّا إِذْ فَعَلْتَ مَا فَعَلْتَ فَخُذْ نَاقَتِي هَذِهِ ; فَإِنَّهَا نَاقَةٌ ذَلُولٌ فَالْزَمْ ظَهْرَهَا ، فَإِنْ رَابَكَ مِنَ الْقَوْمِ رَيْبٌ ; فَأَنِخْ عَلَيْهَا ، فَخَرَجَ مَعَهُمَا عَلَيْهَا حَتَّى إِذَا كَانُوا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ ، قَالَ أَبُو جَهْلِ بْنُ هِشَامٍ : وَاللَّهِ لَقَدِ اسْتَبْطَأْتُ بَعِيرِي هَذَا ، أَفَلَا تَحْمِلُنِي عَلَى نَاقَتِكَ هَذِهِ ؟ قَالَ : بَلَى ، فَأَنَاخَ وَأَنَاخَا لِيَتَحَوَّلَ عَلَيْهَا ، فَلَمَّا اسْتَوَوْا بِالْأَرْضِ عَدَّيَا عَلَيْهِ ، فَأَوْثَقَاهُ ثُمَّ أَدْخَلَاهُ مَكَّةَ ، وَفَتَنَاهُ فَافْتُتِنَ قَالَ : فَكُنَّا نَقُولُ : وَاللَّهِ لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِمَّنِ افْتُتِنَ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا ، وَلَا يَقْبَلُ تَوْبَةَ قَوْمٍ عَرَفُوا اللَّهَ ثُمَّ رَجَعُوا إِلَى الْكُفْرِ ; لِبَلَاءٍ أَصَابَهُمْ قَالَ : وَكَانُوا يَقُولُونَ ذَلِكَ لِأَنْفُسِهِمْ ، فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَدِينَةَ أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِمْ ، وَفِي قَوْلِنَا لَهُمْ ، وَقَوْلِهِمْ لِأَنْفُسِهِمْ : يَاعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ إِلَى قَوْلِهِ : ( وَأَنْتُمْ لَا تَشْعُرُونَ ) ، قَالَ عُمَرُ : فَكَتَبْتُهَا فِي صَحِيفَةٍ وَبَعَثْتُ بِهَا إِلَى هِشَامِ بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ هِشَامٌ : فَلَمْ أَزَلْ أَقْرَؤُهَا بِذِي طُوَى أَصْعَدُ بِهَا فِيهِ حَتَّى فَهِمْتُهَا قَالَ : فَأُلْقِيَ فِي نَفْسِي أَنَّهَا إِنَّمَا نَزَلَتْ فِينَا ، وَفِيمَا كُنَّا نَقُولُ فِي أَنْفُسِنَا ، وَيُقَالُ فِينَا ، فَرَجَعْتُ فَجَلَسْتُ عَلَى بَعِيرِي فَلَحِقْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْمَدِينَةِ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نے ہجرت کرنے کا ارادہ کر لیا ، میں نے عیاش بن ابوربیعہ نے ، اور ہشام بن عاص نے بنوغفار کے ” معیضاۃ “ پر اکٹھے ہونے کا وعدہ کیا ، جو ٹیلے پر تھا ، ہم نے یہ طے کیا کہ جو شخص وہاں نہیں پہنچ پائے گا ، وہ پیچھے رہ جائے گا اور باقی لوگ چلے جائیں گے ، تو ہشام بن عاص ہم تک نہیں آ سکے ، جب ہم مدینہ منورہ میں بنوعمرو بن عوف کے علاقے میں قباء میں اپنی رہائشی جگہ پر پہنچ گئے ، تو ابوجہل بن ہشام اور حارث بن ہشام نکل کر عیاش بن ابوبیعہ کے پاس آئے ، یہ دونوں عیاش بن ابوربیعہ کے چچازاد بھی تھے اور ماں کی طرف سے شریک بھائی بھی تھے یہ دونوں مدینہ منورہ میں ہمارے پاس آئے ، ان دونوں نے عیاش کے ساتھ بات چیت کی اور اس سے یہ کہا: تمہاری ماں نے یہ نذر مانی ہے کہ وہ اس وقت تک بالوں میں کنگھی نہیں کرے گی جب تک تمہیں دیکھ نہیں لے گی ، تو عیاش کا دل اپنی والدہ کے لئے پسیج گیا ، میں نے اس سے کہا: اے عیاش ! اللہ کی قسم ! یہ لوگ تمہیں تمہارے دین سے واپس موڑنا چاہتے ہیں ، تو تم ان سے بچو ! اللہ کی قسم ! جب جوئیں تمہاری ماں کو تنگ کریں گی ، تو وہ خود ہی کنگھی کر لے گی ، اور جب مکہ کی گرمی اس پر گراں گزرے گی راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے ، روایت میں یہ الفاظ ہیں : تو وہ کنگھی بھی کر لے گی ، عیاش نے کہا: وہاں میرا مال موجود ہے ، وہ میں لے لوں گا ، میں نے کہا: اللہ کی قسم تم یہ بات جانتے ہو کہ میرے پاس قریش میں سب سے زیادہ مال تھا ، میرا نصف مال تم لے لو ، لیکن تم ان دونوں کے ساتھ نہ جاؤ ، لیکن اس نے یہ بات نہیں مانی اور ان دونوں کے ساتھ چلا گیا ، جب اس نے میری بات نہیں مانی ، تو میں نے اس سے کہا: چلو تمہاری جو مرضی ہے وہ کرو ، لیکن تم میری یہ اونٹنی لے لو ، یہ ایک فرمانبردار اونٹنی ہے ، تم اس کی پشت پر بیٹھ جانا ، اگر ان لوگوں نے تمہیں کوئی دھوکہ دیا ، تو تم اس پر سوار ہو جانا ، پھر وہ ان دونوں کے ساتھ اس اونٹنی پر بیٹھ کر چلا گیا ، راستے میں کسی جگہ پر ابوجہل بن ہشام نے کہا: اللہ کی قسم ! میرا یہ اونٹ چلنے میں سستی دکھا رہا ہے ، کیا تم مجھے اپنی اس اونٹنی پر سواری کرنے دیتے ہو ؟ عیاش نے کہا: ٹھیک ہے اس نے اونٹنی کو بٹھایا تاکہ ابوجہل اس پر منتقل ہو جائے جب وہ لوگ زمین پر بیٹھے ، تو ان دونوں نے عیاش پر حملہ کر کے اسے باندھ دیا اور پھر اسے لے کر مکہ چلے گئے اور اسے آزمائش کا شکار کر دیا ، تو وہ آزمائش کا شکار ہوا ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ہم یہ کہا: کرتے تھے : اللہ کی قسم ! جو شخص آزمائش کا شکار کرتا ہے ، اس کی کوئی فرض یا نفل عبادت اللہ تعالیٰ قبول نہیں کرے گا ، اور اس قوم کی توبہ بھی اللہ تعالیٰ قبول نہیں کرے گا ، جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کر لی ہو اور پھر پیش آنے والی کسی مصیبت کے نتیجے میں وہ کفر کی طرف واپس چلے گئے ہوں ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : لوگ یہ موقف اپنی ذاتی رائے کی بنیاد پر رکھتے تھے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے ، تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے بارے میں ، ہمارے موقف اور ان لوگوں کے بارے میں ان کے اپنے موقوف کے بارے میں یہ آیت کی : ” اے میرے وہ بندو ! جنہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا ، تم اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو ، بے شک اللہ تعالیٰ تمام گناہوں کی مغفرت کر دے گا ، بے شک وہ مغفرت کرنے والا رحم کرنے والا ہے “ یہ آیت یہاں تک ہے : ” اور تم شعور نہیں رکھتے ہو “ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ہم نے یہ آیت ایک صحیفہ میں نوٹ کی اور اسے ہشام بن العاص کو بھجوا دیا ، ہشام کہتے ہیں : ذی طوی کے مقام پر میں مسلسل اسے پڑھتا رہا یہاں تک کہ یہ مجھے سمجھ آ گئی ، پھر میرے ذہن میں یہ بات آئی ، یہ ہمارے بارے میں نازل ہوئی ہے اور اس چیز کے بارے میں نازل ہوئی ہے ، جو ہم اپنی ذات کے بارے میں کہتے ہیں ، یا جو ہمارے بارے میں کہی جاتی ہے ، تو میں واپس آیا ، اپنے اونٹ پر بیٹھا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آ ملا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9918
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1746)»
وَعَنْ عُرْوَةَ قَالَ : خَرَجَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، وَعِيَّاشُ بْنُ أَبِي رَبِيعَةَ فِي أَصْحَابٍ لَهُمْ فَنَزَلُوا فِي بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ ، فَطَلَبَ أَبُو جَهْلِ بْنُ هِشَامٍ ، وَالْحَارِثُ بْنُ هِشَامٍ عَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ وَهُوَ أَخُوهُمَا لِأُمِّهِمَا فَقَدِمَا الْمَدِينَةَ ، فَذَكَرَا لَهُ حُزْنَ أُمِّهِ ، فَقَالَا : إِنَّهَا حَلَفَتْ أَنْ لَا يُظِلَّهَا بَيْتٌ ، وَلَا يَمَسَّ رَأْسَهَا دُهْنٌ حَتَّى تَرَاكَ وَلَوْلَا ذَلِكَ لَمْ نَطْلُبْكَ ، فَنُذَكِّرْكَ اللَّهَ فِي أُمِّكَ ، وَكَانَ بِهَا رَحِيمًا ، وَكَانَ يَعْلَمُ مِنْ حُبِّهَا إِيَّاهُ وَرِقِّهَا - يَعْنِي عَلَيْهِ - مَا كَانَ يُصَدِّقُهُمَا بِهِ ، فَرَقَّ لَهَا لِمَا ذَكَرُوا لَهُ وَأَبَى أَنْ يَتْبَعَهُمَا حَتَّى عَقَدَ لَهُ الْحَارِثُ بْنُ هِشَامٍ ، فَلَمَّا خَرَجَ مَعَهُمَا ، أَوْثَقَاهُ فَلَمْ يَزَلْ هُنَاكَ مُوَثَّقًا حَتَّى خَرَجَ مَعَ مَنْ خَرَجَ قَبْلَ فَتْحِ مَكَّةَ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَعَا لَهُ بِالْخَلَاصِ وَالْحِفْظِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ . وَرَوَاهُ أَيْضًا عَنِ ابْنِ شِهَابٍ مُرْسَلًا ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
عروہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور عیاش بن ابوربیعہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ نکلے ، ان لوگوں نے بنو عمرو بن عوف کے علاقے میں رہائش اختیار کی ، ابوجہل بن ہشام اور حارث بن ہشام ، عیاش بن ابوربیعہ کی تلاش میں نکلے ، عیاش ان دونوں کا ماں کی طرف سے شریک بھائی تھا ، یہ دونوں مدینہ منورہ آئے اور ان دونوں نے عیاش کے سامنے اس کی والدہ کے پریشان ہونے کا ذکر کیا ، ان دونوں نے یہ بتایا کہ اس خاتون نے یہ حلف اٹھایا ہے کہ وہ نہ گھر کے سائے میں آئے گی ، نہ اپنے سر میں تیل لگائے گی جب تک تمہیں دیکھ نہیں لیتی ، انہوں نے بتایا کہ اگر ایسا نہ ہوتا ، تو ہم نے تمہاری تلاش میں نہیں آنا تھا ، تو تمہاری والدہ کے حوالے سے ہم تمہیں اللہ کی یاد دلاتے ہیں ، وہ شخص اپنی والدہ سے بڑی محبت کرتا تھا اور وہ یہ بھی جانتا تھا کہ اس کی والدہ بھی اس سے محبت کرتی ہے ، اس لئے اسے اُن کی بات سچ سمجھنے میں کوئی دشواری نہیں ہوئی ، ان لوگوں نے اس کے سامنے جو صورت حال ذکر کی ، اس کے حوالے سے اس کا دل پسیج گیا ، لیکن اس نے ان دونوں کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا ، جب تک حارث بن ہشام اس کے ساتھ طے نہیں کر لیتا ، جب وہ ان دونوں کے ساتھ نکلا ، تو ان دونوں نے اسے باندھ دیا اور وہ مسلسل بندش میں رہا ، یہاں تک کہ مکہ فتح ہونے سے کچھ عرصہ پہلے ( وہ اپنے دوسرے ساتھیوں کے ساتھ ) وہاں سے نکلے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے نجات پانے اور محفوظ رہنے کی دعا کی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، راوی نے یہ روایت ابن شہاب کے حوالے سے ” مرسل “ روایت کے طور پر بھی نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9919
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ مرسل
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : كُنَّا نَقُولُ : لَيْسَ لِمَنِ افْتُتِنَ تَوْبَةٌ إِذَا تَرَكَ دِينَهُ بَعْدَ إِسْلَامِهِ وَمَعْرِفَتِهِ . فَأَنْزَلَ اللَّهُ فِيهِمْ : يَاعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِلَى قَوْلِهِ : ( مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَكُمُ الْعَذَابُ بَغْتَةً وَأَنْتُمْ لَا تَشْعُرُونَ ) فَكَتَبْتُهَا بِيَدِي ، ثُمَّ بَعَثْتُ بِهَا إِلَى هِشَامِ بْنِ الْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ ، قَالَ هِشَامٌ : فَلَمَّا جَاءَتْنِي صَعَدْتُ بِهَا كَذَا أُصَوِّتُ بِهَا وَأَقُولُ فَلَا أَفْهَمُهَا ، فَوَقَعَتْ فِي نَفْسِي أَنَّهَا نَزَلَتْ فِينَا وَمَا كُنَّا نَقُولُ ، فَجَلَسْتُ عَلَى بَعِيرِي ثُمَّ لَحِقْتُ بِالْمَدِينَةِ ، وَأَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَنْتَظِرُ أَنْ يُؤْذَنَ لَهُ بِالْهِجْرَةِ ، وَأَصْحَابُهُ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ قَدِمُوا إِرْسَالًا ، وَقَدْ كَانَ أَبُو بَكْرٍ اسْتَأْذَنَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْهِجْرَةِ فَقَالَ : " لَا تَعْجَلْ لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَ لَكَ صَاحِبًا " . فَطَمِعَ أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَكُونَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَعْنِي نَفْسَهُ - وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ قَدْ أَعَدَّ لِذَلِكَ رَاحِلَتَيْنِ يَعْلِفُهُمَا فِي دَارِهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بَشِيرٍ الدِّمَشْقِيِّ ، ضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ہم یہ کہا: کرتے تھے : جو شخص خود کو آزمائش کا شکار کر دے ، اُس کی توبہ قبول نہیں ہو گی جبکہ اس نے اسلام قبول کرنے کے بعد اور اس کی معرفت کے بعد ، اپنے دین کو ترک کیا ہو ، تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے بارے میں یہ آیات نازل کیں : ” اے میرے وہ بندو ! جنہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا ، تم اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو “ یہ آیت یہاں تک ہے : ” اس سے پہلے کہ تمہارے پاس اچانک عذاب آ جائے اور تمہیں شعور بھی نہ ہو “ راوی کہتے ہیں : میں نے اپنے ہاتھ کے ذریعے اس آیت کو تحریر کیا اور پھر اسے ہشام بن العاص بن وائل کو بھیجوایا ، ہشام کہتے ہیں : جب یہ آیت میرے پاس آئی ، تو میں نے اسے پڑھنا شروع کیا ، لیکن مجھے اس کی سمجھ نہیں آئی ، پھر میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ یہ آیت ہمارے بارے میں ہے ، اور جو ہم کہتے ہیں ، اس کے بارے میں نازل ہوئی ہے ، تو میں اپنے اونٹ پر بیٹھا اور مدینہ منورہ آ گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس انتظار میں تھے کہ آپ کو ہجرت کی اجازت مل جائے ، مہاجرین سے تعلق رکھنے والے آپ کے اصحاب مختلف ٹولیوں کی شکل میں آ چکے تھے ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت کی اجازت مانگی تھی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا : تم جلدی نہ کرو ! ہو سکتا ہے ، اللہ تعالیٰ تمہارے لئے کوئی ساتھی مقرر کر دے ، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو یہ توقع تھی کہ وہ ساتھی خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہوں گے ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ہجرت کے لئے دو سواریاں تیار کی تھیں ، وہ اپنے گھر میں اُن دونوں کو چارہ کھلایا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن بشیر دمشقی ہے ، جسے امام ابوحاتم نے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9920
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (178/22)»
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : لَعَنَ اللَّهُ مَنْ يَزْعُمُ أَنِّي هَاجَرْتُ قَبْلَ أَبِي ، إِنَّمَا قَدَّمَنِي فِي ثِقَلِهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ اس شخص پر لعنت کرے ، جو یہ کہتا ہے کہ میں نے اپنے والد ( یعنی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ) سے پہلے ہجرت کی تھی ، ( اصل بات یہ ہے : ) اُنہوں نے مجھے سامان کے ساتھ آگے بھجوا دیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9921
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
وَعَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ : نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِقُبَاءٍ عَلَى كُلْثُومِ بْنِ هَدْمِ أَخِي بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ وَيُقَالُ : بَلْ نَزَلَ عَلَى سَعْدِ بْنِ خَيْثَمَةَ ، فَأَقَامَ فِي بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ ، وَأَدْرَكَتْهُ الْجُمُعَةُ فِي بَنِي سَالِمِ بْنِ عَوْفٍ فَصَلَّى الْجُمُعَةَ الْكُبْرَى فِي الْمَسْجِدِ بِبَطْنِ الْوَادِي . ¤ قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ : ثُمَّ نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى أَبِي أَيُّوبَ وَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِبِنَاءِ مَسْجِدِهِ فِي تِلْكَ السَّنَةِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابن اسحاق بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قباء میں بنو عمرو بن عوف سے تعلق رکھنے والے صاحب سیدنا کلثوم بن ہدم رضی اللہ عنہ کے ہاں پڑاؤ کیا تھا ، ایک قول کے مطابق آپ نے سیدنا سعد بن خیثمہ رضی اللہ عنہ کے ہاں پڑاؤ کیا تھا ، آپ بنوعمرو بن عوف کے محلے میں مقیم رہے ، یہاں تک کہ بنوسالم بن عوف کے علاقے میں جمعہ کا دن آ گیا ، تو آپ نے آبادی کے نشیبی حصے میں موجود مسجد میں ، جمعہ کی نماز ادا کی ، اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے ہاں ٹھہرنے ، اور اُسی سال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مسجد ( یعنی مسجد نبوی ) کی تعمیر کا حکم دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9922
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5414)»
وَعَنْ عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ قَالَ : قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَدِينَةَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ لِاثْنَتَيْ عَشْرَةَ لَيْلَةً خَلَتْ مِنْ رَبِيعٍ الْأَوَّلِ فَأَقَامَ بِالْمَدِينَةِ عَشْرَ سِنِينَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بارہ ربیع الاول ، پیر کے دن ، مدینہ منورہ تشریف لائے تھے اور آپ نے مدینہ منورہ میں دس سال قیام کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9923
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (172/17)»
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَاسْتَنَاخَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ بَيْنَ دَارِ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، وَدَارِ الْحَسَنِ بْنِ زَيْدٍ ، فَأَتَاهُ النَّاسُ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الْمَنْزِلُ ، فَانْبَعَثَ بِهِ رَاحِلَتُهُ ، فَقَالَ : " دَعُوهَا فَإِنَّهَا مَأْمُورَةٌ " . ثُمَّ خَرَجَتْ بِهِ حَتَّى جَاءَتْ بِهِ مَوْضِعَ الْمِنْبَرِ فَاسْتَنَاخَتْ بِهِ ثُمَّ تَجَلْجَلَتْ ، وَلِنَاسٍ ثَمَّ عَرِيشٌ كَانُوا يَرُشُّونَهُ وَيُعَمِّرُونَهُ وَيَتَبَرَّدُونَ فِيهِ حَتَّى نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ رَاحِلَتِهِ ، فَآوَى إِلَى الظِّلِّ فَنَزَلَ فِيهِ فَأَتَاهُ أَبُو أَيُّوبَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنْزِلِي أَقْرَبُ الْمَنَازِلِ إِلَيْهِ فَانْقُلْ رَحْلَكَ قَالَ : " نَعَمْ " . فَذَهَبَ بِرَحْلِهِ إِلَى الْمَنْزِلِ ثُمَّ أَتَاهُ رَجُلٌ آخَرُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، انْزِلْ عَلَيَّ ، فَقَالَ : " إِنَّ الرَّجُلَ مَعَ رَحْلِهِ حَيْثُ كَانَ " . وَثَبَتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْعَرِيشِ اثْنَتَيْ عَشَرَةَ لَيْلَةً حَتَّى بَنَى الْمَسْجِدَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ صِدِّيقُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ الذَّهَبِيُّ : لَيْسَ بِالْحُجَّةِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے ( راوی بیان کرتے ہیں : ) تو آپ کی اونٹنی اس جگہ پر ٹھہر گئی ، جو ( اس وقت ) امام جعفر صادق اور امام حسن بن زید کے گھروں کے درمیان والی جگہ ہے لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! رہائشی جگہ کون سی ہو گی ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی آپ کو لے کر کھڑی ہو گئی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایسے چھوڑ دو ! یہ حکم کی پابند ہے ، پھر وہ آپ کو لے کر چلی ، یہاں تک کہ وہ آپ کو لے کر اس جگہ پر آئی ، جہاں منبر رکھا ہوا ہے ، وہاں وہ ٹھہر گئی اور بیٹھ گئی ، اس جگہ پر لوگوں نے ایک چھپر بنایا ہوا تھا ، جہاں وہ پانی چھڑکایا کرتے تھے اور وہاں ٹھنڈک حاصل کیا کرتے تھے ، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری سے اترے آپ سائے کی طرف آئے اور وہاں ٹھہر گئے ، سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرا گھر تمام گھروں سے زیادہ قریب ہے ، تو آپ اپنی سواری کو ( یا سامان کو ) وہاں منتقل کر دیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ٹھیک ہے ! پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامان کو اپنے گھر لے گئے ، ایک اور شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ آپ میرے ہاں پڑاؤ کیجئے ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : آدمی اپنے سامان کے ساتھ ہوتا ہے ، جہاں وہ ہو ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بارہ دن تک اس جگہ پر مقیم رہے ، یہاں تک کہ آپ نے مسجد کی تعمیر شروع کروائی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی صدیق بن موسیٰ ہے ، امام ذہبی کہتے ہیں : وہ حجت نہیں ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9924
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ : نَزَلَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى حُبَيْبٍ ، [ وَيُقَالُ : خُبَيْبُ - ابْنُ يَسَافِ - أَخِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ ] بِالسُّنْحِ . وَيُقَالُ : بَلْ نَزَلَ عَلَى خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ أَخِي بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابن اسحاق بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ، سیدنا حبیب بن یساف رضی اللہ عنہ ، اور ایک قول کے مطابق ، سیدنا خبیب بن یساف رضی اللہ عنہ کے ہاں ٹھہرے ، جن کا تعلق بنو حارث بن خزرج سے تھا ، اور وہ ” سخ“ کے مقام پر رہتے تھے ، ایک قول کے مطابق ، وہ سیدنا خارجہ بن زید بن ابوزہیر رضی اللہ عنہ کے ہاں ٹھہرے تھے ، جن کا تعلق بنو حارث بن خزرج سے تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9925
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3545 و 4138)»
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنِ جَحْشٍ ، وَكَانَ آخِرَ مَنْ بَقِيَ مِمَّنْ هَاجَرَ ، وَكَانَ قَدْ كُفَّ بَصَرُهُ ، فَلَمَّا أَجْمَعَ عَلَى الْهِجْرَةِ كَرِهَتِ امْرَأَتُهُ ذَلِكَ بِنْتُ حَرْبِ بْنِ أُمَيَّةَ ، وَجَعَلَتْ تُشِيرُ عَلَيْهِ أَنْ يُهَاجِرَ إِلَى غَيْرِهِ ، فَهَاجَرَ بِأَهْلِهِ وَمَالِهِ مُكْتَتِمًا مِنْ قُرَيْشٍ حَتَّى قَدِمَ الْمَدِينَةَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَثَبَ أَبُو سُفْيَانَ بْنُ حَرْبٍ فَبَاعَ دَارَهُ بِمَكَّةَ فَمَرَّ بِهَا بَعْدَ ذَلِكَ أَبُو جَهْلٍ ابْنُ هِشَامٍ ، وَعُتْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ ، وَشَيْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ ، وَالْعَبَّاسُ بْنُ عَبَدِ الْمُطَّلِبِ ، وَحُوَيْطِبُ بْنُ عَبَدِ الْعُزَّى ، وَفِيهَا أُهُبٌ مَعْطُونَةٌ ، فَذَرَفَتْ عَيْنَا عُتْبَةَ ، وَتَمَثَّلَ بِبَيْتٍ مِنْ شِعْرٍ : ¤ وَكُلُّ دَارٍ وَإِنْ طَالَتْ سَلَامَتُهَا يَوْمًا سَيُدْرِكُهَا النَّكْبَاءُ وَالْحُوبُ . قَالَ أَبُو جَهْلٍ : وَأَقْبَلَ عَلِيَّ الْعَبَّاسُ ، فَقَالَ : هَذَا مَا أَدْخَلْتُمْ عَلَيْنَا فَلَمَّا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَكَّةَ يَوْمَ الْفَتْحِ قَامَ أَبُو أَحْمَدَ يَنْشُدُ دَارَهُ ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ فَقَامَ إِلَى أَبِي أَحْمَدَ فَانْتَحَاهُ ، فَسَكَتَ أَبُو أَحْمَدَ عَنْ نَشِيدِ دَارِهِ ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : وَكَانَ أَبُو أَحْمَدَ يَقُولُ - وَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُتَّكِئٌ عَلَى يَدِهِ يَوْمَ الْفَتْحِ - : ¤ حَبَّذَا مَكَّةَ مِنْ وَادِي بِهَا أَمْشِي بِلَا هَادِي ¤ بِهَا يَكْثُرُ عُوَّادِي بِهَا تَرْكِزُ أَوْتَادِي ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَبِيبٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ ، یہ ان افراد میں سے آخری تھے ، جو ہجرت کرنے والے باقی رہ گئے تھے ، اُن کی بینائی کمزور ہو چکی تھی ، جب انہوں نے ہجرت کرنے کا ارادہ کیا ، تو ان کی اہلیہ ، جو حرب بن امیہ کی صاحبزادی تھیں ، انہوں نے اس بات کو ناپسند کیا اور انہوں نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ کسی اور طرف ہجرت کر لیں ، تو وہ اپنے اہلِ خانہ اور مال کو لے کر قریش سے چھپتے ہوئے ہجرت کے لئے نکلے ، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مدینہ منورہ آ گئے ، ابوسفیان بن حرب نے مکہ میں موجود ان کا گھر فروخت کر دیا ، اس کے بعد ابوجہل بن ہشام ، عتبہ بن ربیعہ ، شیبہ بن ربیعہ ، عباس بن عبدالمطلب اور حويطب بن عبدالعزیٰ کا اس گھر کے پاس سے گزر ہوا ، تو وہاں کچھ کھالیں رکھی ہوئی تھیں ، عتبہ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور اس نے صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے یہ شعر پڑھا : ” ہر گھر خواہ وہ کتنے عرصے تک سلامت رہے ، آخر کار ایک دن اسے بربادی اور وحشت لاحق ہو جاتے ہیں “ راوی کہتے ہیں : ابوجہل نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہو کر یہ کہا: یہ صورت حال آپ لوگوں نے ہم پر داخل کی ہے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن مکہ میں داخل ہوئے ، تو ابو أحمد کھڑے ہوئے اور انہوں نے اپنے گھر کے حوالے سے بات چیت کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو حکم دیا ، وہ اٹھ کر ابو أحمد کی طرف گئے اور انہیں اس سے روکا ، تو ابو أحمد اپنے گھر کے حوالے سے بات کرنے سے خاموش ہو گئے ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : فتح مکہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ پر ٹیک لگائی ہوئی تھی اور ابو أحمد یہ شعر پڑھ رہے تھے : ” مکہ کی وادی کے کیا کہنے ؟ میں یہاں کسی رہنما کے بغیر چلتا ہوں ، یہاں میرے ملاقاتی بہت سے ہیں ، یہاں میرے کیل گاڑے گئے ہیں “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن شبیب ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9926
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ قُدُومُنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِخَمْسٍ مِنَ الْهِجْرَةِ خَرَجْنَا مُتَوَصِّلِينَ مَعَ قُرَيْشٍ عَامَ الْأَحْزَابِ ، وَأَنَا مَعَ أَخِي الْفَضْلِ ، وَمَعَنَا غُلَامُنَا أَبُو رَافِعٍ حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى الْعَرْجِ ، فَضَلَّ لَنَا فِي الطَّرِيقِ رَكُوبَةٌ وَأَخَذْنَا فِي ذَلِكَ الطَّرِيقِ عَلَى الْجَثْجَاثَةِ حَتَّى خَرَجْنَا عَلَى بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ حَتَّى دَخَلْنَا الْمَدِينَةَ ، فَوَجَدْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْخَنْدَقِ ، وَأَنَا يَوْمَئِذٍ ابْنُ ثَمَانِ سِنِينَ ، وَأَخِي ابْنُ ثَلَاثَ عَشْرَةَ سَنَةً . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ مِنْ طَرِيقِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَارَةَ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، وَكِلَاهُمَا لَمْ يُوَثَّقْ وَلَمْ يُضَعَّفْ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہجرت کے پانچویں سال آئے تھے ، غزوہ احزاب کے سال ہم قریش کے ساتھ مل کر نکلے تھے ، میں اپنے بھائی سیدنا فضل رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا ، اور ہمارے ساتھ ہمارا غلام ابورافع تھا ، یہاں تک کہ جب ہم ” عرج “ کے مقام پر پہنچے ، تو راستے میں ہماری سواری گم ہو گئی ، ہم نے چثجاثہ کی طرف سے وہ راستہ طے کیا ، یہاں تک کہ بنوعمرو بن عوف کے محلے میں آ نکلے ، پھر ہم مدینہ منورہ میں داخل ہو گئے ، ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خندق میں پایا ، میں اُن دنوں آٹھ سال کا تھا اور میرے بھائی ( سیدنا فضل رضی اللہ عنہ ) تیرہ سال کے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں عبداللہ بن محمد بن عمارہ انصاری کے حوالے سے ، سلیمان بن داؤد بن حصین سے نقل کی ہے ، ان دونوں کی توثیق بھی نہیں کی گئی ہے اور انہیں ضعیف بھی قرار نہیں دیا گیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9927
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ صُهَيْبٍ أَنَّ الْمُشْرِكِينَ لَمَّا أَطَافُوا بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَقْبَلُوا عَلَى الْغَارِ وَأَدْبَرُوا قَالَ : وَاصُهَيْبَاهُ وَلَا صُهَيْبَ لِي ، فَلَمَّا أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْخُرُوجَ بَعَثَ أَبَا بَكْرٍ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا إِلَى صُهَيْبٍ فَوَجَدَهُ يُصَلِّي ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : وَجَدَتْهُ يُصَلِّي ; فَكَرِهْتُ أَنْ أَقْطَعَ عَلَيْهِ صَلَاتَهُ ، فَقَالَ : " أَصَبْتَ " . وَخَرَجَا مِنْ لَيْلَتِهِمَا ، فَلَمَّا أَصْبَحَا خَرَجَ حَتَّى إِذَا أَتَى أُمَّ رُومَانَ زَوْجَةَ أَبِي بَكْرٍ ، فَقَالَتْ : أَلَا أَرَاكَ هَاهُنَا وَقَدْ خَرَجَ أَخَوَاكَ وَوَضَعْنَا لَكَ شَيْئًا مِنْ أَزْوَادِهِمَا ؟ قَالَ : فَخَرَجْتُ حَتَّى أَتَيْتُ عَلَى زَوْجَتِي أُمِّ عَمْرٍو ، فَأَخَذَتْ سَيْفِي وَجُعْبَتِي وَقَوْسِي حَتَّى أَقْدَمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَدِينَةَ ، فَأَجِدُهُ وَأَبَا بَكْرٍ جَالِسَيْنِ ، فَلَمَّا رَآنِي أَبُو بَكْرٍ قَامَ إِلَيَّ فَبَشَّرَنِي بِالْآيَةِ الَّتِي نَزَلَتْ فِيَّ وَأَخَذَ بِيَدِي ، فَلُمْتُهُ بَعْضَ اللَّائِمَةِ فَاعْتَذَرَ ، وَرَبَّحَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " رَبِحَ الْبَيْعُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ زَبَالَةَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش میں مشرکین چکر لگا رہے تھے اور غار کے پاس آ جا رہے تھے تو آپ نے ارشاد فرمایا : وائے صہیب ! میرے پاس صہیب نہیں ہے ، پھر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں ( یعنی مکہ ) سے نکلنے کا ارادہ کیا ، تو آپ نے دو یا شاید تین مرتبہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ، سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انہیں نماز پڑھتے ہوئے پایا ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گزارش کی : میں نے انہیں نماز پڑھتے ہوئے پایا تھا تو مجھے اچھا نہیں لگا کہ میں ان کی نماز درمیان میں ختم کروا دوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم نے ٹھیک کیا ، پھر یہ دونوں حضرات اُسی رات روانہ ہو گئے ، اگلے دن صبح سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ نکلے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اہلیہ سیدہ ام رومان رضی اللہ عنہا کے پاس آئے ، تو انہوں نے کہا: کیا آپ یہاں نظر آ رہے ہیں ؟ آپ کے دونوں بھائی تو تشریف لے جا چکے ہیں اور ان کے زاد سفر میں ہم نے آپ کے لئے بھی چیزیں رکھ دی تھیں ، سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : تو میں نکلا اور اپنی بیوی ام عمرو کے پاس آیا ، میں نے اپنی تلوار ، اپنا ترکش اور اپنی کمان لی ، یہاں تک کہ مدینہ منورہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آ گیا ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بیٹھے ہوئے پایا ، جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے دیکھا تو وہ اُٹھ کر میرے پاس آئے اور اس آیت کے بارے میں مبارک باد دی ، جو میرے بارے میں نازل ہوئی تھی ، انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ لیا ، میں نے انہیں ملامت کی ، تو انہوں نے معذرت کی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کامیاب قرار دیتے ہوئے فرمایا : ” سودا کامیاب ہو گیا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن بن زبالہ ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9928
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7308)»