مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ الْهِجْرَةِ إِلَى الْمَدِينَةِ باب: مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنا
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : كُنَّا نَقُولُ : لَيْسَ لِمَنِ افْتُتِنَ تَوْبَةٌ إِذَا تَرَكَ دِينَهُ بَعْدَ إِسْلَامِهِ وَمَعْرِفَتِهِ . فَأَنْزَلَ اللَّهُ فِيهِمْ : يَاعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِلَى قَوْلِهِ : ( مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَكُمُ الْعَذَابُ بَغْتَةً وَأَنْتُمْ لَا تَشْعُرُونَ ) فَكَتَبْتُهَا بِيَدِي ، ثُمَّ بَعَثْتُ بِهَا إِلَى هِشَامِ بْنِ الْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ ، قَالَ هِشَامٌ : فَلَمَّا جَاءَتْنِي صَعَدْتُ بِهَا كَذَا أُصَوِّتُ بِهَا وَأَقُولُ فَلَا أَفْهَمُهَا ، فَوَقَعَتْ فِي نَفْسِي أَنَّهَا نَزَلَتْ فِينَا وَمَا كُنَّا نَقُولُ ، فَجَلَسْتُ عَلَى بَعِيرِي ثُمَّ لَحِقْتُ بِالْمَدِينَةِ ، وَأَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَنْتَظِرُ أَنْ يُؤْذَنَ لَهُ بِالْهِجْرَةِ ، وَأَصْحَابُهُ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ قَدِمُوا إِرْسَالًا ، وَقَدْ كَانَ أَبُو بَكْرٍ اسْتَأْذَنَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْهِجْرَةِ فَقَالَ : " لَا تَعْجَلْ لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَ لَكَ صَاحِبًا " . فَطَمِعَ أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَكُونَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَعْنِي نَفْسَهُ - وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ قَدْ أَعَدَّ لِذَلِكَ رَاحِلَتَيْنِ يَعْلِفُهُمَا فِي دَارِهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بَشِيرٍ الدِّمَشْقِيِّ ، ضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ہم یہ کہا: کرتے تھے : جو شخص خود کو آزمائش کا شکار کر دے ، اُس کی توبہ قبول نہیں ہو گی جبکہ اس نے اسلام قبول کرنے کے بعد اور اس کی معرفت کے بعد ، اپنے دین کو ترک کیا ہو ، تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے بارے میں یہ آیات نازل کیں : ” اے میرے وہ بندو ! جنہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا ، تم اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو “ یہ آیت یہاں تک ہے : ” اس سے پہلے کہ تمہارے پاس اچانک عذاب آ جائے اور تمہیں شعور بھی نہ ہو “ راوی کہتے ہیں : میں نے اپنے ہاتھ کے ذریعے اس آیت کو تحریر کیا اور پھر اسے ہشام بن العاص بن وائل کو بھیجوایا ، ہشام کہتے ہیں : جب یہ آیت میرے پاس آئی ، تو میں نے اسے پڑھنا شروع کیا ، لیکن مجھے اس کی سمجھ نہیں آئی ، پھر میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ یہ آیت ہمارے بارے میں ہے ، اور جو ہم کہتے ہیں ، اس کے بارے میں نازل ہوئی ہے ، تو میں اپنے اونٹ پر بیٹھا اور مدینہ منورہ آ گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس انتظار میں تھے کہ آپ کو ہجرت کی اجازت مل جائے ، مہاجرین سے تعلق رکھنے والے آپ کے اصحاب مختلف ٹولیوں کی شکل میں آ چکے تھے ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت کی اجازت مانگی تھی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا : تم جلدی نہ کرو ! ہو سکتا ہے ، اللہ تعالیٰ تمہارے لئے کوئی ساتھی مقرر کر دے ، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو یہ توقع تھی کہ وہ ساتھی خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہوں گے ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ہجرت کے لئے دو سواریاں تیار کی تھیں ، وہ اپنے گھر میں اُن دونوں کو چارہ کھلایا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن بشیر دمشقی ہے ، جسے امام ابوحاتم نے ضعیف قرار دیا ہے ۔