حدیث نمبر: 9917
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ : كُنَّا قَدِ اسْتَبْطَأْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْقُدُومِ عَلَيْنَا ، وَكَانَتِ الْأَنْصَارُ يَفِدُونَ إِلَى ظَهْرِ الْحَرَّةِ فَيَجْلِسُونَ حَتَّى يَرْتَفِعَ النَّهَارُ ، فَإِذَا ارْتَفَعَ النَّهَارُ وَحَمِيَتِ الشَّمْسُ رَجَعَتْ إِلَى مَنَازِلِهَا ، فَقَالَ عُمَرُ : كُنَّا نَنْتَظِرُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ قَدْ أَوْفَى عَلَى أُطُمٍ مِنْ آطَامِهِمْ فَصَاحَ بِأَعْلَى صَوْتِهِ : يَا مَعْشَرَ الْعَرَبِ ، هَذَا صَاحَبُكُمُ الَّذِي تَنْتَظِرُونَ ، قَالَ عُمَرُ : سَمِعْتُ الْوَجْبَةَ فِي بَنَى عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ ، فَأَخْرَجْتُ رَأْسِي فَإِذَا الْمُسْلِمُونَ قَدْ لَبِسُوا السِّلَاحَ ، فَانْطَلَقْتُ مَعَ الْقَوْمِ عِنْدَ الظَّهِيرَةِ فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ الْيَمِينِ حَتَّى نَزَلَ فِي بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ ، وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ ، وَغَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمارے پاس ( مدینہ منورہ میں ) تشریف آوری میں تاخیر ہو گئی ، انصار صبح کے وقت پتھریلی زمین کی طرف چلے جاتے تھے اور بیٹھے رہتے تھے یہاں تک کہ دن چڑھ جاتا تھا جب دن چڑھ جاتا تھا اور سورج کی تپش زیادہ ہو جاتی تھی ، تو وہ لوگ اپنے گھروں کی طرف واپس چلے جاتے تھے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کر رہے تھے ، اسی دوران یہودیوں میں سے ایک شخص جو کسی بلند عمارت پر چڑھا ہوا تھا ، اس نے بلند آواز میں چیخ کر کہا: اے عربوں کے گروہ ! یہ تمہارے آقا آ رہے ہیں ، جن کا تم انتظار کر رہے ہو ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ہمیں بنو عمرو بن عوف کے علاقے میں ہلچل سنائی دی ، میں نے سر نکال کے دیکھا تو مسلمان ہتھیار پہن رہے تھے ، دن چڑھ چکا تھا ، میں بھی لوگوں کے ساتھ نکلا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دائیں طرف ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بن عمرو بن عوف کے علاقے میں پڑاؤ کیا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن زید بن اسلم ہے ، جسے ابوحاتم اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9917
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (4745)»