مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ الْهِجْرَةِ إِلَى الْمَدِينَةِ باب: مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنا
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ قُدُومُنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِخَمْسٍ مِنَ الْهِجْرَةِ خَرَجْنَا مُتَوَصِّلِينَ مَعَ قُرَيْشٍ عَامَ الْأَحْزَابِ ، وَأَنَا مَعَ أَخِي الْفَضْلِ ، وَمَعَنَا غُلَامُنَا أَبُو رَافِعٍ حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى الْعَرْجِ ، فَضَلَّ لَنَا فِي الطَّرِيقِ رَكُوبَةٌ وَأَخَذْنَا فِي ذَلِكَ الطَّرِيقِ عَلَى الْجَثْجَاثَةِ حَتَّى خَرَجْنَا عَلَى بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ حَتَّى دَخَلْنَا الْمَدِينَةَ ، فَوَجَدْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْخَنْدَقِ ، وَأَنَا يَوْمَئِذٍ ابْنُ ثَمَانِ سِنِينَ ، وَأَخِي ابْنُ ثَلَاثَ عَشْرَةَ سَنَةً . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ مِنْ طَرِيقِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَارَةَ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، وَكِلَاهُمَا لَمْ يُوَثَّقْ وَلَمْ يُضَعَّفْ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہجرت کے پانچویں سال آئے تھے ، غزوہ احزاب کے سال ہم قریش کے ساتھ مل کر نکلے تھے ، میں اپنے بھائی سیدنا فضل رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا ، اور ہمارے ساتھ ہمارا غلام ابورافع تھا ، یہاں تک کہ جب ہم ” عرج “ کے مقام پر پہنچے ، تو راستے میں ہماری سواری گم ہو گئی ، ہم نے چثجاثہ کی طرف سے وہ راستہ طے کیا ، یہاں تک کہ بنوعمرو بن عوف کے محلے میں آ نکلے ، پھر ہم مدینہ منورہ میں داخل ہو گئے ، ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خندق میں پایا ، میں اُن دنوں آٹھ سال کا تھا اور میرے بھائی ( سیدنا فضل رضی اللہ عنہ ) تیرہ سال کے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں عبداللہ بن محمد بن عمارہ انصاری کے حوالے سے ، سلیمان بن داؤد بن حصین سے نقل کی ہے ، ان دونوں کی توثیق بھی نہیں کی گئی ہے اور انہیں ضعیف بھی قرار نہیں دیا گیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔