حدیث نمبر: 9914
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : لَمَّا هَاجَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَرْكَبُ ، وَأَبُو بَكْرٍ رِدْفُهُ ، وَأَبُو بَكْرٍ يَعْرِفُ فِي الطَّرِيقِ لِاخْتِلَافِهِ بِالشَّامِ فَكَانَ يَمُرُّ بِالْقَوْمِ ، فَيَقُولُونَ : مَنْ هَذَا بَيْنَ يَدَيْكَ ؟ فَيَقُولُ : هَذَا يَهْدِينِي ، فَلَمَّا دَنَا مِنَ الْمَدِينَةِ بَعَثَ إِلَى الْقَوْمِ الَّذِينَ أَسْلَمُوا مِنَ الْأَنْصَارِ إِلَى أَبِي أُمَامَةَ وَأَصْحَابِهِ ، فَخَرَجُوا إِلَيْهِمَا ، فَقَالُوا : ادْخُلَا آمِنِينَ مُطَاعِينَ ، فَدَخَلَا - فَذَكَرَ الْحَدِيثَ - . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سوار تھے ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ راستے سے واقف تھے ، کیونکہ وہ شام آتے جاتے رہتے تھے ، وہ جب بھی لوگوں کے پاس سے گزرتے تھے ، تو وہ لوگ یہ دریافت کرتے تھے : یہ آپ کے آگے کون ہے ؟ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ جواب دیتے تھے : یہ میری رہنمائی کر رہے ہیں ، جب وہ مدینہ منورہ کے قریب پہنچے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کو پیغام بھیجا ، یعنی سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کو پیغام بھیجا ، تو یہ حضرات نکل کر ان دونوں کی طرف آئے اور انہوں نے گزارش کی : آپ دونوں صاحبان ایسی حالت میں داخل ہوں کہ آپ محفوظ بھی ہوں اور آپ کی اطاعت بھی کی جائے ، تو یہ دونوں حضرات ( اس علاقے میں ) داخل ہو گئے ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9914
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (3486) اخرجه احمد فى المسند (122/3)»