مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ الْهِجْرَةِ إِلَى الْمَدِينَةِ باب: مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنا
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : لَمَّا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبُو بَكْرٍ مُهَاجِرَيْنِ ، فَدَخَلَا فِي الْغَارِ فِإِذَا فِي الْغَارِ جُحْرٍ فَأَلْقَمَهُ أَبُو بَكْرٍ عَقِبَهُ حَتَّى أَصْبَحَ مَخَافَةَ أَنْ يَخْرُجَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْهُ شَيْءٌ ، فَأَقَامَا فِي الْغَارِ ثَلَاثَ لَيَالٍ ثُمَّ خَرَجَا حَتَّى نَزَلَا بِخَيْمَاتِ أُمِّ مَعْبَدٍ ، فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ أُمُّ مَعْبَدٍ إِنِّي أَرَى وُجُوهًا حِسَانًا ، وَإِنَّ الْحَيَّ أَقْوَى عَلَى كَرَامَتِكُمْ مِنِّي ، فَلَمَّا أَمْسَوْا عِنْدَهَا بَعَثَتْ مَعَ ابْنٍ لَهَا صَغِيرٍ بِشَفْرَةٍ وُشَاةٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ارْدُدِ الشَّفْرَةَ وَهَاتِ لِي فَرَقًا " - يَعْنِي الْقَدَحَ - فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ أَنْ لَا لَبَنَ فِيهَا وَلَا وَلَدَ قَالَ : " هَاتِ لِي فَرَقًا " . فَجَاءَتْهُ بِفَرَقٍ فَضَرَبَ ظَهْرَهَا فَاجْتَرَّتْ وَدَرَّتْ ، فَحَلَبَ فَمَلَأَ الْقَدَحَ فَشَرِبَ وَسَقَى أَبَا بَكْرٍ ، فَبَعَثَ بِهِ إِلَى أُمِّ مَعْبَدٍ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کے لئے روانہ ہوئے ، تو یہ دونوں غار میں تشریف لے گئے ، غار میں ایک بل تھا ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے صبح ہونے تک اپنی ایڑی اس کے منہ پر رکھی ، اس اندیشے کے تحت کہ اس میں سے کوئی چیز نکل کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ( تکلیف نہ پہنچائے ) یہ دونوں حضرات تین دن تک غار میں مقیم رہے ، پھر یہ وہاں سے نکلے اور انہوں نے ام معبد کے خیموں میں پڑاؤ کیا ، ام معبد نے ( اپنے شوہر کو ) پیغام بھیجا کہ میں نے خوبصورت چہرے دیکھے ہیں اور قبیلے کے لوگ میرے مقابلے میں آپ کی مہمان نوازی کے زیادہ قابل ہیں ، جب ان حضرات نے ام معبد کے ہاں شام کی ، تو ام معبد نے اپنے کمسن بیٹے کے ہمراہ ایک چھری اور ایک بکری بھجوائی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : چھری واپس بھجوا دو اور میرے پاس پیالہ لے آؤ ! ام معبد نے پیغام بھیجا کہ اس بکری میں نہ دودھ ہے اور نہ ہی اس کا کوئی بچہ ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میرے پاس پیالہ لے کر آؤ ! تو وہ خاتون ایک پیالہ لے آئیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بکری کی پشت پر ہاتھ پھیرا ، تو اس نے اپنی ٹانگیں کھولیں اور دودھ دینا شروع کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ دوہ لیا اور پیالہ بھر لیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی پیا ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بھی پلوایا اور وہ دودھ ام معبد کو بھی بھجوایا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔