مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ الْهِجْرَةِ إِلَى الْمَدِينَةِ باب: مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنا
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ قَالَتْ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْتِينَا بِمَكَّةَ كُلَّ يَوْمٍ مَرَّتَيْنِ ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمٌ مِنْ ذَلِكَ جَاءَنَا فِي الظَّهِيرَةِ ، فَقَالَتْ : يَا أَبَتِ ، هَذَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبِأَبِي وَأُمِّي مَا جَاءَ بِهِ هَذِهِ السَّاعَةَ إِلَّا أَمْرٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هَلْ شَعَرْتَ أَنَّ اللَّهَ قَدْ أَذِنَ لِي فِي الْخُرُوجِ ؟ " . فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : فَالصَّحَابَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " الصَّحَابَةُ " . قَالَ : إِنَّ عِنْدِي رَاحِلَتَيْنِ قَدْ عَلَفْتُهُمَا مُنْذُ كَذَا وَكَذَا انْتِظَارًا لِهَذَا الْيَوْمِ فَخُذْ إِحْدَاهُمَا ، فَقَالَ : " بِثَمَنِهَا يَا أَبَا بَكْرٍ " ، فَقَالَ : بِثَمَنِهَا بِأَبِي وَأُمِّي إِنْ شِئْتَ ، قَالَتْ : فَهَيَّأْنَا لَهُمْ سُفْرَةً ، ثُمَّ قَطَعَتْ نِطَاقَهَا فَرَبَطَتْهَا بِبَعْضِهِ ، فَخَرَجَا فَمَكَثَا فِي الْغَارِ فِي جَبَلِ ثَوْرٍ ، فَلَمَّا انْتَهَيَا إِلَيْهِ دَخَلَ أَبُو بَكْرٍ الْغَارَ قَبْلَهُ فَلَمْ يَتْرُكْ فِيهِ حَجَرًا إِلَّا أَدْخَلَ فِيهِ إِصْبَعَهُ ; مَخَافَةَ أَنْ يَكُونَ فِيهِ هَامَةٌ ، وَخَرَجَتْ قُرَيْشٌ حِينَ فَقَدُوهُمَا فِي بِغَائِهِمَا ، وَجَعَلُوا فِي النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِائَةَ نَاقَةٍ ، وَخَرَجُوا يَطُوفُونَ فِي جِبَالِ مَكَّةَ حَتَّى انْتَهَوْا إِلَى الْجَبَلِ الَّذِي هُمَا فِيهِ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ لِرَجُلٍ [ يَرَاهُ ] مُوَاجِهٍ الْغَارَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ لَيَرَانَا ، فَقَالَ : " كَلَّا إِنَّ مَلَائِكَةً تَسْتُرُنَا بِأَجْنِحَتِهَا " . فَجَلَسَ ذَلِكَ الرَّجُلُ فَبَالَ مُوَاجِهَ الْغَارِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوْ كَانَ يَرَانَا مَا فَعَلَ هَذَا " . فَمَكَثَا ثَلَاثَ لَيَالٍ يَرُوحُ عَلَيْهِمَا عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ غَنَمًا لِأَبِي بَكْرٍ وَيُدْلِجُ مِنْ عِنْدِهِمَا فَيُصْبِحُ مَعَ الرُّعَاةِ فِي مَرَاعِيهَا ، وَيَرُوحُ مَعَهُمْ وَيُبْطِئُ فِي الْمَشْيِ حَتَّى إِذَا أَظْلَمَ اللَّيْلُ انْصَرَفَ بِغَنَمِهِ إِلَيْهِمَا ، فَتَظُنُّ الرُّعَاةُ أَنَّهُ مَعَهُمْ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ يَظَلُّ بِمَكَّةَ يَتَطَلَّبُ الْأَخْبَارَ ثُمَّ يَأْتِيهِمَا إِذَا أَظْلَمَ اللَّيْلُ فَيُخْبِرُهُمَا ، ثُمَّ يُدْلِجُ مِنْ عِنْدِهِمَا فَيُصْبِحُ بِمَكَّةَ يَتَطَلَّبُ الْأَخْبَارَ ، ثُمَّ يَأْتِيهِمَا إِذَا أَظْلَمَ اللَّيْلُ فَيُخْبِرُهُمَا ، ثُمَّ يُدْلِجُ مِنْ عِنْدِهِمَا فَيُصْبِحُ بِمَكَّةَ كَبَائِتٍ ، ثُمَّ خَرَجَا مِنَ الْغَارِ فَأَخَذَا عَلَى السَّاحِلِ ، فَجَعَلَ أَبُو بَكْرٍ يَسِيرُ أَمَامَهُ ، فَإِذَا خَشِيَ أَنْ يُؤْتَى مِنْ خَلْفِهِ سَارَ خَلْفَهُ ، فَلَمْ يَزَلْ كَذَلِكَ مَسِيرَهُ ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ رَجُلًا مَعْرُوفًا فِي النَّاسِ ، فَإِذَا لَقِيَهُ لَاقٍ ، فَيَقُولُ لِأَبِي بَكْرٍ : مَنْ هَذَا مَعَكَ ؟ فَيَقُولُ : هَادٍ يَهْدِينِي ، يُرِيدُ الْهُدَى فِي الدِّينِ ، وَيَحْسَبُ الْآخَرُ دَلِيلًا حَتَّى إِذَا كَانَ بِأَبْيَاتِ قُدَيْدٍ وَكَانَ عَلَى طَرِيقِهِمَا [ عَلَى السَّاحِلِ ] جَاءَ إِنْسَانٌ إِلَى [ مَجْلِسِ ] بَنِي مُدْلِجٍ ، فَقَالَ : قَدْ رَأَيْتُ رَاكِبَيْنِ نَحْوَ السَّاحِلِ ، فَإِنِّي لَأَجِدُهُمَا لَصَاحِبَ قُرَيْشٍ الَّذِي تَبْغُونَ ، فَقَالَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكٍ : ذَانِكَ رَاكِبَيْنِ مِمَّنْ بَعَثْنَا فِي طَلَبِةِ الْقَوْمَ ، ثُمَّ دَعَا جَارِيَتَهُ فَسَارَّهَا ، فَأَمَرَهَا أَنْ تَخْرُجَ بِفَرَسِهِ وَتَحُطَّ رُمْحَهُ وَلَا تَنْصِبَهُ حَتَّى يَأْتَيَهُ فِي قَرَارَهِ بِمَوْضِعِ كَذَا وَكَذَا ، ثُمَّ يَجِيئَهَا ، فَرَكَبَ فَرَسَهُ ، ثُمَّ خَرَجَ فِي آثَارِهِمَا ، قَالَ سُرَاقَةُ : فَدَنَوْتُ مِنْهُمَا حَتَّى إِنِّي لَأَسْمَعُ قِرَاءَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ رَكَضَتِ الْفَرَسُ فَوَقَعَتْ بِمِنْخَرَيْهَا ، فَأَخْرَجْتُ قِدَاحِي مِنْ كِنَانَتِي ، فَضَرَبْتُ بِهَا أَضُرُّهُ أَمْ لَا أَضُرُّهُ ؟ فَخَرَجَ لَا تَضُرُّهُ ، فَأَبَتْ نَفْسِي حَتَّى إِذَا كُنْتُ مِنْهُ بِمِثْلِ ذَلِكَ الْمَوْضِعِ خَشْيَةَ أَنْ يُصِيبَنِي مِثْلُ مَا أَصَابَنِي نَادَيْتُهُ ، فَقُلْتُ : إِنِّي أَرَى سَيَكُونُ لَكَ شَأْنٌ ، فَقِفْ أُكَلِّمُكَ . فَوَقَفَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَأَلَهُ أَنْ يَكْتُبَ لَهُ أَمَانًا ، فَأَمَرَ أَنْ يَكْتُبَ فَكَتَبَ لَهُ ، قَالَ سُرَاقَةُ : فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ حُنَيْنٍ ، وَأَخْرَجْتُهُ وَنَادَيْتُ : أَنَا سُرَاقَةُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَوْمُ وَفَاءٍ " ، قَالَ سُرَاقَةُ : فَمَا شُبِّهَتْ سَاقُهُ فِي غَرْزِهِ إِلَّا بِجِمَارٍ . فَذَكَرْتُ شَيْئًا أَسْأَلُهُ عَنْهُ فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي رَجُلٌ ذَا نَعَمٍ ، وَإِنَّ الْحِيَاضَ تُمْلَأُ مِنَ الْمَاءِ ، فَنَشْرَبُ فَيَفْضُلُ مِنَ الْمَاءِ فِي الْحِيَاضِ ، فَيَرِدُ الْهَمَلُ ، فَهَلْ لِي فِي ذَلِكَ مِنْ أَجْرٍ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " نَعَمْ ، فِي كُلِّ كَبِدٍ حَرَّى أَجْرٌ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى أَبُو دَاوُدَ طَرَفًا مِنْ آخِرِهِ عَنْ سُرَاقَةَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ ، وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں روزانہ دو مرتبہ ہمارے ہاں آیا کرتے تھے ، جب وہ دن آیا ( جب آپ نے ہجرت کے لئے نکلنا تھا ) تو آپ دوپہر کے وقت ہمارے ہاں تشریف لے آئے ، سیدہ اسماء رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اللہ کے رسول تشریف لائے ہیں ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے ماں باپ اُن پر قربان ہوں ، اس وقت وہ کسی ضروری معاملے کی وجہ سے ہی تشریف لائے ہوں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم جانتے ہو ؟ اللہ تعالیٰ نے مجھے نکلنے کی اجازت دے دی ہے ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں بھی ساتھ چلوں گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم بھی ساتھ چلو گے ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے پاس دو اونٹنیاں ہیں ، جنہیں میں اتنے ، اتنے عرصے سے اس دن کے انتظار میں چارہ کھلا رہا ہوں ، آپ ان دونوں میں سے ایک کو لے لیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ اس کی قیمت کے عوض میں ہو گا ، انہوں نے عرض کی : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں قیمت کے عوض میں لے لیں ، اگر آپ چاہیں ، سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں نے ان لوگوں کے لئے سامان سفر تیار کیا ، میں نے اپنے کمر بند کو کاٹ کر اس کا کچھ حصہ باندھ دیا ، پھر یہ دونوں حضرات نکلے اور جبل ثور میں موجود غار میں ٹھہرے رہے ۔ جب یہ حضرات اس غار کے پاس پہنچے ، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے غار میں داخل ہوئے ، انہوں نے غار میں موجود ہر بل کو بند کر دیا ، اس اندیشے کے تحت ، کہ کہیں اس میں سے کوئی نقصان دینے والی چیز نہ نکل آئے ، جب قریش نے ان دونوں حضرات کو غیر موجود پایا ، تو وہ ان دونوں کی تلاش میں نکلے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک سو اونٹنیوں کا انعام مقرر کر دیا ۔ وہ لوگ نکلے اور مکہ کے مختلف پہاڑوں کے چکر لگاتے رہے ، یہاں تک کہ اس پہاڑ کے پاس پہنچ گئے ، جس میں یہ دونوں حضرات موجود تھے ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو اس غار کی طرف آتے ہوئے دیکھا ، تو عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ ہمیں دیکھ لے گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہرگز نہیں ! فرشتوں نے اپنے پروں کے ذریعے ہمیں چھپایا ہوا ہے ، پھر وہ شخص بیٹھا اور غار کی طرف منہ کر کے پیشاب کرنے لگا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر یہ ہمیں دیکھ لیتا ، تو یہ ایسا نہ کرتا ، یہ حضرات تین دن تک وہاں ٹھہرے رہے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے غلام عامر بن فہیرہ ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بکریاں لے کر شام کے وقت ان کے پاس چلے جاتے تھے ، وہ رات ان کے پاس ٹھہرتے تھے ، پھر اگلی صبح دوسرے چرواہوں کے ساتھ چراگاہ میں آ جاتے تھے ، وہ ان کے ساتھ چلتے تھے ، لیکن چلنے میں آہستگی سے چلتے تھے ، یہاں تک کہ جب رات زیادہ تاریک ہو جاتی ، تو وہ اپنی بکریاں لے کر ان دونوں کے پاس آ جاتے تھے ، چرواہے یہ سمجھتے تھے ، وہ ان لوگوں کے ساتھ ہیں ، اسی طرح سیدنا عبداللہ بن ابوبکر رضی اللہ عنہ مکہ میں رہتے تھے ، اور اطلاعات حاصل کرتے رہتے تھے پھر جب رات تاریک ہو جاتی تھی ، تو ان کے پاس آ کر انہیں اس بارے میں بتا دیتے تھے ، پھر وہ رات اُن کے پاس رہتے تھے اور اگلے دن صبح کے وقت مکہ میں موجود ہوتے تھے ، یوں جیسے رات وہیں بسر کی ہے ۔ پھر یہ دونوں صاحبان ، غار سے نکلے اور ساحل کے راستے پر چل پڑے ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کبھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے چلتے تھے ، جب انہیں اندیشہ ہوتا تھا کہ پیچھے سے کوئی نہ آ جائے ، تو وہ آپ کے پیچھے چلنے لگتے تھے ، وہ اسی طرح سفر کرتے رہے ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ایک ایسے فرد تھے ، جو لوگوں کے درمیان معروف تھے ( یعنی لوگ انہیں پہچانتے تھے ) جب کوئی شخص سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ملتا ، تو وہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہتا : آپ کے ساتھ کون ہیں ؟ تو وہ جواب دیتے تھے یہ ہدایت دینے والے ہیں ، جو مجھے ہدایت دیتے ہیں ( یعنی راہ دکھانے والے ہیں ، جو مجھے راہ دکھاتے ہیں ) سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی مراد دین سے متعلق ہدایت ہوتی تھی اور دوسرا شخص یہ سمجھتا تھا کہ شاید راستے کے بارے میں رہنمائی کرنے والا فرد مراد ہے ، یہاں تک کہ جب یہ لوگ قدید کی آبادی کے پاس موجود تھے اور ساحل کے راستے پر تھے ، تو اس دوران بنومدلج کی محفل میں ایک شخص آیا اور بولا: میں نے دو سواروں کو ساحل کی طرف جاتے ہوئے دیکھا ہے اور میرا خیال ہے کہ یہ وہی فرد ہے ، جس کو تم تلاش کر رہے ہو ، تو سراقہ بن مالک نے کہا: وہ دو ایسے سوار ہیں ، جنہیں ہم نے اُن لوگوں کی تلاش میں بھیجا ہوا ہے ، پھر اس نے اپنی کنیز کو بلایا اور پست آواز میں اسے یہ ہدایت کی کہ وہ اُس کے گھوڑے کو اور اس کا نیزہ لے کر نکلے ، اور فلاں ، فلاں جگہ پر پہنچ جائے ، پھر وہ اس کنیز کے پاس آیا اور گھوڑے پر سوار ہوا ، اور پھر اُن دونوں کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا ۔ سراقہ کہتے ہیں : میں ان دونوں حضرات کے پاس پہنچ گیا ، یہاں تک کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاوت کی آواز سنی تو میرے گھوڑے کو ٹھوکر لگی اور وہ نتھنوں کے بل گر گیا ، میں نے اپنے ترکش میں سے ایک تیر نکالا اور اس کے ذریعے حساب لگایا کہ میں انہیں نقصان پہنچا پاؤں گا یا نقصان پہنچا نہیں پاؤں گا ؟ تو یہ نتیجہ نکلا کہ تم انہیں نقصان نہیں پہنچا پاؤ گئے ، تو میں نے یہ بات نہیں مانی یہاں تک کہ پھر میں جب ان کے اتنا قریب ہوا اور مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ مجھے پہلے کی سی صورت حال دوبارہ لاحق ہو گی تو میں نے انہیں پکار کر یہ کہا: میں یہ سجھتا ہوں کہ عنقریب آپ کی شان ظاہر ہو گی ، آپ ٹھہر جائیں ! تاکہ میں آپ کے ساتھ بات چیت کر لوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہر گئے ، سراقہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ درخواست کی کہ آپ اس کے لئے امان لکھوا دیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھنے کا حکم دیا ، وہ اس کے لئے لکھ دی گئی ، سیدنا سراقہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : جب غزوہ حنین کا موقع آیا ، تو میں نے اس تحریر کو نکالا اور بلند آواز میں کہا: میں سراقہ ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : آج عہد پورا کرنے کا دن ہے ، سیدنا سراقہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : رکاب میں موجود آپ کی پنڈلی جمار ( کھجور کے درخت کا گوند ) کی مانند محسوس ہوتی تھی ، پھر مجھے ایک چیز یاد آئی ، جس کے بارے میں ، میں نے آپ سے دریافت کرنا تھا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں ایک نعمتوں والا شخص ہوں ، حوض پانی سے بھرے ہوئے ہوتے ہیں ، ہم پانی لیتے ہیں ، پھر بھی حوض میں پانی بچ جاتا ہے ، پھر کوئی کھلا ( جانور یا پرندہ ) آ جاتا ہے ، تو کیا اُس کا اجر ملے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! ہر جاندار کو نفع پہنچانے کا اجر ملتا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے ، اس روایت کا آخری حصہ ، سیدنا سراقہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن حمید بن کاسب ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، ابوحاتم اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔