حدیث نمبر: 9911
وَعَنْ قَيْسِ بْنِ النُّعْمَانِ قَالَ : لَمَّا انْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبُو بَكْرٍ مُسْتَخْفِيَانِ نَزَلَا بِأَبِي مَعْبَدٍ ، فَقَالَ : وَاللَّهِ مَا لَنَا شَاةٌ ، وَإِنَّ شَاءَنَا لِحَوَامِلُ فَمَا بَقِيَ لَنَا لَبَنٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - - أَحْسَبُهُ - : " فَمَا تِلْكَ الشَّاةُ ؟ " . فَأَتَى بِهَا ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْبَرَكَةِ عَلَيْهَا ثُمَّ حَلَبَ عُسًّا فَسَقَاهُ ثُمَّ شَرِبُوا ، فَقَالَ : أَنْتَ الَّذِي تَزْعُمُ قُرَيْشٌ أَنَّكَ صَابِئٌ ؟ قَالَ : " إِنَّهُمْ يَقُولُونَ " . قَالَ : أَشْهَدُ أَنَّ مَا جِئْتَ بِهِ حَقٌّ ، ثُمَّ قَالَ : أَتَّبِعُكَ ؟ قَالَ : " لَا ، حَتَّى تَسْمَعَ أَنَّا قَدْ ظَهَرْنَا " . فَاتَّبَعَهُ بَعْدُ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا قیس بن نعمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ چھپتے ہوئے جا رہے تھے ، تو ان دونوں نے ابومعبد کے ہاں پڑاؤ کیا ، انہوں نے کہا: اللہ کی قسم ہمارے پاس تو کوئی بکری نہیں ہے اور ہماری بکریاں حاملہ ہیں ، ہمارے پاس دودھ نہیں ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس بکری کا کیا معاملہ ہے ؟ وہ اس بکری کو لے کے آئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے برکت کی دعا کی ، پھر آپ نے برتن میں دودھ دوہ لیا اور انہیں پلایا ، پھر ان حضرات نے پیا ، ابومعبد نے کہا: آپ ہی وہ صاحب ہیں ؟ جن کے بارے میں قریش کا یہ کہنا ہے کہ آپ نے اپنا دین تبدیل کر لیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ لوگ یہی کہتے ہیں ، ابومعبد نے کہا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ آپ جو چیز لے کے آئے ہیں ، وہ حق ہے پھر انہوں نے دریافت کیا : کیا میں آپ کے پیچھے آؤں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں ! جب تک تم یہ نہیں سنتے کہ ہم نے غلبہ پا لیا ہے ، اس کے بعد ( مخصوص عرصہ گزر جانے کے بعد ) ابومعبد ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے گئے تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9911
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1743)»