مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ الْهِجْرَةِ إِلَى الْمَدِينَةِ باب: مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنا
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ قَالَتْ : لَمَّا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَخَرَجَ أَبُو بَكْرٍ مَعَهُ احْتَمَلَ أَبُو بَكْرٍ مَعَهُ مَالَهُ كُلَّهُ ، وَكَانَ خَمْسَةَ آلَافِ دِرْهَمٍ أَوْ سِتَّةَ آلَافِ دِرْهَمٍ فَانْطَلَقَ بِهَا مَعَهُ ، قَالَتْ : فَدَخَلَ عَلَيْنَا جَدِّي أَبُو قُحَافَةَ ، وَقَدْ ذَهَبَ بَصَرُهُ ، فَقَالَ : وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاهُ قَدْ فَجَعَكُمْ بِمَالِهِ مَعَ نَفْسِهِ ، قَالَتْ : قُلْتُ : كَلَّا يَا أَبَتِ ، قَدْ تَرَكَ لَنَا خَيْرًا كَثِيرًا ، قَالَتْ : فَأَخَذْتُ أَحْجَارًا فَجَعَلْتُهَا فِي كُوَّةٍ فِي الْبَيْتِ كَانَ أَبِي يَجْعَلُ فِيهَا مَالَهُ ، ثُمَّ جَعَلْتُ عَلَيْهَا ثَوْبًا ثُمَّ أَخَذْتُ بِيَدِهِ ، فَقُلْتُ : ضَعْ يَا أَبَتِ يَدَكَ عَلَى هَذَا الْمَالِ ، قَالَتْ : فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : لَا بَأْسَ إِنْ كَانَ تَرَكَ لَكُمْ هَذَا لَقَدْ أَحْسَنَ ، وَفِي هَذَا لَكُمْ بِلَاغٌ ، قَالَتْ : وَلَا وَاللَّهِ مَا تَرَكَ لَنَا شَيْئًا ، وَلَكِنْ أَرَدْتُ أَنْ أُسْكِنَ الشَّيْخَ بِذَلِكَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ ابْنِ إِسْحَاقَ وَقَدْ صَرَّحَ بِالسَّمَاعِ . ¤سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نکلے ، آپ کے ساتھ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی نکلے ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنا سارا مال ساتھ لے لیا ، جو پانچ ہزار درہم ، یا شاید چھ ہزار درہم بنتے تھے ، وہ اس رقم کو اپنے ساتھ لے گئے ، سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ہمارے دادا سیدنا ابوقحافہ رضی اللہ عنہ ہمارے ہاں تشریف لائے ، اُن کی بینائی رخصت ہو چکی تھی ، انہوں نے کہا: اللہ کی قسم ! ابوبکر کے بارے میں میرا یہ خیال ہے کہ وہ تم لوگوں کو چھوڑ کر سارا مال لے کر اپنے ساتھ لے گیا ہو گا ، میں نے کہا: ہرگز نہیں ! دادا جان ، انہوں نے ہمارے لئے بہت سی بھلائی چھوڑی ہے ، سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے کچھ پتھر لئے اور انہیں گھر میں موجود تھیلی میں ڈال دیا جس میں میرے والد اپنا مال رکھا کرتے تھے ، پھر میں نے اس پر کپڑ ڈالا پھر اسے اپنے ہاتھ میں لیا اور میں نے کہا: اے دادا جان آپ اپنا ہاتھ اس مال پر رکھیں ، سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں انہوں نے اپنا ہاتھ اس مال پر رکھا اور پھر بولے : اگر اس نے تمہارے لئے اتنی رقم چھوڑی ہے ، تو پھر اس میں کوئی حرج نہیں ہے ، اس نے یہ اچھا کیا ہے ، اس سے تمہاری ضروریات پوری ہو جائیں گی ، سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : اللہ کی قسم ! انہوں نے ہمارے لئے کچھ نہیں چھوڑا تھا ، لیکن میں یہ چاہتی تھی کہ اس طرح بزرگوار کو مطمئن کر دوں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، ابن اسحاق کا معاملہ مختلف ہے اور اس نے سماع کی صراحت کی ہے ۔