حدیث نمبر: 9908
وَعَنْ أَوْسِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُجْرٍ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ : مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ بِحِذْوَاتٍ بَيْنَ الْجُحْفَةِ وَهَرْشَا وَهُمَا عَلَى جَمَلٍ وَاحِدٍ ، وَهُمَا مُتَوَجِّهَانِ إِلَى الْمَدِينَةِ ، فَحَمَلَهُمَا عَلَى فَحْلِ إِبِلِهِ ابْنُ الرِّدَاءِ ، فَبَعَثَ مَعَهُمَا غُلَامًا لَهُ يُقَالُ لَهُ : مَسْعُودٌ ، فَقَالَ : اسْلُكْ بِهِمَا حَيْثُ تَعْلَمُ مِنْ مَحَارِمِ الطَّرِيقِ ، وَلَا تُفَارِقْهُمَا حَتَّى يَقْضِيَا حَاجَتَهُمَا مِنْكَ وَمِنْ جَمَلِكَ ، فَسَلَكَ بِهِمَا ثَنِيَّةَ الزَّمْحَا ، ثُمَّ سَلَكَ بِهِمَا ثَنِيَّةَ الْكُويَةِ ، ثُمَّ سَلَكَ بِهِمَا الْمُرَّةَ ، ثُمَّ أَقْبَلَ بِهِمَا مِنْ شُعْبَةٍ ذَاتِ كَشْطٍ ، ثُمَّ سَلَكَ بِهِمَا الْمُدْلَجَةَ ، ثُمَّ سَلَكَ بِهِمَا الْغَسَّانَةَ ، ثُمَّ سَلَكَ ثَنِيَّةَ الْمُرَّةَ ، ثُمَّ أَدْخَلَهُمَا الْمَدِينَةَ ، وَقَدْ قَضَيَا حَاجَتَهُمَا مِنْهُ وَمِنْ حَمْلِهِ ، ثُمَّ رَجَّعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَسْعُودًا إِلَى سَيِّدِهِ أَوْسِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، وَكَانَ مُغَفَّلًا لَا يَسِمِ الْإِبِلَ ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَأْمُرَ أَوْسًا أَنْ يَسِمَهَا فِي أَعْنَاقِهَا قَيْدَ الْفَرَسِ . ¤ قَالَ صَخْرُ بْنُ مَالِكٍ : وَهُوَ وَاللَّهِ يَسِمُهَا الْيَوْمَ ، وَقَيَّدَ الْفَرَسَ فِيمَا أَرَى حَلَقَ حَلَقَتَيْنِ ، وَمَدَّ بَيْنَهُمَا مَدًّا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا اوس بن عبداللہ بن حجر اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ” جحفہ “ اور ” ہرشا“ کے درمیان ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ یہ دونوں حضرات میرے پاس سے گزرے ، یہ دونوں حضرات اونٹ پر سوار تھے اور ان کا رخ مدینہ منورہ کی طرف تھا ، تو سیدنا اوس بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اپنا اونٹ انہیں دیا اور ان دونوں صاحبان کے ہمراہ اپنے غلام مسعود کو بھیجا اور بولے : تم ان دونوں کو محفوظ راستے سے لے کے جاؤ اور ان سے اس وقت تک جدا نہ ہونا ، جب تک انہیں تمہاری اور تمہارے اونٹ کی ضرورت رہتی ہے ، تو وہ غلام ان دونوں صاحبان کو ” زمحا “ کی گھاٹی کی طرف سے لے کر گیا ، پھر وہ ” کویہ “ کی گھاٹی پر آیا ، پھر وہ ” مرہ “ کی گھاٹی پر آیا ، پھر وہ ” ذات کشط “ آیا ، پھر وہ ” مدلجہ “ گیا پھر وہ ” غسانہ “ گیا پھر وہ ” مرہ “ کی گھاٹی پر چلا اور ان دونوں کو مدینہ منورہ پہنچا دیا ، ان دونوں کو اس کی اور اس کے اونٹ کی ضرورت نہ رہی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسعود کو اس کے آقا ، اوس بن عبداللہ کے پاس واپس بھجوا دیا ، وہ صاحب اونٹ پر نشان نہیں لگایا کرتے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس غلام کو یہ ہدایت کی کہ وہ اوس کو یہ کہے : وہ اس اونٹ کی گردن میں گھوڑے کی بیڑی جتنا نشان ڈال دے ۔ صخر بن مالک کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! وہ لوگ آج بھی اس پر نشان لگاتے ہیں اور میرے علم کے مطابق گھوڑے کی بیڑی سے مراد یہ ہے کہہ دو چھلے پہنائے جائیں اور انہیں کچھ کھینچ دیا جائے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9908
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (611)»