مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ الْهِجْرَةِ إِلَى الْمَدِينَةِ باب: مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنا
وَعَنْ عُرْوَةَ قَالَ : خَرَجَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، وَعِيَّاشُ بْنُ أَبِي رَبِيعَةَ فِي أَصْحَابٍ لَهُمْ فَنَزَلُوا فِي بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ ، فَطَلَبَ أَبُو جَهْلِ بْنُ هِشَامٍ ، وَالْحَارِثُ بْنُ هِشَامٍ عَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ وَهُوَ أَخُوهُمَا لِأُمِّهِمَا فَقَدِمَا الْمَدِينَةَ ، فَذَكَرَا لَهُ حُزْنَ أُمِّهِ ، فَقَالَا : إِنَّهَا حَلَفَتْ أَنْ لَا يُظِلَّهَا بَيْتٌ ، وَلَا يَمَسَّ رَأْسَهَا دُهْنٌ حَتَّى تَرَاكَ وَلَوْلَا ذَلِكَ لَمْ نَطْلُبْكَ ، فَنُذَكِّرْكَ اللَّهَ فِي أُمِّكَ ، وَكَانَ بِهَا رَحِيمًا ، وَكَانَ يَعْلَمُ مِنْ حُبِّهَا إِيَّاهُ وَرِقِّهَا - يَعْنِي عَلَيْهِ - مَا كَانَ يُصَدِّقُهُمَا بِهِ ، فَرَقَّ لَهَا لِمَا ذَكَرُوا لَهُ وَأَبَى أَنْ يَتْبَعَهُمَا حَتَّى عَقَدَ لَهُ الْحَارِثُ بْنُ هِشَامٍ ، فَلَمَّا خَرَجَ مَعَهُمَا ، أَوْثَقَاهُ فَلَمْ يَزَلْ هُنَاكَ مُوَثَّقًا حَتَّى خَرَجَ مَعَ مَنْ خَرَجَ قَبْلَ فَتْحِ مَكَّةَ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَعَا لَهُ بِالْخَلَاصِ وَالْحِفْظِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ . وَرَوَاهُ أَيْضًا عَنِ ابْنِ شِهَابٍ مُرْسَلًا ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤عروہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور عیاش بن ابوربیعہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ نکلے ، ان لوگوں نے بنو عمرو بن عوف کے علاقے میں رہائش اختیار کی ، ابوجہل بن ہشام اور حارث بن ہشام ، عیاش بن ابوربیعہ کی تلاش میں نکلے ، عیاش ان دونوں کا ماں کی طرف سے شریک بھائی تھا ، یہ دونوں مدینہ منورہ آئے اور ان دونوں نے عیاش کے سامنے اس کی والدہ کے پریشان ہونے کا ذکر کیا ، ان دونوں نے یہ بتایا کہ اس خاتون نے یہ حلف اٹھایا ہے کہ وہ نہ گھر کے سائے میں آئے گی ، نہ اپنے سر میں تیل لگائے گی جب تک تمہیں دیکھ نہیں لیتی ، انہوں نے بتایا کہ اگر ایسا نہ ہوتا ، تو ہم نے تمہاری تلاش میں نہیں آنا تھا ، تو تمہاری والدہ کے حوالے سے ہم تمہیں اللہ کی یاد دلاتے ہیں ، وہ شخص اپنی والدہ سے بڑی محبت کرتا تھا اور وہ یہ بھی جانتا تھا کہ اس کی والدہ بھی اس سے محبت کرتی ہے ، اس لئے اسے اُن کی بات سچ سمجھنے میں کوئی دشواری نہیں ہوئی ، ان لوگوں نے اس کے سامنے جو صورت حال ذکر کی ، اس کے حوالے سے اس کا دل پسیج گیا ، لیکن اس نے ان دونوں کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا ، جب تک حارث بن ہشام اس کے ساتھ طے نہیں کر لیتا ، جب وہ ان دونوں کے ساتھ نکلا ، تو ان دونوں نے اسے باندھ دیا اور وہ مسلسل بندش میں رہا ، یہاں تک کہ مکہ فتح ہونے سے کچھ عرصہ پہلے ( وہ اپنے دوسرے ساتھیوں کے ساتھ ) وہاں سے نکلے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے نجات پانے اور محفوظ رہنے کی دعا کی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، راوی نے یہ روایت ابن شہاب کے حوالے سے ” مرسل “ روایت کے طور پر بھی نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔