حدیث نمبر: 9902
عَنْ عُرْوَةَ قَالَ : وَمَكَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعْدَ الْحَجِّ بَقِيَّةَ ذِي الْحِجَّةِ وَالْمُحَرَّمِ وَصَفَرَ ، ثُمَّ إِنَّ مُشْرِكِي قُرَيْشٍ أَجْمَعُوا أَمْرَهُمْ وَمَكْرَهُمْ حِينَ ظَنُّوا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَارِجٌ ، وَعَلِمُوا أَنَّ اللَّهَ قَدْ جَعَلَ لَهُ بِالْمَدِينَةِ مَأْوًى وَمِنْعَةً ، وَبَلَغَهُمْ إِسْلَامُ الْأَنْصَارِ وَمَنْ خَرَجَ إِلَيْهِمْ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ ، فَأَجْمَعُوا أَمْرَهُمْ عَلَى أَنْ يَأْخُذُوا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِمَّا أَنْ يَقْتُلُوهُ ، وَإِمَّا أَنْ يَسْجِنُوهُ ، أَوْ يَسْحَبُوهُ - شَكَّ عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ - وَإِمَّا أَنْ يُخْرِجُوهُ ، وَإِمَّا أَنْ يُوثِقُوهُ ، فَأَخْبَرَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِمَكْرِهِمْ فَقَالَ تَعَالَى : ( وَإِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِيُثْبِتُوكَ أَوْ يَقْتُلُوكَ أَوْ يُخْرِجُوكَ وَيَمْكُرُونَ وَيَمْكُرُ اللَّهُ وَاللَّهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ ) وَبَلَغَهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ الَّذِي أَتَى فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَارَ أَبِي بَكْرٍ أَنَّهُمْ مُبَيِّتُوهُ إِذَا أَمْسَى عَلَى فِرَاشِهِ ، وَخَرَجَ مِنْ تَحْتِ اللَّيْلِ هُوَ وَأَبُو بَكْرٍ قِبَلَ الْغَارِ بِثَوْرٍ ، وَهُوَ الْغَارُ الَّذِي ذَكَرَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْقُرْآنِ ، وَعَمَدَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَرَقَدَ عَلَى فِرَاشِهِ يُوَارِي عَنْهُ الْعُيُونَ ، وَبَاتَ الْمُشْرِكُونَ مِنْ قُرَيْشٍ يَخْتَلِفُونَ وَيَأْتَمِرُونَ أَنْ نُجَثَّمَ عَلَى صَاحِبِ الْفِرَاشِ فَيُوثِقَهُ ؟ فَكَانَ ذَلِكَ حَدِيثَهُمْ حَتَّى أَصْبَحُوا ، فَإِذَا عَلِيٌّ يَقُومُ عَنِ الْفِرَاشِ فَسَأَلُوهُ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَهُمْ أَنَّهُ لَا عِلْمَ لَهُ بِهِ ، فَعَلِمُوا عِنْدَ ذَلِكَ أَنَّهُ خَرَجَ ، فَرَكِبُوا فِي كُلِّ وَجْهٍ يَطْلُبُونَهُ ، وَبَعَثُوا إِلَى أَهْلِ الْمِيَاهِ يَأْمُرُونَهُمْ وَيَجْعَلُونَ لَهُمُ الْجَعْلَ الْعَظِيمَ ، وَأَتَوْا عَلَى ثَوْرٍ الَّذِي فِيهِ الْغَارُ الَّذِي فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبُو بَكْرٍ حَتَّى طَلَعُوا فَوْقَهُ ، وَسَمِعَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَصْوَاتَهَمْ فَأَشْفَقَ أَبُو بَكْرٍ عِنْدَ ذَلِكَ وَأَقْبَلَ عَلَى الْهَمِّ وَالْخَوْفِ ، فَعِنْدَ ذَلِكَ قَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا " . وَدَعَا فَنَزَلَتْ عَلَيْهِ سَكِينَةٌ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ : فَأَنْزَلَ اللَّهُ سَكِينَتَهُ عَلَى رَسُولِهِ وَعَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَأَنْزَلَ جُنُودًا لَمْ تَرَوْهَا وَجَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِينَ كَفَرُوا السُّفْلَى وَكَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ وَكَانَتْ لِأَبِي بَكْرٍ مِنْحَةٌ تَرُوحُ عَلَيْهِ وَعَلَى أَهْلِهِ بِمَكَّةَ ، فَأَرْسَلَ أَبُو بَكْرٍ عَامِرَ بْنَ فُهَيْرَةَ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ أَمِينًا مُؤْتَمَنًا حَسَنَ الْإِسْلَامِ فَاسْتَأْجَرَ رَجُلًا مِنْ بَنِي عَبْدِ بْنِ عَدِيٍّ يُقَالُ لَهُ : ابْنُ الْأُرَيْقِطِ كَانَ حَلِيفًا لِقُرَيْشٍ فِي بَنِي سَهْمٍ مِنْ بَنِي الْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ ، وَذَلِكَ يَوْمَئِذِ الْعَدَوِيُّ مُشْرِكٌ ، وَهُوَ هَادٍ بِالطَّرِيقِ فَخَبَّأَ بَأَظْهُرِنَا تِلْكَ اللَّيَالِيَ ، وَكَانَ يَأْتِيهِمَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ حِينَ يُمْسِي بِكُلِّ خَبَرٍ يَكُونُ فِي مَكَّةَ ، وَيُرِيحُ عَلَيْهِمَا عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ الْغَنَمَ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ فَيَحْلِبَانِ وَيَذْبَحَانِ ثُمَّ يَسْرَحُ بُكْرَةً ، فَيُصْبِحُ فِي رُعْيَانِ النَّاسِ ، وَلَا يَفْطِنُ لَهُ ، حَتَّى إِذَا هَدَأَتْ عَنْهُمُ الْأَصْوَاتُ وَأَتَاهُمَا أَنْ قَدْ سَكَتَ عَنْهُمَا جَاءَا صَاحِبَهُمَا بِبَعِيرَيْهِمَا ، وَقَدْ مَكَثَا فِي الْغَارِ يَوْمَيْنِ وَلَيْلَتَيْنِ ثُمَّ انْطَلَقَا وَانْطَلَقَا مَعَهُمَا بِعَامِرِ بْنِ فُهَيْرَةَ يَحْدِيهِمَا وَيَخْدِمُهُمَا وَيُعِينُهُمَا يُرْدِفُهُ أَبُو بَكْرٍ ، وَيُعْقِبُهُ عَلَى رَاحِلَتِهِ لَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ غَيْرَ عَامِرِ بْنِ فُهَيْرَةَ ، وَغَيْرَ أَخِي بَنِي عَدِيٍّ يَهْدِيهِمُ الطَّرِيقَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین

عروہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حج کے بعد ، ذوالحج کے مہینے میں ، محرم کے مہینے میں اور صفر کے مہینے میں ٹھہرے رہے پھر قریش کے مشرکین نے ، اس بات کو طے کیا اور یہ تدبیر کی ، جب انہیں یہ پتہ چلا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہاں سے نکل جائیں گے اور انہیں یہ بات پتہ چل گئی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے مدینہ منورہ کو پناہ گاہ اور حفاظت کا ذریعہ بنا دیا ہے ان لوگوں کو انصار کے اسلام قبول کرنے کی اطلاع بھی مل گئی ، جو مہاجرین اس طرف گئے تھے ، اس کا بھی پتہ چل گیا تو ان لوگوں نے یہ طے کیا کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پکڑ لیں گے پھر یا وہ آپ کو شہید کر دیں گے یا آپ کو قید کر دیں گے یا پابند سلاسل کر دیں گے ، یہ شک عمرو بن خالد نامی راوی کو ہے ، یا یہ ہے کہ وہ آپ کو نکلنے پر مجبور کر دیں گے ، یا آپ کو باندھ دیں ، تو اللہ تعالیٰ نے ان کے منصوبے کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتا دیا ، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ” اور جب کافر لوگ تمہارے خلاف سازشیں کر رہے تھے ، کہ وہ تمہیں قید کریں یا تمہیں قتل کر دیں یا تمہیں ( تمہارے آبائی وطن سے ) نکال دیں ، وہ منصوبے بنا رہے تھے اور اللہ تعالیٰ ( اپنی خفیہ ) تدبیر کر رہا تھا اور اللہ تعالیٰ سب سے بہتر ( خفیہ ) تدبیر کرنے والا ہے “ جس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی اطلاع ملی ، اس دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف لائے ، ان لوگوں نے شام ایسے ہی گزاری ، پھر رات کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ غار ثور کی طرف چلے گئے ، یہ وہ غار ہے ، جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن میں کیا ہے ، سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ آئے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بستر پر سو گئے اور وہ ان کی نگاہوں سے اوجھل رہے ، قریش کے مشرکین نے آپس کے اختلاف کے دوران اور باہمی اختلاف کے دوران رات بسر کر دی کہ کیا ہم بستر پر سوئے شخص پر حملہ کر کے انہیں باندھ دیں ؟ ان کی اسی بات چیت کے دوران صبح ہو گئی ، صبح کے وقت سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس بستر سے اٹھے ، ان لوگوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں دریافت کیا ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کوئی پتہ نہیں ہے ، اس وقت کفار کو پتہ چل گیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے جا چکے ہیں ، تو وہ آپ کی تلاش میں سوار ہو کر ہر سمت میں روانہ ہوئے انہوں نے مختلف پانیوں کے ( پاس مقیم ) افراد کی طرف پیغام بھیجا اور انہیں یہ کہا: انہیں اس بات کا بڑا انعام دیا جائے گا ( کہ اگر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پکڑوا دیں ) وہ لوگ غار ثور کے پاس بھی آئے ، جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ موجود تھے یہاں تک کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر کی طرف نظر بھی آئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آوازیں بھی سن لیں ، اس وقت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پریشان ہو گئے اور وہ خوف کا شکار ہو گئے ، اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم غمگین نہ ہو ! بے شک اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی : تو آپ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے سکینت نازل ہوئی ( جس کا ذکر قرآن میں ، ان الفاظ میں ہے : ) ” تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر اور اہل ایمان پر اپنی سکینت نازل کی اور اس نے ایسے لشکر نازل کیے ، جنہیں تم نہیں دیکھتے ہو ، اور جن لوگوں نے کفر کیا تھا ، ان کے کلمے کو اللہ تعالیٰ نے نیچا کر دیا ، اور اللہ تعالیٰ کا کلمہ ہی بلند ہے اور اللہ تعالیٰ غلبے والا اور حکمت والا ہے “ ۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے غلام عامر بن فہیرہ کو ، جو ایک امین اور قابل اعتماد اور اچھے اسلام والا شخص تھا ، اسے بھیجا ، تاکہ بنو عبد بن عدی سے تعلق رکھنے والے ایک شخص جس کا نام ابن اریقط تھا ، اسے معاوضے پر رکھ لے ، یہ شخص قریش کا حلیف تھا اور بنو سہم سے تعلق رکھتا تھا ، جو بنو عاص بن وائل کی ذیلی شاخ ہے ، اس وقت وہ عدوی شخص مشرک تھا ، لیکن وہ راستے کے بارے میں جانتا تھا ، انہوں نے ان راتوں میں خود کو چھپا کے رکھا ، عبداللہ بن ابوبکر شام کے وقت ساری اطلاعات ، جو مکہ میں ہوتی تھیں ، وہ لے کر اُن دونوں کے پاس آ جاتے تھے اور عامر بن ربیعہ بھی شام کے وقت بکریاں لے کے آ جاتے تھے ، ہر رات میں ایسا ہوتا تھا ، وہ ان کا دودھ دوہتے تھے اور انہیں ذبح کرتے تھے اور پھر صبح کے وقت چلے جاتے تھے اور لوگوں کے چرواہوں کے ساتھ ہوتے تھے اس لئے ان کے بارے میں پتہ نہیں چل سکا ، یہاں تک کہ جب آوازیں ان لوگوں کے حوالے سے کم ہو گئیں ، اور ان دونوں کو پتہ چل گیا کہ اب معاملہ ٹھنڈا ہو گیا ہے ، تو ان کا متعلقہ فرد ان کے دونوں اونٹ لے آیا ، یہ دونوں حضرات غار میں ، دو دن اور دو راتوں تک ٹھہرے رہے اور پھر یہ روانہ ہوئے ، ان دونوں کے ساتھ عامر بن فہیرہ بھی روانہ ہوئے ، جو ان کے لئے حدی گاتے تھے ان کی خدمت کرتے تھے ان کی مدد کرتے تھے ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ انہیں اپنی سواری پر پیچھے بٹھاتے تھے ، ان حضرات کے ساتھ ایک عامر بن فہیرہ تھے اور ایک بنوعدی سے تعلق رکھنے والا وہ شخص تھا ، جو انہیں راستہ بتا رہا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9902
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ مرسل