حدیث نمبر: 9912
وَعَنْ فَائِدٍ مَوْلَى عَبَادِلَ قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ ، فَأَرْسَلَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِلَى ابْنِ سَعْدٍ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْعَرْجِ أَتَانَا ابْنُ سَعْدٍ ، وَسَعْدٌ الَّذِي دَلَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى طَرِيقِ رَكُوبِهِ ، فَقَالَ إِبْرَاهِيمُ : أَخْبِرْنِي مَا حَدَّثَكَ أَبُوكَ ، قَالَ ابْنُ سَعْدٍ : حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَاهُمْ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ ، وَكَانَتْ لِأَبِي بَكْرٍ عِنْدَنَا بِنْتٌ مُسْتَرْضَعَةٌ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَرَادَ الِاخْتِصَارَ فِي الطَّرِيقِ إِلَى الْمَدِينَةِ ، فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ : هَذَا الْغَائِرُ مِنْ رَكُوبِهِ ، وَبِهِ لِصَّانِ مِنْ أَسْلَمَ يُقَالُ لَهُمَا : الْمُهَانَانِ ، فَإِنْ شِئْتَ أَخَذْنَا عَلَيْهِمَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " خُذْ بِنَا عَلَيْهِمَا " ، قَالَ سَعْدٌ : فَخَرَجْنَا حَتَّى إِذَا أَشْرَفْنَا إِذَا أَحَدُهُمَا يَقُولُ لِصَاحِبِهِ : هَذَا الْيَمَانِيُّ ، فَدَعَاهُمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَعَرَضَ عَلَيْهِمَا الْإِسْلَامَ ، فَأَسْلَمَا ثُمَّ سَأَلَهُمَا عَنْ أَسْمَائِهِمَا ، فَقَالَا : نَحْنُ الْمُهَانَانِ قَالَ : " بَلْ أَنْتُمَا الْمُكَرَّمَانِ " . وَأَمَرَهُمَا أَنْ يَقْدَمَا عَلَيْهِ الْمَدِينَةَ فَخَرَجْنَا حَتَّى إِذَا أَتَيْنَا ظَاهِرَ قُبَاءَ فَتَلَقَّى بَنُو عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَيْنَ أَبُو أُمَامَةَ أَسْعَدُ بْنُ زُرَارَةَ ؟ " . فَقَالَ سَعْدُ بْنُ خَيْثَمَةَ : إِنَّهُ قَدْ أَصَابَ قَبْلِي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا أُخْبِرَهُ بِكَ ؟ ثُمَّ مَضَى حَتَّى إِذَا طَلَعَ عَلَى النَّخْلِ فَإِذَا الشَّرْبُ مَمْلُوءٌ ، فَالْتَفَتَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ : " يَا أَبَا بَكْرٍ هَذَا الْمَنْزِلُ رَأَيْتُنِي أَنْزِلُ إِلَى حِيَاضٍ كَحِيَاضِ بَنِي مُدْلِجٍ " . رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ . وَابْنُ سَعْدٍ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

فائد ، جو عبادل کے غلام ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : میں ابراہیم بن عبدالرحمن بن عبداللہ بن ابوربیعہ کے ساتھ نکلا ، ابراہیم بن عبدالرحمن نے ابن سعد کو پیغام بھیجا ( اور بلوایا ) جب ہم ” عرج “ کے مقام پر تھے ، تو ابن سعد ہمارے پاس تشریف لائے ، سعد وہ صاحب ہیں ، جنہوں نے ( ہجرت کے دوران مدینہ منورہ ) کے راستے کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا تھا ، ابراہیم بن عبدالرحمن نے ان سے کہا: آپ ہمیں یہ بتائیے کہ جو آپ کے والد نے آپ کو روایت بیان کی ہے ، تو ابن سعد نے بتایا کہ میرے والد نے مجھے یہ بات بتائی ہے : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کے پاس تشریف لائے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی تھے ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی ایک دودھ پیتی بچی ہمارے علاقے میں دودھ پی رہی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ کی طرف مختصر راستے سے جانا چاہ رہے تھے ، تو سعد نے آپ کی خدمت میں گزارش کی : یہ راستہ سہولت والا ہے ، لیکن یہاں اسلم قبیلے سے تعلق رکھنے والے دو چور ہوتے ہیں ، جن کا نام ” مہانان “ ( یعنی دو بے عزت لوگ ) ہے ، اگر آپ چاہیں تو ہم اس راستے سے چلے جاتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اُسی طرف سے چلو ! سعد کہتے ہیں : ہم وہاں سے نکلے ، جب ہم وہاں پہنچے ، تو ان میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا: یہ یمانی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو بلوایا ، اُن دونوں کے سامنے اسلام رکھا ، تو ان دونوں نے اسلام قبول کر لیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اُن کے نام کے بارے میں دریافت کیا : تو ان دونوں نے جواب دیا : ہم ” مہانان “ ( دو بے عزت لوگ ) ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں ! بلکہ تم دو معزز افراد ہو ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو یہ ہدایت کی کہ وہ دونوں مدینہ منورہ میں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوں پھر ہم وہاں سے نکلے ، یہاں تک کہ ہم قباء پہنچ گئے ، بنو عمرو بن عوف نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : ابوامامہ اسعد بن زرارہ کہاں ہے ؟ سعد بن خیثمہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ مجھ سے پہلے پہنچ گئے تھے ، کیا میں انہیں آپ کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ پھر وہ چلتے رہے ، یہاں تک کہ وہ کھجوروں کے باغات کے پاس آئے ، تو وہاں پانی موجود تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف رخ کیا اور ارشاد فرمایا : اے ابوبکر ! میری پڑاؤ کی یہ وہ جگہ ہے ، جو میں نے خواب میں دیکھی تھی کہ میں ایسے حوض کے پاس پڑاؤ کروں گا ، جو بنومدلج کے حوضوں کی مانند ہو گے “ ۔
یہ روایت عبداللہ بن أحمد نے نقل کی ہے ، ابن سعد کا نام عبداللہ ہے ، میں اُس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9912
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف