مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ الْهِجْرَةِ إِلَى الْمَدِينَةِ باب: مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنا
وَعَنْ صُهَيْبٍ أَنَّ الْمُشْرِكِينَ لَمَّا أَطَافُوا بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَقْبَلُوا عَلَى الْغَارِ وَأَدْبَرُوا قَالَ : وَاصُهَيْبَاهُ وَلَا صُهَيْبَ لِي ، فَلَمَّا أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْخُرُوجَ بَعَثَ أَبَا بَكْرٍ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا إِلَى صُهَيْبٍ فَوَجَدَهُ يُصَلِّي ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : وَجَدَتْهُ يُصَلِّي ; فَكَرِهْتُ أَنْ أَقْطَعَ عَلَيْهِ صَلَاتَهُ ، فَقَالَ : " أَصَبْتَ " . وَخَرَجَا مِنْ لَيْلَتِهِمَا ، فَلَمَّا أَصْبَحَا خَرَجَ حَتَّى إِذَا أَتَى أُمَّ رُومَانَ زَوْجَةَ أَبِي بَكْرٍ ، فَقَالَتْ : أَلَا أَرَاكَ هَاهُنَا وَقَدْ خَرَجَ أَخَوَاكَ وَوَضَعْنَا لَكَ شَيْئًا مِنْ أَزْوَادِهِمَا ؟ قَالَ : فَخَرَجْتُ حَتَّى أَتَيْتُ عَلَى زَوْجَتِي أُمِّ عَمْرٍو ، فَأَخَذَتْ سَيْفِي وَجُعْبَتِي وَقَوْسِي حَتَّى أَقْدَمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَدِينَةَ ، فَأَجِدُهُ وَأَبَا بَكْرٍ جَالِسَيْنِ ، فَلَمَّا رَآنِي أَبُو بَكْرٍ قَامَ إِلَيَّ فَبَشَّرَنِي بِالْآيَةِ الَّتِي نَزَلَتْ فِيَّ وَأَخَذَ بِيَدِي ، فَلُمْتُهُ بَعْضَ اللَّائِمَةِ فَاعْتَذَرَ ، وَرَبَّحَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " رَبِحَ الْبَيْعُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ زَبَالَةَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش میں مشرکین چکر لگا رہے تھے اور غار کے پاس آ جا رہے تھے تو آپ نے ارشاد فرمایا : وائے صہیب ! میرے پاس صہیب نہیں ہے ، پھر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں ( یعنی مکہ ) سے نکلنے کا ارادہ کیا ، تو آپ نے دو یا شاید تین مرتبہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ، سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انہیں نماز پڑھتے ہوئے پایا ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گزارش کی : میں نے انہیں نماز پڑھتے ہوئے پایا تھا تو مجھے اچھا نہیں لگا کہ میں ان کی نماز درمیان میں ختم کروا دوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم نے ٹھیک کیا ، پھر یہ دونوں حضرات اُسی رات روانہ ہو گئے ، اگلے دن صبح سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ نکلے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اہلیہ سیدہ ام رومان رضی اللہ عنہا کے پاس آئے ، تو انہوں نے کہا: کیا آپ یہاں نظر آ رہے ہیں ؟ آپ کے دونوں بھائی تو تشریف لے جا چکے ہیں اور ان کے زاد سفر میں ہم نے آپ کے لئے بھی چیزیں رکھ دی تھیں ، سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : تو میں نکلا اور اپنی بیوی ام عمرو کے پاس آیا ، میں نے اپنی تلوار ، اپنا ترکش اور اپنی کمان لی ، یہاں تک کہ مدینہ منورہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آ گیا ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بیٹھے ہوئے پایا ، جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے دیکھا تو وہ اُٹھ کر میرے پاس آئے اور اس آیت کے بارے میں مبارک باد دی ، جو میرے بارے میں نازل ہوئی تھی ، انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ لیا ، میں نے انہیں ملامت کی ، تو انہوں نے معذرت کی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کامیاب قرار دیتے ہوئے فرمایا : ” سودا کامیاب ہو گیا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن بن زبالہ ہے اور وہ متروک ہے ۔