مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ الْهِجْرَةِ إِلَى الْمَدِينَةِ باب: مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنا
وَعَنْ أَبِي مُصْعَبٍ الْمَكِّيِّ قَالَ : أَدْرَكْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ ، وَالْمُغَيَّرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ، وَأَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُونَ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا كَانَ لَيْلَةَ بَاتَ فِي الْغَارِ أَمَرَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى شَجَرَةً فَنَبَتَتْ فِي وَجْهِ الْغَارِ ، فَسَتَرَتْ وَجْهَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . وَأَمَرَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى الْعَنْكَبُوتَ فَنَسَجَتْ عَلَى وَجْهِ الْغَارِ . وَأَمَرَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى حَمَامَتَيْنِ وَحْشِيَّتَيْنِ فَوَقَفَتَا بِفَمِ الْغَارِ . وَأَتَى الْمُشْرِكُونَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ حَتَّى كَانُوا مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى قَدْرِ أَرْبَعِينَ ذِرَاعًا مَعَهُمْ قِسِيِّهِمْ وَعِصِيِّهِمْ ، وَتَقَدَّمَ رَجُلٌ مِنْهُمْ فَنَظَرَ فَرَأَى الْحَمَامَتَيْنِ ، فَرَجَعَ فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ : لَيْسَ فِي الْغَارِ شَيْءٌ رَأَيْتُ حَمَامَتَيْنِ عَلَى فَمِ الْغَارِ ، فَعَرَفْتُ أَنْ لَيْسَ فِيهِ أَحَدٌ فَسَمِعَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَوْلَهُ فَعَلِمَ أَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَدْ دَرَأَ بِهِمَا عَنْهُ ، فَسَمَّتَ عَلَيْهِمَا ، وَفَرَضَ جَزَاءَهُمَا ، وَاتَّخَذَ فِي حَرَمِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَرْخَيْنِ ، أَحْسَبُهُ قَالَ : فَأَصْلُ كُلِّ حَمَامٍ فِي الْحَرَمِ مِنْ فِرَاخِهِمَا . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤ابومصعب مکی بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ ، سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو پایا ، وہ حضرات بات چیت کر رہے تھے کہ جو رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غار میں گزاری تھی ، اُس رات اللہ تعالیٰ نے درخت کو حکم دیا ، اس نے غار کے منہ پر پودا پیدا کر دیا ، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو چھپا لیا ، اللہ تعالیٰ نے مکڑی کو حکم دیا ، اس نے غار کے منہ پر جالا بن دیا ، اللہ تعالیٰ نے دو جنگلی کبوتریوں کو حکم دیا ، تو وہ غار کے منہ پر آ کر بیٹھ گئیں ، مشرکین ہر طرف سے آئے ، یہاں تک کہ جب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اتنے قریب ہو گئے جتنا چالیس گز کا فاصلہ ہوتا ہے اور ان لوگوں کے پاس ان کی کمانیں اور لاٹھیاں تھیں ، تو ان میں سے ایک شخص آگے بڑھا اس نے دو کبوتریوں کو دیکھا تو واپس گیا اور اپنے ساتھیوں سے بولا: غار میں کوئی چیز نہیں ہو گی ، کیونکہ میں نے غار کے منہ پر دو کبوتریوں کو دیکھا ہے جس سے مجھے اندازہ ہو گیا ہے کہ اندر کوئی نہیں ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بات سنی ، تو آپ کو یہ بات پتہ چل گئی کہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں حضرات سے مشرکین کو پرے کر دیا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کبوتریوں کا خیال رکھا اور ان کی جزا مقرر کی اور اللہ تعالیٰ کے حرم میں اُن کے دو بچے رکھے گئے ۔ راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے ، حرم کے تمام کبوتروں کی نسل انہی دو بچوں سے چلی ہے ۔
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، ان کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔