حدیث نمبر: 9926
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنِ جَحْشٍ ، وَكَانَ آخِرَ مَنْ بَقِيَ مِمَّنْ هَاجَرَ ، وَكَانَ قَدْ كُفَّ بَصَرُهُ ، فَلَمَّا أَجْمَعَ عَلَى الْهِجْرَةِ كَرِهَتِ امْرَأَتُهُ ذَلِكَ بِنْتُ حَرْبِ بْنِ أُمَيَّةَ ، وَجَعَلَتْ تُشِيرُ عَلَيْهِ أَنْ يُهَاجِرَ إِلَى غَيْرِهِ ، فَهَاجَرَ بِأَهْلِهِ وَمَالِهِ مُكْتَتِمًا مِنْ قُرَيْشٍ حَتَّى قَدِمَ الْمَدِينَةَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَثَبَ أَبُو سُفْيَانَ بْنُ حَرْبٍ فَبَاعَ دَارَهُ بِمَكَّةَ فَمَرَّ بِهَا بَعْدَ ذَلِكَ أَبُو جَهْلٍ ابْنُ هِشَامٍ ، وَعُتْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ ، وَشَيْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ ، وَالْعَبَّاسُ بْنُ عَبَدِ الْمُطَّلِبِ ، وَحُوَيْطِبُ بْنُ عَبَدِ الْعُزَّى ، وَفِيهَا أُهُبٌ مَعْطُونَةٌ ، فَذَرَفَتْ عَيْنَا عُتْبَةَ ، وَتَمَثَّلَ بِبَيْتٍ مِنْ شِعْرٍ : ¤ وَكُلُّ دَارٍ وَإِنْ طَالَتْ سَلَامَتُهَا يَوْمًا سَيُدْرِكُهَا النَّكْبَاءُ وَالْحُوبُ . قَالَ أَبُو جَهْلٍ : وَأَقْبَلَ عَلِيَّ الْعَبَّاسُ ، فَقَالَ : هَذَا مَا أَدْخَلْتُمْ عَلَيْنَا فَلَمَّا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَكَّةَ يَوْمَ الْفَتْحِ قَامَ أَبُو أَحْمَدَ يَنْشُدُ دَارَهُ ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ فَقَامَ إِلَى أَبِي أَحْمَدَ فَانْتَحَاهُ ، فَسَكَتَ أَبُو أَحْمَدَ عَنْ نَشِيدِ دَارِهِ ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : وَكَانَ أَبُو أَحْمَدَ يَقُولُ - وَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُتَّكِئٌ عَلَى يَدِهِ يَوْمَ الْفَتْحِ - : ¤ حَبَّذَا مَكَّةَ مِنْ وَادِي بِهَا أَمْشِي بِلَا هَادِي ¤ بِهَا يَكْثُرُ عُوَّادِي بِهَا تَرْكِزُ أَوْتَادِي ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَبِيبٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ ، یہ ان افراد میں سے آخری تھے ، جو ہجرت کرنے والے باقی رہ گئے تھے ، اُن کی بینائی کمزور ہو چکی تھی ، جب انہوں نے ہجرت کرنے کا ارادہ کیا ، تو ان کی اہلیہ ، جو حرب بن امیہ کی صاحبزادی تھیں ، انہوں نے اس بات کو ناپسند کیا اور انہوں نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ کسی اور طرف ہجرت کر لیں ، تو وہ اپنے اہلِ خانہ اور مال کو لے کر قریش سے چھپتے ہوئے ہجرت کے لئے نکلے ، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مدینہ منورہ آ گئے ، ابوسفیان بن حرب نے مکہ میں موجود ان کا گھر فروخت کر دیا ، اس کے بعد ابوجہل بن ہشام ، عتبہ بن ربیعہ ، شیبہ بن ربیعہ ، عباس بن عبدالمطلب اور حويطب بن عبدالعزیٰ کا اس گھر کے پاس سے گزر ہوا ، تو وہاں کچھ کھالیں رکھی ہوئی تھیں ، عتبہ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور اس نے صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے یہ شعر پڑھا : ” ہر گھر خواہ وہ کتنے عرصے تک سلامت رہے ، آخر کار ایک دن اسے بربادی اور وحشت لاحق ہو جاتے ہیں “ راوی کہتے ہیں : ابوجہل نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہو کر یہ کہا: یہ صورت حال آپ لوگوں نے ہم پر داخل کی ہے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن مکہ میں داخل ہوئے ، تو ابو أحمد کھڑے ہوئے اور انہوں نے اپنے گھر کے حوالے سے بات چیت کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو حکم دیا ، وہ اٹھ کر ابو أحمد کی طرف گئے اور انہیں اس سے روکا ، تو ابو أحمد اپنے گھر کے حوالے سے بات کرنے سے خاموش ہو گئے ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : فتح مکہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ پر ٹیک لگائی ہوئی تھی اور ابو أحمد یہ شعر پڑھ رہے تھے : ” مکہ کی وادی کے کیا کہنے ؟ میں یہاں کسی رہنما کے بغیر چلتا ہوں ، یہاں میرے ملاقاتی بہت سے ہیں ، یہاں میرے کیل گاڑے گئے ہیں “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن شبیب ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9926
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف