مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ الْهِجْرَةِ إِلَى الْمَدِينَةِ باب: مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنا
وَعَنْ صُهَيْبٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَرَأَيْتَ دَارَ هِجْرَتِكُمْ سَبْخَةً بَيْنَ ظَهْرَانَيْ حَرَّةَ ، فَإِمَّا أَنْ تَكُونَ هَجَرَ ، وَإِمَّا أَنْ تَكُونَ يَثْرِبَ " . ¤ قَالَ : وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْمَدِينَةِ وَخَرَجَ مَعَهُ أَبُو بَكْرٍ ، وَكُنْتُ قَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَخْرُجَ مَعَهُ ، وَصَدَّنِي فِتْيَانٌ مِنْ قُرَيْشٍ ، فَجَعَلْتُ لَيْلَتِي تِلْكَ أَقُومُ وَلَا أَقْعُدُ ، فَقَالُوا : قَدْ شَغَلَهُ اللَّهُ عَنْكُمْ بِبَطْنِهِ ، وَلَمْ أَكُنْ شَاكِيًا ، فَنَامُوا ، فَخَرَجْتُ فَلَحِقَنِي مِنْهُمْ نَاسٌ بَعْدَ مَا سِرْتُ يُرِيدُونَ رَدِّي ، فَقُلْتُ لَهُمْ : هَلْ لَكُمْ أَنْ أُعْطِيَكُمْ أَوَاقَ مِنْ ذَهَبٍ وَحُلَّةً سِيَرَاءَ بِمَكَّةَ ، وَتُخَلُّونَ سَبِيلِي وَتُوَثِّقُونَ لِي ، فَفَعَلُوا فَتَبِعْتُهُمْ إِلَى مَكَّةَ ، فَقُلْتُ : احْفِرُوا تَحْتَ أُسْكُفَّةِ الْبَابِ ، فَإِنَّ تَحْتَهَا الْأَوَاقَ ، وَاذْهَبُوا إِلَى فُلَانَةَ بِآيَةِ كَذَا وَكَذَا فَخُذُوا الْحُلَّتَيْنِ ، وَخَرَجْتُ حَتَّى قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قِبَاءً قَبْلَ أَنْ يَتَحَوَّلَ مِنْهَا فَلَمَّا رَآنِي قَالَ : " يَا أَبَا يَحْيَى ، رَبِحَ الْبَيْعُ " ثَلَاثًا . فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا سَبَقَنِي إِلَيْكَ أَحَدٌ ، وَمَا أَخْبَرَكَ إِلَّا جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤ قُلْتُ : وَلِصُهَيْبٍ حَدِيثٌ آخَرُ سَهَوْتُ عَنْهُ يَأْتِي فِي آخِرِ هَذَا الْبَابِ . ¤سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میرا خیال ہے تم لوگوں کی ہجرت کی جگہ ، ایک شوریدہ زمین ہے ، جو دو طرف موجود پتھریلے علاقے کے درمیان ہے یا تو یہ ” حجر “ ہو گا یا ” یثرب “ ہو گا“ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ کی طرف نکلنے لگے ، تو آپ کے ساتھ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی تھے ، میرا بھی یہ ارادہ تھا کہ میں آپ کے ساتھ نکلوں گا ، لیکن قریش کے کچھ نوجوانوں نے مجھے روک لیا ، اس رات میں نوافل پڑھتا رہا ، میں بیٹھا نہیں ان لوگوں نے یہ کہا: اس کے پیٹ کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اسے تم لوگوں سے مشغول کر دیا ہے ، حالانکہ میں بیمار نہیں تھا ، پھر وہ لوگ سو گئے ، تو میں نکلا میرے روانہ ہونے کے بعد ان میں سے کچھ لوگ آ کر مجھ سے ملے ، وہ مجھے واپس لے جانا چاہ رہے تھے ، میں نے ان سے کہا: کیا تم اس بات میں دلچسپی رکھتے ہو ؟ کہ میں سونے کے کچھ اوقیہ اور مکہ میں موجود سیرائی حلہ تمہیں دے دوں ؟ اور تم لوگ میرا راستہ چھوڑ دو ، ان لوگوں نے یہ بات مان لی ، تو میں ان کے پیچھے مکہ تک آیا ، میں نے کہا: تم دروازے کی چوکھٹ کے نیچے سے کھدائی کرو ، ان کے نیچے اوقیہ موجود ہیں ، اور تم فلاں عورت کے پاس فلاں نشانی لے کے جاؤ اور اس سے دو حلے لے لینا ، پھر میں وہاں سے نکلا ، یہاں تک کہ قباء میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، یہ آپ کے وہاں سے منتقل ہونے سے پہلے کی بات ہے جب آپ نے مجھے ملاحظہ فرمایا ، تو آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمایا : اے ابویحیی ! منافع کا سودا کیا ہے ( یعنی تم نے ان لوگوں کو سونا اور حلے دے کر جو اپنا پیچھا کرنے سے روک دیا ہے ) میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھ سے پہلے کوئی آپ تک نہیں پہنچا ( جو آپ کو اس بارے میں بتاتا ، تو ) آپ کو سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے اس بارے میں بتایا ہو گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ایک اور حدیث منقول ہے جسے میں بھول گیا تھا وہ اس باب کے آخر میں آئے گی ۔