حدیث نمبر: 9910
وَعَنْ حُبَيْشِ بْنِ خَالِدٍ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ خَرَجَ مِنْ مَكَّةَ مُهَاجِرًا إِلَى الْمَدِينَةِ هُوَ وَأَبُو بَكْرٍ ، وَمَوْلَى أَبِي بَكْرٍ عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ ، وَدَلِيلُهُمَا اللِّيثِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْأُرَيْقِطِ ، مَرُّوا عَلَى خَيْمَتَيْ أُمِّ مَعْبَدٍ الْخُزَاعِيَّةِ وَكَانَتِ امْرَأَةً بَرْزَةً جَلْدَةً ، تَحْتَبِي بِفَنَاءِ الْقُبَّةِ ، وَتُسْقِي وَتُطْعِمُ ، فَسَأَلُوهَا لَحْمًا وَتَمْرًا لِيَشْتَرُوهُ مِنْهَا ، فَلَمْ يُصِيبُوا عِنْدَهَا شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ وَكَانَ الْقَوْمُ مُرْمَلِينَ مُسْنَتِينَ ، فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى شَاةٍ فِي كَسْرِ الْخَيْمَةِ ، فَقَالَ : " مَا هَذِهِ الشَّاةُ يَا أُمَّ مَعْبَدٍ ؟ " . قَالَتْ : خَلَّفَهَا الْجُهْدُ عَنِ الْغَنَمِ قَالَ : " فَهَلْ بِهَا مِنْ لَبَنٍ ؟ " . قَالَتْ : هِيَ أَجْهَدُ مِنْ ذَلِكَ قَالَ : " أَتَأْذَنِينَ أَنْ أَحْلِبَهَا ؟ " . قَالَتْ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ، نَعَمْ ، إِنْ رَأَيْتَ بِهَا حَلْبًا فَاحْلِبْهَا ، فَدَعَا بِهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَمَسَحَ بِيَدِهِ ضَرْعَهَا وَسَمَّى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ، وَدَعَا اللَّهَ فِي شَأْنِهَا ، فَتَفَاجَّتْ عَلَيْهِ ، وَدَرَّتْ وَاجْتَرَّتْ ، وَدَعَا بِإِنَاءٍ يَرْبِضُ الرَّهْطَ ، فَحَلَبَ فِيهِ ثَجًّا حَتَّى عَلَاهُ الْبَهَاءُ ، ثُمَّ سَقَاهَا حَتَّى رَوِيَتْ ، وَسَقَى أَصْحَابَهُ حَتَّى رُوُوا ، وَشَرِبَ آخِرُهُمْ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ أَرَاضُوا ، ثُمَّ حَلَبَ فِيهَا ثَانِيًا بَعْدَ مَدَى حَتَّى مَلَأَ الْإِنَاءَ ، ثُمَّ غَادَرَهُ عِنْدَهَا ، ثُمَّ بَايَعَهَا وَارْتَحَلُوا عَنْهَا ، فَقَلَّمَا لَبِثَتْ أَنْ جَاءَ زَوْجُهَا أَبُو مَعْبَدٍ يَسُوقُ أَعْنُزًا عِجَافًا يَتَسَاوَكْنَ هُزَالًا ، مُخُّهُنَّ قَلِيلٌ ، فَلَمَّا رَأَى أَبُو مَعْبَدٍ اللَّبَنَ عَجِبَ ، وَقَالَ : مِنْ أَيْنَ هَذَا اللَّبَنُ يَا أُمَّ مَعْبَدٍ ، وَالشَّاةُ عَازِبٌ حِيَالٌ ، وَلَا حَلُوبَةَ فِي الْبَيْتِ ؟ قَالَتْ : لَا وَاللَّهِ إِلَّا أَنَّهُ مَرَّ بِنَا رَجُلٌ مُبَارَكٌ مِنْ حَالِهِ كَذَا وَكَذَا قَالَ : صِفِيهِ لِي يَا أُمَّ مَعْبَدٍ . قَالَتْ : رَأَيْتُ رَجُلًا ظَاهِرَ الْوَضَاءَةِ ، أَبْلَجَ الْوَجْهِ ، حَسَنَ الْخُلُقِ لَمْ تُعِبْهُ ثَجْلَةٌ ، وَلَمْ تَزْرِ بِهِ صَعْلَةٌ ، وَسِيمٌ قَسِيمٌ فِي عَيْنَيْهِ دَعَجٌ ، وَفِي أَشْفَارِهِ وَطَفٌ ، وَفِي صَوْتِهِ صَهَلٌ ، وَفِي عُنُقِهِ سَطَعٌ ، وَفِي لِحْيَتِهِ كَثَافَةٌ ، أَزَجُّ أَقْرَنُ ، إِنْ صَمَتَ فَعَلَيْهِ الْوَقَارُ ، وَإِنْ تَكَلَّمَ سَمَا وَعَلَاهُ الْبَهَاءُ ، أَجْمَلُ النَّاسِ ، وَأَبْهَى مِنْ بَعِيدٍ ، وَأَحْلَاهُ وَأَحْسَنُهُ مِنْ قَرِيبٍ ، حُلْوُ الْمَنْطِقِ فَصْلٌ لَا هَذْرَ وَلَا نَزْرَ ، كَأَنَّ مَنْطِقَهُ خَرَزَاتُ نَظْمٍ يَنْحَدِرْنَ رَبْعٌ ، لَا يَيْأَسُ مِنْ طُولٍ ، وَلَا تَقْتَحِمُهُ عَيْنٌ مِنْ قِصَرٍ ، غُصْنٌ بَيْنَ غُصْنَيْنِ ، فَهُوَ أَنْظَرُ الثَّلَاثَةِ مَنْظَرًا ، وَأَحْسَنُهُمْ قَدْرًا ، لَهُ رُفَقَاءُ يَحْفَوْنَ بِهِ ، إِنْ قَالَ أَنْصَتُوا لِقَوْلِهِ ، وَإِنْ أَمَرَ تَبَادَرُوا أَمْرَهُ ، مَحْقُودٌ مَحْسُودٌ لَا عَابِسٌ وَلَا مُفْنِدٌ . ¤ قَالَ أَبُو مَعْبَدٍ : هُوَ وَاللَّهِ صَاحِبُ قُرَيْشٍ الَّذِي ذُكِرَ لَنَا مِنْ أَمْرِهِ مَا ذُكِرَ بِمَكَّةَ ، وَلَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَصْحَبَهُ وَلَأَفْعَلَنَّ إِنْ وَجَدْتُ إِلَى ذَلِكَ سَبِيلًا ، وَأَصْبَحَ صَوْتٌ بِمَكَّةَ عَالِيًا يَسْمَعُونَ الصَّوْتَ وَلَا يَدْرُونَ مَنْ صَاحِبُهُ ، وَهُوَ يَقُولُ : ¤ جَزَى اللَّهُ رَبُّ النَّاسِ خَيْرَ جَزَائِهِ رَفِيقَيْنِ قَلَا خَيْمَتَيْ أُمِّ مَعْبَدِ . هُمَا نَزَلَاهَا بِالْهُدَى وَاهْتَدَتْ بِهِ ¤ لَقَدْ فَازَ مَنْ أَمْسَى رَفِيقَ مُحَمَّدِ فَيَا لِقَصِيٍّ مَا زَوَى اللَّهُ عَنْكُمُ ¤ بِهِ مِنْ فِعَالٍ لَا تُجَارَى وَسُؤْدَدِ لِيَهْنَ بَنِي كَعْبٍ مَكَانَ فَتَاتِهِمْ وَمَقْعَدُهَا لِلْمُؤْمِنِينَ بِمَرْصَدِ ¤ سَلُوا أُخْتَكُمْ عَنْ شَاتِهَا وَإِنَائِهَا فَإِنَّكُمْ إِنْ تَسْأَلُوا الشَّاةَ تَشْهَدِ ¤ دَعَاهَا بِشَاةٍ حَائِلٍ فَتَحَلَّبَتْ عَلَيْهِ صَرِيحًا ضَرَّةُ الشَّاةِ مُزْبَدِ فَغَادَرَهَا رَهْنًا لَدَيْهَا لِحَالِبٍ يُرَدِّدُهَا فِي مَصْدَرٍ ثُمَّ مَوْرِدِ ¤ فَلَمَّا أَنْ سَمِعَ حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ بِذَلِكَ شَبَّ يُجِيبُ الْهَاتِفَ ، وَهُوَ يَقُولُ . ¤ لَقَدْ خَابَ قَوْمٌ زَالَ عَنْهُمْ نَبِيُّهُمْ وَقَدَّسَ مَنْ يَسْرِي إِلَيْهِمْ وِيَغْتَدِي ¤ تَرَحَّلَ عَنْ قَوْمٍ فَضَّلَتْ عُقُولُهُمْ وَحَلَّ عَلَى قَوْمٍ بِنُورٍ مُجَدِّدِ ¤ هُدَاهُمْ بِهِ بَعْدَ الضَّلَالَةِ رَبُّهُمْ وَأَرْشَدَهُمْ مَنْ يَبْتَغِي الْحَقَّ يَرْشُدِ ¤ وَهَلْ يَسْتَوِي ضُلَّالُ قَوْمٍ تَسَفَّهُوا عَمَايَتُهُمْ هَادٍ بِهِ كُلَّ مُهْتَدِ ؟ ¤ وَقَدْ نَزَلَتْ مِنْهُ عَلَى أَهْلِ يَثْرِبَ رِكَابُ هُدًى حَلَّتْ عَلَيْهِمْ بِأَسْعَدِ ¤ نَبِيٌّ يَرَى مَا لَا يَرَى النَّاسُ حَوْلَهُ وَيَتْلُو كِتَابَ اللَّهِ فِي كُلِّ مَسْجِدِ ¤ وَإِنْ قَالَ فِي يَوْمٍ مَقَالَةَ غَائِبٍ فَتَصْدِيقُهَا فِي الْيَوْمِ أَوْ فِي ضُحَى الْغَدِ ¤ لِيَهْنَ أَبَا بَكْرٍ سَعَادَةُ جَدِّهِ بِصُحْبَتِهِ مَنْ يُسْعِدِ اللَّهُ يَسْعَدِ ¤ لِيَهْنَ بَنِي كَعْبٍ مَكَانَ فَتَاتِهِمْ وَمَقْعَدُهَا لِلْمُؤْمِنِينَ بِمَرْصَدِ ¤ وَقَالَ لَنَا مُجَاهِدٌ عَنْ مُكْرَمٍ : فِي أَشْفَارِهِ وَطَفٌ ، وَهُوَ الطُّولُ . وَالصَّوَابُ : صَحَلٌ ، وَهِيَ الْبَحَّةُ . وَقَالَ لَنَا مُكْرَمٌ : لَا يَأَسَ مِنْ طُولٍ ، وَالصَّوَابُ : لَا يَتَشَنَّى مِنْ طُولٍ . ¤ وَقَالَ لَنَا عَنْ مَكْرُمٍ : لَا عَايِسٌ وَلَا مُفْنِدٍ يَعْنِي : لَا عَابِسٌ ، وَلَا مُكَذِّبٌ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِي إِسْنَادِهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤ وَقَدْ وَرَدَ حَدِيثُ أُمِّ مَعْبَدٍ مِنْ طَرِيقِ سُلَيْطٍ ذَكَرْتُهُ فِي عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ فِي صِفَتِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤
محمد محی الدین

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ، سیدنا حبیش بن خالد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کی طرف ہجرت کے لئے مکہ سے نکلے آپ کے ساتھ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا غلام عامر بن فہیرہ تھے اور ان دونوں کو راستہ بتانے والا شخص لیث قبیلے سے تعلق رکھنے والا عبداللہ بن اریقط تھا ، ان حضرات کا گزر ، ام معبد خزاعیہ کے دو خیموں کے پاس سے ہوا ، وہ ایک مضبوط جسم کی بھاری بھرکم عورت تھی اور خیمے کے اندر رہتی تھی ، اس نے ان حضرات کو پانی پلایا کھانے کے لئے دیا ، ان حضرات نے اُم معبد سے گوشت اور کھجوریں خریدنے کے بارے میں دریافت کیا ، لیکن اس کے پاس یہ چیزیں نہیں تھیں ، کیونکہ وہ لوگ قحط سالی کا شکار تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیمے کے کونے میں موجود ایک بکری کو ملاحظہ فرمایا ، تو دریافت کیا : اے ام معبد ! اس بکری کا معاملہ ہے ؟ اس نے جواب دیا : یہ بھوک کی وجہ سے دوسری بکریوں سے پیچھے رہ گئی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا اس میں دودھ ہے ؟ اس نے عرض کی : یہ اس سے زیادہ کمزور ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم یہ اجازت دیتی ہو کہ میں اس کا دودھ دوہ لوں ؟ اس نے عرض کی : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، جی ہاں ! اگر آپ کو اس میں سے دودھ ملتا ہے تو اسے آپ دوہ لیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بکری کو بلایا آپ نے اس کے تھن پر اپنا دست مبارک پھیرا ، اللہ تعالیٰ کا نام لیا ، اس بکری کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے دعا کی ، اس نے اپنی ٹانگیں کھول دیں اور دودھ دینے کے لئے تیار ہو گئی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک برتن منگوایا جس کے ذریعے زیادہ افراد کو دودھ پلایا جا سکتا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں دودھ دوہ کر بھر لیا یہاں تک کہ وہ پر ہو گیا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ دودھ اُم معبد کو پلایا ، یہاں تک کہ وہ سیر ہو گئی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں کو پلایا یہاں تک کہ وہ سیر ہو گئے ، سب سے آخر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پیا ، پھر آپ نے دوسری مرتبہ اس برتن میں دودھ دوہ لیا ، یہاں تک کہ وہ برتن بھر گیا ، آپ وہ دودھ اس خاتون کے پاس چھوڑ کر روانہ ہو گئے آپ نے اس سے بیعت لی تھی اور پھر وہاں سے روانہ ہوئے تھے ، تھوڑی دیر گزرنے کے بعد اس کا شوہر ابومعبد اپنی کمزور بکریوں کو ہانکتا ہوا لے کر آیا ، جو کمزوری کے عالم میں چل رہی تھیں ، ان کے اندر گودا کم تھا ، جب ابومعبد نے دودھ دیکھا ، تو وہ حیران ہوا ، اور دریافت کیا : اے ام معبد ! یہ دودھ کہاں سے آیا ہے ؟ جبکہ بکریاں ایسی ہیں ، جو دودھ نہیں دے سکتی ہیں اور ویسے بھی دودھ گھر میں موجود نہیں تھا ، اس خاتون نے جواب دیا : جی نہیں ! اللہ کی قسم ! ہمارے پاس سے ایک برکت والے صاحب گزرے ہیں جن کی یہ ، یہ حالت تھی ، اس کے شوہر نے کہا: اے ام معبد ! تم ان کا حلیہ میرے سامنے بیان کرو ! تو ام معبد نے جواب دیا : میں نے ایک صاحب کو دیکھا جو روشن چمکدار چہرے کے مالک تھے ، شکل و صورت خوبصورت تھی میں نے ایک صاحب کو دیکھا جو روشن چمکدار چہرے کے مالک تھے ، شکل و صورت خوبصورت تھی ، نہ تو دبلا پن انہیں عیب دار کرتا تھا اور نہ ہی وہ موٹاپے کا شکار تھے ، وہ خوبرو اور وجیہہ و شکیل تھے ، ان کی آنکھیں سیاہ تھیں اور پلکوں کے بال لمبے تھے ، ان کی آواز نرم تھی اور گردن ذرا لمبی تھی ، ان کی داڑھی گھنی تھی اور ابرو لمبے تھے ، اگر وہ خاموش ہوتے تو باوقار محسوس ہوتے ، اور جب کلام کرتے تو نمایاں محسوس ہوتے ، ان پر چمک غالب تھی ، دور سے دیکھنے میں سب سے زیادہ خوبصورت اور روشن لگتے تھے ، اور قریب سے دیکھنے میں سب سے زیادہ حلاوت والے اور حسین لگتے تھے ، ان کا کلام مٹھاس والا تھا ، اور واضح تھا ، اس میں کوئی کمی یا فضول گوئی نہیں تھی ، ان کا کلام موتیوں کی طرح تھا ، جو گرتے ہیں ، درمیانے قد کے مالک تھے بالکل لمبے تڑنگے بھی نہیں تھے ، اور ( دیکھنے والے کی ) آنکھ چھوٹے قد کی وجہ سے آپ کو کمتر شمار نہ کرتی ، درمیانے قد کے تھے ، تینوں افراد میں آپ سب سے زیادہ خوبصورت ، اور سب سے زیادہ قدر و منزلت کے مالک تھے ، ان کے ساتھی ان کے ساتھ ہی تھے ، اگر وہ کوئی بات کہتے تو وہ ساتھی خاموشی سے ان کی بات سنتے اور اگر وہ کوئی حکم دیتے تو وہ ساتھ اس پر فوری طور پر عمل کرتے تھے ، نمایاں حیثیت کے مالک زبردست فرد تھے ، ماتھے پر بال ڈال کر رکھنے والے یا سٹھیائے ہوئے فرد نہیں تھے ۔ ابومعبد نے کہا: اللہ کی قسم ! یہ تو قریش کے وہی فرد لگتے ہیں ، جن کا ذکر ہمارے سامنے کیا گیا ہے اور جن کا ذکر مکہ میں ہو رہا تھا ، میں نے یہ ارادہ کیا ہے کہ میں اُن کے پاس جاؤں گا اور اگر مجھے وہاں تک جانے کا موقع مل گیا ، تو میں ایسا ضرور کروں گا ۔ ( راوی کہتے ہیں : ) اسی دوران مکہ میں ایک بلند آواز سنائی دی ، لوگوں نے وہ آواز سنی ، لیکن انہیں کہنے والا نظر نہیں آیا ، وہ یہ کہہ رہا تھا : اللہ تعالیٰ جو لوگوں کا پروردگار ہے ، وہ ( سفر کرنے والے ) دو ساتھیوں کو جزائے خیر عطا کرے ، جنہوں نے ام معبد کے خیمہ میں پڑاؤ کیا تھا ، وہ دونوں ہدایت کے ہمراہ اس خاتون کے ہاں ٹھہرے تھے ، اور اس خاتون نے ہدایت کو اختیار کیا ، تحقیق وہ شخص کامیاب ہو گیا جس نے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دیا ، اور اس بات پر افسوس ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تم سے اس کو لپیٹ دیا ( یا لے لیا ) ، کہ کچھ اور اس کا بدل نہیں ہو سکتا ، اور تم سے سرداری کو الگ کر دیا ، تو بنوکعب کو اپنے ( خاندان کی ) خاتون کو مبارکباد دینی چاہیے جس کی رہائشی جگہ اہل ایمان کے لیے پناگاہ ثابت ہوئی ، ( اے بنو کعب ! ) تم اپنی بہن سے اس کی بکری اور اس کے برتن کے بارے میں دریافت کرو اور اگر تم بکری سے پوچھو گے تو وہ بھی اس بات کی گواہی دے گی ، انہوں نے اس عورت سے ایسی بکری منگوائی تھی جو دودھ دینے کے قابل نہیں تھی ، اور پھر اس بکری نے اتنا دودھ دیا جتنا ایک صحیح و سالم بکری دیتی ہے ، پھر جب وہ اس عورت کے ہاں سے روانہ ہوئے تو انہوں نے دودھ دوہنے والے فرد ( یعنی اس عورت کے شوہر ) کے لیے بھی دودھ اس عورت کے پاس چھوڑ دیا ، جو فرد ان بکریوں کو گھاٹ پر لے جاتا اور واپس لاتا ہے “ ۔ جب سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے یہ اشعار سنے تو انہوں نے ہاتف کے جواب میں یہ اشعار کہے : ” وہ قوم رسوا ہو گئی جن کے پاس سے ان کے نبی تشریف لے گئے ، اور وہ قوم پاک ہو گئی جس کی طرف وہ نبی تشریف لے گئے ، اس نبی نے ایک قوم کو چھوڑ دیا تو اس قوم کی عقلمیں گمراہ ہو گئیں ، اور وہ نبی جس قوم کے پاس تشریف لے گئے ، ان کے پاس نور آ گیا ، ان کے پروردگار نے اس کے ذریعے ان لوگوں کو ہدایت نصیب کر دی ، اور ان کی رہنمائی کی ، جو شخص حق کی پیروی کر لیتا ہے وہ سمجھداری کا مظاہرہ کرتا ہے ، کیا ایک قوم کے گمراہ لوگ جنہوں نے اندھے پن اور بیوقوفی کو اختیار کیا ، وہ ہدایت یافتہ لوگوں کے برابر ہو سکتے ہیں ، اس ہدایت نے ان لوگوں کہ چھوڑ کر اہل یثرب کے ہاں پڑاؤ کیا ، اور وہ لوگ سب سے زیادہ سعادت مند ہو گئے ، وہ نبی ، وہ چیز دیکھ لیتے ہیں جو ان کے آس پاس موجود افراد نہیں دیکھ پاتے ہیں ، اور وہ ہر مسجد میں اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں ، اگر وہ کبھی کسی غیر موجود چیز کے بارے میں کوئی بات کہہ دیں ، تو اسی دن یا اگلے دن میں ، دن چڑھنے کے وقت تک اس کی تصدیق سامنے آ جاتی ہے ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو یہ سعادت مبارک ہو کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دیا ، سعادت مند وہی ہوتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ سعادت عطا کرتا ہے ، اور کعب کے بیٹوں کو اس خاتون کی رہائشی جگہ کے حوالے سے مبارکباد ہو ، جس کا گھر اہل ایمان کے لیے پناگاہ ثابت ہوا “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : مجاہد نے مکرم کے حوالے سے ہمیں یہ بات بیان کی ہے : ” فی اشفارہ وطف “ ( میں لفظ ” وطف “ ) کا مطلب لمبا ہونا ہے ۔ اور درست لفظ ” صحل “ ہے ، یعنی آواز کا بیٹھا ہوا ہونا ۔ مکرم نے ہمیں یہ بات بتائی ہے روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” لا يأس من طول “ جبکہ درست الفاظ یہ ہیں : ” لا يتشنی من طول“ انہوں نے مکرم کے حوالے سے ہمیں یہ بات بتائی ہے : ” لا عایس ولا مفند“ کا مطلب ہے : ” لا عابس ولا مكذب “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں سیدہ ام معبد رضی اللہ عنہا سے منقول حدیث ، سلیط کے حوالے سے بھی روایت کی گئی ہے ، جس کو میں نے علامات نبوت سے متعلق باب میں ، آپ کے حلیہ مبارک ( والے باب ) میں ذکر کیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9910
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3605)»