مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ الْهِجْرَةِ إِلَى الْمَدِينَةِ باب: مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنا
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ : اجْتَمَعْنَا لِلْهِجْرَةِ أَوْعَدْتُ أَنَا وَعِيَّاشُ بْنُ أَبِي رَبِيعَةَ ، وَهِشَامُ بْنُ الْعَاصِ الْمَيْضَاةَ - مَيْضَاةَ بَنِي غِفَارٍ - فَوْقَ شُرَفٍ ، وَقُلْنَا : أَيُّكُمْ لَمْ يُصْبِحْ عِنْدَهَا ، فَقَدِ احْتُبِسَ ، فَلْيَمْضِ صَاحِبَاهُ ، فَحُبِسَ عَنَّا هِشَامُ بْنُ الْعَاصِ ، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَنْزِلَنَا فِي بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ ، وَخَرَجَ أَبُو جَهْلِ بْنُ هِشَامٍ ، وَالْحَارِثُ بْنُ هِشَامٍ إِلَى عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ ، وَكَانَ ابْنُ عَمِّهِمَا وَأَخَاهُمَا لِأُمِّهِمَا حَتَّى قَدِمَا عَلَيْنَا الْمَدِينَةَ فَكَلَّمَاهُ ، فَقَالَا لَهُ : إِنَّ أُمَّكَ نَذَرَتْ أَنْ لَا تَمَسَّ رَأْسَهَا مُشْطٌ حَتَّى تَرَاكَ ، فَرَقَّ لَهَا ، فَقُلْتُ لَهُ : يَا عَيَّاشُ ، وَاللَّهِ إِنْ يَرُدَّكَ الْقَوْمُ إِلَّا عَنْ دِينِكَ ، فَاحْذَرْهُمْ ، فَوَاللَّهِ لَوْ قَدْ آذَى أُمَّكَ الْقَمْلُ لَامْتَشَطَتْ ، وَلَوْ قَدِ اشْتَدَّ عَلَيْهَا حَرُّ مَكَّةَ - أَحْسَبُهُ قَالَ - لَامْتَشَطَتْ قَالَ : إِنَّ لِي هُنَاكَ مَالًا فَآخُذُهُ ؟ قَالَ : قُلْتُ : وَاللَّهِ إِنَّكَ لَتَعْلَمُ أَنِّي مِنْ أَكْثَرِ قُرَيْشٍ مَالًا ، فَلَكَ نِصْفُ مَالِي وَلَا تَذْهَبْ مَعَهُمَا ، فَأَبَى إِلَّا أَنْ يَخْرُجَ مَعَهُمَا ، فَقُلْتُ لَهُ لَمَّا أَبَى عَلَيَّ : أَمَّا إِذْ فَعَلْتَ مَا فَعَلْتَ فَخُذْ نَاقَتِي هَذِهِ ; فَإِنَّهَا نَاقَةٌ ذَلُولٌ فَالْزَمْ ظَهْرَهَا ، فَإِنْ رَابَكَ مِنَ الْقَوْمِ رَيْبٌ ; فَأَنِخْ عَلَيْهَا ، فَخَرَجَ مَعَهُمَا عَلَيْهَا حَتَّى إِذَا كَانُوا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ ، قَالَ أَبُو جَهْلِ بْنُ هِشَامٍ : وَاللَّهِ لَقَدِ اسْتَبْطَأْتُ بَعِيرِي هَذَا ، أَفَلَا تَحْمِلُنِي عَلَى نَاقَتِكَ هَذِهِ ؟ قَالَ : بَلَى ، فَأَنَاخَ وَأَنَاخَا لِيَتَحَوَّلَ عَلَيْهَا ، فَلَمَّا اسْتَوَوْا بِالْأَرْضِ عَدَّيَا عَلَيْهِ ، فَأَوْثَقَاهُ ثُمَّ أَدْخَلَاهُ مَكَّةَ ، وَفَتَنَاهُ فَافْتُتِنَ قَالَ : فَكُنَّا نَقُولُ : وَاللَّهِ لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِمَّنِ افْتُتِنَ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا ، وَلَا يَقْبَلُ تَوْبَةَ قَوْمٍ عَرَفُوا اللَّهَ ثُمَّ رَجَعُوا إِلَى الْكُفْرِ ; لِبَلَاءٍ أَصَابَهُمْ قَالَ : وَكَانُوا يَقُولُونَ ذَلِكَ لِأَنْفُسِهِمْ ، فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَدِينَةَ أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِمْ ، وَفِي قَوْلِنَا لَهُمْ ، وَقَوْلِهِمْ لِأَنْفُسِهِمْ : يَاعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ إِلَى قَوْلِهِ : ( وَأَنْتُمْ لَا تَشْعُرُونَ ) ، قَالَ عُمَرُ : فَكَتَبْتُهَا فِي صَحِيفَةٍ وَبَعَثْتُ بِهَا إِلَى هِشَامِ بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ هِشَامٌ : فَلَمْ أَزَلْ أَقْرَؤُهَا بِذِي طُوَى أَصْعَدُ بِهَا فِيهِ حَتَّى فَهِمْتُهَا قَالَ : فَأُلْقِيَ فِي نَفْسِي أَنَّهَا إِنَّمَا نَزَلَتْ فِينَا ، وَفِيمَا كُنَّا نَقُولُ فِي أَنْفُسِنَا ، وَيُقَالُ فِينَا ، فَرَجَعْتُ فَجَلَسْتُ عَلَى بَعِيرِي فَلَحِقْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْمَدِينَةِ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نے ہجرت کرنے کا ارادہ کر لیا ، میں نے عیاش بن ابوربیعہ نے ، اور ہشام بن عاص نے بنوغفار کے ” معیضاۃ “ پر اکٹھے ہونے کا وعدہ کیا ، جو ٹیلے پر تھا ، ہم نے یہ طے کیا کہ جو شخص وہاں نہیں پہنچ پائے گا ، وہ پیچھے رہ جائے گا اور باقی لوگ چلے جائیں گے ، تو ہشام بن عاص ہم تک نہیں آ سکے ، جب ہم مدینہ منورہ میں بنوعمرو بن عوف کے علاقے میں قباء میں اپنی رہائشی جگہ پر پہنچ گئے ، تو ابوجہل بن ہشام اور حارث بن ہشام نکل کر عیاش بن ابوبیعہ کے پاس آئے ، یہ دونوں عیاش بن ابوربیعہ کے چچازاد بھی تھے اور ماں کی طرف سے شریک بھائی بھی تھے یہ دونوں مدینہ منورہ میں ہمارے پاس آئے ، ان دونوں نے عیاش کے ساتھ بات چیت کی اور اس سے یہ کہا: تمہاری ماں نے یہ نذر مانی ہے کہ وہ اس وقت تک بالوں میں کنگھی نہیں کرے گی جب تک تمہیں دیکھ نہیں لے گی ، تو عیاش کا دل اپنی والدہ کے لئے پسیج گیا ، میں نے اس سے کہا: اے عیاش ! اللہ کی قسم ! یہ لوگ تمہیں تمہارے دین سے واپس موڑنا چاہتے ہیں ، تو تم ان سے بچو ! اللہ کی قسم ! جب جوئیں تمہاری ماں کو تنگ کریں گی ، تو وہ خود ہی کنگھی کر لے گی ، اور جب مکہ کی گرمی اس پر گراں گزرے گی راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے ، روایت میں یہ الفاظ ہیں : تو وہ کنگھی بھی کر لے گی ، عیاش نے کہا: وہاں میرا مال موجود ہے ، وہ میں لے لوں گا ، میں نے کہا: اللہ کی قسم تم یہ بات جانتے ہو کہ میرے پاس قریش میں سب سے زیادہ مال تھا ، میرا نصف مال تم لے لو ، لیکن تم ان دونوں کے ساتھ نہ جاؤ ، لیکن اس نے یہ بات نہیں مانی اور ان دونوں کے ساتھ چلا گیا ، جب اس نے میری بات نہیں مانی ، تو میں نے اس سے کہا: چلو تمہاری جو مرضی ہے وہ کرو ، لیکن تم میری یہ اونٹنی لے لو ، یہ ایک فرمانبردار اونٹنی ہے ، تم اس کی پشت پر بیٹھ جانا ، اگر ان لوگوں نے تمہیں کوئی دھوکہ دیا ، تو تم اس پر سوار ہو جانا ، پھر وہ ان دونوں کے ساتھ اس اونٹنی پر بیٹھ کر چلا گیا ، راستے میں کسی جگہ پر ابوجہل بن ہشام نے کہا: اللہ کی قسم ! میرا یہ اونٹ چلنے میں سستی دکھا رہا ہے ، کیا تم مجھے اپنی اس اونٹنی پر سواری کرنے دیتے ہو ؟ عیاش نے کہا: ٹھیک ہے اس نے اونٹنی کو بٹھایا تاکہ ابوجہل اس پر منتقل ہو جائے جب وہ لوگ زمین پر بیٹھے ، تو ان دونوں نے عیاش پر حملہ کر کے اسے باندھ دیا اور پھر اسے لے کر مکہ چلے گئے اور اسے آزمائش کا شکار کر دیا ، تو وہ آزمائش کا شکار ہوا ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ہم یہ کہا: کرتے تھے : اللہ کی قسم ! جو شخص آزمائش کا شکار کرتا ہے ، اس کی کوئی فرض یا نفل عبادت اللہ تعالیٰ قبول نہیں کرے گا ، اور اس قوم کی توبہ بھی اللہ تعالیٰ قبول نہیں کرے گا ، جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کر لی ہو اور پھر پیش آنے والی کسی مصیبت کے نتیجے میں وہ کفر کی طرف واپس چلے گئے ہوں ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : لوگ یہ موقف اپنی ذاتی رائے کی بنیاد پر رکھتے تھے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے ، تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے بارے میں ، ہمارے موقف اور ان لوگوں کے بارے میں ان کے اپنے موقوف کے بارے میں یہ آیت کی : ” اے میرے وہ بندو ! جنہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا ، تم اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو ، بے شک اللہ تعالیٰ تمام گناہوں کی مغفرت کر دے گا ، بے شک وہ مغفرت کرنے والا رحم کرنے والا ہے “ یہ آیت یہاں تک ہے : ” اور تم شعور نہیں رکھتے ہو “ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ہم نے یہ آیت ایک صحیفہ میں نوٹ کی اور اسے ہشام بن العاص کو بھجوا دیا ، ہشام کہتے ہیں : ذی طوی کے مقام پر میں مسلسل اسے پڑھتا رہا یہاں تک کہ یہ مجھے سمجھ آ گئی ، پھر میرے ذہن میں یہ بات آئی ، یہ ہمارے بارے میں نازل ہوئی ہے اور اس چیز کے بارے میں نازل ہوئی ہے ، جو ہم اپنی ذات کے بارے میں کہتے ہیں ، یا جو ہمارے بارے میں کہی جاتی ہے ، تو میں واپس آیا ، اپنے اونٹ پر بیٹھا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آ ملا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔