حدیث نمبر: 9924
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَاسْتَنَاخَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ بَيْنَ دَارِ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، وَدَارِ الْحَسَنِ بْنِ زَيْدٍ ، فَأَتَاهُ النَّاسُ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الْمَنْزِلُ ، فَانْبَعَثَ بِهِ رَاحِلَتُهُ ، فَقَالَ : " دَعُوهَا فَإِنَّهَا مَأْمُورَةٌ " . ثُمَّ خَرَجَتْ بِهِ حَتَّى جَاءَتْ بِهِ مَوْضِعَ الْمِنْبَرِ فَاسْتَنَاخَتْ بِهِ ثُمَّ تَجَلْجَلَتْ ، وَلِنَاسٍ ثَمَّ عَرِيشٌ كَانُوا يَرُشُّونَهُ وَيُعَمِّرُونَهُ وَيَتَبَرَّدُونَ فِيهِ حَتَّى نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ رَاحِلَتِهِ ، فَآوَى إِلَى الظِّلِّ فَنَزَلَ فِيهِ فَأَتَاهُ أَبُو أَيُّوبَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنْزِلِي أَقْرَبُ الْمَنَازِلِ إِلَيْهِ فَانْقُلْ رَحْلَكَ قَالَ : " نَعَمْ " . فَذَهَبَ بِرَحْلِهِ إِلَى الْمَنْزِلِ ثُمَّ أَتَاهُ رَجُلٌ آخَرُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، انْزِلْ عَلَيَّ ، فَقَالَ : " إِنَّ الرَّجُلَ مَعَ رَحْلِهِ حَيْثُ كَانَ " . وَثَبَتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْعَرِيشِ اثْنَتَيْ عَشَرَةَ لَيْلَةً حَتَّى بَنَى الْمَسْجِدَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ صِدِّيقُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ الذَّهَبِيُّ : لَيْسَ بِالْحُجَّةِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے ( راوی بیان کرتے ہیں : ) تو آپ کی اونٹنی اس جگہ پر ٹھہر گئی ، جو ( اس وقت ) امام جعفر صادق اور امام حسن بن زید کے گھروں کے درمیان والی جگہ ہے لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! رہائشی جگہ کون سی ہو گی ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی آپ کو لے کر کھڑی ہو گئی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایسے چھوڑ دو ! یہ حکم کی پابند ہے ، پھر وہ آپ کو لے کر چلی ، یہاں تک کہ وہ آپ کو لے کر اس جگہ پر آئی ، جہاں منبر رکھا ہوا ہے ، وہاں وہ ٹھہر گئی اور بیٹھ گئی ، اس جگہ پر لوگوں نے ایک چھپر بنایا ہوا تھا ، جہاں وہ پانی چھڑکایا کرتے تھے اور وہاں ٹھنڈک حاصل کیا کرتے تھے ، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری سے اترے آپ سائے کی طرف آئے اور وہاں ٹھہر گئے ، سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرا گھر تمام گھروں سے زیادہ قریب ہے ، تو آپ اپنی سواری کو ( یا سامان کو ) وہاں منتقل کر دیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ٹھیک ہے ! پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامان کو اپنے گھر لے گئے ، ایک اور شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ آپ میرے ہاں پڑاؤ کیجئے ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : آدمی اپنے سامان کے ساتھ ہوتا ہے ، جہاں وہ ہو ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بارہ دن تک اس جگہ پر مقیم رہے ، یہاں تک کہ آپ نے مسجد کی تعمیر شروع کروائی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی صدیق بن موسیٰ ہے ، امام ذہبی کہتے ہیں : وہ حجت نہیں ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9924
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف