«ويل للعرب من شر قد اقترب أفلح من كف يده»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”عربوں کے لیے اس شر سے خرابی ہے جو قریب آ چکا ہے، کامیاب ہوا وہ جس نے اپنا ہاتھ روکے رکھا۔“
”عربوں کے لیے اس شر سے خرابی ہے جو قریب آ چکا ہے، کامیاب ہوا وہ جس نے اپنا ہاتھ روکے رکھا۔“
«ويل للذي يحدث فيكذب ليضحك به القوم ويل له ويل له»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اس شخص کے لیے خرابی ہے جو بات کرتے ہوئے جھوٹ بولے تاکہ لوگوں کو ہنسائے، اس کے لیے خرابی ہے، اس کے لیے خرابی ہے۔“
”اس شخص کے لیے خرابی ہے جو بات کرتے ہوئے جھوٹ بولے تاکہ لوگوں کو ہنسائے، اس کے لیے خرابی ہے، اس کے لیے خرابی ہے۔“
«ويل للمكثرين إلا من قال بالمال هكذا وهكذا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کثیر مال جمع کرنے والوں کے لیے خرابی ہے، سوائے اس کے جو مال کو یوں اور یوں خرچ کرے۔“
”کثیر مال جمع کرنے والوں کے لیے خرابی ہے، سوائے اس کے جو مال کو یوں اور یوں خرچ کرے۔“
«ويل للنساء من الأحمرين: الذهب والمعصفر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”عورتوں کے لیے دو سرخ چیزوں یعنی سونے اور کسم رنگے کپڑے کی وجہ سے خرابی ہے۔“
”عورتوں کے لیے دو سرخ چیزوں یعنی سونے اور کسم رنگے کپڑے کی وجہ سے خرابی ہے۔“
«ويلك! أو لست أحق أهل الأرض أن يتقي الله؟»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”افسوس تم پر! کیا میں زمین والوں میں سب سے زیادہ اس بات کا حقدار نہیں کہ میرے بارے میں اللہ سے ڈرا جائے؟“
”افسوس تم پر! کیا میں زمین والوں میں سب سے زیادہ اس بات کا حقدار نہیں کہ میرے بارے میں اللہ سے ڈرا جائے؟“
«ويلك! قطعت عنق صاحبك من كان منكم مادحا أخاه لا محالة فليقل: أحسب فلانا والله حسيبه ولا أزكي على الله أحدا أحسبه كذا وكذا إن كان يعلم ذلك منه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”افسوس تم پر! تم نے اپنے ساتھی کی گردن کاٹ دی۔ تم میں سے جسے اپنے بھائی کی تعریف کرنی ہی ہو تو وہ یوں کہے: میں فلاں کو ایسا سمجھتا ہوں، اور اللہ ہی اس کا حساب لینے والا ہے، اور میں اللہ کے سامنے کسی کی پاکیزگی کا دعویٰ نہیں کرتا، میں اسے ایسا ایسا سمجھتا ہوں، بشرطیکہ وہ اس کے بارے میں یہ جانتا ہو۔“
”افسوس تم پر! تم نے اپنے ساتھی کی گردن کاٹ دی۔ تم میں سے جسے اپنے بھائی کی تعریف کرنی ہی ہو تو وہ یوں کہے: میں فلاں کو ایسا سمجھتا ہوں، اور اللہ ہی اس کا حساب لینے والا ہے، اور میں اللہ کے سامنے کسی کی پاکیزگی کا دعویٰ نہیں کرتا، میں اسے ایسا ایسا سمجھتا ہوں، بشرطیکہ وہ اس کے بارے میں یہ جانتا ہو۔“
«ويلك! ومن يعدل إذا لم أعدل! قد خبت وخسرت إن لم أكن أعدل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”افسوس تم پر! اگر میں عدل نہ کروں تو اور کون کرے گا! اگر میں عدل نہ کروں تو میں ناکام اور خسارے میں رہوں۔“
”افسوس تم پر! اگر میں عدل نہ کروں تو اور کون کرے گا! اگر میں عدل نہ کروں تو میں ناکام اور خسارے میں رہوں۔“
«الوائدة والموءودة في النار»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”زندہ درگور کرنے والی اور زندہ درگور کی گئی، دونوں جہنم میں ہیں۔“
”زندہ درگور کرنے والی اور زندہ درگور کی گئی، دونوں جہنم میں ہیں۔“
«الوائدة والموءودة في النار إلا أن تدرك الوائدة الإسلام فتسلم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”زندہ درگور کرنے والی اور زندہ درگور کی گئی، دونوں جہنم میں ہیں، سوائے اس کے کہ زندہ درگور کرنے والی اسلام پا لے اور مسلمان ہو جائے۔“
”زندہ درگور کرنے والی اور زندہ درگور کی گئی، دونوں جہنم میں ہیں، سوائے اس کے کہ زندہ درگور کرنے والی اسلام پا لے اور مسلمان ہو جائے۔“
«الواحد شيطان والاثنان شيطانان والثلاثة ركب»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ایک اکیلا مسافر شیطان ہے، دو بھی شیطان ہیں، اور تین ایک قافلہ ہیں۔“
”ایک اکیلا مسافر شیطان ہے، دو بھی شیطان ہیں، اور تین ایک قافلہ ہیں۔“
«الوالد أوسط أبواب الجنة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”باپ جنت کے دروازوں میں سب سے بہتر دروازہ ہے۔“
”باپ جنت کے دروازوں میں سب سے بہتر دروازہ ہے۔“
«الوتر حق على كل مسلم فمن شاء أوتر بسبع ومن شاء أوتر بخمس ومن شاء بثلاث ومن شاء أوتر بواحدة فمن غلب فليومئ إيماء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”وتر ہر مسلمان پر حق ہے، جو چاہے سات رکعت وتر پڑھے، جو چاہے پانچ، جو چاہے تین، اور جو چاہے ایک رکعت وتر پڑھے، اور جو بیماری کی وجہ سے عاجز ہو جائے وہ اشارے سے پڑھ لے۔“
”وتر ہر مسلمان پر حق ہے، جو چاہے سات رکعت وتر پڑھے، جو چاہے پانچ، جو چاہے تین، اور جو چاہے ایک رکعت وتر پڑھے، اور جو بیماری کی وجہ سے عاجز ہو جائے وہ اشارے سے پڑھ لے۔“
«الوتر ركعة من آخر الليل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”وتر رات کے آخری حصے میں ایک رکعت ہے۔“
”وتر رات کے آخری حصے میں ایک رکعت ہے۔“
«الوزن وزن أهل مكة والمكيال مكيال أهل المدينة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”وزن مکہ والوں کا وزن ہے اور ناپ مدینہ والوں کی ناپ ہے۔“
”وزن مکہ والوں کا وزن ہے اور ناپ مدینہ والوں کی ناپ ہے۔“
«الوسيلة درجة عند الله ليس فوقها درجة فسلوا الله أن يؤتيني الوسيلة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”وسیلہ اللہ کے ہاں ایک ایسا درجہ ہے جس سے اوپر کوئی درجہ نہیں، پس اللہ سے دعا کرو کہ وہ مجھے وسیلہ عطا فرمائے۔“
”وسیلہ اللہ کے ہاں ایک ایسا درجہ ہے جس سے اوپر کوئی درجہ نہیں، پس اللہ سے دعا کرو کہ وہ مجھے وسیلہ عطا فرمائے۔“
«الوضوء شطر الإيمان،.. ... »
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”وضو ایمان کا آدھا حصہ ہے۔۔۔“
”وضو ایمان کا آدھا حصہ ہے۔۔۔“
«الوضوء مما أنضجت النار»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو چیز آگ سے پکائی گئی ہو اس کے کھانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔“
”جو چیز آگ سے پکائی گئی ہو اس کے کھانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔“
«الوضوء مما مست النار»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس چیز کو آگ نے چھوا ہو اس کے کھانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔“
”جس چیز کو آگ نے چھوا ہو اس کے کھانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔“
«الوضوء مما مست النار ولو من ثور أقط»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس چیز کو آگ نے چھوا ہو اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، خواہ وہ خشک پنیر کا ایک ٹکڑا ہی کیوں نہ ہو۔“
”جس چیز کو آگ نے چھوا ہو اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، خواہ وہ خشک پنیر کا ایک ٹکڑا ہی کیوں نہ ہو۔“
«الوضوء يكفر ما قبله ثم تصير الصلاة نافلة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”وضو اپنے سے پہلے کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے، پھر نماز نفل (اضافی اجر) بن جاتی ہے۔“
”وضو اپنے سے پہلے کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے، پھر نماز نفل (اضافی اجر) بن جاتی ہے۔“
«الولاء لحمة كلحمة النسب لا يباع ولا يوهب»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ولاء ایک ایسا رشتہ ہے جیسے نسب کا رشتہ، اسے نہ بیچا جا سکتا ہے اور نہ ہبہ کیا جا سکتا ہے۔“
”ولاء ایک ایسا رشتہ ہے جیسے نسب کا رشتہ، اسے نہ بیچا جا سکتا ہے اور نہ ہبہ کیا جا سکتا ہے۔“
«الولاء لمن أعتق»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ولاء اسی کا حق ہے جس نے غلام آزاد کیا ہو۔“
”ولاء اسی کا حق ہے جس نے غلام آزاد کیا ہو۔“
«الولاء لمن أعطى الورق وولي النعمة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ولاء اسی کا حق ہے جس نے آزادی کی رقم ادا کی ہو اور احسان کرنے والا ہو۔“
”ولاء اسی کا حق ہے جس نے آزادی کی رقم ادا کی ہو اور احسان کرنے والا ہو۔“
«الولد ثمرة القلب وإنه مجبنة ومبخلة محزنة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اولاد دل کا میوہ ہے، اور یہ بزدلی، بخل اور غم کا سبب بھی ہے۔“
”اولاد دل کا میوہ ہے، اور یہ بزدلی، بخل اور غم کا سبب بھی ہے۔“
«الولد للفراش وللعاهر الحجر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بچہ بستر والے (شوہر) کا ہے اور زانی کے لیے پتھر ہے۔“
”بچہ بستر والے (شوہر) کا ہے اور زانی کے لیے پتھر ہے۔“