کتب حدیثصحیح الجامع الصغیرابوابباب: حرف الف سے شروع ہونے والی احادیث
«احضروا الجمعة وادنوا من الإمام فإن الرجل ليتخلف عن الجمعة حتى أنه يتخلف عن الجنة وإنه لمن أهلها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جمعہ میں حاضر ہوا کرو اور امام کے قریب بیٹھا کرو، کیونکہ انسان جمعہ سے پیچھے رہتا ہے یہاں تک کہ اسے جنت سے بھی پیچھے کر دیا جاتا ہے، حالانکہ وہ جنتیوں میں سے ہوگا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 201
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم هق الضياء] عن سمرة. المصدر نفسه.
«احفروا وأعمقوا وأوسعوا وادفنوا الاثنين والثلاثة في قبر واحد وقدموا أكثرهم قرآنا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”قبریں کھودو، انہیں گہرا اور کشادہ بناؤ، اور دو اور تین افراد کو ایک ہی قبر میں دفن کر دو، اور (لحد میں) اسے آگے رکھو جسے قرآن زیادہ یاد ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 202
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ٤ هق] عن هشام بن عامر. أحكام الجنائز ١٤٢.
«احفظ عورتك إلا من زوجتك أو ما ملكت يمينك قيل: إذا كان القوم بعضهم في بعض؟ قال: إن استطعت أن لا يرينها أحد فلا يرينها قيل: إذا كان أحدنا خاليا؟ قال: الله أحق أن يستحيا منه من الناس»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرو سوائے اپنی بیوی یا اپنی لونڈی کے۔ (آپ سے) پوچھا گیا: اگر لوگ آپس میں ملے جلے ہوں؟ تو آپ نے فرمایا: اگر تم اس بات کی طاقت رکھتے ہو کہ اسے کوئی بھی نہ دیکھے تو اسے ہرگز کوئی نہ دیکھے۔ پھر پوچھا گیا: اگر ہم میں سے کوئی اکیلا تنہائی میں ہو؟ تو آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس بات کا زیادہ حقدار ہے کہ اس سے حیا کی جائے بنسبت لوگوں کے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 203
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم ع ك هق] عن بهز بن حكيم عن أبيه عن جده. آداب الزفاف ٣٤.
«احفظ لسانك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اپنی زبان کی حفاظت کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 204
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ابن عساكر] عن مالك بن يخامر. الصحيحة ١١٢٢ وزاد أحمد وت وابن ما جه.
«احفظ لسانك ثكلتك أمك معاذ! وهل يكب الناس على وجوههم إلا ألسنتهم» ؟
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اپنی زبان کی حفاظت کرو، اے معاذ! تمہاری ماں تم پر روئے، بھلا لوگوں کو جہنم میں اوندھے منہ گرانے والی چیز ان کی زبانوں کی کمائی کے سوا اور کیا ہے؟“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 205
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [الخرائطي في مكارم الأخلاق] عن الحسن مرسلا. الصحيحة ١١٢٢.
«احفظوني في أصحابي ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم ثم يفشوا الكذب حتى يشهد الرجل وما يستشهد ويحلف وما يستحلف»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میرے صحابہ کے حق میں میری وصیت یاد رکھو، پھر ان لوگوں کے حق میں جو ان کے بعد آئیں گے، پھر ان کے حق میں جو ان کے بعد آئیں گے، پھر (اس کے بعد) جھوٹ عام ہو جائے گا یہاں تک کہ آدمی گواہی دے گا حالانکہ اس سے گواہی نہیں مانگی گئی ہوگی، اور وہ قسم کھائے گا حالانکہ اس سے قسم طلب نہیں کی گئی ہوگی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 206
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن عمر. صحيح ١١١٦ وزاد أحمد والنسائي في الكبرى, والطيالسي – عن جرير عن عمر.
«أحفوا الشوارب واعفوا اللحى»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مونچھیں خوب پست کرو اور داڑھیاں بڑھاؤ۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 207
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م ت ن] عن ابن عمر [عد] عن أبي هريرة. رياض الصاحين ١٢١٣, الروض١٠٣٥.
«أحفهما جميعا أو انعلهما جميعا وإذا لبست فابدأ باليمنى وإذا خلعت فابدأ باليسرى»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”یا تو دونوں پاؤں ننگے رکھو یا پھر دونوں میں جوتے پہنو، اور جب تم جوتا پہنو تو دائیں پاؤں سے ابتدا کرو اور جب اتارو تو بائیں پاؤں سے ابتدا کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 208
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حب] عن أبي هريرة. الصحيحة ١١١٧ وزاد خ, حم.
«أحل الذهب والحرير لأناث أمتي وحرم على ذكورها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”سونا اور ریشم میری امت کی عورتوں کے لیے حلال کر دیا گیا ہے اور مردوں پر حرام کر دیا گیا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 209
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ن] عن أبي موسى. غاية المرام ٧٧, الإرواء ٢٧٧.
«أحلت لنا ميتتان ودمان فأما الميتتان: فالحوت والجراد وأما الدمان: فالكبد والطحال»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ہمارے لیے دو مردار اور دو قسم کے خون حلال کیے گئے ہیں۔ پس وہ دو مردار مچھلی اور ٹڈی ہیں، اور وہ دو خون کلیجی اور تلی ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 210
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ ك هق] عن ابن عمر. صحيح المشكاة ٤١٣٢, الصحيحة ١١١٨.
«احلفوا بالله وبروا واصدقوا فإن الله يحب أن يحلف به»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ کی قسم کھایا کرو اور اپنی قسم پوری کیا کرو اور سچ بولا کرو، کیونکہ اللہ اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کی قسم کھائی جائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 211
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حل] عن عمر. الصحيحة ١١١٩.
«احلقوه كله أو اتركوه كله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اس (سر کے بالوں) کو پورا مونڈو یا اسے پورا چھوڑ دو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 212
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د ن] عن ابن عمر. الصحيحة ١١٢٣: حم, م, رياض الصالحين ١٦٤٧.
"أحيانا يأتيني - يعني الوحي - في مثل صلصلة الجرس وهو أشده علي فيفصم عني وقد وعيت ما قال, وأحيانا يتمثل
لي الملك رجلا فيكلمني فأعي ما يقول"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کبھی کبھی مجھے وحی گھنٹی کی مسلسل آواز کی طرح آتی ہے، اور یہ مجھ پر سب سے زیادہ سخت ہوتی ہے، پھر جب یہ کیفیت مجھ سے ختم ہوتی ہے تو میں وہ سب یاد کر چکا ہوتا ہوں جو اس (فرشتے) نے کہا ہوتا ہے، اور کبھی فرشتہ میرے سامنے انسانی شکل میں متمثل ہوتا ہے اور مجھ سے کلام کرتا ہے تو جو وہ کہتا ہے میں اسے یاد کر لیتا ہوں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 213
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [مالك حم ق ت ن] عن عائشة زاد [طب] في آخره: [وهو أهونه علي] ١. مختصر مسلم ١٥٧٢.
«أخاف على أمتي من بعدي ثلاثا: حيف الأئمة وإيمانا بالنجوم وتكذيبا بالقدر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں اپنے بعد اپنی امت پر تین چیزوں کا خوف رکھتا ہوں: حکمرانوں کا ظلم، ستاروں (کی تاثیر) پر یقین رکھنا اور تقدیر کو جھٹلانا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 214
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ابن عساكر] عن أبي محجن. الصحيحة ١١٢٧: ابن عبد البر في الجامع.
«أخاف على أمتي من بعدي خصلتين: تكذيبا بالقدر وتصديقا بالنجوم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں اپنے بعد اپنی امت پر دو خصلتوں کا خوف رکھتا ہوں: تقدیر کو جھٹلانا اور ستاروں کی تصدیق کرنا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 215
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ع عد خط في كتاب النجوم] عن أنس. الصحيحة ١١٢٧.
«أخاف عليكم ستا: إمارة السفهاء وسفك الدم وبيع الحكم وقطيعة الرحم ونشوا يتخذون القرآن مزامير وكثرة الشرط»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں تم پر چھ چیزوں کا خوف رکھتا ہوں: بے وقوفوں کی حکومت، خون ریزی، فیصلے (منصبِ قضاء) کی خرید و فروخت، قطع رحمی، ایسی نوجوان نسل جو قرآن کو گانے بجانے کا آلہ بنا لے گی اور پولیس (ظالم اہلکاروں) کی کثرت۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 216
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن عوف بن مالك. الصحيحة ٩٧٩: حم.
«أخبرك بعمل إن أخذت به أدركت من كان قبلك وفت من يكون بعدك إلا أحدا أخذ بمثل ذلك, تسبح خلف كل صلاة ثلاثا وثلاثين وتكبر ثلاثا وثلاثين وتحمد أربعا وثلاثين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کیا میں تمہیں ایسا عمل نہ بتاؤں کہ اگر تم اسے اپنا لو تو ان لوگوں کو پا لو گے جو تم سے پہلے گزر چکے اور ان سے آگے نکل جاؤ گے جو تمہارے بعد آئیں گے، سوائے اس شخص کے جو اسی کی مثل عمل کرے، تم ہر نماز کے بعد تینتیس بار «سُبْحَانَ اللَّهِ»، تینتیس بار «اللَّهُ أَكْبَرُ» اور چونتیس بار «الْحَمْدُ لِلَّهِ» پڑھا کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 217
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم هـ ابن خزيمة الضياء] عن أبي ذر. الصحيحة ١١٢٥.
«أخبرني جبريل أن الحجم أنفع ما تداوى به الناس»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مجھے جبریل (علیہ السلام) نے خبر دی ہے کہ پچھنے لگانا (حجامہ) ان تمام چیزوں میں سب سے زیادہ نفع بخش ہے جن سے لوگ علاج کرتے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 218
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ك] عن أبي هريرة. الصحيحة ١١٧٦ - حم عن سمرة.
«أخبرني جبريل أن حسينا يقتل بشاطئ الفرات»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مجھے جبریل (علیہ السلام) نے خبر دی ہے کہ حسین (رضی اللہ عنہ) کو دریائے فرات کے کنارے شہید کیا جائے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 219
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ابن سعد] عن علي. الصحيحة ١١٧١: حم, ع, البزار, طب.
«أخبروني بشجرة شبه الرجل المسلم لا يتحات ورقها ولا ولا ولا, تؤتي أكلها كل حين؟ هي النخلة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مجھے ایک ایسے درخت کے بارے میں بتاؤ جو مسلمان آدمی کے مشابہ ہے، اس کے پتے نہیں جھڑتے، اور نہ یہ ہوتا ہے نہ وہ، وہ ہر موسم میں اپنا پھل دیتا ہے؟ وہ کھجور کا درخت ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 220
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ] عن ابن عمر.
«اختتن إبراهيم وهو ابن ثمانين سنة بالقدوم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ابراہیم (علیہ السلام) نے اسی سال کی عمر میں تیشہ (یا قدوم نامی مقام) سے اپنا ختنہ کیا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 221
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق] عن أبي هريرة. الإرواء ٧٨, الضعيفة ٢١١٢, مختصر مسلم ١٦٠٧.
«اختر منهن أربعا وفارق سائرهن»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ان (بیویوں) میں سے چار کو منتخب کر لو اور باقی سب کو چھوڑ دو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 222
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د] عن الحارث بن زيد الأسدي. الإرواء ١٨٨٣ - ١٨٨٥.
«أخذ الراية زيد فأصيب ثم أخذها جعفر فأصيب ثم أخذها عبد الله بن رواحة فأصيب ثم أخذها خالد عن غير إمرة ففتح الله عليه وما يسرني أنهم عندنا - أو قال - وما يسرهم أنهم عندنا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جھنڈا زید نے پکڑا تو وہ شہید ہو گئے، پھر اسے جعفر نے پکڑا تو وہ شہید ہو گئے، پھر اسے عبداللہ بن رواحہ نے پکڑا تو وہ بھی شہید ہو گئے، پھر اسے خالد نے بغیر مقرر کیے خود ہی پکڑ لیا تو اللہ نے ان کے ہاتھ پر فتح عطا فرما دی، اور مجھے یہ بات خوش نہیں کرتی کہ وہ ہمارے پاس ہوتے، یا فرمایا: اور انہیں یہ بات خوش نہیں کرتی کہ وہ ہمارے پاس ہوتے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 223
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم خ ن] عن أنس.
[أخذ الله عز وجل مني الميثاق كما أخذ من النبيين ميثاقهم وبشر بي عيسى ابن مريم ورأت أمي في منامها أنه خرج من بين رجليها سراج أضاءت له قصور الشام]
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ عزوجل نے مجھ سے بھی عہد لیا جیسا کہ اس نے تمام نبیوں سے ان کا عہد لیا تھا، اور عیسیٰ ابن مریم نے میری خوشخبری دی، اور میری والدہ نے اپنے خواب میں دیکھا کہ ان کی دونوں ٹانگوں کے درمیان سے ایک ایسا چراغ نکلا جس سے شام کے محلات روشن ہو گئے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 224
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [طب أبو نعيم في الدلائل ابن مردويه] عن أبي مريم الغساني١. مجمع الزوائد ٨/٢٢٣ - ٢٢٤.
«أخذنا فألك من فيك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ہم نے تمہاری نیک فال تمہارے اپنے منہ (کی بات) سے لے لی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 225
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د] عن أبي هريرة [ابن السني أبو نعيم معا في الطب] عن كثير بن عبد الله عن أبيه عن جده [فر] عن ابن عمر. الصحيحة ٧٢٦: أبو الشيخ في أخلاق النبي صلى الله عليه وسلم.
«أخر الكلام في القدر لشرار أمتي في آخر الزمان»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”آخری زمانے میں تقدیر کے بارے میں کلام (بحث و مباحثہ) کرنا میری امت کے بدترین لوگوں کے لیے مؤخر کر دیا گیا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 226
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [طس ك] عن أبي هريرة. الصحيحة ١١٢٤ السنة لابن أبي عاصم ٣٥٠.
«أخر عني يا عمر, إني خيرت فاخترت, قد قيل لي: {اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً فَلَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَهُمْ} , لو أعلم أني لو زدت على السبعين غفر له لزدت»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے عمر! مجھ سے پیچھے ہٹ جاؤ، مجھے اختیار دیا گیا تھا تو میں نے اسے چن لیا، مجھے کہا گیا ہے: ﴿اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً فَلَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَهُمْ﴾ ”آپ ان کے لیے استغفار کریں یا ان کے لیے استغفار نہ کریں، اگر آپ ان کے لیے ستر بار بھی استغفار کریں گے تو بھی اللہ انہیں ہرگز معاف نہیں کرے گا۔“ [سورة التوبة: 80] اگر مجھے معلوم ہو جائے کہ میرے ستر بار سے زیادہ استغفار کرنے پر اسے بخش دیا جائے گا تو میں اس سے بھی زیادہ استغفار کروں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 227
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت ن] عن عمر. الصحيحة ١١٣١: حم, خ.
«أخروا الأحمال فإن الأيدي مغلقة والأرجل موثقة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بوجھوں کو پیچھے رکھو کیونکہ ہاتھ بندھے ہوئے ہیں اور پاؤں جکڑے ہوئے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 228
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د في مراسيله] عن الزهري ووصله [البزار ع٢ طس] عن سعيد بن المسيب عن أبي هريرة نحوه. الصحيحة ١١٣٠.
«اخرج فناد في الناس: من شهد أن لا إله إلا الله وجبت له الجنة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”باہر جاؤ اور لوگوں میں اعلان کر دو کہ: جس نے اس بات کی گواہی دی کہ «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» (اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں)، اس کے لیے جنت واجب ہو گئی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 229
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ع] ٣ عن أبي بكرة. الصحيحة ١١٣٥.
«أخرجوا المخنثين من بيوتكم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مخنثوں (عورتوں جیسی وضع قطع اپنانے والے مردوں) کو اپنے گھروں سے نکال دو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 230
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم خ] عن ابن عباس [خ د هـ] عن أم سلمة.
«أخرجوا المشركين من جزيرة العرب وأجيزوا الوفد بنحو ما كنت أجيزهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مشرکوں کو جزیرہ نما عرب سے نکال دو، اور وفود کو اسی طرح عطیات و انعامات سے نوازا کرو جس طرح میں انہیں نوازا کرتا تھا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 231
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ د] عن ابن عباس. الصحيحة ١١٣٣: حم, م, هق.
«أخرجوا اليهود والنصارى من جزيرة العرب»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”یہود و نصاریٰ کو جزیرہ نما عرب سے نکال دو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 232
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن عمر١. الصحيحة ١١٣٤ بلفظ آخر.
«أخرجوا يهود الحجاز وأهل نجران من جزيرة العرب واعلموا أن شر الناس الذين اتخذوا قبور أنبيائهم مساجد»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”حجاز کے یہودیوں اور نجران والوں کو جزیرہ نما عرب سے نکال دو، اور جان لو کہ لوگوں میں سب سے بدترین وہ ہیں جنہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہیں بنا لیا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 233
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ع حل الضياء] عن أبي عبيدة بن الجراح. الصحيحة ١١٣٢: الدارمي, الطحاوي, الحميدي.
«اخرجي إليه فإنه لا يحسن الاستئذان فقولي له: فليقل: السلام عليكم أأدخل؟»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم اس کے پاس باہر جاؤ کیونکہ وہ اجازت مانگنے کا درست طریقہ نہیں جانتا، پس تم اس سے کہو کہ وہ اس طرح کہے: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ» کیا میں اندر آ سکتا ہوں؟“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 234
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم] عن رجل من بني عامر. الصحيحة ١١٧٠: خد, د, مختصر مسلم ٨٧٧.
«اخرجي فجذي نخلك لعلك أن تصدقي منه أو تفعلي خيرا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم باہر نکلو اور اپنے کھجور کے درخت کا پھل کاٹ لو، ہو سکتا ہے کہ تم اس میں سے کچھ صدقہ کرو یا کوئی اور بھلائی کا کام کر سکو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 235
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د ن هـ ك] عن جابر. الصحيحة ٧٢٣: حم, م, الدارمي.
«اخفضي ولا تنهكي فإنه أنضر للوجه وأحظى عند الزوج»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”(عورتوں کا ختنہ کرتے وقت) تھوڑا کاٹا کرو اور جڑ سے نہ کاٹا کرو (مبالغہ نہ کرو)، کیونکہ یہ چہرے کے لیے زیادہ رونق کا باعث اور شوہر کے ہاں زیادہ پسندیدہ ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 236
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب ك] عن الضحاك بن قيس. الصحيحة ٧٢٢.
«أخنع الأسماء عند الله يوم القيامة رجل تسمى ملك الأملاك لا مالك إلا الله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے ذلیل و رسوا نام اس شخص کا ہوگا جس نے اپنا نام «مَلِكُ الْأَمْلَاكِ» (بادشاہوں کا بادشاہ) رکھا ہوگا، حالانکہ اللہ کے سوا کوئی سچا بادشاہ نہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 237
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث ق د ت" عن أبي هريرة. الصحيحة ١٩١٢: حم.
«إخوانكم خولكم جعلهم الله قنية تحت أيديكم فمن كان أخوه تحت يده فليطعمه من طعامه وليلبسه من لباسه ولا يكلفه ما يغلبه فإن كلفه ما يغلبه فليعنه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تمہارے خادم تمہارے بھائی ہیں، اللہ تعالیٰ نے انہیں تمہاری ملکیت بنا کر تمہارے ماتحت کر دیا ہے، پس جس کا بھائی اس کے ماتحت ہو تو اسے چاہیے کہ جو وہ خود کھاتا ہے وہی اسے کھلائے، اور جو وہ خود پہنتا ہے وہی اسے پہنائے، اور ان پر ان کی طاقت سے زیادہ کام کا بوجھ نہ ڈالے، اور اگر ان پر ان کی طاقت سے زیادہ بوجھ ڈالے تو (اس کام میں) ان کی مدد کرے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 238
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق د ت هـ] عن أبي ذر.
«أخوف ما أخاف على أمتي كل منافق عليم اللسان»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں اپنی امت پر جس چیز کا سب سے زیادہ خوف رکھتا ہوں وہ ہر ایسا منافق ہے جو زبان کا بڑا ماہر (چرب زبان) ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 239
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [عد] عن عمر. صحيح الترغيب ١٢٨: حب, بزار, طب, عن عمران وحم والمختار ٢٥٥.
«أد الأمانة ألى من ائتمنك ولا تخن من خانك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس نے تمہیں امین سمجھ کر تمہارے پاس امانت رکھی ہے، اس کی امانت ادا کرو، اور جس نے تمہارے ساتھ خیانت کی ہے، تم اس کے ساتھ خیانت نہ کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 240
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [تخ د ت ك] عن أبي هريرة [قط الضياء] عن أنس [طب] عن أبي أمامة [د] عن رجل من الصحابة [قط] عن أبي بن كعب. الروض ١٦, الصحيحة ٤٢٤.