حدیث نمبر: 223
«أخذ الراية زيد فأصيب ثم أخذها جعفر فأصيب ثم أخذها عبد الله بن رواحة فأصيب ثم أخذها خالد عن غير إمرة ففتح الله عليه وما يسرني أنهم عندنا - أو قال - وما يسرهم أنهم عندنا»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جھنڈا زید نے پکڑا تو وہ شہید ہو گئے، پھر اسے جعفر نے پکڑا تو وہ شہید ہو گئے، پھر اسے عبداللہ بن رواحہ نے پکڑا تو وہ بھی شہید ہو گئے، پھر اسے خالد نے بغیر مقرر کیے خود ہی پکڑ لیا تو اللہ نے ان کے ہاتھ پر فتح عطا فرما دی، اور مجھے یہ بات خوش نہیں کرتی کہ وہ ہمارے پاس ہوتے، یا فرمایا: اور انہیں یہ بات خوش نہیں کرتی کہ وہ ہمارے پاس ہوتے۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 223
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم خ ن] عن أنس.