کتب حدیثصحیح الجامع الصغیرابوابباب: حرف الف سے شروع ہونے والی احادیث
«أحب الأسماء إلى الله عبد الله وعبد الرحمن»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ نام عبداللہ اور عبدالرحمٰن ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 161
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م د ت هـ] عن ابن عمر. الضعيفة ٤١١ الإرواء ١١٧٦, مختصر مسلم ١٣٩٨.
«أحب الأسماء إلى الله عبد الله وعبد الرحمن والحارث»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ نام عبداللہ، عبدالرحمٰن اور حارث ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 162
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ع] عن أنس. الصحيحة ٩٠٤.
«أحب الأعمال إلى الله أدومها وإن قل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ کے نزدیک اعمال میں سب سے پسندیدہ عمل وہ ہے جو ہمیشہ کیا جائے، خواہ وہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 163
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق] عن عائشة. صحيح السنن ١٢٣٨: د.
«أحب الأعمال إلى الله الصلاة لوقتها ثم بر الوالدين ثم الجهاد في سبيل الله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا ہے، پھر والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا ہے، اور پھر اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 164
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق د ن] عن ابن مسعود. الإرواء ١١٩٨.
«أحب الأعمال إلى الله أن تموت ولسانك رطب من ذكر الله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل یہ ہے کہ تمہیں اس حال میں موت آئے کہ تمہاری زبان اللہ کے ذکر سے تر ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 165
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حب ابن السني في عمل اليوم والليلة طب هب] عن معاذ. الترغيب ٢/٢٢٨.
«أحب الأعمال إلى الله إيمان بالله ثم صلة الرحم ثم الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر وأبغض الأعمال إلى الله الإشراك بالله ثم قطيعة الرحم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ اعمال اللہ پر ایمان لانا، پھر صلہ رحمی کرنا، پھر نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا ہے۔ اور اللہ کے نزدیک سب سے ناپسندیدہ اعمال اللہ کے ساتھ شرک کرنا اور پھر قطع رحمی (رشتہ داریاں توڑنا) ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 166
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ع] عن رجل من خثعم. الترغيب ٣/٢٢٣ المجمع ٨/١٥١.
«أحب البلاد إلى الله مساجدها وأبغض البلاد إلى الله أسواقها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ کے نزدیک شہروں میں سب سے پسندیدہ جگہیں ان کی مسجدیں ہیں، اور اللہ کے نزدیک شہروں میں سب سے ناپسندیدہ جگہیں ان کے بازار ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 167
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن أبي هريرة [حم ك] عن جبير بن مطعم ... [م] عن أبي هريرة, [خم ك] عن جبير ابن مطعم. مختصر صحيح مسلم ٢٤١ المشكاة ٦٩٦.
«أحب الجهاد إلى الله كلمة حق تقال لإمام جائر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ کے نزدیک سب سے بہترین جہاد ظالم حکمران کے سامنے کلمہ حق کہنا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 168
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم طب] عن أبي أمامة. الترغيب ٣/١٦٨.
«أحب الحديث إلي أصدقه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میرے نزدیک سب سے پسندیدہ بات وہ ہے جو سب سے زیادہ سچی ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 169
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم خ] عن المسور بن مخرمة ومروان معا.
«أحب الصيام إلى الله صيام داود وكان يصوم يوما ويفطر يوما وأحب الصلاة إلى الله صلاة داود كان ينام نصف الليل ويقوم ثلثه وينام سدسه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ کے نزدیک روزوں میں سب سے پسندیدہ روزے داؤد (علیہ السلام) کے روزے ہیں، وہ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن ناغہ کرتے تھے۔ اور اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ نماز داؤد (علیہ السلام) کی نماز ہے، وہ آدھی رات سوتے، اس کے ایک تہائی حصے میں قیام کرتے، اور پھر اس کے چھٹے حصے میں سو جاتے تھے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 170
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق د ن هـ] عن ابن عمرو. الإرواء ٩٤٥, رياض الصالحين ١١٨٥.
«أحب الطعام إلى الله ما كثرت عليه الأيدي»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ کھانا وہ ہے جس پر (کھانے والے) ہاتھ زیادہ ہوں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 171
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ع١ حب هب الضياء] عن جابر. الصحيحة ٨٩٥.
«أحب العباد إلى الله تعالى أنفعهم لعياله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ تعالیٰ کے نزدیک بندوں میں سب سے زیادہ پسندیدہ وہ شخص ہے جو اس کے کنبے (یعنی مخلوق) کے لیے سب سے زیادہ نفع بخش ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 172
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [عبد الله في زوائد الزهد] عن الحسن مرسلا. الروض النضير ٤٨١.
«أحب الكلام إلى الله تعالى أربع: سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر ولا يضرك بأيهن بدأت»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ کلام چار کلمے ہیں: «سُبْحَانَ اللَّهِ»، «وَالْحَمْدُ لِلَّهِ»، «وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» اور «وَاللَّهُ أَكْبَرُ»، تم ان میں سے جس کلمے سے بھی ذکر کی ابتدا کرو، تمہیں کوئی نقصان نہیں ہوگا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 173
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م] عن سمرة بن جندب. مختصر مسلم ١٤١١.
«أحب الكلام إلى الله أن يقول العبد: سبحان الله وبحمده»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ کلام یہ ہے کہ بندہ کہے: «سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ»۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 174
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م ت] عن أبي ذر. مختصر مسلم ١٩٠٧.
«أحب الكلام إلى الله تعالى ما اصطفاه الله لملائكته: سبحان ربي وبحمده سبحان ربي وبحمده سبحان ربي وبحمده»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ کلام وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے فرشتوں کے لیے منتخب فرمایا ہے: «سُبْحَانَ رَبِّيَ وَبِحَمْدِهِ، سُبْحَانَ رَبِّيَ وَبِحَمْدِهِ، سُبْحَانَ رَبِّيَ وَبِحَمْدِهِ»۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 175
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت ك هب] عن أبي ذر. الترغيب ٢/٢٤٢.
«أحب الناس إلى الله أنفعهم, وأحب الأعمال إلى الله عز وجل سرور تدخله على مسلم أو تكشف عنه كربة أو تقضي عنه دينا أو تطرد عنه جوعا, ولأن أمشي مع أخي المسلم في حاجة أحب إلي من أن أعتكف في المسجد شهرا, ومن كف غضبه ستر الله عورته, ومن كظم غيظا ولو شاء أن يمضيه أمضاه ملأ الله قلبه رضا يوم القيامة, ومن مشى مع أخيه المسلم في حاجته حتى يثبتها له أثبت الله تعالى قدمه يوم تزل الأقدام, وإن سوء الخلق ليفسد العمل كما يفسد الخل العسل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ تعالیٰ کے نزدیک لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب وہ ہے جو لوگوں کے لیے سب سے زیادہ نفع بخش ہو، اور اللہ عزوجل کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل وہ خوشی ہے جو تم کسی مسلمان کے دل میں داخل کرو، یا اس کی کوئی تکلیف دور کرو، یا اس کا قرض ادا کرو، یا اس کی بھوک مٹاؤ۔ اور یہ کہ میں اپنے مسلمان بھائی کی کسی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے اس کے ساتھ چلوں، یہ مجھے اس بات سے زیادہ پسند ہے کہ میں اس مسجد میں ایک مہینے کا اعتکاف کروں۔ اور جس نے اپنے غصے کو روکا، اللہ اس کے عیبوں پر پردہ ڈالے گا، اور جس نے اپنے غیظ و غضب کو پی لیا حالانکہ اگر وہ اسے نافذ کرنا چاہتا تو کر سکتا تھا، تو اللہ قیامت کے دن اس کے دل کو رضا و خوشنودی سے بھر دے گا۔ اور جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی حاجت روائی کے لیے اس کے ساتھ چلا یہاں تک کہ اسے اس کے لیے ثابت کر دیا، تو اللہ تعالیٰ اس کے قدموں کو اس دن ثابت رکھے گا جس دن قدم ڈگمگا جائیں گے۔ اور یقیناً بداخلاقی عمل کو اسی طرح خراب کر دیتی ہے جیسے سرکہ شہد کو خراب کر دیتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 176
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ابن أبي الدنيا في قضاء الحوائج ط] عن ابن عمر. الصحيحة ٩٠٦.
«أحب الناس إلي عائشة ومن الرجال أبوها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”لوگوں میں مجھے سب سے زیادہ محبوب عائشہ ہیں، اور مردوں میں ان کے والد (ابوبکر) ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 177
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق ت] عن عمرو بن العاص [ت هـ] عن أنس.
«أحبب حبيبك هونا ما عسى أن يكون بغيضك يوما ما وأبغض بغيضك هونا ما عسى أن يكون حبيبك يوما ما»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اپنے دوست سے اعتدال کے ساتھ محبت کرو، ہو سکتا ہے کہ وہ کسی دن تمہارا دشمن بن جائے، اور اپنے دشمن سے بھی اعتدال کے ساتھ دشمنی کرو، ممکن ہے کہ وہ کسی دن تمہارا دوست بن جائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 178
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت هب] عن أبي هريرة [طب] عن ابن عمرو [الدارقطني في الأفراد عد هب] عن علي [خد هب] عن علي موقوفا. غاية المرام في تخريج أحاديث الحلال والحرام ٤٧٢.
«أحب عباد الله إلى الله أحسنهم خلقا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ تعالیٰ کے بندوں میں اسے سب سے زیادہ محبوب وہ ہیں جن کے اخلاق سب سے اچھے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 179
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن أسامة بن شريك.
«أحب للناس ما تحب لنفسك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”لوگوں کے لیے بھی وہی پسند کرو جو تم اپنے لیے پسند کرتے ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 180
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [تخ ع طب ك هب] عن يزيد بن أسيد. الصحيحة ٧٢.
«احبس أصلها وسبل ثمرتها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اس کی اصل (زمین یا درخت) کو وقف کر دو اور اس کا پھل اللہ کی راہ میں صدقہ کر دو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 181
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ن هـ] عن ابن عمر. الإرواء ١٥٨٣.
«احبسوا صبيانكم حتى تذهب فوعة العشاء, فإنها ساعة تخترق فيها الشياطين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اپنے بچوں کو (مغرب کے وقت باہر نکلنے سے) روکے رکھو یہاں تک کہ عشاء کی ابتدائی تاریکی چھٹ جائے، کیونکہ یہ وہ وقت ہوتا ہے جس میں شیاطین پھیل جاتے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 182
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ك] عن جابر. الصحيحة ٩٠٥: حم.
«احتج آدم وموسى فحج آدم موسى»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”آدم اور موسیٰ (علیہما السلام) کے درمیان بحث ہوئی، تو آدم (علیہ السلام) موسیٰ (علیہ السلام) پر (اپنی دلیل سے) غالب آ گئے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 183
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خط] عن أنس٢. الصحيحة ٩٠٩: حم, طب.
«احتج آدم وموسى فقال موسى: أنت آدم الذي خلقك الله بيده ونفخ فيك من روحه وأسجد لك ملائكته وأسكنك جنته, أخرجت الناس من الجنة بذنبك وأشقيتهم! قال آدم: يا موسى أنت الذي اصطفاك الله برسالاته وبكلامه وأنزل عليك التوراة أتلومني على أمر كتبه الله على قبل أن يخلقني؟! فحج آدم موسى!»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”آدم اور موسیٰ (علیہما السلام) کے درمیان بحث ہوئی۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا: آپ وہ آدم ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، آپ میں اپنی طرف سے روح پھونکی، اپنے فرشتوں سے آپ کو سجدہ کروایا اور آپ کو اپنی جنت میں بسایا، پھر آپ نے اپنے گناہ کی وجہ سے لوگوں کو جنت سے نکلوا دیا اور انہیں مشقت میں ڈال دیا! آدم (علیہ السلام) نے جواب دیا: اے موسیٰ! آپ وہ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغامات اور اپنے کلام کے لیے چن لیا اور آپ پر تورات نازل فرمائی، کیا آپ مجھے ایک ایسے کام پر ملامت کرتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے میری پیدائش سے بھی پہلے میری تقدیر میں لکھ دیا تھا؟! پس آدم (علیہ السلام) موسیٰ (علیہ السلام) پر غالب آ گئے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 184
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق د ت هـ] عن أبي هريرة.
«احتجت الجنة والنار فقالت الجنة: يدخلني الضعفاء والمساكين, وقالت النار: يدخلني الجبارون والمتكبرون: فقال الله للنار: أنت عذابي أنتقم بك ممن شئت, وقال للجنة: أنت رحمتي أرحم بك من شئت ولكل واحدة منكما ملؤها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جنت اور دوزخ آپس میں جھگڑ پڑیں، جنت نے کہا: مجھ میں کمزور اور مسکین لوگ داخل ہوں گے، اور دوزخ نے کہا: مجھ میں جابر اور متکبر لوگ داخل ہوں گے۔ تو اللہ تعالیٰ نے دوزخ سے فرمایا: تو میرا عذاب ہے، میں تیرے ذریعے جس سے چاہوں گا انتقام لوں گا، اور جنت سے فرمایا: تو میری رحمت ہے، میں تیرے ذریعے جس پر چاہوں گا رحم کروں گا، اور تم دونوں میں سے ہر ایک کے لیے اس کا بھر جانا لازم ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 185
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م ت] عن أبي هريرة [م] عن أبي سعيد [ابن خزيمة] عن أنس.
[احثوا التراب في وجوه المداحين]
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”منہ پر تعریف کرنے والوں کے چہروں پر مٹی ڈالو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 186
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت] عن أبي هريرة [عد حل] عن ابن عمر. الصحيحة ٩١٢: حم, م, خد.
«احثوا في أفواه المداحين التراب»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”منہ پر تعریف کرنے والوں کے مونہوں میں مٹی ڈالو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 187
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن المقداد بن عمرو [حب] عن ابن عمر [ابن عساكر] عن عبادة بن الصامت. الصحيحة ٩١٢.
«احجج عن أبيك واعتمر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اپنے والد کی طرف سے حج اور عمرہ کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 188
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د] عن أبي رزين. المشكاة ٢٥٢٨.
«أحد أحد»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”(اللہ) ایک ہے، ایک ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 189
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د ن ك] عن سعد [ت ن ك] عن أبي هريرة. المشكاة ٩١٣: حب.
«أحد يا سعد»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے سعد! ایک (اللہ کی ذات یا ذکر) پر اکتفا کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 190
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم] عن أنس. المشكاة ٩١٣.
«أحد جبل يحبنا ونحبه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”احد ایک ایسا پہاڑ ہے جو ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 191
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ] عن سهل بن سعد [ت] عن أنس [حم طب الضياء] عن سويد بن عامر الأنصاري وماله غيره [أبو القاسم بن بشران في أماليه] عن أبي هريرة. فقه السيرة ٢٩١.
«احذروا الدنيا فإنها خضرة حلوة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”دنیا سے بچتے رہو کیونکہ یہ سرسبز اور میٹھی (پرکشش) ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 192
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم في الزهد] عن مصعب بن سعد مرسلا. الصحيحة ٩١٠.
«أحرج اسم عند الله يوم القيامة رجل يسمى: ملك الأملاك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے برا نام اس شخص کا ہوگا جسے «مَلِكُ الْأَمْلَاكِ» (بادشاہوں کا بادشاہ) کے نام سے پکارا جاتا ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 193
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د] عن أبي هريرة. الصحيحة ٩١٥.
«أحسن الناس قراءة: الذي إذا قرأ رأيت أنه يخشى الله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”لوگوں میں سب سے اچھی قراءت کرنے والا وہ شخص ہے کہ جب وہ قرآن پڑھے تو تمہیں محسوس ہو کہ وہ اللہ سے ڈر رہا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 194
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [محمد بن نصر في كتاب الصلاة هب خط] عن ابن عباس [السجزي في الإبانة خط] عن ابن عمر [فر] عن عائشة. المشكاة ٢٢٠٩, صفة الصلاة ١٠٧.
«أحسنوا إقامة الصفوف في الصلاة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”نماز میں صفوں کو اچھی طرح سیدھا قائم کیا کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 195
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم حب] عن أبي هريرة. صحيح الترغيب ٤٩٩.
«أحسنوا إلى محسن الأنصار واعفوا عن مسيئهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”انصار کے نیکوکاروں کے ساتھ احسان کرو اور ان کے خطاکاروں سے درگزر کیا کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 196
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن سهل بن سعد وعبد الله بن جعفر معا. الصحيحة ٩١٦.
«احشدوا فإني سأقرأ عليكم ثلث القرآن فقرأ: {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} , وقال: ألا إنها تعدل ثلث القرآن»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جمع ہو جاؤ، بیشک میں تمہیں ایک تہائی قرآن سناؤں گا۔ پھر آپ نے ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾ [سورة الإخلاص: 1] پڑھی اور فرمایا: سن لو! یقیناً یہ سورت ایک تہائی قرآن کے برابر ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 197
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م ت] عن أبي هريرة. الصحيحة ٥٨٦.
«أحصوا هلال شعبان لرمضان»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”رمضان (کے روزوں) کی خاطر شعبان کے چاند کی تاریخیں گن کر یاد رکھا کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 198
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث ت ك عن أبي هريرة. الصحيحة ٥٦٥.
«أحصوا هلال شعبان لرمضان ولا تخلطوا برمضان إلا أن يوافق ذلك صياما كان يصومه أحدكم, وصوموا لرؤيته وأفطروا لرؤيته فإن غم عليكم فأكملوا العدة ثلاثين يوما فإنها ليست تغمى عليكم العدة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”رمضان کی خاطر شعبان کے چاند کا حساب رکھا کرو اور رمضان سے ایک دو دن پہلے روزے رکھ کر اسے مت ملاؤ، سوائے اس کے کہ وہ دن کسی ایسے روزے کے موافق آ جائے جو تم میں سے کوئی معمول کے مطابق رکھتا ہو، اور چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر ہی افطار (عید) کرو، پس اگر تم پر مطلع ابر آلود ہو جائے تو تیس دن کی گنتی پوری کر لو، کیونکہ گنتی کا حساب تم پر پوشیدہ نہیں ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 199
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث قط هق عن أبي هريرة. الصحيحة ٥٦٥.
[احضروا الجمعة وادنوا من الإمام فإن الرجل لا يزال يتباعد حتى يؤخر في الجنة وإن دخلها]
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جمعہ کی نماز میں حاضر ہوا کرو اور امام کے قریب بیٹھا کرو، کیونکہ انسان مسلسل پیچھے ہٹتا رہتا ہے یہاں تک کہ اسے جنت میں بھی پیچھے کر دیا جائے گا، خواہ وہ اس میں داخل ہی کیوں نہ ہو جائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 200
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د هق ك] عن سمرة. صحيح السنن ١٠١٥, صحيح الترغيب ٧١٥, الروض ٤٤٥, الصحيحة ٣٦٥.