کتب حدیثصحیح الجامع الصغیرابوابباب: حرف الف سے شروع ہونے والی احادیث
«إن السلام اسم من أسماء الله تعالى وضع في الأرض فأفشوا السلام بينكم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ «السَّلَامُ» اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ہے جسے زمین میں رکھا گیا ہے، لہٰذا تم اپنے درمیان سلام کو پھیلاؤ۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1639
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خد] عن أنس. الروض ٢/٤٥٧، الصحيحة ١٥٥٣.
«إن السلف يجري مجرى شطر الصدقة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ (کسی کو) قرض دینا آدھے صدقے کے برابر (ثواب) کا درجہ رکھتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1640
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم] عن ابن مسعود. الصحيحة ١٥٥٣.
«إن الشاهد يرى ما لا يرى الغائب»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ حاضر شخص وہ کچھ دیکھتا ہے جو غائب نہیں دیکھ سکتا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1641
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ابن سعد] عن علي. الصحيحة ١٦٠٥: حم، تخ، أبو نعيم، خط.
"إن الشمس والقمر آيتان من آيات الله لا يخسفان
لموت أحد ولا لحياته فإذا رأيتم ذلك فادعوا الله وكبروا وصلوا وتصدقوا يا أمة محمد! والله ما من أحد أغير من الله أن يزني عبده أو تزني أمته يا أمة محمد! والله لو تعلمون ما أعلم لضحكتم قليلا ولبكيتم كثيرا اللهم هل بلغت"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، انہیں کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا۔ پس جب تم یہ (گرہن) دیکھو تو اللہ سے دعا مانگو، تکبیر کہو، نماز پڑھو اور صدقہ کرو۔ اے محمد (ﷺ) کی امت! اللہ کی قسم، اللہ سے زیادہ غیرت مند کوئی نہیں کہ اس کا بندہ زنا کرے یا اس کی بندی زنا کرے۔ اے محمد (ﷺ) کی امت! اللہ کی قسم، اگر تم وہ جانتے جو میں جانتا ہوں تو تم ہنستے کم اور روتے زیادہ۔ اے اللہ! کیا میں نے پیغام پہنچا دیا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1642
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [مالك حم ق د ن] عن عائشة. صحيح أبي داود ١٠٧٧ صلاة الكسوف.
«إن الشمس والقمر ثوران عقيران في النار»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ سورج اور چاند جہنم میں دو بے نور کیے ہوئے (یا لپیٹے ہوئے) بیلوں کی طرح ہوں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1643
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [الطيالسي ع] عن أنس. الصحيحة ١٢٤.
«إن الشمس والقمر لا ينكسفان لموت أحد ولا لحياته ولكنهما آيتان من آيات الله يخوف الله بهما عباده فإذا رأيتم ذلك فصلوا وادعوا حتى ينكشف ما بكم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ سورج اور چاند کو کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا، بلکہ یہ دونوں اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے۔ پس جب تم اسے دیکھو تو نماز پڑھو اور دعا کرو یہاں تک کہ وہ کیفیت ختم ہو جائے جس میں تم مبتلا ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1644
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ ن] عن أبي بكرة [ق ن هـ] عن أبي مسعود [ق ن] عن ابن عمر [ق] عن المغيرة. صلاة الكسوف.
«إن الشهر يكون تسعة وعشرين يوما»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1645
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ ت] عن أنس [ق] عن أم سلمة [م] عن جابر وعائشة. مختصر مسلم ٥٧٥.
«إن الشيخ يملك نفسه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ بوڑھا آدمی اپنے آپ (اپنی خواہشات) پر قابو رکھتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1646
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم طب] عن ابن عمرو. الصحيحة ١٦٠٦.
«إن الشيطان إذا سمع النداء بالصلاة أحال له ضراط حتى لا يسمع صوته فإذا سكت رجع فوسوس فإذا سمع الإقامة ذهب حتى لا يسمع صوته فإذا سكت رجع فوسوس»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ شیطان جب نماز کی اذان سنتا ہے تو پیٹھ پھیر کر ہوا خارج کرتا ہوا بھاگ جاتا ہے تاکہ اس کی آواز نہ سن سکے، پھر جب اذان ختم ہو جاتی ہے تو واپس آ کر وسوسے ڈالتا ہے۔ پھر جب اقامت سنتا ہے تو بھاگ جاتا ہے تاکہ اس کی آواز نہ سن سکے، اور جب اقامت ختم ہو جاتی ہے تو دوبارہ آ کر وسوسے ڈالتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1647
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن أبي هريرة.
«إن الشيطان إذا سمع النداء بالصلاة ذهب حتى يكون مكان الروحاء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ شیطان جب نماز کی اذان سنتا ہے تو اتنی دور بھاگ جاتا ہے کہ مقام روحاء تک پہنچ جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1648
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن أبي هريرة.
"إن الشيطان عرض لي فشد علي ليقطع الصلاة علي فأمكنني الله تعالى منه فذعته ولقد هممت أن أوثقه إلى سارية حتى تصبحوا فتنظروا إليه فذكرت قول سليمان {رَبِ هَبْ لِي مُلْكاً لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي} فرده الله خاسئا
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ شیطان میرے سامنے آیا اور مجھ پر زور لگایا تاکہ میری نماز توڑ دے، لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے اس پر قابو دے دیا تو میں نے اس کا گلا دبا دیا۔ اور یقیناً میں نے ارادہ کیا تھا کہ اسے مسجد کے کسی ستون سے باندھ دوں تاکہ تم صبح کے وقت اسے دیکھ سکو، لیکن مجھے سلیمان (علیہ السلام) کا یہ قول یاد آ گیا: ﴿رَبِّ هَبْ لِي مُلْكاً لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي﴾ ”اے میرے رب! مجھے ایسی بادشاہت عطا فرما جو میرے بعد کسی کے لائق نہ ہو۔“ [سورة ص: 35] پس اللہ نے اسے ذلیل و رسوا کر کے واپس لوٹا دیا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1649
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ] عن أبي هريرة. صفة الصلاة ٤٦.
«إن الشيطان قال: وعزتك يا رب لا أبرح أغوي عبادك ما دامت أرواحهم في أجسادهم فقال الرب: وعزتي وجلالي لا أزال أغفر لهم ما استغفروني»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ شیطان نے کہا: اے میرے رب! تیری عزت کی قسم، جب تک تیرے بندوں کی روحیں ان کے جسموں میں ہیں، میں انہیں مسلسل گمراہ کرتا رہوں گا۔ تو رب تعالیٰ نے فرمایا: مجھے میری عزت اور جلال کی قسم! جب تک وہ مجھ سے بخشش مانگتے رہیں گے، میں بھی انہیں مسلسل بخشتا رہوں گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1650
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم ع ك] عن أبي سعيد. الصحيحة ١٠٤، المشكاة ٢٣٤٤.
«إن الشيطان قد أيس أن يعبده المصلون ولكن في التحريش بينهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ شیطان اس بات سے مایوس ہو چکا ہے کہ نمازی (جزیرہ نما عرب میں) اس کی عبادت کریں گے، لیکن وہ ان کے درمیان آپس میں لڑائی جھگڑا اور فساد کروانے میں (امید لگائے ہوئے) ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1651
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم م ت] عن جابر. الصحيحة ١٦٠٨: ابن أبي عاصم: ع.
"إن الشيطان قعد لابن آدم بأطرقه فقعد له بطريق الإسلام فقال: تسلم وتذر دينك ودين آبائك وآباء آبائك؟ فعصاه فأسلم ثم قعد له بطريق الهجرة فقال: تهاجر وتدع أرضك وسماءك وإنما مثل المهاجر كمثل الفرس في الطول! فعصاه فهاجر ثم قعد
له بطريق الجهاد فقال: تجاهد فهو جهد النفس والمال فتقاتل فتقتل فتنكح المرأة ويقسم المال؟ فعصاه فجاهد فمن فعل ذلك كان حقا على الله أن يدخله الجنة ومن قتل كان حقا على الله أن يدخله الجنة وإن غرق كان حقا على الله أن يدخله الجنة وإن وقصته دابته كان حقا على الله أن يدخله الجنة"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ شیطان ابن آدم کو گمراہ کرنے کے لیے اس کے راستوں میں بیٹھ گیا۔ پس وہ اس کے اسلام لانے کے راستے میں بیٹھا اور کہا: کیا تم اسلام قبول کر کے اپنا اور اپنے باپ دادا کا دین چھوڑ رہے ہو؟ لیکن انسان نے اس کی نافرمانی کی اور مسلمان ہو گیا۔ پھر وہ ہجرت کے راستے میں بیٹھا اور کہا: کیا تم ہجرت کر کے اپنی زمین و آسمان (وطن) کو چھوڑ رہے ہو؟ مہاجر کی مثال تو اس گھوڑے جیسی ہے جو کھونٹے سے بندھا ہو۔ لیکن اس نے اس کی نافرمانی کی اور ہجرت کر لی۔ پھر وہ جہاد کے راستے میں بیٹھا اور کہا: کیا تم جہاد کرو گے جو کہ جان اور مال کی مشقت ہے؟ تم لڑو گے تو مارے جاؤ گے، پھر تمہاری بیوی سے کوئی اور نکاح کر لے گا اور تمہارا مال بانٹ لیا جائے گا؟ لیکن اس نے اس کی نافرمانی کی اور جہاد کیا۔ پس جس نے ایسا کیا، اللہ پر حق ہے کہ وہ اسے جنت میں داخل کرے، جو (جہاد میں) قتل ہو گیا، اللہ پر حق ہے کہ وہ اسے جنت میں داخل کرے، اگر وہ غرق ہو گیا تو اللہ پر حق ہے کہ اسے جنت میں داخل کرے، اور اگر اسے اس کی سواری نے گرا کر مار دیا تب بھی اللہ پر حق ہے کہ وہ اسے جنت میں داخل کرے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1652
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ن حب] عن سبرة بن أبي فاكه. تخريج الترغيب ٢/١٧٣.
«إن الشيطان ليستحل الطعام الذي لم يذكر اسم الله عليه وإنه لما جاء بهذا الأعرابي ليستحل به فأخذت بيده وجاء بهذه الجارية ليستحل بها فأخذت بيدها فوالذي نفسي بيده إن يده في يدي مع أيديهما»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ شیطان اس کھانے کو اپنے لیے حلال سمجھ لیتا ہے جس پر اللہ کا نام (بسم اللہ) نہ لیا گیا ہو۔ اور جب وہ اس دیہاتی کو لے کر آیا تاکہ اس کے ذریعے کھانے کو اپنے لیے حلال کر لے تو میں نے اس (دیہاتی) کا ہاتھ پکڑ لیا، اور پھر وہ اس بچی کو لے کر آیا تاکہ اس کے ذریعے حلال کر لے تو میں نے اس کا ہاتھ بھی پکڑ لیا۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یقیناً شیطان کا ہاتھ ان دونوں کے ہاتھوں کے ساتھ میرے ہاتھ میں تھا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1653
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م د ن] عن حذيفة. مختصر مسلم ١٢٩٦.
«إن الشيطان ليفرق منك يا عمر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے عمر! بلاشبہ شیطان تم سے ڈرتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1654
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ت حب] عن بريدة. الصحيحة ١٦٠٩.
«إن الشيطان يأتي أحدكم في صلاته فيلبس عليه حتى لا يدري كم صلى فإذا وجد ذلك أحدكم فليسجد سجدتين وهو جالس قبل أن يسلم ثم يسلم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ شیطان تم میں سے کسی کے پاس اس کی نماز میں آتا ہے اور اسے الجھن میں ڈال دیتا ہے یہاں تک کہ اسے معلوم نہیں رہتا کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں۔ پس جب تم میں سے کسی کو یہ صورتحال پیش آئے تو وہ سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھے بیٹھے دو سجدے (سجدہ سہو) کرے اور پھر سلام پھیرے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1655
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت هـ] عن أبي هريرة. صحيح أبي داود ٩٤٥: قط، هق.
«إن الشيطان يأتي أحدكم فيقول: من خلق السماء؟ فيقول: الله فيقول من خلق الأرض؟ فيقول: الله فيقول: من خلق الله؟! فإذا وجد ذلك أحدكم فليقل: آمنت بالله ورسوله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ شیطان تم میں سے کسی کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے: آسمان کو کس نے پیدا کیا؟ وہ جواب دیتا ہے: اللہ نے۔ پھر کہتا ہے: زمین کو کس نے پیدا کیا؟ وہ جواب دیتا ہے: اللہ نے۔ تو پھر وہ کہتا ہے: اللہ کو کس نے پیدا کیا؟! پس جب تم میں سے کسی کو ایسا وسوسہ آئے تو وہ کہے: میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لایا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1656
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن ابن عمرو. الصحيحة ١١٦.
"إن الشيطان يأتي أحدكم فيقول: من خلقك؟ فيقول:
الله فيقول: فمن خلق الله؟ فإذا وجد أحدكم ذلك فليقل: آمنت بالله ورسله فإن ذلك يذهب عنه"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ شیطان تم میں سے کسی کے پاس آتا ہے اور پوچھتا ہے: تمہیں کس نے پیدا کیا؟ وہ کہتا ہے: اللہ نے۔ پھر وہ کہتا ہے: تو اللہ کو کس نے پیدا کیا؟ پس جب تم میں سے کوئی ایسا محسوس کرے تو وہ کہے: میں اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لایا، یقیناً یہ کہنے سے وہ وسوسہ اس سے دور ہو جائے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1657
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ابن أبي الدنيا في مكايد الشيطان] عن عائشة. الصحيحة ١١٦: حم، ع، البزار.
«إن الشيطان يجري من ابن آدم مجرى الدم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ شیطان انسان (ابنِ آدم) کے جسم میں خون کی طرح گردش کرتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1658
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق د] عن أنس [ق د هـ] عن صفية.
«إن الشيطان يحضر أحدكم عند كل شيء من شأنه حتى يحضره عند طعامه فإذا سقطت من أحدكم اللقمة فليمط ما كان بها من أذى ثم ليأكلها ولا يدعها للشيطان فإذا فرغ فليلعق أصابعه فإنه لا يدري في أي طعامه تكون البركة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ شیطان تمہارے ہر کام کے وقت تمہارے پاس حاضر ہوتا ہے، یہاں تک کہ وہ تمہارے کھانے کے وقت بھی موجود ہوتا ہے۔ پس جب تم میں سے کسی کا لقمہ گر جائے تو اسے چاہیے کہ اس پر لگی ہوئی گندگی (مٹی وغیرہ) صاف کر کے اسے کھا لے اور اسے شیطان کے لیے نہ چھوڑے۔ اور جب وہ کھانے سے فارغ ہو جائے تو اپنی انگلیاں چاٹ لے، کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے کھانے کے کس حصے میں برکت ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1659
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن جابر. مختصر مسلم ١٣٠٤.
«إن الصالحين يشدد عليهم وإنه لا يصيب مؤمنا نكبة من شوكة فما فوق ذلك إلا حطت عنه بها خطيئة ورفع له بها درجة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ نیک لوگوں پر آزمائشیں سخت کی جاتی ہیں۔ اور یقیناً کسی مومن کو کانٹا چبھنے یا اس سے بھی بڑھ کر کوئی تکلیف نہیں پہنچتی مگر یہ کہ اس کے بدلے اس کا ایک گناہ معاف کر دیا جاتا ہے اور اس کا ایک درجہ بلند کر دیا جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1660
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم حب ك هب] عن عائشة. الصحيحة ١٦١٠.
«إن الصبر عند الصدمة الأولى»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”حقیقی صبر تو وہی ہے جو مصیبت کی پہلی چوٹ (ابتدائی صدمے) کے وقت کیا جائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1661
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ٤] عن أنس. أحكام الجنائز ٢٢.
«إن الصخرة العظيمة لتلقى من شفير جهنم فتهوي بها سبعين عاما ما تفضي إلى قرارها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ ایک بہت بڑی چٹان جہنم کے کنارے سے پھینکی جائے، تو وہ ستر سال تک اس میں گرتی رہے گی لیکن اس کی تہہ تک نہیں پہنچ پائے گی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1662
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت] عتبة بن غزوان. الصحيحة ١٦١١: حم، م.
«إن الصدقة لا تحل لنا وإن مولى القوم منهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ ہمارے لیے صدقہ (زکوٰۃ) حلال نہیں ہے، اور یقیناً کسی قوم کا آزاد کردہ غلام بھی اسی قوم کا حصہ شمار ہوتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1663
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت ن ك] عن أبي رافع. المشكاة ١٨٢٩، الإرواء ٨٨٠، الصحيحة ١٦١٢.
«إن الصدقة لا تنبغي لآل محمد وإنما هي أوساخ الناس»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ آلِ محمد (ﷺ) کے لیے صدقہ لینا جائز نہیں ہے، کیونکہ وہ تو محض لوگوں کا میل کچیل ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1664
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م] عن عبد المطلب بن ربيعة. مختصر مسلم ٥١٦، الإرواء ٨٧٩.
«إن الصدق ليهدي إلى البر وإن البر يهدي إلى الجنة وإن الرجل ليصدق حتى يكتب عند الله صديقا وإن الكذب يهدي إلى الفجور وإن الفجور يهدي إلى النار وإن الرجل ليكذب حتى يكتب عند الله كذابا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ سچائی نیکی کی طرف رہنمائی کرتی ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے، اور آدمی مسلسل سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ کے ہاں بہت بڑا سچا (صدیق) لکھ دیا جاتا ہے۔ اور بلاشبہ جھوٹ برائی کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور برائی جہنم کی آگ کی طرف لے جاتی ہے، اور آدمی مسلسل جھوٹ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ کے ہاں بہت بڑا جھوٹا (کذاب) لکھ دیا جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1665
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق] عن ابن مسعود.
«إن الصعيد الطيب طهور ما لم تجد الماء ولو إلى عشر حجج فإذا وجدت الماء فأمسه بشرتك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ پاک مٹی پاکیزگی کا ذریعہ ہے جب تک کہ تم پانی نہ پاؤ، خواہ دس سال تک (پانی نہ ملے)۔ پھر جب تمہیں پانی مل جائے تو اسے اپنی جلد پر استعمال کرو (یعنی غسل یا وضو کرو)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1666
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د ت] عن أبي ذر. المشكاة ٥٣٠، صحيح أبي داود ٣٥٧.
«إن الصعيد الطيب وضوء المسلم وإن لم يجد الماء عشر سنين فإذا وجد الماء فليمسه بشرته فإن ذلك هو خير»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ پاک مٹی مسلمان کے لیے وضو (اور طہارت) کا ذریعہ ہے، اگرچہ اسے دس سال تک پانی نہ ملے۔ پس جب اسے پانی مل جائے تو وہ اسے اپنے جسم (جلد) پر بہائے، کیونکہ یہی اس کے لیے بہتر ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1667
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ت حب ك] عن أبي ذر. صحيح أبي داود ٣٥٧.
«إن الصلوات الخمس يذهبن بالذنوب كما يذهب الماء الدرن»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ پانچوں نمازیں گناہوں کو اس طرح ختم کر دیتی ہیں جس طرح پانی میل کچیل کو دھو ڈالتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1668
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [محمد بن نصر] عن عثمان. الصحيحة ١٦١٤: حم.
«إن الظلم ظلمات يوم القيامة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ ظلم، قیامت کے دن بہت سی تاریکیوں کا سبب ہوگا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1669
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق ت] عن ابن عمر.
"إن العبد إذا أخطاء خطيئة نكتت في قلبه نكته سوداء فإن هو نزع واستغفر وتاب صقل قلبه وإن عاد زيد فيها حتى تعلو على
قلبه وهو الران الذي ذكر الله تعالى {كَلَّا بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِمْ مَا كَانُوا يَكْسِبُونَ} "
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ بندہ جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ دھبہ لگا دیا جاتا ہے۔ پس اگر وہ اس گناہ سے باز آ جائے، استغفار کرے اور توبہ کر لے تو اس کا دل صاف اور روشن کر دیا جاتا ہے۔ اور اگر وہ دوبارہ گناہ کرے تو اس سیاہی میں اضافہ کر دیا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ پورے دل پر چھا جاتی ہے۔ اور یہی وہ زنگ ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے (اس آیت میں) کیا ہے: ﴿كَلَّا بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِمْ مَا كَانُوا يَكْسِبُونَ﴾ ”ہرگز نہیں، بلکہ ان کے دلوں پر ان کے برے اعمال کا زنگ چڑھ گیا ہے۔“ [سورة المطففين: 14]
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1670
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم ت ن هـ حب ك هب] عن أبي هريرة. الترغيب ٢/٢٦٨.
«إن العبد إذا قام يصلي أتي بذنوبه كلها فوضعت على رأسه وعاتقيه فكلما ركع أو سجد تساقطت عنه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ بندہ جب نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو اس کے تمام گناہ لائے جاتے ہیں اور اس کے سر اور دونوں کندھوں پر رکھ دیے جاتے ہیں۔ پس وہ جب بھی رکوع یا سجدہ کرتا ہے تو وہ گناہ اس سے جھڑتے جاتے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1671
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب حل هق] عن ابن عمر. الصحيحة ١٣٩٨: ابن نصر.
«إن العبد إذا لعن شيئا صعدت اللعنة إلى السماء فتغلق أبواب السماء دونها ثم تهبط إلى الأرض فتغلق أبوابها دونها ثم تأخذ يمينا وشمالا فإذا لم تجد مساغا رجعت إلى الذي لعن فإن كان لذلك أهلا وإلا رجعت إلى قائلها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ بندہ جب کسی چیز پر لعنت کرتا ہے تو وہ لعنت آسمان کی طرف جاتی ہے، لیکن اس کے لیے آسمان کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں۔ پھر وہ زمین کی طرف اترتی ہے تو زمین کے دروازے بھی اس پر بند کر دیے جاتے ہیں۔ پھر وہ دائیں اور بائیں طرف راستہ تلاش کرتی ہے، پس جب اسے کوئی راستہ نہیں ملتا تو وہ اس شخص (یا چیز) کی طرف لوٹتی ہے جس پر لعنت کی گئی تھی۔ اگر وہ اس کا حقدار ہو (تو اس پر پڑ جاتی ہے) وگرنہ وہ لعنت بھیجنے والے کی طرف ہی لوٹ آتی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1672
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [د] عن أبي الدرداء. الصحيحة ١٢٦٩.
«إن العبد إذا مرض أوحى الله إلى ملائكته: أنا قيدت عبدي بقيد من قيودي فإن أقبضه أغفر له وإن أعافه فحينئذ يقعد لا ذنب له»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ بندہ جب بیمار ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں کی طرف وحی فرماتا ہے: میں نے اپنے بندے کو اپنی بیڑیوں میں سے ایک بیڑی میں جکڑ دیا ہے، پس اگر میں اسے (اسی حالت میں) وفات دے دوں تو اسے بخش دوں گا، اور اگر میں اسے صحت یاب کر دوں تو وہ اس حال میں اٹھے گا کہ اس پر کوئی گناہ نہیں ہوگا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1673
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ك] عن أبي أمامة. الصحيحة ١٦١٣.
«إن العبد إذا نصح لسيده وأحسن عبادة ربه كان له أجره مرتين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ جب غلام اپنے مالک کی خیر خواہی کرے اور اپنے رب کی عبادت بھی اچھے طریقے سے بجا لائے، تو اس کے لیے دوگنا اجر ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1674
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [مالك حم ق د] عن ابن عمر. الصحيحة ١٦١٦: خد.
"إن العبد إذا وضع في قبره وتولى عنه أصحابه حتى أنه يسمع قرع نعالهم أتاه ملكان فيقعدانه فيقولان له: ما كنت تقول في هذا الرجل؟ لمحمد فأما المؤمن فيقول: أشهد أنه عبد الله ورسوله
فيقال: انظر إلى مقعدك من النار قد أبدلك الله به مقعدا من الجنة فيراهما جميعا ويفسح له في قبره سبعون ذراعا ويملأ عليه خضرا إلى يوم يبعثون; وأما الكافر أو المنافق فيقال له ما كنت تقول في هذا الرجل؟ فيقول: لا أدري كنت أقول ما يقول الناس فيقال له: لا دريت ولا تليت ثم يضرب بمطراق من حديد ضربة بين أذنيه فيصيح صيحة يسمعها من يليه غير الثقلين ويضيق عليه قبره حتى تختلف أضلاعه"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ بندے کو جب اس کی قبر میں رکھا جاتا ہے اور اس کے ساتھی اسے چھوڑ کر واپس لوٹتے ہیں، یہاں تک کہ وہ ان کے جوتوں کی آہٹ بھی سنتا ہے، تو اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اور اسے بٹھا کر اس سے پوچھتے ہیں: تو اس شخص (یعنی محمد ﷺ) کے بارے میں کیا کہتا تھا؟ پس جو مومن ہوتا ہے وہ کہتا ہے: میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ تو اس سے کہا جاتا ہے: تو جہنم میں اپنے ٹھکانے کی طرف دیکھ، یقیناً اللہ نے تجھے اس کے بدلے جنت کا ٹھکانہ دے دیا ہے۔ پس وہ دونوں ٹھکانوں کو دیکھتا ہے، اور اس کے لیے اس کی قبر کو ستر ہاتھ تک کشادہ کر دیا جاتا ہے اور اسے قیامت کے دن تک سرسبز و شاداب کر دیا جاتا ہے۔ اور بہرحال کافر یا منافق سے جب پوچھا جاتا ہے کہ تو اس شخص کے بارے میں کیا کہتا تھا؟ تو وہ جواب دیتا ہے: میں نہیں جانتا، میں وہی کہتا تھا جو لوگ کہتے تھے۔ تو اسے کہا جائے گا: نہ تو نے خود جاننے کی کوشش کی اور نہ قرآن پڑھنے والوں کی پیروی کی۔ پھر اسے لوہے کے ایک گرز سے دونوں کانوں کے درمیان ایسی زوردار ضرب لگائی جائے گی کہ وہ اس قدر بھیانک چیخ مارے گا جسے انسانوں اور جنوں کے سوا اس کے آس پاس کی ہر چیز سنے گی، اور اس پر اس کی قبر اس قدر تنگ کر دی جائے گی کہ اس کی پسلیاں ایک دوسرے میں پیوست ہو جائیں گی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1675
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق د ن] عن أنس. الصحيحة ١٣٤٤.
"إن العبد المؤمن إذا كان في انقطاع من الدنيا وإقبال من الآخرة نزل إليه من السماء ملائكة بيض الوجوه كأن وجوههم الشمس معهم كفن من أكفان الجنة وحنوط من حنوط الجنة حتى يجلسوا منه مد البصر ثم يجيء ملك الموت حتى يجلس عند رأسه فيقول: أيتها النفس الطيبة اخرجي إلى مغفرة من الله ورضوان فتخرج فتسيل كما تسيل القطرة من في السقاء فيأخذها فإذا أخذها لم يدعوها في يده طرفة عين حتى يأخذوها فيجعلوها في ذلك الكفن وفي ذلك الحنوط ويخرج منها كأطيب نفحة مسك وجدت على وجه الأرض فيصعدون بها فلا يمرون على ملأ من الملائكة إلا قالوا ما هذا الروح الطيب؟ فيقولون: فلان ابن فلان بأحسن أسمائه التي كانوا يسمونه بها في الدنيا حتى ينتهوا به إلى سماء الدنيا فيستفتحون له فيفتح له فيشيعه من كل سماء مقربوها إلى السماء التي تليها حتى ينتهي إلى السماء السابعة فيقول الله عز وجل: اكتبوا كتاب عبدي في عليين
وأعيدوا عبدي إلى الأرض فإني منها خلقتهم وفيها أعيدهم ومنها أخرجهم تارة أخرى; فتعاد روحه فيأتيه ملكان فيجلسانه فيقولان له: من ربك؟ فيقول: ربي الله فيقولان له: ما دينك؟ فيقول: ديني الإسلام فيقولان له: ما هذا الرجل الذي بعث فيكم؟ فيقول: هو رسول الله فيقولان له: وما علمك؟ فيقول: قرأت كتاب الله فآمنت به وصدقت فينادي مناد من السماء: أن صدق عبدي فأفرشوه من الجنة وألبسوه من الجنة وافتحوا له بابا إلى الجنة فيأتيه من روحها وطيبها ويفسح له في قبره مد بصره ويأتيه رجل حسن الوجه حسن الثياب طيب الريح فيقول: أبشر بالذي يسرك هذا يومك الذي كنت توعد فيقول له: من أنت؟ فوجهك الوجه يجيء بالخير فيقول: أنا عملك الصالح فيقول: رب أقم الساعة رب أقم الساعة؟ حتى أرجع إلى أهلي ومالي.
وإن العبد الكافر إذا كان في انقطاع من الدنيا وإقبال من الآخرة نزل إليه من السماء ملائكة سود الوجوه معهم المسوح فيجلسون منه مد البصر ثم يجيء ملك الموت حتى يجلس عند رأسه فيقول: أيتها النفس الخبيثة! اخرجي إلى سخط من الله وغضب فتفرق في جسده فينتزعها كما ينتزع السفود من الصوف المبلول فيأخذها فإذا أخذها لم يدعوها في يده طرفة عين حتى يجعلوها في تلك المسوح ويخرج منها كأنتن ريح جيفة وجدت على وجه الأرض فيصعدون بها فلا يمرون بها على ملأ من الملائكة إلا قالوا ما هذا الروح الخبيث؟! فيقولون: فلان ابن فلان بأقبح أسمائه التي كان يسمى بها في الدنيا فيستفتح له فلا يفتح له ثم قرأ: {لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ} فيقول الله عز وجل: اكتبوا كتابه في سجين في الأرض السفلى فتطرح روحه
طرحا فتعاد روحه في جسده; ويأتيه ملكان فيجلسانه فيقولان له: من ربك؟ فيقول: هاه هاه لا أدري فيقولان له: ما دينك؟ فيقول: هاه هاه لا أدري فيقولان له: ما هذا الرجل الذي بعث فيكم؟ فيقول: هاه هاه لا أدري فينادي مناد من السماء: أن كذب عبدي فأفرشوه من النار وافتحوا له بابا إلى النار فيأتيه من حرها وسمومها ويضيق عليه قبره حتى تختلف أضلاعه ويأتيه رجل قبيح الوجه قبيح الثياب منتن الريح فيقول: أبشر بالذي يسوؤك هذا يومك الذي كنت توعد فيقول: من أنت فوجهك الوجه يجيء بالشر؟ فيقول: أنا عملك الخبيث فيقول: رب لا تقم الساعة"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ جب مومن بندہ دنیا سے رخصت ہونے اور آخرت کی طرف متوجہ ہونے کے قریب ہوتا ہے تو آسمان سے اس کے پاس سفید چہروں والے فرشتے نازل ہوتے ہیں، ان کے چہرے سورج کی طرح چمک رہے ہوتے ہیں، ان کے پاس جنت کے کفنوں میں سے ایک کفن اور جنت کی خوشبوؤں میں سے ایک خوشبو ہوتی ہے، یہاں تک کہ وہ حد نگاہ تک اس کے پاس بیٹھ جاتے ہیں۔ پھر ملک الموت آتے ہیں اور اس کے سرہانے بیٹھ کر کہتے ہیں: اے پاکیزہ روح! اللہ کی بخشش اور رضامندی کی طرف نکل آ۔ پس وہ روح اس طرح آسانی سے نکل آتی ہے جیسے مشکیزے کے منہ سے پانی کا قطرہ بہہ نکلتا ہے۔ پس وہ (فرشتہ) اسے پکڑ لیتا ہے، اور جب وہ اسے پکڑتا ہے تو دوسرے فرشتے پلک جھپکنے کے برابر بھی اسے اس کے ہاتھ میں نہیں چھوڑتے، یہاں تک کہ وہ اسے لے کر اس کفن اور خوشبو میں رکھ دیتے ہیں۔ اور اس سے ایسی بہترین کستوری کی خوشبو نکلتی ہے جیسی روئے زمین پر کبھی پائی گئی ہو۔ پھر وہ اسے لے کر اوپر چڑھتے ہیں، اور فرشتوں کی جس جماعت کے پاس سے گزرتے ہیں، وہ پوچھتے ہیں: یہ پاکیزہ روح کس کی ہے؟ تو وہ اس کا دنیا کا سب سے بہترین نام لے کر بتاتے ہیں کہ یہ فلاں بن فلاں ہے۔ یہاں تک کہ وہ اسے لے کر آسمان دنیا تک پہنچتے ہیں اور دروازہ کھلواتے ہیں تو ان کے لیے دروازہ کھول دیا جاتا ہے۔ ہر آسمان کے مقرب فرشتے اگلے آسمان تک اسے رخصت کرنے جاتے ہیں، یہاں تک کہ وہ ساتویں آسمان تک پہنچ جاتے ہیں۔ تو اللہ عزوجل فرماتا ہے: میرے بندے کا اعمال نامہ علیین میں لکھ دو اور میرے بندے کو زمین کی طرف لوٹا دو، کیونکہ میں نے انہیں اسی سے پیدا کیا، اسی میں انہیں لوٹاؤں گا اور اسی سے انہیں دوبارہ نکالوں گا۔ پس اس کی روح اس کے جسم میں لوٹا دی جاتی ہے۔ پھر اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اور اسے بٹھا کر پوچھتے ہیں: تیرا رب کون ہے؟ وہ کہتا ہے: میرا رب اللہ ہے۔ وہ پوچھتے ہیں: تیرا دین کیا ہے؟ وہ کہتا ہے: میرا دین اسلام ہے۔ وہ پوچھتے ہیں: یہ شخص کون ہیں جو تم میں بھیجے گئے تھے؟ وہ کہتا ہے: وہ اللہ کے رسول ہیں۔ وہ پوچھتے ہیں: تجھے کیسے معلوم ہوا؟ وہ کہتا ہے: میں نے اللہ کی کتاب پڑھی، اس پر ایمان لایا اور اس کی تصدیق کی۔ پھر آسمان سے ایک منادی آواز دیتا ہے: میرے بندے نے سچ کہا، لہٰذا اس کے لیے جنت کا بستر بچھا دو، اسے جنت کا لباس پہنا دو اور اس کے لیے جنت کی طرف ایک دروازہ کھول دو۔ پس وہاں سے اس کے پاس جنت کی ہوائیں اور خوشبوئیں آتی رہتی ہیں، اور اس کی قبر حد نگاہ تک کشادہ کر دی جاتی ہے۔ پھر اس کے پاس ایک خوبصورت چہرے، عمدہ لباس اور بہترین خوشبو والا شخص آتا ہے اور کہتا ہے: تجھے اس چیز کی خوشخبری ہو جو تجھے خوش کر دے، یہ تیرا وہی دن ہے جس کا تجھ سے وعدہ کیا جاتا تھا۔ وہ بندہ اس سے پوچھتا ہے: تم کون ہو؟ تمہارا چہرہ ہی خیر لانے والا چہرہ ہے۔ وہ کہتا ہے: میں تیرا نیک عمل ہوں۔ وہ بندہ کہتا ہے: اے میرے رب! قیامت قائم کر دے، اے میرے رب! قیامت قائم کر دے، تاکہ میں اپنے اہل و عيال اور مال کی طرف لوٹ جاؤں۔ اور بلاشبہ جب کافر بندہ دنیا سے رخصت ہونے اور آخرت کی طرف متوجہ ہونے کے قریب ہوتا ہے تو آسمان سے اس کے پاس سیاہ چہروں والے فرشتے نازل ہوتے ہیں، ان کے پاس ٹاٹ (کھردرا کپڑا) ہوتا ہے، اور وہ حد نگاہ تک اس کے پاس بیٹھ جاتے ہیں۔ پھر ملک الموت آتے ہیں اور اس کے سرہانے بیٹھ کر کہتے ہیں: اے خبیث روح! اللہ کی ناراضگی اور غضب کی طرف نکل۔ پس وہ روح اس کے پورے جسم میں چھپنے لگتی ہے تو فرشتہ اسے اس طرح کھینچ کر نکالتا ہے جیسے گیلے اون سے لوہے کی سیخ کھینچی جاتی ہے۔ پس وہ اسے پکڑ لیتا ہے، اور جب وہ اسے پکڑتا ہے تو دوسرے فرشتے پلک جھپکنے کے برابر بھی اسے اس کے ہاتھ میں نہیں چھوڑتے، یہاں تک کہ اسے اس ٹاٹ میں لپیٹ دیتے ہیں۔ اور اس سے ایسی بدبو نکلتی ہے جیسے روئے زمین پر پائی جانے والی سب سے بدبودار مردار کی بو ہو۔ پھر وہ اسے لے کر اوپر چڑھتے ہیں، اور فرشتوں کی جس جماعت کے پاس سے بھی گزرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: یہ خبیث روح کس کی ہے؟ تو وہ اس کا دنیا کا سب سے برا نام لے کر بتاتے ہیں کہ یہ فلاں بن فلاں ہے۔ پھر اس کے لیے دروازہ کھلوایا جاتا ہے تو اس کے لیے دروازہ نہیں کھولا جاتا۔ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ﴾ ”ان کے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے۔“ [سورة الأعراف: 40] تو اللہ عزوجل فرماتا ہے: اس کا اعمال نامہ سب سے نچلی زمین سجین میں لکھ دو۔ پھر اس کی روح کو زور سے پھینک دیا جاتا ہے۔ پس اس کی روح اس کے جسم میں لوٹا دی جاتی ہے۔ اور اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اور اسے بٹھا کر پوچھتے ہیں: تیرا رب کون ہے؟ وہ کہتا ہے: ہائے ہائے! مجھے نہیں معلوم۔ وہ پوچھتے ہیں: تیرا دین کیا ہے؟ وہ کہتا ہے: ہائے ہائے! مجھے نہیں معلوم۔ وہ پوچھتے ہیں: یہ شخص کون ہیں جو تم میں بھیجے گئے تھے؟ وہ کہتا ہے: ہائے ہائے! مجھے نہیں معلوم۔ پھر آسمان سے ایک منادی آواز دیتا ہے: میرے بندے نے جھوٹ بولا ہے، لہٰذا اس کے لیے آگ کا بستر بچھا دو اور اس کے لیے جہنم کی طرف ایک دروازہ کھول دو۔ پس وہاں سے اس کے پاس جہنم کی گرمی اور لو آتی رہتی ہے، اور اس کی قبر اس قدر تنگ کر دی جاتی ہے کہ اس کی پسلیاں ایک دوسرے میں پیوست ہو جاتی ہیں۔ پھر اس کے پاس ایک انتہائی بدشکل، برے لباس اور بدبودار شخص آتا ہے اور کہتا ہے: تجھے اس چیز کی بشارت ہو جو تجھے غمگین کر دے، یہ تیرا وہی دن ہے جس کا تجھ سے وعدہ کیا جاتا تھا۔ وہ پوچھتا ہے: تم کون ہو؟ تمہارا چہرہ ہی برائی لانے والا چہرہ ہے۔ وہ کہتا ہے: میں تیرا برا عمل ہوں۔ تو وہ کہتا ہے: اے میرے رب! قیامت قائم نہ کر۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1676
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د ابن خزيمة ك هب الضياء] عن البراء. الجنائز ١٥٥١.
«إن العبد ليؤجر في نفقته كلها إلا في البناء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ بندے کو اس کے ہر خرچ پر اجر دیا جاتا ہے سوائے (فضول و نمود و نمائش کے لیے) عمارت بنانے کے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1677
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن جناب. المشكاة ٥١٨٢.
«إن العبد ليتكلم بالكلمة ما يتبين فيها يزل بها في النار أبعد ما بين المشرق والمغرب»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ بندہ (بغیر سوچے سمجھے) کوئی ایسی بات کہہ دیتا ہے جس کے انجام پر وہ غور و فکر نہیں کرتا، تو وہ اس ایک بات کی وجہ سے جہنم کی آگ میں اتنی دور گر جاتا ہے جتنا مشرق اور مغرب کے درمیان فاصلہ ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1678
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق] عن أبي هريرة. الصحيحة ٥٤٠.