حدیث نمبر: 1670
"إن العبد إذا أخطاء خطيئة نكتت في قلبه نكته سوداء فإن هو نزع واستغفر وتاب صقل قلبه وإن عاد زيد فيها حتى تعلو على
قلبه وهو الران الذي ذكر الله تعالى {كَلَّا بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِمْ مَا كَانُوا يَكْسِبُونَ} "
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ بندہ جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ دھبہ لگا دیا جاتا ہے۔ پس اگر وہ اس گناہ سے باز آ جائے، استغفار کرے اور توبہ کر لے تو اس کا دل صاف اور روشن کر دیا جاتا ہے۔ اور اگر وہ دوبارہ گناہ کرے تو اس سیاہی میں اضافہ کر دیا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ پورے دل پر چھا جاتی ہے۔ اور یہی وہ زنگ ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے (اس آیت میں) کیا ہے: ﴿كَلَّا بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِمْ مَا كَانُوا يَكْسِبُونَ﴾ ”ہرگز نہیں، بلکہ ان کے دلوں پر ان کے برے اعمال کا زنگ چڑھ گیا ہے۔“ [سورة المطففين: 14]

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1670
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم ت ن هـ حب ك هب] عن أبي هريرة. الترغيب ٢/٢٦٨.