حدیث نمبر: 1675
"إن العبد إذا وضع في قبره وتولى عنه أصحابه حتى أنه يسمع قرع نعالهم أتاه ملكان فيقعدانه فيقولان له: ما كنت تقول في هذا الرجل؟ لمحمد فأما المؤمن فيقول: أشهد أنه عبد الله ورسوله
فيقال: انظر إلى مقعدك من النار قد أبدلك الله به مقعدا من الجنة فيراهما جميعا ويفسح له في قبره سبعون ذراعا ويملأ عليه خضرا إلى يوم يبعثون; وأما الكافر أو المنافق فيقال له ما كنت تقول في هذا الرجل؟ فيقول: لا أدري كنت أقول ما يقول الناس فيقال له: لا دريت ولا تليت ثم يضرب بمطراق من حديد ضربة بين أذنيه فيصيح صيحة يسمعها من يليه غير الثقلين ويضيق عليه قبره حتى تختلف أضلاعه"
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ بندے کو جب اس کی قبر میں رکھا جاتا ہے اور اس کے ساتھی اسے چھوڑ کر واپس لوٹتے ہیں، یہاں تک کہ وہ ان کے جوتوں کی آہٹ بھی سنتا ہے، تو اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اور اسے بٹھا کر اس سے پوچھتے ہیں: تو اس شخص (یعنی محمد ﷺ) کے بارے میں کیا کہتا تھا؟ پس جو مومن ہوتا ہے وہ کہتا ہے: میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ تو اس سے کہا جاتا ہے: تو جہنم میں اپنے ٹھکانے کی طرف دیکھ، یقیناً اللہ نے تجھے اس کے بدلے جنت کا ٹھکانہ دے دیا ہے۔ پس وہ دونوں ٹھکانوں کو دیکھتا ہے، اور اس کے لیے اس کی قبر کو ستر ہاتھ تک کشادہ کر دیا جاتا ہے اور اسے قیامت کے دن تک سرسبز و شاداب کر دیا جاتا ہے۔ اور بہرحال کافر یا منافق سے جب پوچھا جاتا ہے کہ تو اس شخص کے بارے میں کیا کہتا تھا؟ تو وہ جواب دیتا ہے: میں نہیں جانتا، میں وہی کہتا تھا جو لوگ کہتے تھے۔ تو اسے کہا جائے گا: نہ تو نے خود جاننے کی کوشش کی اور نہ قرآن پڑھنے والوں کی پیروی کی۔ پھر اسے لوہے کے ایک گرز سے دونوں کانوں کے درمیان ایسی زوردار ضرب لگائی جائے گی کہ وہ اس قدر بھیانک چیخ مارے گا جسے انسانوں اور جنوں کے سوا اس کے آس پاس کی ہر چیز سنے گی، اور اس پر اس کی قبر اس قدر تنگ کر دی جائے گی کہ اس کی پسلیاں ایک دوسرے میں پیوست ہو جائیں گی۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1675
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق د ن] عن أنس. الصحيحة ١٣٤٤.