صحیح الجامع الصغیر
حرف الألف— حرف الف
الأحاديث المبدوءة بحرف الألف باب: حرف الف سے شروع ہونے والی احادیث
"إن العبد المؤمن إذا كان في انقطاع من الدنيا وإقبال من الآخرة نزل إليه من السماء ملائكة بيض الوجوه كأن وجوههم الشمس معهم كفن من أكفان الجنة وحنوط من حنوط الجنة حتى يجلسوا منه مد البصر ثم يجيء ملك الموت حتى يجلس عند رأسه فيقول: أيتها النفس الطيبة اخرجي إلى مغفرة من الله ورضوان فتخرج فتسيل كما تسيل القطرة من في السقاء فيأخذها فإذا أخذها لم يدعوها في يده طرفة عين حتى يأخذوها فيجعلوها في ذلك الكفن وفي ذلك الحنوط ويخرج منها كأطيب نفحة مسك وجدت على وجه الأرض فيصعدون بها فلا يمرون على ملأ من الملائكة إلا قالوا ما هذا الروح الطيب؟ فيقولون: فلان ابن فلان بأحسن أسمائه التي كانوا يسمونه بها في الدنيا حتى ينتهوا به إلى سماء الدنيا فيستفتحون له فيفتح له فيشيعه من كل سماء مقربوها إلى السماء التي تليها حتى ينتهي إلى السماء السابعة فيقول الله عز وجل: اكتبوا كتاب عبدي في عليين
وأعيدوا عبدي إلى الأرض فإني منها خلقتهم وفيها أعيدهم ومنها أخرجهم تارة أخرى; فتعاد روحه فيأتيه ملكان فيجلسانه فيقولان له: من ربك؟ فيقول: ربي الله فيقولان له: ما دينك؟ فيقول: ديني الإسلام فيقولان له: ما هذا الرجل الذي بعث فيكم؟ فيقول: هو رسول الله فيقولان له: وما علمك؟ فيقول: قرأت كتاب الله فآمنت به وصدقت فينادي مناد من السماء: أن صدق عبدي فأفرشوه من الجنة وألبسوه من الجنة وافتحوا له بابا إلى الجنة فيأتيه من روحها وطيبها ويفسح له في قبره مد بصره ويأتيه رجل حسن الوجه حسن الثياب طيب الريح فيقول: أبشر بالذي يسرك هذا يومك الذي كنت توعد فيقول له: من أنت؟ فوجهك الوجه يجيء بالخير فيقول: أنا عملك الصالح فيقول: رب أقم الساعة رب أقم الساعة؟ حتى أرجع إلى أهلي ومالي.
وإن العبد الكافر إذا كان في انقطاع من الدنيا وإقبال من الآخرة نزل إليه من السماء ملائكة سود الوجوه معهم المسوح فيجلسون منه مد البصر ثم يجيء ملك الموت حتى يجلس عند رأسه فيقول: أيتها النفس الخبيثة! اخرجي إلى سخط من الله وغضب فتفرق في جسده فينتزعها كما ينتزع السفود من الصوف المبلول فيأخذها فإذا أخذها لم يدعوها في يده طرفة عين حتى يجعلوها في تلك المسوح ويخرج منها كأنتن ريح جيفة وجدت على وجه الأرض فيصعدون بها فلا يمرون بها على ملأ من الملائكة إلا قالوا ما هذا الروح الخبيث؟! فيقولون: فلان ابن فلان بأقبح أسمائه التي كان يسمى بها في الدنيا فيستفتح له فلا يفتح له ثم قرأ: {لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ} فيقول الله عز وجل: اكتبوا كتابه في سجين في الأرض السفلى فتطرح روحه
طرحا فتعاد روحه في جسده; ويأتيه ملكان فيجلسانه فيقولان له: من ربك؟ فيقول: هاه هاه لا أدري فيقولان له: ما دينك؟ فيقول: هاه هاه لا أدري فيقولان له: ما هذا الرجل الذي بعث فيكم؟ فيقول: هاه هاه لا أدري فينادي مناد من السماء: أن كذب عبدي فأفرشوه من النار وافتحوا له بابا إلى النار فيأتيه من حرها وسمومها ويضيق عليه قبره حتى تختلف أضلاعه ويأتيه رجل قبيح الوجه قبيح الثياب منتن الريح فيقول: أبشر بالذي يسوؤك هذا يومك الذي كنت توعد فيقول: من أنت فوجهك الوجه يجيء بالشر؟ فيقول: أنا عملك الخبيث فيقول: رب لا تقم الساعة"(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ جب مومن بندہ دنیا سے رخصت ہونے اور آخرت کی طرف متوجہ ہونے کے قریب ہوتا ہے تو آسمان سے اس کے پاس سفید چہروں والے فرشتے نازل ہوتے ہیں، ان کے چہرے سورج کی طرح چمک رہے ہوتے ہیں، ان کے پاس جنت کے کفنوں میں سے ایک کفن اور جنت کی خوشبوؤں میں سے ایک خوشبو ہوتی ہے، یہاں تک کہ وہ حد نگاہ تک اس کے پاس بیٹھ جاتے ہیں۔ پھر ملک الموت آتے ہیں اور اس کے سرہانے بیٹھ کر کہتے ہیں: اے پاکیزہ روح! اللہ کی بخشش اور رضامندی کی طرف نکل آ۔ پس وہ روح اس طرح آسانی سے نکل آتی ہے جیسے مشکیزے کے منہ سے پانی کا قطرہ بہہ نکلتا ہے۔ پس وہ (فرشتہ) اسے پکڑ لیتا ہے، اور جب وہ اسے پکڑتا ہے تو دوسرے فرشتے پلک جھپکنے کے برابر بھی اسے اس کے ہاتھ میں نہیں چھوڑتے، یہاں تک کہ وہ اسے لے کر اس کفن اور خوشبو میں رکھ دیتے ہیں۔ اور اس سے ایسی بہترین کستوری کی خوشبو نکلتی ہے جیسی روئے زمین پر کبھی پائی گئی ہو۔ پھر وہ اسے لے کر اوپر چڑھتے ہیں، اور فرشتوں کی جس جماعت کے پاس سے گزرتے ہیں، وہ پوچھتے ہیں: یہ پاکیزہ روح کس کی ہے؟ تو وہ اس کا دنیا کا سب سے بہترین نام لے کر بتاتے ہیں کہ یہ فلاں بن فلاں ہے۔ یہاں تک کہ وہ اسے لے کر آسمان دنیا تک پہنچتے ہیں اور دروازہ کھلواتے ہیں تو ان کے لیے دروازہ کھول دیا جاتا ہے۔ ہر آسمان کے مقرب فرشتے اگلے آسمان تک اسے رخصت کرنے جاتے ہیں، یہاں تک کہ وہ ساتویں آسمان تک پہنچ جاتے ہیں۔ تو اللہ عزوجل فرماتا ہے: میرے بندے کا اعمال نامہ علیین میں لکھ دو اور میرے بندے کو زمین کی طرف لوٹا دو، کیونکہ میں نے انہیں اسی سے پیدا کیا، اسی میں انہیں لوٹاؤں گا اور اسی سے انہیں دوبارہ نکالوں گا۔ پس اس کی روح اس کے جسم میں لوٹا دی جاتی ہے۔ پھر اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اور اسے بٹھا کر پوچھتے ہیں: تیرا رب کون ہے؟ وہ کہتا ہے: میرا رب اللہ ہے۔ وہ پوچھتے ہیں: تیرا دین کیا ہے؟ وہ کہتا ہے: میرا دین اسلام ہے۔ وہ پوچھتے ہیں: یہ شخص کون ہیں جو تم میں بھیجے گئے تھے؟ وہ کہتا ہے: وہ اللہ کے رسول ہیں۔ وہ پوچھتے ہیں: تجھے کیسے معلوم ہوا؟ وہ کہتا ہے: میں نے اللہ کی کتاب پڑھی، اس پر ایمان لایا اور اس کی تصدیق کی۔ پھر آسمان سے ایک منادی آواز دیتا ہے: میرے بندے نے سچ کہا، لہٰذا اس کے لیے جنت کا بستر بچھا دو، اسے جنت کا لباس پہنا دو اور اس کے لیے جنت کی طرف ایک دروازہ کھول دو۔ پس وہاں سے اس کے پاس جنت کی ہوائیں اور خوشبوئیں آتی رہتی ہیں، اور اس کی قبر حد نگاہ تک کشادہ کر دی جاتی ہے۔ پھر اس کے پاس ایک خوبصورت چہرے، عمدہ لباس اور بہترین خوشبو والا شخص آتا ہے اور کہتا ہے: تجھے اس چیز کی خوشخبری ہو جو تجھے خوش کر دے، یہ تیرا وہی دن ہے جس کا تجھ سے وعدہ کیا جاتا تھا۔ وہ بندہ اس سے پوچھتا ہے: تم کون ہو؟ تمہارا چہرہ ہی خیر لانے والا چہرہ ہے۔ وہ کہتا ہے: میں تیرا نیک عمل ہوں۔ وہ بندہ کہتا ہے: اے میرے رب! قیامت قائم کر دے، اے میرے رب! قیامت قائم کر دے، تاکہ میں اپنے اہل و عيال اور مال کی طرف لوٹ جاؤں۔ اور بلاشبہ جب کافر بندہ دنیا سے رخصت ہونے اور آخرت کی طرف متوجہ ہونے کے قریب ہوتا ہے تو آسمان سے اس کے پاس سیاہ چہروں والے فرشتے نازل ہوتے ہیں، ان کے پاس ٹاٹ (کھردرا کپڑا) ہوتا ہے، اور وہ حد نگاہ تک اس کے پاس بیٹھ جاتے ہیں۔ پھر ملک الموت آتے ہیں اور اس کے سرہانے بیٹھ کر کہتے ہیں: اے خبیث روح! اللہ کی ناراضگی اور غضب کی طرف نکل۔ پس وہ روح اس کے پورے جسم میں چھپنے لگتی ہے تو فرشتہ اسے اس طرح کھینچ کر نکالتا ہے جیسے گیلے اون سے لوہے کی سیخ کھینچی جاتی ہے۔ پس وہ اسے پکڑ لیتا ہے، اور جب وہ اسے پکڑتا ہے تو دوسرے فرشتے پلک جھپکنے کے برابر بھی اسے اس کے ہاتھ میں نہیں چھوڑتے، یہاں تک کہ اسے اس ٹاٹ میں لپیٹ دیتے ہیں۔ اور اس سے ایسی بدبو نکلتی ہے جیسے روئے زمین پر پائی جانے والی سب سے بدبودار مردار کی بو ہو۔ پھر وہ اسے لے کر اوپر چڑھتے ہیں، اور فرشتوں کی جس جماعت کے پاس سے بھی گزرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: یہ خبیث روح کس کی ہے؟ تو وہ اس کا دنیا کا سب سے برا نام لے کر بتاتے ہیں کہ یہ فلاں بن فلاں ہے۔ پھر اس کے لیے دروازہ کھلوایا جاتا ہے تو اس کے لیے دروازہ نہیں کھولا جاتا۔ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ﴾ ”ان کے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے۔“ [سورة الأعراف: 40] تو اللہ عزوجل فرماتا ہے: اس کا اعمال نامہ سب سے نچلی زمین سجین میں لکھ دو۔ پھر اس کی روح کو زور سے پھینک دیا جاتا ہے۔ پس اس کی روح اس کے جسم میں لوٹا دی جاتی ہے۔ اور اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اور اسے بٹھا کر پوچھتے ہیں: تیرا رب کون ہے؟ وہ کہتا ہے: ہائے ہائے! مجھے نہیں معلوم۔ وہ پوچھتے ہیں: تیرا دین کیا ہے؟ وہ کہتا ہے: ہائے ہائے! مجھے نہیں معلوم۔ وہ پوچھتے ہیں: یہ شخص کون ہیں جو تم میں بھیجے گئے تھے؟ وہ کہتا ہے: ہائے ہائے! مجھے نہیں معلوم۔ پھر آسمان سے ایک منادی آواز دیتا ہے: میرے بندے نے جھوٹ بولا ہے، لہٰذا اس کے لیے آگ کا بستر بچھا دو اور اس کے لیے جہنم کی طرف ایک دروازہ کھول دو۔ پس وہاں سے اس کے پاس جہنم کی گرمی اور لو آتی رہتی ہے، اور اس کی قبر اس قدر تنگ کر دی جاتی ہے کہ اس کی پسلیاں ایک دوسرے میں پیوست ہو جاتی ہیں۔ پھر اس کے پاس ایک انتہائی بدشکل، برے لباس اور بدبودار شخص آتا ہے اور کہتا ہے: تجھے اس چیز کی بشارت ہو جو تجھے غمگین کر دے، یہ تیرا وہی دن ہے جس کا تجھ سے وعدہ کیا جاتا تھا۔ وہ پوچھتا ہے: تم کون ہو؟ تمہارا چہرہ ہی برائی لانے والا چہرہ ہے۔ وہ کہتا ہے: میں تیرا برا عمل ہوں۔ تو وہ کہتا ہے: اے میرے رب! قیامت قائم نہ کر۔“