کتب حدیثصحیح الجامع الصغیرابوابباب: حرف الف سے شروع ہونے والی احادیث
«أمك ثم أمك ثم أمك ثم أباك ثم الأقرب فالأقرب»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”(حسنِ سلوک کی سب سے زیادہ حقدار) تمہاری ماں ہے، پھر تمہاری ماں ہے، پھر تمہاری ماں ہے، اس کے بعد تمہارا باپ ہے، اور پھر جو جتنا زیادہ قریبی رشتہ دار ہے وہ اسی قدر حقدار ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1399
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم د ت ك] عن معاوية بن حيدة [هـ] عن أبي هريرة. المشكاة ٤٨، الإرواء ٨٣٧, ٢١٦٣.
«أمك وأباك وأختك وأخاك وأدناك أدناك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اپنی ماں اور اپنے باپ، اور اپنی بہن اور اپنے بھائی (کے ساتھ حسنِ سلوک کرو)، پھر جو جتنا قریبی رشتہ دار ہے اس کے ساتھ اسی ترتیب سے (اچھا سلوک کرو)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1400
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ع طب ك] عن صعصعة المجاشعي [ك] عن أبي رمثة [طب] عن أسامة بن شريك. الإرواء ٨٣٤، ٢١٦٣.
«أمنوا إذا قرئ {غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ} »
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب (قرآن مجید کی یہ آیت) ﴿غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ﴾ پڑھی جائے تو تم آمین کہا کرو۔“ [سورة الفاتحة: 7]
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1401
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ابن شاهين في السنة] عن علي٢.
«أمني جبريل عند البيت مرتين فصلى بي الظهر حين زالت الشمس وكانت قدر الشراك وصلى بي العصر حين كان ظله مثله وصلى بي المغرب حين أفطر الصائم وصلى بي العشاء حين غاب الشفق وصلى بي الفجر حين حرم الطعام والشراب على الصائم فلما كان الغد صلى بي الظهر حين كان ظله مثله وصلى بي العصر حين كان ظله مثليه وصلى بي المغرب حين أفطر الصائم وصلى بي العشاء إلى ثلث الليل وصلى بي الفجر فأسفر ثم التفت إلي وقال: يا محمد هذا وقت الأنبياء من قبلك والوقت ما بين هذين الوقتين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جبریل (علیہ السلام) نے بیت اللہ کے پاس دو مرتبہ میری امامت کروائی، پس انہوں نے مجھے ظہر کی نماز اس وقت پڑھائی جب سورج ڈھل گیا اور سایہ جوتے کے تسمے کے برابر تھا، اور عصر کی نماز اس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس کے برابر ہو گیا، اور مغرب کی نماز اس وقت پڑھائی جب روزہ دار افطار کرتا ہے، اور عشاء کی نماز اس وقت پڑھائی جب شفق غائب ہو گئی، اور فجر کی نماز اس وقت پڑھائی جب روزہ دار پر کھانا پینا حرام ہو جاتا ہے۔ پھر جب اگلا دن ہوا تو انہوں نے مجھے ظہر کی نماز اس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس کے برابر ہو گیا، اور عصر کی نماز اس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ دگنا ہو گیا، اور مغرب کی نماز اسی وقت پڑھائی جب روزہ دار افطار کرتا ہے، اور عشاء کی نماز رات کے ایک تہائی حصے تک پڑھائی، اور فجر کی نماز روشنی پھیلنے پر پڑھائی۔ پھر میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: اے محمد! یہ آپ سے پہلے انبیاء کا وقت ہے، اور (نماز کا) وقت ان دونوں وقتوں کے درمیان ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1402
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د ت ك] عن ابن عباس. صحيح أبي داود ٤٢٦، الإرواء ٢٤٩.
«أمناء المسلمين على صلاتهم وسحورهم هم المؤذنون»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مسلمانوں کی نمازوں اور ان کی سحری کے امین مؤذن ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1403
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [هق] عن أبي محذورة. الإرواء ٢٢١.
«أمهلوا حتى ندخل ليلا لكي تمتشط الشعثة وتستحد المغيبة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کچھ مہلت دو (یعنی ٹھہر جاؤ) تاکہ ہم رات کے وقت (گھروں میں) داخل ہوں، تاکہ پراگندہ بالوں والی عورت کنگھی کر لے اور وہ عورت جس کا شوہر سفر پر تھا، وہ غیر ضروری بال صاف کر لے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1404
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق د ن] عن جابر. مختصر مسلم ٨٤٧.
«أميطي عنا قرامك هذا فإنه لا تزال تصاويره تعرض لي في صلاتي»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اپنے اس پردے کو ہم سے دور کر دو، کیونکہ اس کی تصویریں میری نماز میں بار بار میرے سامنے آ رہی ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1405
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم خ] عن أنس.
«أمين هذه الأمة أبوعبيدة بن الجراح»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اس امت کے امین ابوعبیدہ بن جراح (رضی اللہ عنہ) ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1406
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم] عن خالد بن الوليد. حم ٤/٩٠ حم ٣/١٢٥، ١٢٦، ٢١٢، ٢٨٦، ق - أنس. حم ١/١٨، ٣٥ –عمر.
«إن أبيتم إلا أن تجلسوا فاهدوا السبيل وردوا السلام وأعينوا المظلوم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اگر تم راستے میں بیٹھنے سے باز نہیں رہ سکتے تو پھر راستہ بھٹکنے والے کی رہنمائی کرو، سلام کا جواب دو اور مظلوم کی مدد کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1407
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ت] عن البراء. الصحيحة ١٥٦١: الدارمي، الطحاوي، حب.
«إن اتخذت شعرا فأكرمه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اگر تم بال رکھو تو ان کا اکرام کرو (یعنی انہیں صاف ستھرا رکھو اور کنگھی کرو)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1408
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [هب] عن جابر١. الصحيحة ٦٦٦: طس.
«إن أحببتم أن يحبكم الله تعالى ورسوله فأدوا إذا ائتمنتم واصدقوا إذا حدثتم وأحسنوا جوار من جاوركم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اگر تم یہ پسند کرتے ہو کہ اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول تم سے محبت کریں، تو جب تمہارے پاس امانت رکھی جائے تو اسے ادا کرو، جب بات کرو تو سچ بولو، اور جو تمہارا پڑوسی ہو اس کے ساتھ حسنِ سلوک کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1409
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [طب] عن عبد الرحمن بن أبي قراد. الضعيفة ٢٩٤٥.
«إن أردت أن يلين قلبك فأطعم المسكين وامسح رأس اليتيم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اگر تم یہ چاہتے ہو کہ تمہارا دل نرم ہو جائے، تو مسکین کو کھانا کھلاؤ اور یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1410
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [طب في مكارم الأخلاق هب] عن أبي هريرة. الصحيحة ٨٥٤: حم.
«إن أمر عليكم عبد مجدع أسود يقودكم بكتاب الله فاسمعوا له وأطيعوا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اگر تم پر کوئی ایسا کٹے ہوئے ناک کان والا سیاہ فام غلام بھی امیر بنا دیا جائے جو کتاب اللہ کے مطابق تمہاری قیادت کرے، تو اس کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1411
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م هـ] عن أم الحصين. مختصر مسلم ١٢٢٤.
«إن أنتم قدرتم عليه فاقتلوه ولا تحرقوه بالنار فإنه إنما يعذب بالنار رب النار»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اگر تم اس (دشمن) پر قابو پا لو تو اسے قتل کر دینا، مگر اسے آگ میں نہ جلانا، کیونکہ آگ کا عذاب تو صرف آگ کا رب (اللہ تعالیٰ) ہی دے سکتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1412
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د] عن حمزة بن عمروالأسلمي. الصحيحة ١٥٦٥.
"إن بعت من أخيك تمرا فأصابه جائحة فلا يحل
لك أن تأخذ منه شيئا بم تأخذ مال أخيك بغير حق؟! "
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اگر تم نے اپنے بھائی کو کھجوریں فروخت کیں، پھر ان کھجوروں کو کوئی آفت پہنچ گئی (اور وہ برباد ہو گئیں)، تو تمہارے لیے حلال نہیں کہ تم اس سے کچھ بھی لو، تم اپنے بھائی کا مال ناحق کس بنیاد پر لو گے؟!“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1413
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م د ن] عن جابر.
«إن بيتم فليكن شعاركم» حم لا ينصرون "
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اگر تم پر رات کے وقت اچانک حملہ کر دیا جائے، تو تمہارا شعار (خفیہ شناختی لفظ) «حم، لَا يُنْصَرُونَ» ہونا چاہیے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1414
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د ت ك] عن رجل من الصحابة. المشكاة ٣٩٤٨: حم، ابن سعد.
«إن تصدق الله يصدقك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اگر تم اللہ کے ساتھ سچے رہو گے تو وہ بھی تمہارے ساتھ سچا وعدہ پورا کرے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1415
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ن ك] عن شداد بن الهاد. أحكام الجائز ٦١.
«إن تطعنوا في إمارته فقد كنتم تطعنون في إمارة أبيه من قبل وأيم الله إن كان لخليقا بالإمارة وإن كان لمن أحب الناس إلي وإن هذا لمن أحب الناس إلي بعده وأوصيكم به فإنه من صالحيكم - يعني أسامة بن زيد -»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اگر تم اس کی (یعنی اسامہ بن زید کی) امارت پر طعنہ زنی کرتے ہو، تو اس سے پہلے تم اس کے باپ کی امارت پر بھی طعنہ زنی کر چکے ہو۔ اور اللہ کی قسم! وہ امارت کا یقیناً اہل تھا اور وہ مجھے لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب تھا، اور اس کے بعد یہ (اسامہ بن زید) بھی مجھے لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب ہے۔ میں تمہیں اس کے بارے میں بھلائی کی وصیت کرتا ہوں، کیونکہ یہ تمہارے نیک لوگوں میں سے ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1416
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق] عن ابن عمر. مختصر مسلم ١٦٨١.
«إن تغفر اللهم تغفر جما وأي عبد لك لا ألمَّا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے اللہ! اگر تو معاف فرمائے تو بہت زیادہ معاف فرمانے والا ہے، اور تیرا کون سا بندہ ایسا ہے جس نے کوئی گناہ نہ کیا ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1417
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت ك] عن ابن عباس. المشكاة ٣٢٤٩.
«إن شئت حبست أصلها وتصدقت بها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اگر تم چاہو تو اس کی اصل (یعنی زمین یا جائیداد) کو اپنے پاس روکے رکھو (یعنی وقف کر دو) اور اس کی پیداوار صدقہ کر دو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1418
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم خ ت ن هـ] عن ابن عمر. الإرواء ١٥٨٢: م، د، الطحاوي، هق.
«إن شئتما أعطيتكما ولا حظ فيها لغني ولا لقوي مكتسب»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اگر تم دونوں چاہو تو میں تمہیں (صدقہ میں سے) دے دیتا ہوں، مگر اس میں کسی غنی اور کمانے کی طاقت رکھنے والے تندرست شخص کا کوئی حصہ نہیں ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1419
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د ن] عن رجلين. الإرواء ٨٧٦.
«إن شئتم أنبأتكم عن الإمارة وما هي؟ أولها ملامة وثانيها ندامة وثالثها عذاب يوم القيامة إلا من عدل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اگر تم چاہو تو میں تمہیں بتاؤں کہ امارت کیا ہے؟ اس کی شروعات ملامت ہے، اس کا دوسرا مرحلہ ندامت ہے، اور تیسرا مرحلہ قیامت کے دن کا عذاب ہے، سوائے اس شخص کے جس نے انصاف کیا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1420
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [طب] عن عوف بن مالك. الصحيحة ١٥٦٢: البزار، طس.
«إن عشت إن شاء الله لأنهين أمتي أن يسموا نافعا وأفلح وبركة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اگر میں زندہ رہا، ان شاء اللہ، تو میں اپنی امت کو نافع، افلح اور برکہ نام رکھنے سے ضرور منع کر دوں گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1421
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د حب ك] عن جابر. تخريج الترغيب ٢/٨٥: خد، الطحاوي.
«إن عطب منها شيء فانحره ثم اغمس نعله في دمه ثم اضرب صفحته ثم خل بينه وبين الناس فليأكلوه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اگر ان (قربانی کے جانوروں) میں سے کوئی جانور تھک کر نڈھال ہو جائے (یا مرنے کے قریب ہو جائے) تو اسے نحر کر دو، پھر اس کے گلے کے پٹے کو اسی کے خون میں رنگ کر اس کے پہلو پر لگا دو، اور اسے لوگوں کے لیے چھوڑ دو تاکہ وہ اسے کھا لیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1422
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د هـ] عن ناجية الأسلمي. المشكاة ٢٦٤١.
«إن عطب منها شيء فخشيت عليه موتا فاذبحها ثم اغمس نعلها في دمها ثم اضرب بها صفحتها ولا تطعم منها أنت ولا أحد من أهل رفقتك واقسمها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اگر ان (قربانی کے جانوروں) میں سے کوئی جانور نڈھال ہو جائے اور تمہیں اس کے مر جانے کا ڈر ہو تو اسے ذبح کر دو، پھر اس کے گلے کے پٹے کو اسی کے خون میں ڈبو کر اس کے پہلو پر لگا دو، البتہ اس گوشت میں سے نہ تم خود کچھ کھانا اور نہ ہی تمہارے قافلے والوں میں سے کوئی کھائے، بلکہ اسے (عام لوگوں میں) تقسیم کر دینا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1423
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د] عن ابن عباس [حم م هـ] عنه عن ذؤيب بن حلحلة وليس لذؤيب حديث غيره. مختصر مسلم ٧٣٨.
«إن قامت الساعة وفي يد أحدكم فسيلة فإن استطاع أن لا تقوم حتى يغرسها فليغرسها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اگر قیامت قائم ہونے لگے اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں کھجور کا چھوٹا پودا ہو، تو اگر وہ قیامت کے برپا ہونے سے پہلے اسے لگانے کی استطاعت رکھتا ہو تو اسے ضرور لگا دے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1424
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم خد عبد بن حميد] ١ عن أنس. الصحيحة ٩.
«إن قتلت في سبيل الله صابرا محتسبا مقبلا غير مدبر كفر الله عنك خطاياك إلا الدين كذلك قال لي جبريل آنفا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اگر تم اللہ کے راستے میں اس حال میں قتل کر دیے گئے کہ تم ثابت قدم رہنے والے، ثواب کی نیت رکھنے والے، (دشمن کی طرف) آگے بڑھنے والے اور پیٹھ نہ پھیرنے والے ہوئے، تو اللہ تعالیٰ قرض کے سوا تمہارے تمام گناہ معاف فرما دے گا، ابھی تھوڑی دیر پہلے جبریل (علیہ السلام) نے مجھے یہی بات بتائی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1425
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م ت ن] عن أبي قتادة [ن] عن أبي هريرة. مختصر مسلم ١٠٨٥.
«إن قضى الله تعالى شيئا ليكونن وإن عزل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اگر اللہ تعالیٰ نے کسی چیز (کی پیدائش) کا فیصلہ فرما لیا ہے تو وہ یقیناً ہو کر رہے گی، خواہ وہ شخص عزل ہی کیوں نہ کرے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1426
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [الطيالسي] عن أبي سعيد. الصحيحة ١٤٦٢.
«إن كان الشؤم في شيء ففي الدار والمرأة والفرس»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اگر نحوست کسی چیز میں ہوتی تو وہ گھر، عورت اور گھوڑے میں ہوتی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1427
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [مالك حم خ هـ] عن سهل بن سعد [ق] عن ابن عمر [م ن] عن جابر. الصحيحة ٤٤٢ و٧٩٩.
«إن كان خرج يسعى على ولده صغارا فهو في سبيل الله وإن كان خرج يسعى على أبوين شيخين كبيرين فهو في سبيل الله وإن كان خرج يسعى على نفسه يعفها فهو في سبيل الله وإن كان خرج يسعى رياء ومفاخرة فهو في سبيل الشيطان»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اگر وہ اپنے چھوٹے بچوں کی روزی کمانے کی خاطر نکلا ہے تو وہ اللہ کے راستے میں ہے، اور اگر وہ اپنے بوڑھے ضعیف والدین کی کفالت کے لیے نکلا ہے تو وہ اللہ کے راستے میں ہے، اور اگر وہ اپنے آپ کو (مانگنے کی ذلت سے) بچانے کے لیے محنت کرنے نکلا ہے تو وہ اللہ کے راستے میں ہے، لیکن اگر وہ ریاکاری اور فخر و غرور کے لیے نکلا ہے تو پھر وہ شیطان کے راستے میں ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1428
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] كعب بن عجرة. الترغيب ٣/ ٣، ٨١.
«إن كان عندك ماء بات هذه الليلة في شن فاسقنا وإلا كرعنا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اگر تمہارے پاس ایسا پانی موجود ہے جو رات بھر پرانی مشک میں رکھا گیا ہو تو ہمیں پلا دو، ورنہ ہم (ندی سے براہ راست) منہ لگا کر پی لیں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1429
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم خ د هـ] عن جابر.
«إن كان في شيء مما تداوون به خير فالحجامة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اگر تمہارے علاج معالجے کے طریقوں میں کسی چیز میں بھلائی ہے تو وہ پچھنے لگوانا (حجامہ کروانا) ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1430
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د هـ ك] عن أبي هريرة. الصحيحة ٧٦٠.
«إن كان في شيء من أدويتكم خير ففى شرطة محجم أو شربة من عسل أو لذعة بنار توافق داء وما أحب أن أكتوي»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اگر تمہاری دواؤں میں کسی چیز میں شفاء ہے تو وہ حجامہ کرنے والے کے نشتر لگانے، یا شہد کا گھونٹ پینے، یا بیماری کی مناسبت سے آگ سے داغنے میں ہے، مگر میں آگ سے داغے جانے کو پسند نہیں کرتا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1431
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ن] عن جابر. غاية المرام ٢٩٣، الصحيحة ٢٤٥.
"إن كان ينفعهم ذلك فليصنعوه فإني إنما ظننت ظنا فلا تؤاخذوني بالظن ولكن إذا حدثتكم عن الله شيئا فخذوا به فإني
لن أكذب على الله"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اگر وہ کام (کھجوروں کی پیوند کاری) انہیں نفع دیتا ہے تو وہ اسے ضرور کریں، میں نے تو محض ایک گمان ظاہر کیا تھا، لہٰذا تم میرے گمان پر میرا مؤاخذہ نہ کرو، البتہ جب میں تمہیں اللہ کی طرف سے کوئی بات بتاؤں تو اسے مضبوطی سے تھام لو، کیونکہ میں اللہ پر ہرگز جھوٹ نہیں باندھ سکتا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1432
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن طلحة. مختصر مسلم ١٦٠٢.
«إن كنت ألممت بذنب فاستغفري الله وتوبي إليه فإن التوبة من الذنب: الندم والاستغفار»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اگر تم سے کوئی گناہ سرزد ہو گیا ہے تو اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرو اور اس کے حضور توبہ کرو، کیونکہ گناہ سے سچی توبہ (درصل) ندامت اور استغفار ہی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1433
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هب] عن عائشة. الصحيحة ١٢٠٨: حم.
«إن كنت صائما فصم أيام الغر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اگر تم (نفلی) روزے رکھنا ہی چاہتے ہو تو ایامِ بیض (چاند کی تیرہ، چودہ اور پندرہ تاریخ) کے روزے رکھا کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1434
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم ن حب] عن أبي هريرة. الصحيحة ١٥٦٧.
«إن كنت صائما فعليك بالغر البيض: ثلاث عشرة وأربع عشرة وخمس عشرة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اگر تم روزہ رکھنا ہی چاہتے ہو تو تم پر چاند کی روشن راتوں والے دن لازم ہیں: یعنی تیرہ، چودہ اور پندرہ تاریخ۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1435
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ن] عن أبي ذر. الصحيحة ١٥٦٧: حم، حب، هق.
«إن كنت عبدا لله فارفع إزارك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اگر تم واقعی اللہ کے بندے ہو تو اپنی تہبند (ٹخنوں سے) اونچی رکھو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1436
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب هب] عن ابن عمر. الصحيحة ١٥٦٨: حم.
«إن كنتم آنفا تفعلون فعل فارس والروم يقومون على ملوكهم وهم قعود فلا تفعلوا ائتموا بأئمتكم إن صلى قائما فصلوا قياما وإن صلى قاعدا فصلوا قعودا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ابھی تھوڑی دیر پہلے تم فارس اور روم والوں جیسا عمل کر رہے تھے جو اپنے بادشاہوں کے سروں پر کھڑے رہتے ہیں جبکہ وہ بیٹھے ہوتے ہیں، ایسا ہرگز نہ کرو، اپنے اماموں کی اقتداء کرو، اگر وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھائیں تو تم بھی کھڑے ہو کر پڑھو، اور اگر وہ بیٹھ کر نماز پڑھائیں تو تم بھی بیٹھ کر ہی نماز ادا کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1437
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ن هـ] عن جابر. صفة الصلاة ص ٥٨: حم، م، الطحاوي، قط.
«إن كنتم تحبون حلية الجنة وحريرها فلا تلبسوها في الدنيا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اگر تم جنت کے زیورات اور اس کے ریشم کو پسند کرتے ہو تو پھر انہیں دنیا میں مت پہنا کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1438
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ن ك] عن عقبة بن عامر. الصحيحة ٣٣٨، المشكاة ٤٤٠٤: حب.